کالم نگار : 182سینٹی میٹر اور 84کلو

saleem pashaکالم نویسی کی صف میں ایک نیا اور عجب اضافہ ان دنوں دیکھنے میں آیا جب روزنامہ خبریں نے اپنی اشاعت کا آغاز کیا۔اِس کالم نویس نے آتے ہی کئی پرانے لکھاریوں کے چھکے چھڑادئیے۔اتنے ریڈر عمران سیریز کے نہیں تھے جتنے آجکل اِس کے بن گئے۔لفظوں کا مداری،کالم نویسی میں کسی جادو ٹونے والے پروفیسرسے کم نہیں،جس کی ٹیبل پر رنگا رنگ قسم کے رومال، ڈبے، بوتلیں، تلواریں، رسیاں، کبوتر، مرتبان، ہیٹ اور خرگوش وغیرہ نہ جانے کیا کیارکھا ہوتا ہے۔اس کا روزانہ کا یہ کام ہے کہ اپنے کالم کا آغاز کسی بھرپورسنسنی خیز اور پراسرارافسانے سے کیا جائے۔اگر کوئی تاریخی کردار ہتھے چڑھ گیا توکالم کے آٹے میں سچائی کا تھوڑا سا نمک بھی شامل ہو جاتا ہے۔ویسے جھوٹ کے بادشاہ ہیں اور اسی سے کام چلاتے ہیں۔ اب کافی عرصے سے ٹی وی کے اینکر بھی ہو گئے ہیں لفظوں کو اپنے منہ سے زیادہ بگاڑ کر بولتے ہیں شاید اردو زبان تلفظ کے اِس نئے تجربے کی تاب نہ لا سکے۔اب یہ لفظ تجربہ ہی لے لیں جسے یہ تجر ُبہ کہہ کر بولتے ہیں۔ جیسے مشہور کمپئیر طارق عزیز ہر لفظ کو تشدید کے ساتھ بولنا پسند کرتے ہیں۔ویسے بھی اب ٹی وی پر قومی زبان کا ستیا ناس ہوتے ہوتے بات پوسٹ مارٹم تک آن پہنچی ہے،بس تدفین باقی ہے۔لگتا ہے اس تابوت میں آخری کیل ان جیسے اینکر ہی ٹھونکیں گے۔

ان کے کالم کی سب سے دلچسپ شے منظر نگاری ہے۔جس میں یہ بڑے بڑے فلمی سکرین پلے لکھنے والوں کو مات دے جاتا ہے۔کسی معمولی سے معمولی واقعہ کا بیک گراﺅنڈ اور ماحول ایسا پینٹ کرے گا کہ بڑے بڑے تاریخی ناولوں میں نہ ہوگا۔سٹوری ایسی باندھتا ہے کہ کالم کے آغاز میں ہی لوگوں کے دل کو مٹھی میں کر لیتا ہے۔زیر قلم کریکٹر کو خود ڈائریکٹ کرتا ہے،مثلاً:” فیثا غورث نے گلاس اٹھایا، اس نے گلاس کے پیندے کے گرد اپنے داہنے ہاتھ کی چھوٹی انگلی کو پھیرکر دائیں طرف کو مڑتے ہوئے پانی لانے والے خادم کو قہر آلود نظروں سے گھورا اورگلاس کو پتھریلے فرش پر دے مارا۔میز پر سے ایک قلم اٹھا کردیوار پر اکیاون سینٹی میٹرلمبی اورچھ ملی میٹر چوڑی لکیر کھینچ دی۔“
آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس زمانے اس گھڑی کون سا ایسا مورخ ہوگا جو لمحہ بہ لمحہ کی کارروائی سانس روکے کالم نویس بھائی کے لئے اتنی جزیات کے ساتھ تحریر کر رہا ہو گا۔ اب اعداد وشمار ہی کو دیکھ لیجئے،جس میں غالباً موصوف ماسٹر ہیں۔ان کو یہ بھی پتہ ہے کہ مری روڈ پر سے ایک گھنٹے میں آٹھ ہزار دو سو ننانوے گاڑیاں گذرتی ہیں۔اس شہر میں چھبیس ہزار تین سو انتالیس لوگ فقیر بن کر گاڑیوں اور چوراہوں پر مانگتے ہیں۔ہر سال اکتیس ہزار پانچ سو تینتالیس نوجوان ڈاکٹر بن کر بے روزگاری کے سمندر میں غوطہ زن ہوجاتے ہیں۔کمپیوٹر کے علم میں تو یہ یکتا ہیں۔ آئی ٹی کے ماہرین نے ان سے یہ جانا کہ کمپیوٹر ایک سیکنڈ کے دسویں حصے میں کسی ہاتھ کی لکھی تحریر کو پڑھ لیتا ہے، چاہے وہ کسی زبان میں ہی ہو۔اب ان سے یہ پوچھنا باقی رہ جاتا ہے کہ ہمیں ذرا وہ سافٹ وئیر بھی بتا دیں تاکہ ہم بھی اس سے مستفید ہو سکیں۔ یار لوگ خوامخواہ اتنے کمپوزر بٹھائے اخبار پر بوجھ ڈالے بیٹھے ہیں۔
اپنی روزمرہ زندگی کی پچانوے فیصد مصروفیات کوعوام الناس تک لمحہ بہ لمحہ پہنچانا ہر بزعم خود بڑے کالم نویس کا اولین فرض ہے۔ وہ کہاں جاتے ہیں،دوران سفر ان کو کیا کیا واقعات پیش آئے،ان کو کس کس طرح کے لوگوں نے راستے میں پہچان کر ان سے خصوصی سلوک کیا، اگلے دن کے کالم میںسب کچھ لکھ دیں گے،لیکن یہ نہیں لکھیں گے کہ انہوں نے کسی پرانے آشنا یابرے وقت کے ساتھی کو دیکھ کر آنکھیں پھیر لیں یا اپنی طرف آتا دیکھ کر گاڑی کے شیشے چڑھا لئے یا اس کے بڑے ہوئے ہاتھ کو دیکھ کر سلام لینا تک گوارا نہ کیا۔ ان کے کالم سے ان کی روز بروز کی بدلتی ہوئی مالی حالت کا بھی قارئین کو اندازہ ہوتا رہتا ہے۔مثلاً پہلے لکھتے تھے کہ اتنی بڑی سیاسی تقریب میں جب میں اپنے موٹر بائیک پر پہنچا تو گرمی ،پسینے اور راستے کی گرد نے میرے اکلوتے سوٹ کا حشر کر دیا تھا۔ کسی قدر مشہور ہونے کے بعد انہوں نے لکھا ’ میں جی ٹی روڈ پر جھلسا دینے والی گاڑی میں لاہور کی جانب رواں دواں تھا کہ اچانک مجھے محسوس ہوا جیسے میری کھٹارہ سی اکلوتی گاڑی موسم کی شدت کا ساتھ نہیں دے سکے گی، اس کا دم ٹوٹنے والا ہے جب کہ میرے ساتھ کوئی مددگار بھی نہیں ہے۔‘ آجکل ان کے کالموں کا انداز کچھ شاہانہ سا ہو گیا ہے جیسے’ راستے میں ایک پولیس والے نے ہماری گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا تو میں نے ڈرائیور کو رکنے کو کہا اور پھر ڈرائیور نے باہر نکل کر پولیس مین کو بتایا کہ گاڑی میں کون صاحب ہیں،مگر آفرین ہے کہ اس قانون کے رکھوالے نے ڈرائیور کی ایک نہ سنی اور کہا کہ اوور سپیڈ ہونے کی بنا پر آپ کا چالان ضرور ہوگا۔میں اس صورت حال کو ائر کنڈیشنڈ گاڑی میں بیٹھا دیکھ رہا تھا۔مجبوراً میں باہر آگ برساتی گرمی کے سمندر میں نکل آیا اور پولیس مین کو اس کی فرض شناسی پر تھپکی دی جس نے مجھ جیسے مشہور آدمی کو بھی قانون سے بالا تر نہ سمجھا‘۔

ان کے بیرون ملک کے دورے بھی اپنے اندر ایک پوری FANTASY کے ماحول سے بھر پور ہوتے ہیں۔وہ وہ واقعات اور دلچسپ حادثات ان کے منتظر ہوتے ہیں جن کی عام آدمی اپنی زندگی میں صرف آرزو کرتا کر سکتا ہے۔ثقافتی طائفوں کی طرح ان کے بھی بیرون ملک پروموٹرز ہوتے ہیں جو ان کے کالموں کا پیٹ بھرنے کیلئے بیرون ملک سفر کا اہتمام کرتے ہیں۔آپ انگلیوں پر گن سکتے ہیں ان کالم نویس بھائی کے ان معتقدین کو جن کے کندھوں پر بیٹھ کر یہ دنیا کو دیکھتے ہیں۔مثلاًان کے دوروںکے لئے کون کونسے ان کے مداحین ان کو ائر پورٹ پر ریسیو کرنے کو آئے ،دیار غیرمیں انہوں نے کس کس کے گھر میں قیام کیا۔اور کس کس کی دعوت کو نظر انداز کیا۔۔سفر کا سفر کالم کا کالم۔اتنے ملک گھوم پھر چکے ہیں کہ اب یاد نہیں کہ کونسی جگہ پر کتنی بار گئے؟جب بھی کبھی مریخ پر آمدرفت شروع ہوئی تو قرین قیاس ہے کہ سب سے پہلے پہنچنے والے پاکستانی یہی ہونگے۔

قلم کے دھنی ہونے کے ساتھ ساتھ قلم کے بیوپاری بھی کمال کے ہیں اور انہوں نے اس دشت کی سیاحی میںخوب منافع کمایا کہ جب بھی بہتر بازار ملا۔ملک کے ایک مشہور لینڈ مافیا کے سربراہ نے اپنے کاروبار کو صحافت کی محفوظ چھتری تلے لانے کیلئے اسلام آباد کے ایک اردو اخبار کو مُل خرید لیا اور پھر خود ہی کالم نویسی بھی اس میں شروع کردی۔ موصوف نے اپنی تصویر علامہ اقبال کے قلم والے پوز سے متاثر ہوکر بنوائی اور کالم کے ساتھ دھوم دھڑکے سے چھپنے لگی۔ تحریر جانی پہچانی تھی جلد ہی بازارِ صحافت میں یہ خبر عام ہوئی کہ ان کےلئے کالم کرائے کے وہی قلم کار لکھ رہے ہیںجن کا ذکر ہورہا تھا اور فی کالم ایک لاکھ روپیہ وصول کرکے اپنے خزانے بھرتے جا رہے ہیں۔ یہ ناﺅ بیچ منجدھار کے نہ ڈوبتی اگر ہمارے قلم کار بھائی تساہل طبع سے کام نہ لیتے اور کوئی سجرا کالم لکھ کر بھیج دیتے۔موصوف سے غلطی یہ سرزد ہوئی کہ اپنے صدیوں پرانے طبع زاد کالم کو ہی جھاڑ پونجھ کے نئے پیرہن میں ڈان صاحب کے اخبار میں چھپنے کیلئے ارسال فرمایا تو انکے اپنے ہی کسی پیٹی بھائی نے مذکورہ نیا اور ماضی بعید کے چھپے ہوئے اصلی اور نقلی دونوں کالم ڈان صاحب عرف ٹھیکیدار کے سامنے رکھ دئیے۔پھر اس کے بعدوہی ہوا جو اِس طرح کے کاموں میں ہوتا ہے۔اپنی تحریروں میں درویشی اور فقیری کو اپنا اصل سرمایہ قرار دیتے ہوئے دنیاوی مال ودولت سے بے زاری ظاہر کرتے ہیں اور اکثر اوقات اپنے اندرون ملک کے بینک اکاﺅنٹس میں موجود رقم کی مالیت تک لکھ دیتے ہیں۔کئی دفعہ ان کے تینوں اکاﺅنٹس کی مجموعی رقم تیرہ سوروپے کو پڑھ کر ان کی مالی مدد کرنے کوبھی جی چاہا کہ پتہ نہیں یہ غریب لکھاری اپنی نئے ماڈل کی لگژری گاڑی کا خرچہ کیسے پورا کرتا ہوگا؟

اپنے شہر کا نام انہوں نے آج تک کسی کالم میں نہیں لکھا۔اور نہ ہی اپنے علاقے کا کوئی سفرنامہ کبھی لکھنا پسند فرمایا۔ان کا تعلق جس شہر سے ہے کاروباری لوگ خاص طور پر منیاری والے اس کو منی ہانگ کانگ پکارتے ہیں۔ دو نمبر مال بنانے میں پورے ملک تو کیا دنیا میں مشہور ہے۔اس شہر کے ہنر مندوں کا دعویٰ ہے کہ ہم ایٹم بم کی بھی کاپی کر دیتے ہیں ، فقط ایک بار ہمیں دکھلا دیا جائے،آگے وہ پھر چلے نہ چلے یہ اس کی قسمت۔اکثر بیرون ممالک سے آنے والے اس شہر سے مشہور برانڈ کے پرفیوم کی نقلیں خرید کر دوست احباب کو امپورٹیڈظاہر کر کے گفٹ کرتے پائے گئے ہیں۔آپ یقیناسمجھ گئے ہونگے اس شہر کا نام لالہ موسٰی ہے،جس کی پراڈکٹس پر اکثر MADE IN LALAM USA ُبھی لکھا ہوتا ہے۔ابن انشاء کے مشہور کردار استاد مرحوم کی طرح خود پسندی کا اتنا زیادہ شکار ہوئے کہ انہوں نے اپنے سو سال تک زندہ رہنے والے کالموں کی EXPIRY DATE بھی اپنی کتاب کے سرورق پرلکھ دی، مگر کسی سیانے کے کہنے پر اس کو اگلے ایڈیشن سے خذف کر دیا۔بعض لوگ کہتے ہیں دوسرا ایڈیشن اس مشہور فقرے کو مٹانے کیلئے چھاپنا پڑا۔باقی اندر کی بات ربّ ہی بہتر جانتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *