کچھ ہندوستانی فوج کے بارے میں

majeedبر صغیر پاک وہند کی تاریخ کا جائزہ لیں تو یہ عقدہ کھلتا ہے کہ تقسیم ہند سے قبل ایک ہی فوج کا حصہ ہونے کے باوجود پاکستان اور بھارت کی افواج کے مزاج اذادی کے بعد مختلف رہے ہیں۔ اس واضح تفریق پر بحث تو بہت ہو چکی ہے لیکن حال ہی میں ایک امریکی محقق نے اس موضوع پر Army and Nation کے عنوان سے ایک عمدہ کتاب تحریر کی ہے اور دونوں ممالک کی افواج کے فرق کو سمجھنے کی سعی کی ہے۔اس سے قبل معروف سیاسی تجزیہ نگار سٹیفن کوہن اس موضوع پر ایک کتاب لکھ چکے ہیں۔
مصنف سٹیوم ولکنسن (Steven Wilkinson) کے مطابق پاکستان اور بھارت کی افواج میں ابتدا ہی سے تین فرق موجود تھے۔ تقسیم کے موقع پر بھارتی فوج کے مقابلے میں پاکستانی فوج کو ہتھیاروں اور زر مبادلہ کے حصول میں مشکل کا سامنا تھا، پنجاب اور یوپی کے جاگیرداروں پر مشتمل آل انڈیا مسلم لیگ کے برعکس انڈین نیشنل کانگرس ایک باقاعدہ سیاسی جماعت تھی اور اس جماعت کے رہنما 1930ء سے آزادی کے بعد فوجی اصلاحات پر غورو فکر کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ بھارتی قیادت نے حکمت عملی کے تحت آغاز ہی سے فوج کو حکومتی معاملات سے دور رکھا۔ پاکستان فوج کے حاکمانہ مزاج ، اس کے ارتقائاور بھارتی فوج کے الگ راستہ اپنانے کے متعلق کچھ حقائق درج ذیل ہیں ۔ پاکستان اور بھارت کی افواج کی ارتقائی تفریق کے تانے بانے سامراجی منصوبہ بندی سے جا ملتے ہیں۔
1857ء میں برپا ہونے والی بغاوت کے بعد انگریز بہادر نے یہ فیصلہ کیا کہ آئندہ سرکاری فوج میں بھرتی کے دوران کچھ مخصوص علاقوں کو ترجیح دی جائے گی۔ ان علاقوں میں پنجاب ، سرحد اور موجودہ دور کا نیپال شامل تھے۔ انگریزوں نے یہ تفریق اس لئے اپنائی کیونکہ جنگ کے دوران ان علاقوں کے فوجیوں نے اپنے ہم وطنوں کی جگہ انگریز ی فوج کی جانب سے شرکت کی تھی اور اپنی وفاداری ظاہر کی تھی۔ انگریز حکومت نے غدر کی روشنی میں یہ فیصلہ بھی کیا کہ ان مخصوص علاقوں کے اندرونی حالات خراب نہ ہونے دیے جائیں تاکہ فوجیو ں کا دھیان نہ بٹا رہے۔ پنجاب نے اس ترجیحی فیصلے کے باعث شمالی ہندوستان کے باقی صوبوں کی بدولت زیادہ ترقی کی (یاد رہے کہ پنجاب میں نہری نظام کے ثمرات بھی سرکاری فوجیوں اور سرکار کی جانب سے مقرر کردہ خاندانوں ہی نے حاصل کئے)۔پنجاب میں برطانوی سرکار نے زمین پر ٹیکس باقی علاقوں کی نسبت کم کر دیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق پنجاب کے ایک ضلع میں سرکار کی جانب سے فوجیوں کو ملنے والی تنخواہیں، پنشن اور دیگر مراعات اس ضلع سے اکٹھے ہونے والے ٹیکس سے تین گنا زیادہ تھے۔
ڈاکٹر سید جعفر احمد نے اپنے مضمون بعنوان ’پاکستان میں فوجی استبداد کی تاریخی بنیادیں‘ میں لکھا کہ نو آبادیاتی دور میں فوج تشکیل دیتے وقت انگریز کے پیش نظر یہ حقیقت تھی کہ مختلف مذاہب کے لوگوں کو فوج میں بھرتی کرنے سے خود فوج کے اندر گروہ بندی پیدا ہو سکتی ہے۔انگریز نے اس سلسلے میں بہت سوچ بچار کا مظاہرہ کیا۔ چنانچہ فوج میں بھرتی کرتے وقت سپاہیوں اور افسروں سے حلف تو ان کے مذہب کے نام پرہی لیا جاتا لیکن خود فوج کے اندر سپاہیوں کو متحرک کرنے اور ان کو اپنی جانیں قربان کرنے پر آمادہ کرنے کے لئے مذہبی جذبات کا استعمال کرنے سے احتراز کیا جاتا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپنی مادی ضرورتوں اور روزگار کے حصول کی خاطر فوج میں بھرتی ہونے والے افسران جنگوں میں کس جذبے کے ساتھ لڑ سکتے تھے۔ کسی قومی یا مذہبی جذبے سے عدم وابستگی کی صورت میں برطانوی استعمار کیلئے جنگیں لڑنا کیوں کر ممکن تھا؟ اس چیز کا انتظام انگریز نے بہت غور و فکر کے بعد کیا تھا اور وہ یہ کہ انہوں نے ہندوستانی سپاہیوں کی مختلف النوع وابستگیوں کو ایک دوسرے کے اندر ضم کرتے ہوئے ایک نئی وابستگی تشکیل دی تھی۔وہ وابستگی ایک یکساں احساس تفاخر تھا جو ہندوستانی سپاہیوں کے اندر خود کو باقی معاشرے سے ممتاز دیکھ کر پیدا ہوتا تھا۔ دیہی علاقوں سے آنے والے پسماندہ سماج کے افراد کو اس جذبے سے مامور کر دیا جاتا تھا کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کے رکھوالے ہیں۔‘
انگریز کی فوجی بھرتی کی پالیسی میں ایک اور اہم پہلو نسلی انتخاب کا بھی تھا۔ انگریز کا خیال تھا کہ ہندوستان میں بعض نسلیں ، دوسری نسلوں کے مقابلے میں زیادہ لڑاکا اور جنگجو واقع ہوئی ہیں۔ چنانچہ فوج میں بھرتی کرتے وقت ان علاقوں کو فوقیت دی گئی جہاں زیادہ تنومند اور صحت مند آبادیاں تھیں۔ ان نسلوں میں سکھ، گورکھا، راجپوت، پنجابی اور پختون شامل تھے۔ تامل، تیلگو، گجراتی اور بنگالی آبادی کو بالعموم فوج میں نظر انداز کیا جاتا تھا۔ اس بات کا بھی خیال رکھا گیا کہ معاشرے کے ایسے طبقات فوج میں آئیں جن کے پاس متبادل اقتصادی وسائل موجود نہ ہوں مثلاََ ایسے دیہی علاقوں سے فوج میں بھرتی کا انتظام کیا گیا جہاں یا تو زراعت بالکل نہیں تھی یا اس کی پیداوار اتنی زیادہ نہیں تھی کہ مقامی باشندوں کی کفالت کر سکتی۔ جنگجو قوموں کے فسانے کو بعد از تقسیم پاکستان میں تقویت دینے کی کوشش کی گئی البتہ تاریخ شاہد ہے کہ انگریز فوج کو سرنگا پٹنم اور بنگال کی افواج نے ناکوں چنے چبوا دیے تھے اور ان علاقوں میں پنجابی یا پٹھان آباد نہیں تھے۔ اس ضمن میں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ انگریزی فوج نے افغانی لشکر سے ایک دفعہ بدترین شکست کے بعد افغانستان پر کئی دفعہ حملہ کیا اور ہر دفعہ افغانیوں کے دانت کھٹے کئے۔
1941ء میں ڈاکٹر امبیدکر نے مسئلہ پاکستان پر اپنی کتاب میں یہ دلیل پیش کی تھی کہ ہندوستان کی تقسیم دراصل بھارت کے حق میں بہتر ہو گی کیونکہ تقسیم کے بعد بھارتی فوج میں پنجابیوں کی تعداد میں واضح کمی واقع ہو گی۔ آل انڈیا کانگرس نے 1930ء کی دہائی سے فوج کے مسئلے پر تحقیق کا آغاز کیا تھا۔ 1935ء میں کانگرس کے ایک عہدہ دار نراد چوہدری نے لکھا :’بھارتی فوج کی کمان صرف بھارتی شہریوں کے ہاتھ ہونی چاہئے اور اس فوج میں دیس کے ہر خطے کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔اس فوج کو خود مختار اور غیر ملکی مفادات سے بالاتر ہونا چاہئے۔‘ 1946ء میں وزارت حاصل کرنے کے بعد جواہر لال نہرو نے بھارتی افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل آکنیلک کو ایک طویل خط لکھا جس میں مستقبل کی بھارتی فوج کے خدو خال پر تجاویز اور تبصرہ موجود تھا۔ سامراج سے آزادی حاصل کرنے کے بعد بھارتی سیاست دانوں نے فوجی مداخلت سے بچنے کیلئے کچھ اقدامات کئے جنہیں Coup-Proofing کہا گیا۔ تقسیم سے پہلے کمانڈر انچیف کابینہ کا حصہ ہوتا تھا لیکن نہرو دور میں کمانڈر انچیف کو وزیر دفاع کا ماتحت مقرر کیا گیا اور فوجی بجٹ بنانے کی ذمہ داری وزارت دفاع کے سپرد کی گئی(اس اقدام سے پہلے فوجی بجٹ ،فوج کا اپنا محکمہ فنانس تیار کرتا تھا)۔ 1955ء میں کمانڈر انچیف کا عہدہ ختم کیا گیا اور اسکی جگہ چیف آف آرمی سٹاف کی اصطلاح رائج ہوئی۔ 1947ء سے 1977ء تک بھارتی فوج کے صرف ایک سربراہ کا تعلق پنجاب سے تھا۔ فوج کے سینئر جرنیلوں کی مدت ملازمت کم کر دی گئی اور ریٹائر شدہ جرنیلوں کو جلد از جلد بیرون ملک سفارتی عہدوں پر تعینات کیا جاتا۔ فوجی تربیت کیلئے انگریز کے قائم کردہ اداروں کے علاوہ نئے ادارے کھولے گئے تاکہ نئے ریکروٹ صرف ایک ہی درس گاہ سے منسلک نہ رہیں۔ جواہر لال نہرو اور وزیر خارجہ کرشنا مینن سویلین خفیہ اداروں کے ذریعے سینئر جرنیلوں پر کڑی نظر رکھتے تھے۔ 1962ء میں چین سے شکست کھانے کے بعد نہرو نے روایتی فوج کی صلاحیت بڑھانے کی جگہ نیم فوجی فورسز (para military)کی تعداد اور استعداد بڑھائی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *