پاکستان.... ایک ادھورا خواب ؟

ali zaifتشنہ خوابوں کی کرچیاں چننا کس قدر تکلیف دہ اَمر ہے ‘ اس کا اندازہ لگانا صرف اس شخص کے لیے ہی ممکن ہوسکتا ہے جو اس تلخ تجربے سے گزرا ہو۔ برسوں بیت گئے جب بمبئی کے ایک جہاندیدہ سیاست دان اور بیرسٹر محمد علی جناح نے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد اور روشن خیال فلاحی ریاست کا خواب (ممکن ہے اشارہ غیبی ہوا ہو) دیکھا تھا‘ان کا یہ سپنا اب تک ادھورا ہے لیکن اس کی کرچیاں آنے والی نسلوں کو زخم خوردہ کر رہی ہیں اور اگر قیادت نے رویہ تبدیل نہ کیا تو کرتی رہیں گی۔ وہ ہزاروں لاکھوں لٹے پٹے خاندان جو ہجرت کرکے اس اجنبی دھرتی پر آباد ہوئے‘ وہ جنہوں نے نوجوان بیٹوں کے لاشے اٹھائے‘ بیٹیوں کی عصمتوں کولٹتے دیکھا لیکن ایک روشن خیال فلاحی ریاست کا خواب ان کی آنکھوں سے کبھی جدا نہ ہوسکا۔ یہ وہ خواب ہے جو ہم سب کے پُرکھوں نے دیکھا جو اگلی نسلوں میں منتقل ہوتا رہا ‘ ٹوٹتا رہا اور اس کی کرچیاں آنے والی نسلوں کو خون بہا ادا کرنے پر مجبورکرتی ہیں اور کرتی رہیں گی۔

گزشتہ دنوں ایک تفریحی ٹرپ پرلاہور سے گلگت جانے کا اتفاق ہوا۔ کچھ دوست بھی ہم راہ تھے جن میں سے ایک صاحب بائیں بازو کے ایک سیاسی دھڑے کے کارکن تھے۔ ایک اور دوست سارے راستے ”کپتان“ کی سیاسی عظمت کے گن گاتے رہے۔ لیگی دوست اس اَمر پر مسرور تھے کہ دانش سکولوں کے بعد اب میٹرو بسوں کے چلنے سے غریب عوام کی کچھ مشکلات تو ضرورکم ہوں گی۔ ان کا خیال تھا :”مسلم لیگ نواز کے قائدین کرپشن پر قابو پانے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے لیے کوشش تو بھرپور کر رہے ہیں ۔ امید ہے2017ءتک بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو پالیا جائے گا۔ کیا کریں....گزشتہ حکومتیں اگر بجلی کے بحران پر قابو پانے میں ناکام رہی ہیں تو موجودہ حکومت کے پاس بھی الٰہ دین کا کوئی چراغ نہیں کہ بجلی کی آنکھ مچولی چند دنوں میں ہی ختم ہوجائے۔ ایک اور دوست‘ جن کے لیے خاموش رہنا دوبرہورہا تھا‘ فوراً لقمہ دیا:” کیا آپ سب وہ دن بھول گئے جب وزیراعلیٰ شہباز شریف اپنے وزرا.... ذرا تو¿قف کرتے ہوئے.... ”مزارعین“ کے ساتھ مینار پاکستان کے سایے تلے بیٹھ کر پکھیاں جھلا کرتے تھے؟“ مزارعین کا لفظ استعمال کرنے پر میرے مسلم لیگ کے حامی دوست تلملااُٹھے اور اول فول پر اتر آئے ۔
ایک سندھی ہندو دوست اس بات پر نالاں تھے کہ چھ دہائیاں گزر جانے کے باوجود ان کو پاکستان کے دوسرے درجے کا شہری ہی تصور کیا جاتا ہے۔ ایک اور موصوف، جو قدرے مذہبی رجحانات کے حامل تھے، مجھے مخاطب کرکے کہنے لگے:” کیا آپ کے خیال میں پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل آزادی اور تحفظ حاصل نہیں ہے؟“ میَں خاموش رہاکہ کسی ایک دوست کے سوال کا جوب دیتا تو دوسرا ناراض ہوجاتا۔ دوسرے لفظوں میں ڈپلومیٹک رہنا ہی بہتر تھے۔ ایک قوم پرست بلوچ دوست بھی ہم سفر تھے‘ ان کے چہرے کے تاثرات یکلخت تبدیل ہوئے۔ انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کیا تو گویا ہر کوئی اپنی اپنی ہانکنے لگا۔ جب شور حد سے بڑھا تو ڈرائیور نے احتجاجاً بس روک دی اور واضح لفطوں میں یہ اعلان کیا کہ وہ اس وقت تک بس نہیں چلائیں گے جب تک ہم لوگ خاموشی اختیار نہیں کریں گے۔ ہم سب غصے سے لال پیلے ہورہے تھے اور ان لمحات میں خاموش رہنا گویا پسپائی اختیار کرنا تھا جو کسی کو گوارا نہیں تھی۔ لیکن چوں کہ گروپ لیڈر میَں تھاتو اس لیے یہ ضروری تھا کہ اس حوالے سے مصالحت کی راہ تلاش کرتا، چناں چہ ڈرائیور سے اس معاملے کو سلجھانے کے لیے چند منٹ طلب کیے اور یہ وعدہ کیا کہ اب ہم سب منزل پر پہنچنے تک سیاسی گفتگو سے گریز کریں گے لیکن وہ یقین کرنے پر آمادہ نہ ہوا۔
اگلا مرحلہ اس سے بھی زیادہ ادق تھا لیکن ایک حیرت انگیز انکشاف ضرور ہوا کہ سب کے سب پاکستان کو ناکام ریاست قرار دینے پر اتفاق کرچکے تھے۔ ان کے بلند اور کڑک دارآواز میں تبصروں کے باعث بس کے دیگر مسافر بھی اس بحث میں کود پڑے تھے بلکہ شمالی علاقوں کی حسین وادیوںکے ڈھلوانی راستوں پر چہل قدمی کرتے اِکا دُکا مقامی افراد بھی چہروں پر معصوم مسکراہٹ سجائے اس عجیب و غریب بحث سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ اس وقت میَں نے فرداً فرداً سب دوستوں سے گزارش کی کہ وہ حالات کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے سفر مکمل ہونے تک اس بحث کو ملتوی کردیں اور اپنی اس دوستی کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ قصہ¿ مختصر چار ناچار سب احباب ، جو گلے پھاڑ پھاڑ کر اپنا مو¿قف منوانے کی کوششوں کے باعث نڈھال ہوچکے تھے، نے بہتری اسی میں جانی کہ وہ اس بحث کو کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھیں۔
ہم سب دوست واپس بس پر سوار ہوئے، ڈرائیور کی منت سماجت کی جواحتجاجاً بس چلانے پر تیار نہیں ہورہا تھا....مسافروں کی طنز آمیز مسکراہٹ اور جملے کانوں میں پڑتے رہے لیکن یہ شکر ہوا کہ ہم سب نے مصلحت سے کام لیا اور خاموش میں ہی عافیت جانی۔ ڈرائیور بالآخر ڈرائیونگ نشست پر آکر براجمان ہوا اور احتیاطی تدبیر کے طور پر ایک پرانی ہندی فلم چلا دی۔ بس سٹارٹ ہوئی تو سب کی سانس میں سانس آئی لیکن چند لمحے ہی گزرے ہوں گے کہ مجھے ایک شرارت سوجھی اور سب دوستوں کو فرداً فرداً ایک پیغام ارسال کیا کہ ان کے خیال میں پاکستان اگر ناکام ریاست ہے تو کیوں؟ نہیں ہے تو ان کی اس ”خوش فہمی“ کی وجہ کیا ہے؟
میرے وہ عزیز از جان دوست ، جو بائیں بازو کے نظریات کے حامل تھے،کہنے لگے:
-1میں تو یہ کہوں گاکہ یہ ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک غیر طبقاتی نظام رائج نہیں ہوجاتا۔
ایک اور ساتھی گویا ہوئے:
-2 یہ ملک اگلی کئی صدیوں تک ایک ناکام ریاست رہے گا کیوں کہ خلافت قائم کرنے کے لیے کوئی سیاسی قوت سنجیدہ نظر نہیں آتی۔
ایک اور نے ارشاد فرمایا:
-3قیامِ پاکستان کے بعداگر جناح چند برس مزید جی لیتے تو شاید آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔
ایک سیکولر دوست نے استدلال پیش کیا:
-4ملک کے تمام تر مسائل کی وجہ درحقیقت قراردادِ مقاصداور نظریہ پاکستان ہی ہیں۔اگرجناح کی 11اگست 1947ءکی تقریر کو نصاب کا حصہ بنادیا جاتا تو ملک میں امن و آشتی کا راج ہوتا۔
ایک خیرخواہ فرمانے لگے:
-5جناح کی وفات اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد افسرِ شاہی کے اقتدار پر قابض ہونے کے باعث ملک قیام کے ابتدائی برسوں کے دوران ہی جمہوریت کی پٹری سے اُتر گیا۔
پیپلز پارٹی کے ایک جیالے دوست نے کہا:
-6اگر جنرل ضیاءالحق نے 1977ءمیں مارشل لا لگا کر جمہوریت پر شب خون نہ مارا ہوتا تو اب تک سیاست دان بالغ النظرہوچکے ہوتے۔
کپتان کے پرستار کہنے لگے:
-7 ملک کو سب سے زیادہ نقصان سیاست دانوں نے پہنچایا ہے۔ انہوں نے کرپشن کی اور لوٹی ہوئی دولت سوئس بنکوں میں جمع کروائی جس کے باعث ملک آج تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ۔ اگر کپتان کو صرف ایک چانس مل جائے توبے شک پاکستان اور سنگاپور کا موازنہ کرلیجئے گا۔
بلوچ قوم پرست دوست ریاست سے تو نالاں تھے ہی.... لیکن انہوں نے کوئی رائے نہیں دی بلکہ صرف یہ استفسار کیا:
-8میرا وہ زخم اب تک مندمل نہیں ہوسکا جب میں نے اپنے چچا زاد بھائی کے جواں سال لاشے کو کاندھا دیا تھا۔ اس نے تو صرف مظلوم بلوچ قوم کے حقوق کے لیے آواز بلند کی تھی لیکن خاکی وردی والوں نے اسے بے دردی سے قتل کرڈالا.... کیا یہ میرا ملک نہیں ہے؟ گر جواب اثبات میں ہے تو پھر خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے لیکن آزادی حاصل کرکے رہیں گے۔
ہندو ہم راہی جو اب تک خاموش تھا‘ بول ہی پڑا:
-9 پاکستان نے تو اسی دن ناکام ریاست بننے کی جانب اپنے سفر کا آغاز کر دیا تھا جب ملک کی اولین کابینہ کے دلِت رُکن جوگندر ناتھ منڈل،افسرِ شاہی کے رویے سے، دلبرداشتہ ہوکر ہندوستان واپس چلے گئے تھے۔
میرے ایک دوست نے،جو اس ساری بحث میں ابتدا سے لے کر اب تک گہری سوچوں میںغلطاں رہے تھے، فقط اتنا کہا:
-10اگرنواز شریف کو اقتدار سے نہ ہٹایا جاتا تو ملک اس وقت عالمی طاقتوں کے کلب میں شامل ہوتا۔
ایک اور دوست نے تبصرہ کیا:
-11 پرویز مشرف کے خلاف وکلا کی تحریک درحقیقت ایک سازش تھی۔ جنرل کا ایک واضح ایجنڈا تھا جس پراگر عمل ہوا ہوتا توپاکستان ایشیائی طاقت تو ضرور بن جاتا لیکن یہ درمیان میں بے نظیراور ان کا این آر او آدھمکا۔
مجھے گہری خامشی نے گھیر رکھا تھا۔ کہنے کے لیے کوئی بات تھی نہ لکھنے کے لیے کوئی لفظ۔ کچھ خواب تھے جو میرے پُرکھوںنے دیکھے تھے جن کے پورا نہ ہونے کا کرب رگ و پے میں سرایت کر چکا تھا۔ کہتے ہیں کہ خواب اگر پورے نہ ہوں تو مستقل اذیت کا باعث بن جاتے ہیں۔ میں اپنی سوچوں میں گم تھا کہ عقبی نشست پر بیٹھے ایک مسافر کی سرگوشی سنائی دی:”سپر ماڈل ایان علی نے پشاوری چپل کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔“ موصوف کے لہجے سے بے بسی عیاں تھی گویا وہ اس بات پر دُکھی تھے کہ ایان کی یہ معصوم سی خواہش بھی پوری نہیں کرسکتے۔اگلی نشست سے آواز آئی :”جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ نے تو کپتان کی وکٹ ہی اڑا دی ۔“ایک اور مسافر نے تبصرہ کیا:”کپتان کی وکٹ تو اُڑ گئی لیکن ابھی ان کا باﺅلنگ سپیل باقی ہے، محتاط رہیے گا۔“ جواب ملا:”نواز شریف بلے بازی میں بھی کمال مہارت رکھتے ہیں‘ اگر سیاست میں نہ آتے تو کرکٹر ہوتے۔“ یوں تبصروں اور سوالات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا اور میَں اپنا سا منہ لے کر رہ گیا کیوں کہ ڈرائیور ایک بار پھر بس روک کر مسافروں کو وارننگ دے رہا تھا۔

(علی ظیف صحافی اور پرجوش کہانی کار ہیں اور قلم کے ذریعے اپنے جذبات و احساسات کی عکاسی کرتے ہیں۔ )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *