سردار عبدالقیوم خان ۔ کچھ یادیں

farhanسردار عبدالقیوم خان سے ایک انٹرویو میں پوچھا گیا کہ آپ سیاست میں یہاں تک کیسے پہنچے؟ جواب دیا کہ ’یہ سب میری پاکستان کے ساتھ کمٹمنٹ کا نتیجہ ہے۔ اس حوالے سے میرا موقف ہمیشہ دو ٹوک رہاہے‘ ۔ ماضی کاایک مشہور نعرہ’ کشمیر بنے گا پاکستان‘ سردار صاحب ہی سے منسوب ہے ۔ اُن کے پرستار انہیں ’مجاہد اوّل‘ کہتے تھے۔ پس منظر اس لقب کا کشمیر میں ڈوگرہ حکمرانوں کے خلاف مزاحمت کی ابتدا سے جڑا ہے۔ سردار عبدالقیوم خان کے بارے میں مشہور تھا کہ28اگست1947کو پہلی گولی انہوں نے چلا کر جہاد شروع کیا۔ یہی گولی اُنہیں مجاہد اوّل کے لقب کا سزاوار ٹھہراتی ہے ۔ دوسری طرف کچھ لوگ اس کی تردید کرتے ہیں اور سردار صاحب کی بجائے کچھ اور ناموں کا ذکر کرتے ہیں۔ مثلاً ایک صاحب علم نے لکھا ہے، ’ سردار عبدالقیوم خان کے نظریاتی مخالفین دعویٰ کرتے ہیں کہ کشمیر کے مجاہد اوّل کے خطاب کے سزاوار راجہ سخی دلیر خان ہیں جنہوں نے 2 اکتوبر 1947ءکو لچھمن پتن کو فتح کرکے اس کا نام آزاد پتن رکھا تھا اور بعدازاں تابڑ توڑ حملے کرکے راجوری تک 1300 مربع میل علاقے کو ڈوگرہ راج سے آزاد کروایا تھا‘۔ ایک صحافی کے مطابق ”یہ سوال معما بنا رہا کہ تحریک آزادی میں پہلی گولی کس نے چلائی۔ سردار عبدالقیوم خان نے ایک بار اعتراف کیا کہ پہلی گولی انہوں نے نہیں چلائی بلکہ ان کے ایک ساتھی مولوی محمد بخش نے چلائی۔ اور وہ بھی غلط فہمی میں۔ رات کا وقت تھا۔ وہ سمجھے کہ دشمن آ رہا ہے تو اس نے پہلی گولی اپنے بیٹے پر چلا دی۔ یہ بات خود سردار صاحب نے راقم کو بتائی ہے۔‘ خیر’ مجاہد اوّل‘ کس کو کہا جائے؟ سردار عبدالقیوم خان کو ، راجہ سخی دلیر خان کویا پھرمولوی محمد بخش کو ؟ کسی کو کہا بھی جائے یا نہیں؟ میرے خیال میں یہ بحث اتنی اہم نہیں کہ جس پر لڑائی جھگڑا کیا جائے ۔ بس ایک تاریخی معاملہ ہے جس میں ٹھوس شواہد کی بنا پر قرین حقائق بات درج کر کے حوا لہ تاریخ کر دی جائے۔ سردار عبدالقیوم خان کی ایک اور کاوش جس نے ریاستی سیاست پر بہت گہرے اثرات مرتب کئے وہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے الحاق پاکستان کی شق کا اندراج تھا۔ ان کی پاکستان سے وابستگی پر کوئی دو رائے نہیں مگر اس فیصلے نے کشمیریوں کے ایک بہت بڑے گروہ کو عملی سیاست سے کاٹ کر رکھ دیا تھا۔ یہ لوگ کشمیر کی چھ ہزار سالہ طویل تاریخ کی تسلسل میں جینا چاہتے تھے۔ ان کا مطالبہ ایک مکمل شناخت تھی۔ ان کے لئے یہ شق قابل قبول نہ تھی۔ ان کا موقف تھا کہ جب اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کشمیر کے معاملے کا حل رائے شماری اور خود ارادیت سے نکالنے کی بات کی جا چکی تھی تو ایسا فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

qayum 6کشمیر کونسل نامی ایک ادارے کو انہوں نے پاکستان کے کشمیر کے ساتھ قانون سے بالا تر تعلقات کا ذریعہ کہا اوریہ بالکل درست ہے۔ یہ ادارہ ریاست کے کندھوں پر ایک بوجھ کے سوا کچھ نہیں۔ سردار عبدالقیوم خان چونکہ شروع ہی سے آزادکشمیر کے حکومت کے اہم مناصب پر فائز رہے اس لئے وفاقی حکومت سے ان کے تعلقات دیگر سیاسی زعماءکی نسبت زیادہ مستحکم تھے۔ بھٹو سے اختلاف ہوا، کچھ وجوہات تھیں۔ بھٹو اپنے سیاسی مخالفین کے بارے میں نرم گوشہ رکھنے کے قائل نہیں تھے۔ چنانچہ سردار صاحب کو پلندری جیل جانا پڑا۔ پھر بھٹو کو سردار صاحب کی ضرورت اس وقت پڑی جب پی این اے کا خطرہ اُن کے سر پر منڈلانے لگا۔ بھٹو اور پی این اے کے زعما کے درمیان پُل کا کردار سردار صاحب نے ادا کیا۔ پھر ضیا کا عہد آیا۔ بریگیڈئر حیات کو آزاد کشمیر کا صدر بنا دیا۔ ان دنوں ضیاءالحق اور سردار صاحب کے باہمی تعلقات میں زیادہ گرم جوشی نہیں تھی۔ بعد میں تو ضیاءانہیں ’مُرشد‘ کہہ کر مخاطب کیا کرتا تھا۔ پھر پیپلز پارٹی کے مختلف اَدوار میں وفاقی حکومت سے ان کے تعلقات رہے مگر اس طرح کی گرم جوشی نہ تھی۔ وجہ یہ تھی کہ جموں کشمیر مسلم کانفرنس پاکستان میں مسلم لیگ کے ساتھ اپنا نظریاتی رشتہ جتانے میں سہولت محسوس کرتی تھی۔ نوازشریف کے بال جن دنوں سیاہ تھے تو وہ سر گوشیوں میں سردار عبدالقیو م خان سے سیاست ِ دوران کے گُر سیکھا کرتے تھے۔ شہباز شریف بھی سردار صاحب کے سامنے باادب بیٹھا کرتے تھے۔
مشرف آیا تو حالات نے ایک اور کروٹ لی۔ سردار عبدالقیوم خان نحیف ہو چکے تھے۔ انہوں نے مسلم کانفرنس کی باگ ڈور اپنے ہونہار اور خوش گفتار صاحب زادے کو تھما دی۔ تجزیہ کاروں نے اسے ان کی سیاست کی آخری اور بڑی غلطی قرار دیا۔ پارٹی میں سردارسکندر حیات اورفاروق حیدرجیسے پرانے اور سیاست کی گہری سوجھ بوجھ رکھنے والے افراد موجود تھے۔ انہیں یکسر نظر انداز کردینا نا قابل فہم تھا۔ سب جانتے ہیں کہ آزادکشمیر کی حکومتوں کی qayum 3تبدیلی اور ناپسندیدہ حکمرانوں کے خلاف عدم اعتماد کی تحریکوں میں وفاقی دارالحکومت میں بر سر اقتدار پارٹیوں کا کتنا کردار ہوتا ہے۔ آزاد کشمیر میں وزیراعظم فاروق حیدر کی بے باکی وفاقی فرمانرواو¿ں کو بہت کَھلتی تھی۔ وہ بنیادی طور پر مسلم کانفرنسی ہونے کے باوجود آزادکشمیر کے وفاقی دارالحکومت کے ساتھ تعلقات میں اپنی خود داری کا کافی دھیان رکھتے تھے۔ بجلی کے کچھ منصوبوں پر باقاعدہ معاہدے کی بات بھی انہوں نے کی تھی۔ وفاق سے اپنے مختص فنڈز بھی مانگے۔ نصف برس تک رہنے والی اس حکومت کو بہت کچھ جھیلنا پڑا۔ فاروق حیدر کی خود داری انہیں اقتدار کے ایوان سے باہر لے گئی۔ عتیق خان اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک کو کامیاب بنا کر وزیراعظم ہو گئے اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ سردار صاحب علیل ہونے کی وجہ سے اپنے راولپنڈی والے گھر میں مقیم ہو گئے۔ ان کا نام مسلم کانفرنس کے سپریم لیڈر کے طور پر چلتا رہا مگر یہ سب کچھ علامتی تھا۔
سردار عبدالقیوم خان چلے گئے۔ وہ ایک سیاست دان تھے۔ سیاست دان خود کو عوامی نمائندہ کہتا ہے۔ عوامی نمائندے سے کارزار ِسیاست میں کوتاہیاں بھی ہو جایا کرتی ہیں۔ تاریخی عمل کی شفافیت کے لئے عوامی راہنماو¿ں کے جانے کے بعد بھی ان کے افعال کا تجزیہ ہوتا رہنا چاہیے تاکہ نئی نسل کھلی آنکھوںکے ساتھ آگے بڑھ سکے۔ سردار صاحب کے جنازے پر فاروق حید ر نے کہا کہ”ان کے دائیں ہاتھ کے اعمال بہت زیادہ ہیں ،وہ یقیناً بائیں ہاتھ سے بڑھ جائیں گے“۔ سردار عبدالقیوم خان کی کچھ باتیں ایسی ہیں جنہیں جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ ان کی سادگی، ان کی مذہب اور تصوف کے ساتھ گہری وابستگی، لکھنے کا ذوق، اپنے نظریے سے تاحیات غیر مشروط وفاداری اور پاکستانی افواج سے محaبت۔ ان کے صاحب زادے عتیق احمد خان نے بھی ان میں سے کچھ چیزیں اپنائیں۔ ملٹری ڈیموکریسی کی اصطلاح انہی کی کارگاہِ فکر سے پھوٹی ہے۔ موصوف آج کل ملکی اخبارات میں ملٹری ڈیموکریسی کے عنوان سے مضامین تحریر کر dafaaasکے اپنے کتھارسس کا سامان کرتے ہیں۔ انہیںاپنے والد کی طرح شائستہ لب ولہجے میں بات کرنے کا ڈھنگ بھی خوب آتا ہے۔
ریا ستی سیاست دانوں میں سردار عبدالقیوم خان واحد شخص تھے جنہوں نے اس قدر ہنگامہ خیزسیاسی زندگی کے باوجودسیاست، مذہب اور تصوف پر کئی کتابیں لکھیں۔ یہ کتابیںسیاست کے طالب علموں کو اُن کے فکری رجحانات کو سمجھنے میں کافی مدد دیں گی۔ سردار صاحب حکومتی ایوانوں میں ہوتے ہوئے بھی اپنے پیرو مرشد کی خدمت میں حاضر ہو کر چلّہ کشی کیا کرتے تھے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا”تصوف میرا شوق ہے اور سیاست میرا ذوق ہے“۔ کہتے تھے ”میں اپنا کام خود کرنے کو ترجیح دیتا ہوں۔ کسی کا انتظار نہیں کرتا“۔
سردار عبدالقیوم خان کے جنازے میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اسلام آبادسے خواجہ سعد رفیق پہنچے۔ اُن کی آمد ذاتی حیثیت میں تھی ۔ ریاست کے سبھی سیاست دان موجود تھے۔ فوج نے مکمل پروٹوکول دیا مگر وفاقی حکومت کا کوئی باقاعدہ نمائندہ نہیں آیا۔ میں سمجھتا ہوں برسر اقتدار مسلم لیگ کو کشمیر میں اپنے پرجوش اور دیرینہ نظریاتی حلیف کے ساتھ یہ سلوک نہیں کرنا چاہیے تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *