دہلی ہائی کورٹ نے مسلمان شہری کو ہندو بچوں کا سرپرست بنا دیا

Hindu Muslim Childrenنئی دہلی ہائی کورٹ نے ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے دو ہندو بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ایک مسلمان کو سونپ دی ہے۔ ہائی کورٹ نے اسے ایک ’’شاندار کوشش‘‘ قرار دیا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے حال ہیں میں محمد شاہنواز ظہیر کو جڑواں ہندو بچوں پیوش اور پرارتھنا کا سرپرست مقرر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہائی کو رٹ کے جج جسٹس نجمی وزیری نے ان بچوں کے نام پر ایک ٹرسٹ قائم کرنے کی اجازت بھی دی ہے، اس ٹرسٹ کے لیے انڈین پائلٹ ایسوسی ایشن اور دوسرے مخیر حضرات نے ایک کروڑ روپے کی رقم جمع کی ہے۔ بچوں کے مرحوم والدین کی تمام جائیداد بھی اسی ٹرسٹ کے پاس چلی جائے گی اور اس میں موجودہ سرپرست کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔ گزشتہ ہفتے ٹائمز آف انڈیا کے نمائندے نے ظہیر کے گھر کا دورہ کیا تو دونوں بچے پوری طرح سے گھر والوں سے پوری طرح گھلے ملے نظر آئے۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے ظہیر نے بتایا کہ کس طرح ہائی کورٹ کے حکم کے بعد اب ان دونوں بچوں کے معاملات بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد اب دونوں بچوں کو پاسپورٹ بھی مل جائے گا اور وہ ظہیر اور اس کے اہل خانہ کے ساتھ بیرون ملک بھی جا سکیں گے۔ 2012ء میں دونوں بچوں نے اپنی ائیر ہوسٹس ماں اور پائلٹ باپ کو ایک ہی سال میں کھو دیا تھا۔ ظہیر نے عدالت کو بتایا کہ بچوں کے باپ پراوین دیال نے اپنی بیماری کے آخری دنوں میں ان سے وعدہ لیا تھا کہ وہ ان کے بچوں کی دیکھ بھال کریں گے۔ اپنے مصروف شیڈول کی وجہ سے ظہیر اس معاملے کے لیے وقت نہیں نکال سکے اور اس دوران بچوں کی دیکھ بھال ڈرائیور کرتا رہا۔ ان بچوں کی رشتے داروں کی نظر ان کی جائیداد اور ان کی دولت پر تھی۔ ایک روز ظہیر کو ان بچوں کا فون آیا کہ ان کے ساتھ برا سلوک کیا جا رہا ہے۔ اس فون کے بعد ظہیر نے فوراً دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تاکہ بچوں کی دیکھ بھال کر سکیں۔ عدالت نے ظہیر کے ایک ہندو ہمسائے کو یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ اس بات کا خیال رکھیں کہ ان بچوں کو ہندو مذہب کی تعلیم حاصل ہو اور وہ مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے مندر میں جا سکیں۔ ظہیر کا کہنا ہے کہ وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ یہ بچے اپنا مذہب ترک کر دیں۔ دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو قانونی حلقوں میں بچوں کی بین المذاہب سرپرستی کے بارے میں تاریخی قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں بچوں کو اب دہلی کے بہترین سکول میں داخل کروا دیا گیا ہے۔ پیوش پائلٹ بننا چاہتے ہیں جب کہ پرارتھنا ڈریس ڈِزائنر بننا چاہتی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *