امن کو آخری موقع ضرور دیجئے

OLYMPUS DIGITAL CAMERAکیا پاکستانی طالبان سے مذاکرات کا دروازہ بند ہو چکا اور امن کو موقع دینے کی بجائے اب طاقت کا استعمال ہی واحد حل ہے؟ گزشتہ اتوار کے بعد یہ اتوار بھی بہت بری خبر لایا۔ پشاور میں ایک چرچ پر خود کش حملے کی خبر پر ساری قوم رنج و اندوہ میں ڈوب گئی۔ تادمِ تحریر اس میں ہلاکتوں کی تعداد 81 تک پہنچ گئی ہے۔ وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت 9 ستمبر کی آل پارٹیز کانفرنس میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مذاکرات کے فیصلے کی بازگشت ابھی مدھم نہیں پڑی تھی کہ اپر دیر میں دہشت گردی کے بدترین واقعہ میں پاک فوج کے میجرجنرل ثناء اللہ نیازی، لیفٹیننٹ کرنل توصیف اور لانس نائیک عرفان نشانہ بن گئے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں چالیس، پینتالیس ہزار معصوم شہریوں کے علاوہ سیکیورٹی فورسز کے تقریباً 5 ہزار وابستگان بھی اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں ان میں لیفٹیننٹ جنرل اور میجر جنرل کی سطح کے اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں۔ اتنا سنگین نقصان تو پاک بھارت جنگوں میں بھی نہیں ہوا تھا۔
9 ستمبر کی آل پارٹیز کانفرنس میں امن کو موقع دینے کے حق میں ایک طرح کا اجماعِ امت سامنے آیا تھا کہ یہاں پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتوں کی قیادت کے ساتھ آرمی چیف بھی موجود تھے۔سیاسی قائدین کے اظہار خیال سے قبل ڈی جی آئی ایس آئی نے بریفنگ دی ۔ آرمی چیف کہہ چکے تھے کہ قومی قیادت جو بھی فیصلہ کرے گی، فوج اس کی پابند ہو گی۔ اس کانفرنس میں بھی ان کا کہنا تھا کہ فوج اور حکومت ایک ہی صفحے پر ہیں۔
امن کو موقع دینے کی بات پہلی بار سامنے نہیں آئی تھی۔ نواز شریف ابتدا سے ہی یہ بات کہتے رہے تھے۔ 2008 کے انتخابات کے بعد انہوں نے نیگرو پونٹے، رچرڈ بوچر اور پھر رچرڈ ہالبروک (پاک افغان معاملات پرصدر اوبامہ کے خصوصی مشیر) سے ملاقاتوں میں بھی یہی بات پورے زور کے ساتھ کہی تھی۔ عمران خان کا موقف بھی یہی تھا۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے ’’قومی جرگے‘‘ میں بھی اسی کا اعادہ کیا گیا، یہاں تک کہ دہشت گردی کا مسلسل نشانہ بننے والی اے این پی کی آل پارٹیز کانفرنس میں بھی مذاکرات کی تجویز پر صاد کیا گیا۔ اس سے قبل وزیرِ اعظم گیلانی کی طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس (ستمبر 2011) اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاسوں کی قرادادوںمیں بھی مذاکرات کا آپشن آزمانے پر زور دیا گیا تھا۔ خود طالبان کی طرف سے بھی ایک سے زائد بار مذاکرات کی پیشکش کی گئی اور اس کے لئے انہوں نے جناب نواز شریف، مولانا فضل الرحمٰن اور سید منور حسن کو ضامن بنانے کی شرط رکھی تھی۔ وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خاں بھی شروع سے ہی مذاکرات کے پر جوش حامی رہے ہیں۔ ایک موقع پر وہ یہ کہتے بھی سنے گئے کہ مذاکرات کی طرف پیشرفت کا آغاز ہو چکا تھا کہ ایک ڈرون حملے نے سب کچھ ریورس کردیا۔ ان کا اشارہ اس حملے کی طرف تھا جس میں طالبان رہنما ولی الرحمٰن نشانہ بنے تھے جن کی شہرت مذاکرات کے پرجوش حامی کی تھی۔ مذاکرات کے لئے پہلا کام سازگار فضا کا اہتمام تھا اور ظاہر ہے کہ اس کے لئے کچھ اعتماد افزا اقدامات (CBM) ضروری تھے۔ طالبان کی طرف سے اے پی سی کی قراداد کا خیرمقدم تو ہوالیکن ’’زمینی حقائق‘‘ وہی رہے۔ مختلف گروپوں کی طرف سے اکا دکا کارروائیاں جاری رہیں یہاں تک کہ جنرل ثناء اللہ نیازی اور ان کے دو رفقا کی شہادت کا سنگین سانحہ ہو گیا۔ جنرل صاحب کو پاک افغان سرحد پر فوجیوں سے ملاقات کے بعد ہیلی کاپٹر پر واپس آنا تھا کہ موسم کی خرابی آڑے آگئی۔ انہوں نے موسم کی سازگاری کا انتظار کرنے کی بجائے سڑک کے راستے واپس آنے کا فیصلہ کیا اور اپنے دو رفقا کے ساتھ بارودی سرنگ کا نشانہ بن گئے۔ یہ پوری قوم کے لئے ایک سنگین صدمہ تھا لیکن مذاکرات کے حامیوں کے لئے یہ معاملہ سخت تشویش کا باعث بھی تھا۔ اسے ایک حادثہ بھی قرار دیا جا سکتا تھا لیکن طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے اسے طالبان تحریک کے سوات /دیر چیپٹر (مولوی فضل اللہ گروپ) کی کارروائی قرار دیتے ہوئے اس کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے مذاکرات سے قبل فاٹا سے پاک فوج کی واپسی اور طالبان قیدیوں کی رہائی کی شرط عائد کر دی۔ ایک اور بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ابھی مذاکرات کے لئے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ یہ جنگ پاک فوج نے شروع کی تھی اور اسی کو جنگ بندی میں پہل کرنا ہو گی۔ انہیں یہ کہنے میں بھی کوئی عار نہ تھا کہ جنگ بندی کے اعلان تک پاک فوج پر حملے جاری رہیں گے۔
مذاکرات کے لئے ماحول بہت مکدّر ہو گیا تھا لیکن حکومت نے ابھی دروازے بند نہیں کئے تھے۔ آرمی چیف بھی امن کو موقع دینے کے آپشن سے دستبردار نہیں ہوئے تھے ، تاہم انہوں نے یہ کہنا بھی ضروری سمجھا کہ دہشت گرد طاقت کے زور پر اپنی شرائط تسلیم نہیں کرا سکتے۔ قوم اور مسلح افواج کے مورال کو بلند رکھنے کیلئے آرمی چیف کے اس بیان کی اپنی اہمیت تھی۔ 4 گھنٹوں پر مشتمل حامد میر کے میراتھن پروگرام کے شرکا کا بھی اتفاق تھا کہ پاک فوج دہشت گردوں پر قابو پانے کی بھرپور صلاحیت اور طاقت رکھتی ہے اس کے باوجود امن کو ایک موقع دینے پر بھی اتفاق رائے سامنے آیا۔
مذاکرات کے مخالف عناصر بھی (دیانتداری سے ہی سہی ) اپنے کام میں مصروف تھے۔ وہ مختلف سوالات اٹھا رہے تھے۔۔۔ یہ پاکستان کے 40 ہزار شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کے 5 ہزار شہیدوں کے قاتلوں کے سامنے سرنڈر کے مترادف ہو گا، مذاکرات کس سے کریں گے؟ بلکہ کس کس سے کریں گے؟ ان کی حدودو قیود کیا ہوں گی؟ کیا پاکستان کے آئین کو تسلیم نہ کرنے والوں سے مذاکرات کئے جا سکتے ہیں؟ مذاکرات کے لیے کتنی مدت متعین کی جائے گی؟ اور یہ مدت مکمل ہو نے پر کیا طاقت کا بھرپور استعمال شروع کر دیا جائے گا؟ یہ سب کچھ اپنی جگہ لیکن مذاکرات کے حق میں اجماعِ امت زیادہ متاثر نہیں ہوا تھا۔ اگرچہ اے این پی کے ترجمان یہ کہتے بھی سنے گئے کہ انہوں نے اے پی سی کی قراداد پر مجبوراً دستخط کئے تھے۔ سید منور حسن مذاکرات کے لئے حکومت کی سنجیدگی پر شکوک و شہبات کا اظہار کر رہے تھے (جنابِ سید اے پی سی میں تشریف نہیں لائے تھے۔ (اس کے لئے انہوں نے ناسازی ٔ طبع کو جواز بنایا اور جنابِ لیاقت بلوچ کو بھجوا دیا)۔ عمران خان اس بدگمانی کا اظہار کر رہے تھے کہ آل پارٹیز کانفرنس آپریشن کی تیاریوں کے لئے تھی ۔ اس کے ساتھ ہی انہوںنے یہ بھی فرمایا کہ حکومت آپریشن کرنا چاہتی ہے تو اس کے لئے ایک اور اے پی سی بلائے۔ یہ ’’اگر، مگر‘‘ جاری تھی کہ پشاور چرچ کے سانحے نے سارا منظر بدل دیا۔ اب امن کو موقع دینے کی بات کرنا مشکل ہو گیا تھا لیکن اس میں یہ پہلو بھی قابلِ غور تھا کہ طالبان نے خلاف ِ معمول اور خلاف عادت اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ یہ ذمہ داری جنودالحفصہ نے قبول کی ہے جس کا تعلق القاعدہ سے بتایا جاتا ہے۔ پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل اسلم بیگ اسے صومالیہ میں امریکہ کے آشیرباد کے ساتھ ہزاروں مسلمانوں کے قتل کا ردِعمل قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے امن کو موقع دینے پر اصرار کیا ہے۔ ادھر مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ طالبان سے مذاکرات میں تاخیر نہ کی جائے۔ نیویارک جاتے ہوئے لندن میں قیام کے دوران وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ پشاور کا سانحہ مذاکرات کے لئے نیک شگون نہیں۔ ان کے خیال میں آل پارٹیز کانفرنس میں مذاکرات کے حق میں پیدا ہونے والی قومی سوچ آگے بڑھنے سے قاصر ہے۔ اگرچہ مذاکرات کے حق میں بات کرنا مشکل ہو تا جارہا ہے لیکن ہمارے خیال میں امن کو پہلا اور آخری موقع دینے میں کوئی حرج نہیں۔ طاقت کا استعمال تو کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے۔اگرچہ اس کا فال آؤٹ بے پناہ ہو گا اور ملک کے پر امن علاقے اور یہاں کے شہری اور سرکاری تنصیبات بھی اس کی زد میں آجائیں گی۔ یہاں یہ سوال بھی اپنی جگہ کہ کیا جنرل کیانی اپنی ریٹائرمنٹ سے چند ہفتے قبل آپریشن کا آغاز کر گزریں گے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *