ٹورانٹو کی جیرالڈ سٹریٹ

Pasha 1جیرالڈ سٹریٹ عرف انڈین؍پاکستانی بازار کینیڈا کے شہر ٹورانٹومیں بسنے والی دیسی کمیونٹی میں بہت مقبول ہے۔ اسلام آباد میں بیٹھ کرجب میں نے اس بازار کے بارے میں پڑھا تو دل میں بہت اشتیاق پیدا ہواکہ جو جھلکیاں لکھاری نے اپنی تحریر میں دکھائی ہیں،اگر وہ سچ ہیں تو یہ قابل دید جگہ ہو گی۔ مجھے کینیڈا میں آنے کا موقع گزشتہ برس ملااور اس دفعہ میرا کینیڈا میں مستقل بسنے کا پروگرام تھا ،اس لئے میرے میزبان معروف ترقی پسند دانشور طاہر اسلم گورا نے مجھے ٹورانٹو کی مشہورجیرالڈ سٹریٹ میں لا ٹھہرایا،جس کے چرچے پاکستان اور ہندوستان میں لوگوں کی زبان پر ہیں۔ نئے آنے والوں کیلئے خاص طور پر وہ تارکین وطن جن کایہاں اپنا کوئی عزیز رشتہ دار نہ بستا ہو، پہلا اورترجیحی ٹھکانہ یہی علاقہ ہوتا ہے۔ ٹورانٹو کے مرکز میں واقع جیرالڈ سٹریٹ میں آپ کو کینیڈا جیسے مغربی ملک میں دیسی ماحول میں لپٹا ہوا سرپرائزملے گا اور یوں محسوس ہوگاجیسے آپ لاہور یا دہلی کی کسی بھری پری شاہراہ پر گھوم رہے ہیں۔ سڑک کے دونوں طرف چھوٹی بڑی دوکانیں اور ہوٹل انڈین اور پاکستانی پردیسیوں نے آباد کررکھے ہیں۔ دوکانوں پر کپڑوں،شادی بیاہ کے ملبوسات، زیورات، جوتے، چوڑیاں، کھسے، کرتے اور دیگر سامان آرائش سے لیکر پاک و ہند کے مشہور پکوان مثلاً نہاری، بریانی، کڑاہی گوشت، پائے، چکڑ چنے، حلوہ پوری، روغنی نان، جلیبی، مکئی کے بھٹے، قلفی، فالودہ، دہی بھلے، چاٹ، گنے کا رس کے علاوہ ہندوستانی ویجی ٹیرین کھانے بھی اس بازار میں ملتے ہیں۔ دیسی ثقافت سے مزید مناسبت کے واسطے لاہور سے آٹو رکشااور انڈیا سے سائیکل رکشا تک لا کر ڈسپلے کیا گیا ہے۔ پاکستانی اور انڈین گھرانے شام کے وقت بچوں سمیت یہاں پہنچ جاتے ہیں۔ سیر کرتے ہوئے، کھانے کھاتے اور باتیں کرتے ہوئے تصویریں بناکر رات گئے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔
جیرالڈ بازار Coxwell Ave سے شروع ہو کر Greenwood Ave میں باجی کے ہوٹل کے پاس تقریباًنصف کلومیٹر کے فاصلے پر جاکر ختم ہوجاتا ہے۔pasha 2ویسے تو یہ جیرالڈ سٹریٹ بہت لمبی ہے اور کئی کلومیٹر تک چلتی ہوئی ڈاؤن ٹاؤن تک جاتی ہے لیکن دیسی بازار باجی کے ہوٹل تک ہے۔باجی پاکستان فلم انڈسٹری کی ایک ریٹائرڈ اداکارہ ہے جس کے انگ انگ سے اب بھی فن کی چنگاریاں پھوٹتی ہیں۔ گرین ووڈ کے کونے پر واقع کشادہ میدان میں اپنے دیسی کھانوں کے ساتھ جلوہ افروز ہے۔باجی نے اپنے فلمی کیریر میں سو سے زیادہ اردو اور پنجابی فلموں میں کام کیا۔ زیادہ تر کریکٹر رول کئے اور آٹھ سال پہلے سب کچھ چھوڑ دیا اور آج کل ٹورانٹو میں ہوٹل کی مالکہ ہیں۔ ٹورانٹو یوں بھی پاکستانی اور انڈین فنکاروں کا دوسرا گھر ہے۔ کچھ مہینے پہلے ماضی کی مشہور ہیروئن آسیہ کا یہیں پر انتقال ہوا تھا۔ مسرت نذیر، ممتاز، کویتا، سلمیٰ آغا، آصف رضا میر، لیلیٰ زبیری،توثیق حیدر اور حالیہ دور کی مشہور سٹیج اداکارہ نرگس بھی یہیں ہیں۔ پنجابی لوک گیتوں کے مشہور کلاکار ہزارہ سنگھ رمتا جی بھی گذشتہ بیس سال سے یہیں بسیرا کئے ہوئے ہیں۔
pasha 3جیرالڈ سٹریٹ پر نصف کلومیٹر کا یہ فاصلہ طے کرتے ہوئے ایک طرف لتا منگیشکر کی مسحور کن آواز کانوں میں رس گھولتی ہے تودوسری طرف مہدی حسن اور میڈم نورجہاں کے دوگانے گونج رہے ہیں۔ کہیں نصرت فتح علی خاں نغمہ سرا ہیں تو کہیں افشاں اور منصور ملنگی نغمہ سرا ہیں۔ ایک طرف تلاوت سنائی دیتی ہے تو ساتھ ہی کہیں دور سے بھجن بھی سنائی دیتے ہیں۔ یہی اس بازار کا حسن ہے کہ یہاں سب ایک دوسرے کے انداز سے لطف اٹھاتے ہیں۔ اس بازار میں کوئی واہگہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی مذہبی انتہا پسندی۔عید سب کا سانجھا تہوار ہے بالکل دیوالی کی طرح۔ ہندو، مسلم اور سکھ یہاں ایسے مل جل کر کاروبار کرتے اور رہتے ہیں جیسے تقسیم ہندوستان سے پہلے کسی بڑے شہر کے کسی محلے کے باسی ہوں۔تہوار جدا نہیں ہیں لیکن آزادی کے دن علیحدہ علیحدہ رنگ لئے ہوئے ہیں۔ انڈین پندرہ اگست کو آزادی کا دن مناتے ہیں تو پاکستانی چودہ اگست کو۔پاکستانیوں کاانداز وہی ہے بالکل اپنے دیس جیسا یعنی ملی نغموں کارسیلا میوزک پورے دھرم دھڑکے کیساتھ،گاڑیوں کے تیز ہارن کا شورٹریفک جام اور زبردست ہلڑ بازی۔ ایک کمی ہوائی فائرنگ کی البتہ رہ جاتی ہے جس کی یہاں اجازت نہیں۔ اجازت تو خیر پاکستان میں بھی نہیں لیکن وہاں کوئی پرواہ نہیں کرتا ۔
انڈین اور پاکستانی لوگوں میں دوسرا فرق سیاسی شعور اور ترجیح کا ہے۔ ہندوستانی لوگ مکمل کاروباری ذہن کے ہیں اوراپنے کام سے کام رکھنے میں مگن نظر آتے ہیں ۔ان کی بلا سے بھارت میں سیاسی سطح پرکیا ہورہا ہے،کونسی پارٹی الیکشن میں جیتتی یا ہارتی ہے، ان کو اس سے رتی بھر سروکار نہیں۔ اگر کوئی سیاسی وابستگی رکھتا بھی ہے تو اس کا اظہار نہیں کرتا۔ اس کے بر عکس پاکستانی کمیونٹی سیاست میں بھر پور دلچسپی رکھتی ہے۔ تقریباً 90 % پاکستانی سیاسی بخار میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ جیرالڈ سٹریٹ پرجس کا جتنا کاروبار پھیلا ہوا ہے،وہ سیاست میں بھی اتنا ہی ڈوبا ہوا ہے۔ ہر کاروباری بندہ پاکستان کی کسی نہ کسی سیاسی پارٹی کی نمائندگی کرتا نظر آتا ہے۔کئی تو ایسے بھی ہیں جن کی پیدائش کینیڈا میں ہوئی اور یہیں پلے بڑھے ہیں لیکن سیاست اپنے والدین کے دیس کی کرتے ہیں۔ سیاست ان کا شوق بھی ہے اور خود نمائی بھی۔ پاکستانی سیاسی پارٹیوں کی دوسرے یا تیسرے درجے کی قیادت گاہےpasha 5 بگاہے یہاں پھیرا کرتی ہے جس کا مقصد پارٹی کیلئے چندے کے نام پر ڈالر اکٹھے کرنا ہوتا ہے جو یہاں کی بزنس کلاس یا پھر آنہ آنہ جوڑ کر پیسے جمع کرنے والے ٹیکسی ڈرائیورز کی جیبوں سے نکل کر ان سیٹھوں کی جیبوں میں منتقل ہوتا ہے۔ ان پردیسی پاکستانیوں کو ان پارٹی نمائندوں کے ساتھ تصویریں کھینچوانے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ لیڈر اپنی اگلی منزل کی جانب روانہ ہو جاتے ہیں تو یہ پاکستانی ان سیاست دانوں کے ساتھ مضحکہ انگیز تصاویر کوبڑے سائز میں فریم کراکر اپنی دوکانوں اور ہوٹلوں میں دوسرے پاکستانیوں کو مرعوب کرنے کیلئے آویزاں کردیتے ہیں۔پچھلے دنوں یہاں ٹورانٹو میں پنجابی فلم فیسٹیول چل رہا تھا جس میں پنجابی سینما کے مندوبین اور فنکار شرکت کررہے تھے۔پاکستان سے اداکارہ میرا کو اس ایونٹ میں شرکت کیلئے بلایا گیا۔ ایک پاکستانی بزنس مین نے میرا کو اپنے ساتھ رات کے کھانے کی دعوت دے ڈالی۔اداکارہ نے بڑے ناز سے اس کی جانب غور سے دیکھا اور جواب دیا،’’تم مجھے یہیں پر سو ڈالر دے دو اورمیرے ساتھ تصویر بنوا لو‘‘۔ میرا کی یہ بات سن کر ساتھ کھڑے سکھ لوگ ہنسنے لگے۔ شاید ان کو مذکورہ مکالمے سے ہمارے فنکاروں کی قدروقیمت کااصل اندازہ ہو گیا تھا۔ آفرین ہے اس پاکستانی بزنس مین پر جو اپنی بات پر اصرار کرتا رہا۔
ان لوگوں نے یہاں پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی پارٹیوں مسلم لیگ ن،تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے کئی کئی دھڑے بنا رکھے ہیں۔ہر گروپ اپنے ہی دھڑے کو پاکستانی پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا منظور شدہ اور منظور نظرگردانتا ہے۔ حالانکہ پاکستانی لیڈروں کو صرف اُس دھڑے سے زیادہ پیار ہوتا ہے جوانہیں زیادہ ڈالر اکٹھے کرکے دیتا ہے۔ سیاسی معاملات، دیرینہ رقابتوں اور لڑائیوں میں پاکستانی لوگ اپنے وطن کی طرح یہاں بھی یکتا دکھائی دیتے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کی مقامی میٹنگز میں ایک دوسرے کی تذلیل کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ اس تصویر کا ایک اور گھناؤنا پہلو بھی ہے۔وطن سے غربت کے مارے یا اعلیٰ تعلیم کے لئے آنے والے طالب علم جب کینیڈا کی دھرتی پر قدم رکھتے ہیں تو سب سے پہلے انہی ہم وطنوں کا شکار بنتے ہیں۔ نئے آنے والوں کو فوری طور پر رہائش اور کھانے پینے کی ضرورت ہوتی ہے۔پاکستانی سیٹھ اپنے ہوٹل،ریسٹورانٹس اور سٹورز میں انہیں انتہائی کم اجرت پر فوراً بھرتی کرلیتے ہیں۔ اور پھر انہیں جیرالڈسٹریٹ کے سٹورز اور ہوٹلزمالکان کے ہاتھوں تب تک یرغمالی کی حیثیت سے زندگی گذارنا پڑتی ہے جب تک انہیں قوانین pasha 4اور اپنے حقوق کا پتہ نہیں چل جاتا۔ حکومت کی جانب سے کم از کم 10.5 ڈالر فی گھنٹہ اجرت مقرر کی گئی ہے جبکہ یہ دیسی تاجر پانچ ڈالر سے شروع ہوتے ہوئے زیادہ سے زیادہ چھ ڈالر تک جاتے ہیں۔ خود ہزاروں ڈالر کما کر روزانہ گھر جاتے ہیں۔ایک طرف ٹیکس چوری کرکے حکومت کو نقصان پہنچاتے ہیں تو دوسری جانب اپنے ملازمین کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھتے ہیں۔ ان سٹورز کے اکثر مالک خود ان پڑھ ہیں لیکن پڑھے لکھے ضرورت مند نوجوانوں سے انتقاماً گھٹیا کام لے کر اپنی انا کو تسکین پہنچاتے ہیں۔ اپنی آنکھوں میں سندر سپنے لے کر دیار غیر میں آنے والے نوجوان ان بیگار کیمپوں میں واش رومز اور فرش صاف کرتے ہیں۔ کوئی تندور پر روٹیاں لگا رہا ہے،کسی کو کچن میں پیاز کی بوری کاٹنے کی مزدوری ملی ہوئی ہے تو کوئی بڑے بڑے دیگچے مانجھ رہا ہوتاہے۔اپنے ملازمین سے اس طرح کا غیر انسانی سلوک کرنے والی پاکستانی اشرافیہ اپنے ہی بھائیوں کا خون نچوڑ رہی ہے۔ مہذب ملکوں میں رہتے ہوئے بھی غریب ، کمزور کو دبانے جیسے گھٹیا سماجی رویے اپنائے ہوئے ہے۔ جیسے ہمارے گاؤں کے وڈیرے اپنے ہاریوں سے سلوک کرتے ہیں ویسا ہی ٹورانٹو میں ان دیسی مالکوں کا اپنے ملازمین سے سلوک ہوتا ہے۔یہ شرمناک منظر صرف ٹورانٹو تک محدود نہیں بلکہ نیویارک، میکسیکو اور کیلی فورنیا میں بھی نظر آتا ہے۔ امریکی حکام نے اپنے ملک میں اس لعنت پر قابو پانے کی کوشش کی ہے۔ اب ان مالکان کو سخت سزاؤں کا سامنا ہے جنہوں نے مسکین لوگوں کا خون نچوڑ کر ملٹی ملین ڈالرز کی جائیدادیں کھڑی کرلی ہیں۔ظلم کی حد ہے کہ ان عمارتوں ہی میں ملازمین کو رہنے کی جگہ دیتے ہیں اور پھر کرائے کی مد میں آدھی کے قریب تنخواہ منہا کرلیتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *