یمن کی جیل سے القاعدہ کے مشتبہ دہشت گردوں سمیت بارہ سو قیدی فرار

qaeda-frees-300-inmates-in-yemen-jailbreak-1427966594-1276وسطی یمن میں واقع جیل سے القاعدہ کے مشتبہ دہشت گرد وں سمیت 1200 کے قریب قیدی فرار ہو گئے ہیں۔ جیل ٹوٹنے کا یہ واقع اْس سلسلے کی ایک کڑی ہے جن میں حالیہ برسوں کے دوران بہت سے یمنی شدت پسند جیلوں سے فرار ہوئے ہیں۔ ان قیدیوں کے فرار کے بعد ملک میں جاری خانہ جنگی میں مزید شدت آنے کا خدشہ ہے۔ سکیورٹی اہل کاروں کے مطابق القاعدہ کے حامی گروہوں نے آج تعز شہر کے وسطی علاقے میں واقع مرکزی قیدخانے پر حملہ کیا، جس دوران 1200 سے زائد خطرناک قیدی بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ شیعہ حوثی جنگجو مارچ میں تعز میں داخل ہوئے تھے، اور دارالحکومت صنعا سے جنوبی علاقے کی جانب پیش قدمی کی تھی، جس کے بعد سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے عرب ملکوں کے اتحاد نے یمن میں فوجی مداخلت کی تھی۔ تین ماہ سے جاری فضائی کارروائیاں باغی گروہ کو پسپا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ سکیورٹی اہل کاروں کے مطابق صدرصالح کی وفادار فوج نے قیدیوں کو فرار ہونے کی اجازت دی۔ ایک اہل کار کے مطابق، مرکزی جیل کے قریب شدید لڑائی ہوئی تاہمصالح کی فوج نے جیل کے دروازے کھول دئیے ۔ اپریل میں مکلہ کی جیل ٹوٹنے کے واقعے میں القاعدہ کے شدت پسندوں کا ایک بڑا گروپ فرار ہوگیا تھا،

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *