ریٹائرمنٹ سے پہلے انڈیا کے خلاف کھیلنا چاہتا ہوں: مصباح الحق

cricketپاکستان کے ٹیسٹ کپتان مصباح الحق نے ریٹائر منٹ سے قبل انڈیا کے خلاف ٹیسٹ کھیلنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ایک انٹرویو کے دوران مصباح الحق نے کہا کہ وہ رواں سال کے آخر میں روایتی حریف انڈیا کے خلاف متوقع سیریز کے بعد عالمی کرکٹ کو خیر آباد کہہ سکتے ہیں۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے گفتگو میں 40 سالہ مصباح نے کہا کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کی کرکٹ اب زیادہ نہیں بچی۔ ’’ریٹائرمنٹ سے پہلے کچھ ٹیسٹ میچ کھیلنا چاہتا ہوں۔ اگر انڈیا کے خلاف سیریز ہوئی تو میں یہ سیریز کھیلنا چاہوں گا، جس کے بعد میں غالباً ریٹائر ہو جاؤں گا۔‘‘ ٹی ٹونٹی اور ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرہو چکے مصباح نے گفتگو کے دوران صرف ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے فائدے اور نقصان پر بھی روشنی ڈالی۔ ’آپ اسے دو مختلف زاویوں سے دیکھ سکتے ہیں۔اگر مشکلات کی بات کریں تو وہ ٹیسٹ سیریز کے درمیان طویل وقفے ہیں جس کی وجہ سے ایک کرکٹر کی فارم متاثر ہو سکتی ہے۔ آپ ایک ایسے کھلاڑی کی مثال لیں جو تینوں طرز کی کرکٹ کھیلتا ہے۔ اس طرح وہ پورا سال مصروف رہنے کے ساتھ ساتھ آرام سے ایک فارمیٹ سے دوسرے فارمیٹ پر جا سکتا ہے۔‘‘ مصباح نے مزید کہا کہ ’’اگر آپ صرف ٹیسٹ کرکٹ کھیل رہے ہیں تو طویل وقفوں کی وجہ سے یہ ایک چیلنج بن جاتا ہے۔ آپ بس میدان میں جا کر کھیلنا شروع نہیں کر دیتے۔ یہ مشکل کام ہے کیونکہ ٹیسٹ کرکٹ آسان نہیں۔‘‘ مصباح نے صرف ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے فائدے گنواتے ہوئے کہا ٹیسٹ میچوں کے درمیان طویل وقفے آپ کو اپنے کھیل پر سوچنے سمجھنے کا موقع دیتے ہیں۔ ’’جب آپ تواتر کے ساتھ پورے سال تینوں فارمیٹس کھیل رہے ہوں تو آپ کے کھیل میں تکنیکی خامیاں جگہ بنا سکتی ہیں لیکن اگر آپ کو کچھ وقفہ مل جائے تو ایسے میں آپ اپنی غلطیوں کو درست کر سکتے ہیں۔‘‘ 52 ٹیسٹ میچوں میں 4000 جبکہ 162 ون ڈے مقابلوں میں 5122 رنز بنانے والے مصباح کے خیال میں سری لنکا کے خلاف پالی کیلے میں چوتھی اننگز میں 377 رنز کا ریکارڈ ہدف کا کامیاب تعاقب ان کے کیریئر میں سب سے یادگار لمحہ تھا۔ اس میچ میں ناقابل شکست 59 رنز بنانے والے پاکستانی کپتان کے مطابق، یہ ان کی بہت بڑی کامیابی تھی۔ ’’ یہ غالباً میرے عالمی کیریئر کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔چوتھی اننگز میں 377 رنز کا تعاقب آسان نہیں۔ آپ کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ سری لنکا کا باؤلنگ اٹیک بہت اچھا ہے۔ اس طرح کے بڑے ہدف کے تعاقب کیلئے منظم مائنڈ سیٹ اور منصوبہ بندی سے چلناانتہائی ضروری ہے۔‘‘ پاکستانی کپتان یاسر شاہ کے میچ وننگ لیگ اسپنر کے طور پر ابھرنے پر کافی خوش ہیں۔ ان کے خیال میں یاسر دنیا کو مات دینے والے باؤلر بن سکتے ہیں۔ ’’یاسر بہت باصلاحیت ہیں۔ انہوں نے اپنی صلاحیت ثابت کی ہے۔میں ان سے طویل عرصہ تک تسلسل کے ساتھ پرفارم کرنے کی امید کرتا ہوں۔‘‘ مصبا ح کے مطابق، اگر یاسر آئندہ سالوں میں اسی طرح کا تسلسل دکھاتے ہیں تو وہ عالمی کرکٹ کے ٹاپ کلاس لیگ اسپنرز میں سے ایک شمار ہوں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *