پاکستانی سیاست اور موجودہ نوجوانوں کا المیہ

Mohammad sharifپاکستان کی سیاست میں نوجوان پہلی بار جنرل ایوب کے صدارتی الیکشن بمقابلہ مسز فاطمہ جناح نمودار ہوئے ، گو اس صدارتی الیکشن کے وو ٹرز 80000 بلدیاتی کونسلر تھے اور عوام کو ووٹ دینے کا حق نہیں تھا ، اس کے باوجود نیشنل عوامی پارٹی (ولی خان)، کونسل مسلم لیگ اور جماعت اسلامی کے مشترکہ پلیٹ فارم سے نوجوانوں کی جدو جہد قابل تحسین تھی ۔ نوجوانوں کو پہلا سیاسی صدمہ ایوب کی کھلم کھلا دھاندلی اور پولیس گردی کے صلے میں ملا۔ فاطمہ جناح الیکشن ہار گئیں اور نوجوان مایوسیوں کے اندھیروں میں چلے گئے ۔
ذوالفقار علی بھٹو ایوب کی کابینہ سے استعفیٰ دے کر باہر آتے ہیں تو نوجوانوں کی آنکھوں ایک بار پھر چمک پیدا ہوتی ہے ۔ نوجوانوں کے دلوں میں جو نفرت دب چکی تھی، ایک بار ابھر کر باہر آگئی ۔ ایوب کے خلاف بھٹو کی تحریک میں عوام طوفان کی طرح ملک کی ساری فضا پر چھا گئے۔ ایوب استعفیٰ دینے پر مجبور ہوا۔ نوجوانوں نے ایوب کی ناکامی کو اپنی فتح گردانا اور نوجوانوں میں ایک خود اعتمادی پیدا ہوئی۔
بھٹو کی شخصیت میں نوجوانوں کو ایک انقلابی چی گویرا نظر آیا ۔
یحییٰ خان نے آئین منسوخ کیا اور ایل ایف او نافذ کر کے ون مین ون ووٹ کی بنیاد پر عام الیکش کا اعلان کیا۔ بھٹو جب الیکش مہم پر نکلتا تو نوجوانوں کی ایک فوج بھٹو کے چاروں طرف ہوتی۔ بھٹو نے مغربی پاکستان میں الیکشن جیتا اور حکومت تشکیل دیتے ہی یوٹو پیائی انقلابی اقدامات کئے۔ زرعی اصلاحات کا اعلان کیا، چھوٹی صنعتیں قومی تحویل میں لیں۔ بنک کی نیشنلائز یشن کا اعلان کیا۔ عوام میں سنہرے مستقبل کے ارمان جاگے۔
پیپلز پارٹی نے اپنے کارکنوں کو کھلی چھٹی دے دی کہ وہ جس سرکاری دفتر میں جب چاہیں جاکر افسروں کی کارکردگی جانچ سکتے ہیں۔ اس اقدام سے غنڈہ گردی نے جنم لیا لیکن پارٹی ورکرز جماعت کے اور قریب ہو گئے۔ ذہنوں میں یہ بات بیٹھ گئی کہ حکمران ہم ہیں۔ اس الیکشن نے ماضی کی ناکامیوں کا غم وغصہ دور کردیا لیکن یہ فضا ایک ڈیڑھ سال تک برقرار رہی۔ بھٹو دوبارہ روایتی سیاستدانوں کی طرف لوٹ گیا ۔
بھٹو کے خلاف حزب اختلاف کے لیڈر کے طورپر اصغر خان میدان میں آیا اور آتے ہی سارے ملک کی سیاسی فضا پر چھا گیا۔ تیسری مرتبہ نوجوان پھر اصغر خان کے سیاسی سپاہی بن گئے ، ہر روز نئی خبر سننے کو ملتی کہ فلاں شہر میں اصغر خان کو مجسٹریٹ نے روکا اور اصغر خان نے مجسٹریٹ کی گال پر زناٹے دار طمانچہ جڑ دیا۔ ڈی ایس پی نے روکا تو اصغر خان نے گلے سے پکڑ کر ایک دھکا دیا اور رکاوٹیں عبور کر گیا۔ نوجوان جب یہ خبریں پڑھتے تو ان کے سینے فخر سے پھول جاتے ۔
اصغر خان کی مقبولیت کے آگے بند باندھنے کے لئے مقررہ وقت سے ایک سال قبل ہی عام الیکشن کا اعلان کردیا گیا۔ الیکشن کا اعلان ہوتے ہی چند گھنٹوں میں نو سیاسی جماعتوں کا پاکستان قومی اتحاد وجود میں آگیا ۔ الیکشن کے نتائج متنازع ہو گئے اور قومی اتحاد نے تحریک چلانے کا اعلان کردیا۔ جمہوریت کے نعرے اور مطالبے پر تحریک کا آغاز ہوا۔ یہ تحریک بتدریج جمہوریت کے مطالبے سے نظام مصطفےٰ کے مطالبے پر آگئی۔ اصغر خان کے نوجوان پچھلی صفوں میں دھکیل دئے گئے اور جماعت اسلامی ، جمعیت العلمائے اسلام ، جمعیت العلما ئے پاکستان اور دیگر چھوٹی مذزہبی جماعتوں کے نوجوان کارکن فرنٹ لائن پر آگئے ۔ جولائی 1977ء میں جنرل ضیاالحق نے مارشل لا نافذ کیا تو یہی مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے فرنٹ لائن نوجوان ضیاالحق کا ہراول دستہ بن گئے۔ اور ضیاالحق نے نوجوانوں کا فرنٹ لائن دستہ نوازشریف کو تحفہ میں دے دیا ۔
اب آتا ھے چوتھا دور جس میں عمران خان نوجوانوں کے خصوصی لیڈر کے طور پر ابھرا۔ نوجوانوں نے مستقبل کی امیدیں عمران سے وابستہ کر لیں ۔
عمران نے بھی الیکش کو متنازع کہا اور دھاندلی کے خلاف دھرنا دیا۔ لانگ مارچ کے اعلان کئے، نوجوانوں کو مستقبل کے حسین خواب دکھائے لیکن عمران کے غلط فیصلوں، غلط پالیسیوں اور جلد بازی نے عوام کو مایوس کیا لیکن نوجوان ابھی تک اس مایوسی کو تھپکی دے کر سلارہے ہیں کہ اگلی حکومت عمران خان کی ہو گی اور سنہرا خوشحال مستقبل پاکستان کا مقدر ہوگا
خوف آتا ہے کہ اگر اب بھی نوجوانوں کے خواب پورے نہ ہوئے تو یہ خواب آتش فشاں بن کر نہ پھٹ جائے اور اس کی آگ سب کچھ بھسم نہ کردے ۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *