ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

MHTکبھی کبھار برس دو برس بعد کوئی ایسی خبر آجاتی ہے کہ مجھے ایک انسان ہونے پر فخر ہونے لگتا ہے کہ بے شک ہم مسلمانوں نے پچھلے شاید پانچ سو برس سے ایک نیل کٹر بھی ایجاد نہیں کیا، کوئی ایسی دوا دریافت نہیں کی جو نسل انسانی کی بیماریوں کی تریاق ہو جائے۔ چیچک یا پولیو کا خاتمہ کر دے ، کروڑوں انسانوں کو موت کے منہ سے بچا لے، بجلی کا ایک بلب ایجاد کرنا تک ہمارے بس میں نہ ہوا لیکن اس کے باوجود میں اس روئے زمین پر آباد انسانوں میں سے ایک ہوں، انسانیت کا حصہ ہوں ، اس لیے مجھے اپنے انسان ہونے پر فخر ہوا جب میں نے یہ خبر پڑھی کہ 1977ء میں وائجر نام کا یعنی مسافر نام کا جو خلائی جہاز امریکہ نے لانچ کیا تھا، جو بدستور سفر میں تھا، پچھلے ہفتے نظام شمسی کی حدود پار کر گیا ہے ایک اور نظام میں ایک اور جہان میں داخل ہو گیا ہے۔ اور مجھے قاسمی صاحب کا وہ مصرع یاد آ گیا کہ انسان عظیم ہے خدایا۔۔۔ اور مجھے علامہ اقبالؒ تو بہر طور یاد آئے جنہوں نے کہا تھا کہ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں، ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔ بے شک ہم اس شعر کو قوالیوں کی صورت تالیاں بجاتے الاپتے رہے اور کفار ستاروں سے آگے کے جہانوں میں چلے گئے۔۔۔ لیکن جیسا کہ چاند پر قدم رکھنے والے پہلے انسان نیل آرمسٹرانگ نے کہا تھا کہ یہ ایک چھوٹا سا قدم ہے اور انسانیت کے لیے یہ ایک جست ہے تو اسی طور وائجر اگر نظام شمسی کے اربوں کلو میٹر کے فاصلے طے کر کے اس کی سرحدوں کے پار کے جہانوں میں داخل ہو گیا ہے تو کسی ایک قوم کی نہیں پوری انسانیت کی فتح ہے۔ اور کیا کروں مجھے اس موقع پر نہ صرف قاسمی صاحب اور اقبال یاد آتے ہیں بلکہ لائل پور کے بے مثل مزاحیہ شاعر عبیر ابو ذری بھی یاد آنے لگتے ہیں جنہوں نے کہا تھا کہ۔۔۔ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔ پرے سے پراں سے پراں اور بھی ہیں۔۔۔ اور اس پراں سے پراں کا بھی کچھ جواب نہیں جس میں لامحدود وسعتوں کی کیسی خوبصورت عکاسی کی گئی ہے۔ یعنی پرے سے پرے اور اُس سے بھی پرے جہاں اور بھی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور خبر بھی دل کا عجب حال کر گئی کہ ناسا نے 2023ء کے لگ بھگ ایک ایسا خلائی جہاز مریخ کی جانب روانہ کرنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے جس میں مختلف قومیتوں کے چالیس مسافر سوار ہوں گے۔ تقریباً ایک لاکھ امیدواروں کی درخواستیں موصول ہو چکی ہیں (غیب کا علم نہ جاننے کے باوجود میں بتا سکتا ہوں کہ ان میں کوئی ایک بھی پاکستانی نہ ہو گا۔۔۔ بلکہ کوئی ایک بھی مسلمان ہوا تو مجھے حیرت ہو گی کہ ان میں سے چنیدہ لوگوں کو پورے آٹھ برس ٹریننگ دی جائے گی کہ مریخ پر پہنچ کر انہوں نے زندگی کیسے گزارنی ہے، سانس کیسے لینا ہے، کھانا کیا ہے، سونا جاگنا کب ہے، بچے کیسے پیدا کرنے ہیں، اپنی خوراک کا بندوبست کیسے کرنا ہے کہ یہ ایک ون وے ٹکٹ ہے۔ مریخ پر جو جائے گا واپس نہیں آئے گا، وہیں آباد ہو گا، ایک تازہ بستی آباد کرے گا، یہ چالیس مختلف اقوام کے لوگ ہی اہل نظرہوں گے۔ چند برس پیشتر میں ڈزنی لینڈ کی وسیع تفریح گاہ میں واقع خلائی تحقیق کے ایک حصے میں گیا تھا اور ان دنوں وہاں ’’مریخ تک کا سفر‘‘ نامی تصوراتی سفر بہت پاپو لر تھا۔ آپ ایک ایسی سرنگ میں داخل ہوتے ہیں جہاں ہر جانب سیارے گردش میں ہیں، چاند ابھرتے ہیں، زمین کی گردش کی آواز آتی ہے ۔ پھر ایک ٹرین میں سفر کرتے ہوئے اپنے ذاتی خلائی کیپسول تک پہنچتے ہیں جس میں صرف تین لوگوں کی گنجائش ہے۔ کمانڈر، انجینئر اور نیوی گیٹر۔ آپ اپنی نشستوں پر بیٹھے ہیں تو کیپسول کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ آپ کے سامنے ایک سکرین پر آپ کے کیپسول کو خلاء میں لے جانے والا راکٹ فائر ہوتا ہے۔ اور زلزلہ سا آجاتا ہے اور آپ خلا میں تیرنے لگتے ہیں۔ ایک عجیب بے وزن کی کیفیت میں چلے جاتے ہیں۔ کمانڈر کی نشست پر بیٹھے ہوئے یکدم کیا دیکھتا ہوں کہ ہم چاند کی سطح سے ٹکرانے کو ہیں تو کمانڈ ملتی ہے کہ راکٹ نمبر دو اور تین فائر کر دو۔ میں بٹن دباتا ہوں تو ایک مہیب آواز سے راکٹ فائر ہوتے ہیں اور ہمارا کیپسول رخ بدل کر مریخ کی جانب بے آواز سفر کرنے لگتا ہے اور پھر ہم مریخ کی سُرخ سر زمین پر لینڈ کر جاتے ہیں۔۔۔ اور یہ تصوراتی سفر اتنا حقیقی تھا کہ میں بھی یقین کر بیٹھا کہ میں واقعی مریخ پر اتر چکا ہوں۔۔۔ اور تب مجھے ایک عجیب احمقانہ سا خیال آیا کہ اگر یہاں کوئی حادثہ ہو جائے، میرا دل تھم جائے اور مجھے مریخ کی سُرخ مٹی میں دفن کر دیا جائے تو میری قبر پر جمعرات کی جمعرات کوئی چراغ بھی جلانے نہ آئے گا کہ کون اتنا تردد کرے کہ زمین سے کسی خلائی جہاز میں سوارہو کر مریخ پر صرف اس لیے آئے کہ میری قبر پر ایک چراغ جلائے۔
میں موازنہ نہیں کرنا چاہتا کہ وہ کہاں پہنچ رہے ہیں اور ہم کہاں گر رہے ہیں۔۔۔ بچوں کو لولا لنگڑا ہونے سے بچانے کے لیے پولیو کے قطرے پلانے والے معصوم اور محسن لوگوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔ سکول جانے والی بچیوں کی ویگن کو نذر آتش کر رہے ہیں اور تو اور ہمیں ابھی تک چاند تلاش کرنے میں شدید دشواری در پیش ہے۔ رویت ہلال سے، ہلال کمیٹی میں شامل درجنوں جید علماء۔۔۔ اور یہ سب کے سب نہایت اونچے گریڈوں میں اپنی ریشیں سہلاتے ہیں۔ سرکاری شوفر ڈرون گاڑیوں میں گھومتے ہیں۔ جہازوں میں بزنس کلاس میں سرکاری خرچے پر سفر کرتے ہیں اور فائیو سٹار ہوٹلوں میں قیام کرتے ہیں۔۔۔ پوری قوم کو صرف چاند کی تلاش میں یرغمال بنا لیتے ہیں بلکہ آپ سب بھی گواہ ہیں کہ پچھلی عید کی شب جب د وٹیلی ویژن چینلز پر ملتان اور کوئٹہ میں نمودار ہونے والا چاند براہ راست سکرین پر دکھایا جا رہا تھا تو بھی تلقین کی جا رہی تھی کہ حضرات صبر اور تحمل سے کام لیجیے۔ ابھی شہادتیں موصول ہو رہی ہیں اور پھر ہم حتمی اعلان کریں گے کہ چاند نظر آیا یا نہیں۔۔۔ میرے ابا جی کے دوست علامہ انڈوں والے کشمیری جنہوں نے مدراس کے ایک مندر میں ہندو بن کر ستاروں کا علم حاصل کیا تھا۔۔۔ اور وہ اپنی کوٹھڑی میں پہنچ کر نماز پنجگانہ بھی اداکرتے تھے، اُن کا کہنا تھا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پتہ نہیں آج چاند نظر آئے گا یا نہیں وہ منکر قرآن ہیں کہ قرآن میں درج ہے کہ یہ پورا نظام ایک طے شدہ تنظیم کے تحت چلتا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے رسول محمدؐ جب اپنے پیارے بیٹے حضرت ابراہیم کو دفن کر چکے تو سورج گرہن لگ گیا اور بعض لوگوں نے کہا کہ چونکہ آج ایک پیغمبر کے بیٹے کی موت ہوئی ہے تو اس لیے ایسا ہوا ہے۔۔۔ اس پر ہمارے رسولؐ نے صحابہؓ کو خبردار کیا کہ جان لو۔۔۔ یہ سورج چاند ستارے ایک طے شدہ نظام کے ماتحت ہیں، ان پر کسی پیغمبر کے بیٹے کی موت کا بھی کچھ اثر نہیں ہوتا۔ علامہ انڈوں والے کشمیری چاچا نے مجھے ایک کاغذ پر اگلے دس برس میں عید کے چاند کے طلوع ہونے کی تاریخیں لکھ دیں اور کہا کہ بیٹے اگر ان میں سے کوئی بھی تاریخ غلط ثابت ہوجائے تو بے شک اگر میں مر گیا تو میری قبر پر آکر مجھ پر لعن طعن کرنا۔۔۔ اور کیا مجھے کہنے کی ضرورت ہے کہ اُن کا ستاروں او ر چاند کے طلوع کا حساب کتاب کبھی غلط ثابت ہوا؟ نہیں کبھی نہیں!
موہنی روڈ کے بُغدا سائیں ہمہ وقت بھنگ گھوٹتے اور پیتے تھے۔ کسی نے کہا کہ بُغدا۔۔۔ دنیا تو چاند پر پہنچ گئی ہے اور تم ابھی تک یہاں ہو تو اس نے کہا ’’بس مجھے بھنگ کا یہ آخری پیالہ پی لینے دو اس کے بعد میں بھی وہاں جا رہا ہوں‘‘۔
تو ہم دراصل بُغدا سائیں ہیں۔ ہمارے پیالے میں مذہبی شخصیت، منافرت، جہالت اور ماضی کے تکبر کی بھنگ گھلی ہوئی ہے، ہم ذرا اس کو پی لیں پھر ہم بھی مریخ میں جا آباد ہوں گے۔۔۔ بھنگی اہل نظر۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *