ہنگو: شدت پسندوں کے مرکز پر حملہ، 17 ہلاک

A view of a damaged security tower at the site of a suicide attack in Kabulپاکستان کے قبائلی خطے اورکزئی اور کرم کے سرحدی علاقے سپن ٹل میں طالبان کے حملے میں کم از کم سترہ افراد ہلاک جبکہ بائیس زخمی ہو گئے۔

سیکورٹی ذرائع کے مطابق طالبان مخالف شدت پسند کمانڈر ملا نبی حنفی کے کمپاؤنڈ پر جمعرات کی صبح دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی کے ذریعے حملہ کیا گیا۔

سرکاری حکام کے مطابق، کمپاؤنڈ پر حملے سے پہلے فائرنگ کی گئی جبکہ کمپاؤنڈ میں گھسنے کی کوشش کرنے والے دو حملہ آوروں کو بھی ہلاک کر دیا گیا۔

ٹل تحصیل پولیس کے ڈپٹی سپریٹنڈنٹ شوکت علی شاہ نے بتایا کہ دھماکے کی شدت سے کمپاؤنڈ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون اور بچہ بھی شامل ہے۔

سپن ٹل صوبہ خیبر پختونخوا کے نیم قبائلی ضلع ہنگو کا حصہ ہے، جہاں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رسائی آسان نہیں۔

کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ملا نبی حنیف ٹی ٹی پی کے خلاف حکومت کا ساتھ دے رہے تھے۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق، ملا نبی بھی اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں ، تاہم سرکاری حکام اس حوالے سے کچھ بتانے سے قاصر ہیں۔

یاد رہے کہ ملاُ نبی ماضی میں تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ منسلک تھے، لیکن بعد میں اختلافات پیدا ہونے کے بعد انہوں نے ٹی ٹی پی سے لڑنے کے لیے ایک گروپ تشکیل دیا تھا۔

ملاُ نبی کے مراکز کو طالبان پہلے بھی نشانہ بناتے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ، ملاُ نبی ہنگو سے خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن بننے والے پاکستان تحریک انصاف کے فرید خان کے قتل کے مقدمے میں سرکاری حکام کو مطلوب تھے۔

فرید خان کو ہنگو میں رواں سال جون میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *