پاکستانی معاشرے میں ذات برادری کی تفریق کا تاریخی پس منظر (دوسرا حصہ )

majeedقیام پاکستان کے سلسلے میں سرسید احمد خان اور انکی علی گڑھ تحریک کو ہماری نصابی کتب میں نمایاں مقام عطا کیا جاتا ہے۔ذات پات کے موضوع پر سرسید کے چند اقوال پیش خدمت ہیں ۔
سرسید احمد خان نے 1877ء میں محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’ جو ادنیٰ خاندان کے لوگ ہیں، وہ ملک یا گورنمنٹ کے لیے مفید نہیں ہیں اور اعلیٰ خاندان والے انگلش قوم کی عزت اور برٹش گورنمنٹ کے انصاف کا نقش لوگوں کے دلوں پر جماتے ہیں اور ملک اور گورنمنٹ کے لیے مفید ہیں۔ ‘ اسی خطاب کے دوران انہوں نے استفسار کیا کہ ’کیا ہمارے ملک کے رئیس اس کو پسند کریں گے کہ ادنیٰ درجے کا آدمی، خواہ اس نے بی ۔اے کی ڈگری لی ہو یا ایم۔اے کی اور گو وہ لائق بھی ہو، ان پر بیٹھ کر حکومت کرے ، ان کے ما ل وجائیداداور عزت پر حاکم ہو؟ کبھی نہیں۔‘ سرسید نے1857ء کی جنگ پر اپنی کتاب ’اسباب بغاوت ہند‘ میں جنگ کی ذمہ داری ایک مخصوص گروہ پر ڈالی، صفحہ 6 پر لکھا ’ جولاہوں کاتارا تو بالکل ٹوٹ گیا جو بد ذات سب سے زیادہ اس ہنگامے میں گرم جوش تھے‘۔ جالندھر میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سرسید گویا ہوئے: ’میں نہایت زور سے کہتا ہوں کہ اشراف لوگ جمع ہو کر اپنی لڑکیوں کی تعلیم کا ایسا انتظام کریں جو نظیر ہو پچھلی تعلیم کی جو کسی زمانہ میں ہوتی تھی۔ کوئی شریف خاندان کا شخص یہ نہیں خیال کر سکتا کہ وہ اپنی بیٹی کو ایسی تعلیم دے جو ٹیلی گراف آفس میں سگنلر ہونے کا کام دے یا پوسٹ آفس میں چٹھیوں پر مہر لگایا کرے۔‘
ہندوستانی مسلمانوں کیلئے قائم کردہ در س گاہ علی گڑھ کالج میں رؤسا کے بچے پڑھتے تھے اور انکی خدمت کرنے کیلئے نوکر ہر وقت موجود رہتے تھے۔سر سید صاف صاف کہتے تھے کہ علی گڑھ کالج جولاہوں کے لیے نہیں۔ علی گڑھ سے ڈگری لینے والوں کے Character Certificatesمیں 1947ء تک لکھا جاتا تھا کہ ’سائل اپنے ضلع کے شریف خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔‘ عبدالرحمان عابد نے اپنے مضمون ’قضیہ اشراف و اجلاف کا‘ میں لکھا : سرسید کی علی گڑھ تحریک میں بھی ان کے مطمح نظر اشراف تھے، اشراف کیلئے ہی انہوں نے علی گڑھ کالج کی بنیاد ڈالی۔‘ عوامی دباؤ کے تحت سرسید نے علی گڑھ کالج میں نچلی ذات کے طلباء کو داخلے کی اجازت دی تو ہاسٹل کو طبقہ وارانہ اعتبار سے تقسیم کیا گیا اور اسکے تین طبقے قائم کیے گئے۔تیسرے طبقے میں رہائش پذیر رہنے والے ایک سابق طالب علم ، میر ولایت حسین کے قلم سے اس تفریق کا حال ملاحضہ کریں:
فرسٹ کلاس بورڈنگ ہاؤس کے طلبہ پختہ پارک میں رہتے تھے۔ صبح کو چائے ، توس، مکھن، نو بجے صبح کا کھانا، ایک بجے ٹفن اور چار بجے شام کو چائے او ر بعد مغرب شام کا کھانا ملتا تھا۔ سیکنڈ کلاس بورڈنگ ہاؤس کے طلباء کو صبح کے وقت چائے اور دو بسکٹ، نو بجے صبح کا کھانا،جس میں دال گوشت روٹی ہوتی تھی، سہ پہر کو ٹفن جس میں ایک طشتری فیرنی یا پراٹھا یا اسی قسم کی کوئی اور چیز ہوتی تھی، بعد مغرب شام کا کھانا ہوتا تھا جس میں دال گوشت اور ہفتے میں دو بار پلاؤ اور ایک بار میٹھے چاول ملتے تھے۔ تھرڈ کلاس بورڈروں کو دو وقت کھانا ملتا تھا ، جس میں گوشت اور دال ہوتی تھی۔ پلاؤ ، زردہ اور ناشتہ وٹفن نہیں ملتا تھا۔‘ ذات پات کا یہ تعصب زمانۂ موجود میں باقی ہے اور آج تک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں مفروضہ نیچ ذات سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص وائس چانسلر نہیں بن سکا۔ آل انڈیا مسلم لیگ بھی دراصل مسلم ’شرفاء‘ کی جماعت تھی اور اسکے بنیادی مقاصد میں ’ہندوستانی مسلمانوں کے مابین برطانوی سرکار کی وفاداری کے جذبات پیدا کرنا‘ شامل تھا۔ 1942ء تک مسلم لیگ کے باقاعدہ کارکنوں کی تعداد دو ہزار سے کم تھی اور کانگرس میں مسلم لیگ سے زیادہ مسلمان ارکان موجود تھے۔ جواہر لال نہرو نے 1936 ء میں بیان دیا کہ ’مسلم لیگ مسلمانوں کے صرف اس گروہ کی ترجمانی کرتی ہے، جو متوسط طبقے کے بالائی حصے سے تعلق رکھتا ہے۔ مسلمان عوام کے ساتھ جس قدر مجھے ربط وضبط رہا ہے، مسلم لیگ کے اکثر لیڈروں کو نصیب نہیں ہوا۔ مسلمان عوام کے افلاس، مصائب اور فاقہ کشی کا علم جس قدر مجھے ہے، اتنا ان لیگی لیڈروں کو ہرگز نہیں جو اسمبلی کی نشستوں اور ملازمتوں کے بٹوارے کے سوا کچھ نہیں جانتے۔‘ مئی 1937ء میں علامہ اقبال نے جناح صاحب کے نام خط میں لکھا: ’لیگ کو آخر کار یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ کیا وہ بدستور ہندوستان کے مسلمانوں کے بالائی طبقوں کی ایک جماعت بنی رہے گی یا ان مسلمان عوام کے ایک اجتماعی ادارے کی صورت اختیار کرے گی جنہوں نے ابھی تک بعض معقول وجوہ کی بنا پر لیگ میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ ‘ علی گڑھ کے طلباء اور مسلم لیگ نے پاکستان کے قیام میں نمایاں کردار ادا کیا، لہٰذا اس ملک میں بھی ذات برادری کی تقسیم جوں کی توں برقرار رہی۔
برطانوی سامراج نے ہندوستانی،خاص طور پر پنجابی مسلمانوں میں ذات پات کے نظام کو تقویت بخشی۔اٹھارویں اور انیسویں صدی کے برطانوی معاشرے میں سماجی درجہ بندی ، ذات پات سے کم نہ تھی اور وکٹورین عہد میں ہر طبقے کے ساتھ معاشرے میں اسکی حیثیت کے مطابق سلوک کیا جاتا تھا۔ انگریز حکومت نے 1872ء میں پنجاب میں ایک قانون کے تحت ’روایتی ‘ اقدار کو قانونی تحفظ مہیا کیا۔1860ء کے بعد پنجاب کو مختلف ’ذیلوں‘ میں تقسیم کیا گیا اور ہر ذیل میں اس علاقے میں بسنے والے قبیلے کے کسی معزز فرد یا نمایاں زمین دار کو ذیل دار مقرر کیا گیا۔ ذیل داروں کو سرکار کی جانب سے زمینیں نوازی جاتی تھیں۔ 1900ء میں قانون انتقال اراضی یا Punjab Land Alienation Act بنایا گیا جس کے تحت کچھ قبائل یا ذاتوں کو زراعتی ذاتیں قرار دیا اور ان ذاتوں کے افراد سے زمین ساہوکاروں کے پاس منتقل نہیں کی جا سکتی تھی۔
اس قانون کے دور رس اثرات پر عاشق حسین بٹالوی نے اپنی کتاب ’اقبال کے آخری دو سال ‘ میں نظر ڈالی۔ صفحہ42پر بٹالوی صاحب رقم طراز ہیں کہ ’اس قانون کی رو سے پنجاب کے ہر ضلع کی آبادی زراعت پیشہ اور غیر زراعت پیشہ حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔ غیر زراعت پیشہ لوگ زراعت پیشہ قوم کے افراد کی اراضی نہ تو خرید سکتے تھے اور نہ قرض کے بدلے نیلام کرا سکتے تھے۔ اس قانون کے نافذ ہونے سے پہلے پنجاب کے زراعت پیشہ لوگوں کی زمینیں قرض اور سُود در سُود کے چکر میں پڑ کر دھڑا دھڑ ہندو ساہو کاروں کے قبضہ میں جا رہی تھیں اور اگر یہ قانون عین وقت پرمنظور نہ ہوتا تو اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ پنجاب کے تمام کاشتکار اور زمیندار اپنی زمینوں سے ہاتھ کھو بیٹھتے ۔‘ اس عمل سے پنجاب کے ’شرفاء‘ کو نادار اور مسکین ہونے سے بچا یا گیا جبکہ کم تر ذات سے تعلق رکھنے والوں کیلئے زمین کی خریداری مشکل بنا دی گئی ۔ ہر ضلعے کے ڈپٹی کمشنر کے پاس اس علاقے کے معززین اور اعلیٰ ذات سے تعلق رکھنے والے ’شرفاء‘کی فہرست موجود ہوتی تھی۔برطانوی راج نے مذہب کی بجائے ذات کو تقسیم کا پیمانہ بنایا۔
بیسویں صد ی کے آغاز میں پنجاب میں نہری نظام تعارف ہوا تو اسکی بدولت بہت سی بنجر زمین سرسبز ہوئی۔ یہ زرعی زمین اعلیٰ ذاتوں کے حامل افراد اور برطانوی فوج کے ملازمین میں انعام کے طور پر تقسیم کی گئی۔ان زمینوں کے اصل باشندے ’جانگلی‘ یا ’چنڈالا ‘ کہلائے۔ ان زمینوں کی تقسیم میں ایک بڑا حصہ ذیل داروں کے ہاتھ آیا اور وہ انگریزی اصطلاح میں زرعی اشرافیہ (Landed Gentry ) کہلائے۔ اس طبقے کے بیشتر افراد نے اپنی سیاسی حیثیت کے تحفظ کیلئے یونینسٹ پارٹی تشکیل دی۔ عاشق بٹالوی اپنی کتاب کے صفحہ177 پر اس سیاسی جماعت کے ارکان کی پنجاب مجلس قانون ساز میں کی جانے والی بحث کا تذکرہ کرتے ہیں۔ اسمبلی میں یہ جھگڑا جاری رہتا کہ سرکاری نوکریوں میں جاٹوں کا کتنا حصہ ہے اور راجپوتوں کا تناسب کیا ہو گا، گوجروں کے پلے کیا پڑے گا ، گکھڑوں کو کیا عطا ہو گا ، زراعت پیشہ لوگوں کے حصے میں کیا آئے گا اور دیہاتیوں کو کیا ملے گا۔
بٹوارے سے قبل پنجاب کے اضلاع میں روزمرہ کے تنازعات مذہب سے زیادہ برادری کی بنیاد پر ہوتے۔ انیسویں صدی میں عیسائی مبلغوں نے ہندوستان کا رخ کیا تو پنجاب کے دیہات میں بسنے والے مسلمان، ہندو اور سکھ اچھوتوں نے عیسائیت قبول کر لی۔ نچلی ذاتوں والے مسلمان رہے تو’مصلی‘، سکھ ہوئے تو ’مذہبی ‘ اور عیسائی ہوئے تو ’چُوڑے‘ کہلائے، جب کہ کئی مقامات پر اسلام قبول کرنے کے بعد بھی ہندو افراد کو ’ ہندو ‘ ہی پکارا جاتا۔

(اس مضمون کی تیاری کے ضمن میں مسعود عالم فلاحی کی کتاب ’ہندوستان میں ذات پات اور مسلمان‘، عاشق حسین بٹالوی کی کتاب ’اقبال کے آخری دو سال‘ اور ڈیوڈ گلمارٹن کی کتاب Empire and Islam سے استفادہ کیا گیا ہے۔ )

(جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *