کراچی پر قبضے کا معاملہ

syed Mujahid Aliمتحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین اکثر و بیشتر اشتعال انگیز بیان دے کر توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ یہ طریقہ کار کسی بھی سیاسی نقطہ نظر کو عام کرنے کے لئے سود مند ہو سکتا ہے۔ یہ کہنا بے جا ہو گا کہ الطاف حسین کے تازہ ترین بیان اور اس پر حکومت کا ردعمل اور اس ردعمل پر ایم کیو ایم کا احتجاج غیر ارادی طور پر سامنے آنے والے واقعات ہیں۔ الطاف حسین سیاست میں طویل تجربہ اور مہارت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ربع صدی ملک سے باہر رہ کر بھی اپنی پارٹی کی باگ ڈور پوری طرح اپنے ہاتھ میں رکھی ہوئی ہے۔ اب انہیں یہی اندیشہ ہے کہ یہ اختیار کسی نہ کسی طرح ان سے چھن رہا ہے۔ اس پس منظر میں الطاف حسین کی بدحواسی تو قابل فہم ہے لیکن اس پر ردعمل کے طور پر چوہدری نثار اور خواجہ آصف کے بیانات اور مختلف تھانوں میں الطاف حسین کے خلاف درجنوں ایف آئی آر درج کروانے کا طریقہ کار آخر کس بدحواسی اور پریشانی کا اظہار ہے۔
الطاف حسین نے اپنی ایک تازہ تقریر میں کہا ہے کہ موجودہ جدوجہد کراچی پر کنٹرول کی لڑائی ہے۔ سویلین حکومت غیر سویلین اداروں کے ساتھ مل کر کراچی کو ایم کیو ایم سے چھین لینا چاہتی ہے۔ لیکن متحدہ قومی موومنٹ کو نیچا نہیں دکھایا جا سکتا۔ اس حوالے سے انہوں نے حال ہی میں کراچی میں این اے 246 کے ضمنی انتخاب کا حوالہ بھی دیا۔ میڈیا پبلسٹی اور تحریک انصاف کی طرف سے پورا زور لگانے کے باوجود ایم کیو ایم یہ نشست جیت گئی تھی۔ اب بھی الطاف حسین کا دعویٰ ہے کہ وہ عوام کے دلوں میں بستے ہیں۔ یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے اور ہر جمہوریت پسند اس کا احترام بھی کرے گا۔ لیکن اس عوامی مقبولیت کو برقرار رکھنے کے لئے متحدہ نے گزشتہ تین چار دہائیوں میں جو تنظیمی اور عسکری ڈھانچہ کھڑا کیا ہے ۔۔۔۔۔۔ اب رینجرز کی تازہ ترین کارروائیوں کی طرف سے اسے شدید خطرہ لاحق ہے۔
کسی کو اس بات پر اعتراض نہیں ہو سکتا کہ متحدہ قومی موومنٹ لوگوں کے ووٹ لے کر ان کی نمائندگی کا حق ادا کرے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت کی حمایت حاصل کرنے والی پارٹی کو غنڈہ گردی کرنے ، اپنی مرضی کا انصاف فراہم کرنے ، خود کو انصاف اور قانون سے بالا سمجھنے اور اپنے لیڈروں کو ’’ مقدس گائے‘‘ قرار دینے کا حق نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے ساتھ ہی متحدہ قومی موومنٹ نے اپنی مقبولیت کا سہارا لیتے ہوئے کراچی میں بھتہ وصول کرنے اور لوگوں اور تاجروں کو ہراساں کرنے کا ایک مضبوط نظام قائم کیا ہؤا تھا۔ رینجرز کے تازہ ایکشن کی وجہ سے ان تمام سرگرمیوں پر زک پڑی ہے۔
الطاف حسین خود یہ قرار دے چکے ہیں کہ نائن زیرو پر چھاپہ مارنے کے لئے بڑے حوصلے کی ضرورت تھی اور کوئی معمولی حوصلہ کا افسر یہ ہمت نہیں کر سکتا تھا۔ اس قسم کے ذومعنی اور بین السطور بیان دے کر دراصل وہ یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ آج جو افسر اور جوان اپنی فورس اور ادارے کی قوت کی بنا پر ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کریں گے، انہیں بالآخر متحدہ قومی موومنٹ کے ’ انتقام‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ دھمکی دینے کا وہی ہتھکنڈہ ہے جو گزشتہ ماہ آصف علی زرداری نے بھی اختیار کیا تھا اور قرار دیا تھا کہ فوج کا سربراہ تو آتا ہے اور تین برس بعد چلا جاتا ہے مگر ہمیں یعنی سیاستدانوں کو یہیں رہنا ہے اور عوام کی تقدیر سے کھیلنا ہے۔
اس صورتحال میں سوال یہ نہیں کہ متحدہ قومی موومنٹ یا پیپلز پارٹی مقبول جماعتیں ہیں یا انہیں عوام مسترد کر چکے ہیں۔ کیونکہ وہ بہر صورت عوام کے ووٹ لے کر نمائندگی کا حق حاصل کر چکی ہیں۔ کسی بھی جمہوری نظام میں کسی گروہ یا پارٹی کو اس حقِ نمائندگی سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن یہ سوال بہر صورت سامنے آتا ہے کہ کیا عوام سے ووٹ لینے کا مطلب یہ بھی ہے کہ منتخب ہونے والے شخص یا پارٹی کو بدعنوانی کرنے ، اپنے زیر تسلط علاقوں میں لاقانونیت عام کرنے ، لوگوں کو ہراساں کرنے اور منظم جتھہ بندی کے ذریعے عوام کے مفادات کے خلاف کام کرنے کا حق بھی حاصل ہو جاتا ہے۔ کوئی بھی ذی شعور اس بات کی تائید نہیں کر سکتا۔
تاہم یہ طے کر لینے کے بعد کہ عوام کی نمائندگی کرنے والے بھی قانون کا احترام کرنے کے پابند ہوتے ہیں، یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں ان سرکش سیاسی عناصر کو احترامِ قانون سکھانے اور چند بنیادی اصولوں اور ضابطوں کا پابند کرنے کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے۔ ملک میں ماضی میں جتنی بار بھی فوجی حکومت قائم کی گئی ہے اس کی بنیاد اسی قسم کی شکایتیں تھیں۔ سیاسی حکومتوں پر بدعنوانی ، بدانتظامی کا الزام لگاتے ہوئے انہیں قانون شکن تو قرار دیا گیا لیکن انہیں راہ راست پر لانے کے لئے آئین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فوجی طاقت کا استعمال کیا گیا۔
ہر فوجی طبع آزمائی کے بعد یہی سچ سامنے آیا کہ اقتدار کا مزہ چکھنے کے بعد فوجی ’ مرد آہن ‘ نے انہی ملزم سیاستدانوں کو ساتھ ملایا یا اسی قسم کے بونے سیاستدان پیدا کئے اور ملک پر حکومت کرنے کی کوشش کی۔ اس عمل میں ملک کا سیاسی کلچر اور سیاستدان تو بہتر نہیں ہو سکے لیکن سول معاملات میں مداخلت کی وجہ سے فوج کے دامن پر دھبے بھی لگے اور اسے آئینی اختیار سے تجاوز کرنے کے علاوہ مالی بدعنوانیوں کے ویسے ہی الزامات کا سامنا بھی کرنا پڑا جو اس سے پہلے صرف سویلین لیڈروں کے نامہ اعمال میں لکھے جاتے تھے۔
اس پس منظر میں حالات کو بہتر بنانے کے لئے فوج کی مداخلت ، مارشل لا کے نفاذ یا گورنر راج کی باتیں غیر ضروری اور بے مقصد ہوں گی۔ سیاستدانوں اور فوج کو موجودہ نظام میں ہی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنا ہو گا۔ سیاستدانوں کو یہ قبول کرنا ہو گا کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اور سیاسی جماعتوں کے کمزور اور مشتبہ کردار کی وجہ سے فوج اور اس کے اداروں کو بعض ایسے اختیارات حاصل ہیں جو عام حالات میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو حاصل نہیں ہوتے۔ اسی طرح فوج کی قیادت کو بھی یہ سمجھنا ہو گا کہ وہ جس وقت اصلاح اور جرائم کے خلاف کارروائی کی بات کرتے ہیں تو اولا? اسے بلا امتیاز ہونا چاہئے اور دوسرے صرف ان افراد کو اس قسم کے عمل کی زد میں لایا جائے جو غیر قانونی حرکتوں میں ملوث ہیں۔ اس اختیار کو سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے استعمال نہ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی بے حد ضروری ہے کہ ملک کے عدالتی نظام اور قوانین کو مستحکم کیا جائے تا کہ جن لوگوں کو گرفت میں لیا جاتا ہے ، ان کے خلاف فوری کارروائی ہو اور وہ اپنے کئے کی سزا بھگت سکیں۔
الطاف حسین جب کراچی کے کنٹرول کی بات کرتے ہیں تو دراصل وہ چیخ چیخ کر یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہمیں نہ چھیڑا جائے۔ ہماری سیاسی قوت کے لئے مشکلات پیدا نہ کی جائیں۔ لیکن یہ پکارتے ہوئے وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس کا سب سے آسان حل یہ ہے کہ وہ اپنی پارٹی کی از سر نو مزاج سازی کریں۔ اس کے تنظیمی ڈھانچے کو یہ پیغام دیں کہ اب سیاسی کام اور فلاح کے نام پر چندے اکٹھے کرنے کو علیحدہ کیا جائے۔ سیاسی دفاتر کو علاقے میں دھونس اور دہشت قائم کرنے اور عوامی قوت کی بنیاد پر پولیس اور رینجرز کو دھمکیاں دے کر کام نکلوانے کا وقت شاید گزر چکا ہے۔ الطاف حسین اپنی سیاسی قوت کے خلاف جس سازش کی بات کر رہے ہیں، وہ دراصل خود انہی کی صفوں میں ہوتی رہی ہے۔ ان کے ساتھیوں میں جو لوگ بھی قانون کی نظر میں آ چکے ہیں، الطاف حسین اگر ان سے جان چھڑا لیں اور پارٹی کے معاملات صاف کردار کے حامل لوگوں کے حوالے کریں تو حالات تیزی سے بہتر ہو سکتے ہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ فی الوقت ایک کال پر کراچی بند کروانے کی صلاحیت سے محروم ہو چکی ہے۔ اب میڈیا ہاؤس متحدہ کے خوف کی وجہ سے الطاف حسین کی غیر ضروری طویل تقریریں نشر کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔ ایم کیو ایم اور اس کی قیادت کو اس فطری تبدیلی کو سازش قرار دینے کی بجائے اس کے ساتھ سمجھوتہ کر کے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ تاہم الطاف حسین کی زبان درازی اور بار بار دھمکیاں دینے کا انداز یہ بتا رہا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے نرغے میں ہیں جو انہیں حقیقت حال کی خبر نہیں ہونے دیتے۔ الطاف حسین کو فوج کے گندے انڈوں کی فکر کرنے سے پہلے اپنی پارٹی اور اپنی صحبت میں اکٹھے ہونے والے گندے انڈوں سے نجات حاصل کرنی چاہئے۔
اسی طرح وفاقی حکومت کے وزیروں کو غیر ضروری بیان جاری کرنے اور احمقانہ طریقے سے درجنوں ایف آئی آر درج کروانے کی بجائے قومی اسمبلی کے ذریعے ایسے قوانین منظور کروانے چاہئیں جو قانون کی عملداری کو یقینی بنائیں۔ ہماری عدالتیں اکثر صورتوں میں اس لئے مناسب فیصلے کرنے سے قاصر رہتی ہیں کیونکہ استغاثہ کمزور ہوتا ہے اور ناقص قوانین کی وجہ سے الزام ثابت نہیں کئے جا سکتے۔ اس طرح یہ جانتے ہوئے بھی کہ کوئی شخص قصور وار ہے اسے رہا کر دیا جاتا ہے۔ اس صورتحال کو تبدیل کرنے کی ذمہ داری تمام سیاستدانوں ، منتخب نمائندوں اور سول اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ لیکن وفاقی حکومت خاص طور سے قومی اسمبلی میں اپنی سیاسی قوت کی بنیاد پر اہم فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
جس وقت تک سیاسی پارٹیاں قانون کے سامنے جوابدہی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی بجائے محض بیان بازی اور اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے خود کو منوانے کی کوشش کرتی رہیں گی، اس وقت تک ملک میں حالات تبدیل ہونے کا امکان پیدا نہیں ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *