ایران گیس پائپ لائن منصوبہ جاری رہے گا: نواز شریف

Nawaz Shareefوزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ امریکی مخالفت کے باوجود، ایران سے گیس کی درآمد کے لیے پائپ لائن کی تعمیر کا منصوبہ جاری رکھیں گے۔

وال اسٹریٹ جنرل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جو جعمرات کو شایع ہوا، نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جمعہ کو اپنی تقریر کے دوران پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں پر بھی تنقید کا ارادہ رکھتے ہیں۔

وزیر اعظم نے پہلی بار واضح طور پاکستانی طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے وہ شرائط بیان کیں جن کے طالبان کی جانب سے مانے جانے پر ہی ان کی حکومت، عسکریت پسند گروپ کے ساتھ امن مذاکرات کے عمل کا آغاز کرے گی۔

ان کا مطالبہ تھا کہ طالبان ہتھیار ڈال دیں اور پاکستان کے آئین کو تسلیم کریں۔ تاہم انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ امریکی ڈرون حملوں کے جاری رہنے سے ان کی جانب سے طالبان کے ساتھ بات چیت کی پالیسی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے۔ واضح رہے کہ طالبان کے القاعدہ کے ساتھ قریبی مراسم ہیں۔

پاک ایران گیس پائپ لائن کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا “پاکستان کو گیس کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے پاور پلانٹس چلانے کے لیے گیس چاہئے۔ پاکستان میں گیس کی شدید قلت ہے لہٰذا ہمیں کہیں نہ کہیں سے گیس درآمد کرنی پڑے گی”۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے قانونی ماہرین رائے کے مطابق مجوزہ پائپ لائن کی وجہ سے امریکی پابندیاں لاگو نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے مذکورہ منصوبے کو آگے بڑھانا ضروری ہے، ورنہ دوسری صورت میں یا تو “آپ ہمیں گیس فراہم کریں یا پھر یومیہ تین ملین ڈالر، کیونکہ گیس کی قلت کی وجہ سے پاکستان یہ نقصان یومیہ بنیادوں پر اٹھانا پڑ رہا ہے۔”

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جمعہ کو اپنی تقریر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ اپنی تقریر میں بتائیں گے کہ ان کے ملک میں امریکی ڈرون حملے غیر قانونی ہیں کیونکہ ان سے پاکستان کی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہتھیاروں کے استعمال سے الٹا نقصان ہو رہا ہے کیونکہ ان کی وجہ سے مزید دہشت گرد پیدا ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا “جتنے زیادہ ڈرون حملے ہوں گے اتنے ہی زیادہ دہشت گرد پیدا ہوں گے۔ آپ ایک شخص کو ماریں تو اس کی جگہ اس کا بیٹا، باپ، بھائی سب کے سب دہشت گرد بن جائیں گے۔ لہٰذا یہ وہ چیز ہے جس سے کوئی فائدہ یا مدد نہیں مل رہی۔”

وزیراعظم نے خاص پر اس خدشے کا اظہار کیا کہ ڈرون حملوں کی وجہ سے پاکستانی طالبان کے ساتھ ان کے مجوزہ مذاکرات کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ پاکستانی طالبان، افغان طالبان سے علیحدہ گروپ ہے جس کا مطالبہ ہے کہ مذاکرات کا عمل شروع کرنے سے پہلے اسلام آباد، ڈرون حملے رکوائے۔

نواز شریف نے کہا “ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات کے شروع ہونے کے بعد، ڈرون حملے ایک ایسی چیز ہیں جو کہ مذاکرات میں تعطل کا سبب بن سکتے ہیں لہٰذا ہر قیمت پر ان سے گریز کرنا چاہئے۔”

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *