جوہری معاہدے کے بعد ایران اسلحہ سپلائی جاری رکھ سکے گا

Iranایران اور عالمی طاقتیں پیر کی ڈیڈلائن ختم ہونے سے پہلے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ دو ہفتوں سے زیادہ عرصے سے جاری مذاکرات کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جائے اور اس کے بدلے میں ایران پر سے اقتصادی پابندیاں ہٹائی لی جائیں۔ان مذاکرات کے حوالے سے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران پر ہتھیاروں کی خرید و فروخت پر عائد پابندیاں جزوی طور پر ہٹانے کی شق بھی اس معاہدے میں شامل ہے۔ ایرانی وفد میں شامل ایک اہل کار نے آر آئی اے نووسٹی سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس معاہدے میں یہ بات شامل ہے کے ایران خطے میں اپنے اتحادیوں کو دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کے خلاف لڑنے کے لیے ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھ سکے گا۔ ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے دنیا کی بڑی طاقتوں اور ایران کے مابین مذاکرات ویانا میں جاری ہیں۔ ان مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے آج آخری دن ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیاں ہٹانے کے لیے جاری مذاکرات کے تمام فریقین کا کہنا ہے کہ وہ معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *