ایک قومی حادثہ

khursheed-جماعت اسلامی کے ایک رکن صوبائی اسمبلی نااہل قرار پائے۔ان کی ڈگری جعلی تھی۔اخبارات کے لیے یہ دوکالمی خبر تھی۔ میرے لیے یہ ایک قومی حا دثہ ہے۔
اس ملک کی کوئی سیاسی جماعت ایسی نہیں جس کا دامن اس جرم سے پاک ہو۔ایسی خبریں اس تواتر کے ساتھ آئی ہیں کہ اب ان میں خبریت کی کوئی بات نہیں رہی۔کوئی واقعہ جب نادر نہ رہے تواپنی خبریت کھو دیتا ہے۔اب تواسے جرم سمجھا ہی نہیں جا تا۔ہر سیاسی جماعت جعلی ڈگری والوں کے خیر مقدم کے لیے آمادہ ہے، بشرطیکہ اس کے کھیسے میں ووٹ ہوں۔جماعت اسلامی کے باب میں لیکن پہلی بار ایسا ہوا ہے۔کوئی دوسری جماعت ہو تی تو اسے نظر انداز کر دیا جاتا کہ رئیسانی صاحب اس باب میں قول ِ فیصل فرما چکے کہ ڈگری ڈگری ہو تی ہے۔ اس سیاسی روز مرہ کا شاید اس سے بہتر بیان ممکن نہ تھا۔ان کا ارشاد در اصل یہ بتا رہا ہے کہ سیاست اور اخلاق کا رشتہ ٹوٹ چکا۔اگر کوئی ایسا واقعہ ہو جائے تو اسے قبول کر لینا چاہیے کہ اس میں کوئی انوکھا پن نہیں ہے۔جماعت اسلامی کا معاملہ مگر یہ نہیں ہے۔اس کا اثاثہ تو اس کی اخلاقی ساکھ سمجھی جا تی ہے۔اگر وہ اس سے بھی محروم ہو گئی تو یہ کسی قومی المیے سے کم نہیں۔
جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی گئی تو در اصل یہ رواجی اور نسلی اسلام کا ردِ عمل تھا۔مو لا نا مود ودی کے خیال میں مسلمان اسمِ صفت ہے۔ گویا کچھ اوصاف ہیں جس کے حامل ہی کو مسلمان کہا جا سکتا ہے۔ایک فرد کے اسلام کا تعین مردم شماری کے رجسٹر سے نہیں،ا س کے اعمال سے ہو تا ہے۔قومیت کے باب میں لوگ مولانا مود ودی کی ادھوری رائے نقل کرتے ہیں۔وہ جس شدت کے ساتھ کانگرس کے تصورِ قومیت کے ناقد تھے، اسی شدت کے ساتھ انہوں نے مسلم لیگ کے تصورِ قومیت کو بھی رد کیا۔ان کے نزدیک جس طرح متحدہ قومیت کا خیال اسلام کے لیے قابلِ قبول نہیں، اسی طرح مسلم لیگ کا تصورِ قومیت بھی قابلِ قبول نہیں۔ ''مسلمان اور تحریکِ آزادی ہند“ میں یہ ساری بحث آج بھی پڑھی جا سکتی ہے۔اس پس منظر میں انہوں نے مسلم قومیت کا ایک نیا تصور پیش کیا۔اسی کے تحت مسلمان اسمِ صفت قرار پا یا۔
جو اس تصور کو مانتے تھے، انہیں ایک تنظیمی دھاگے میں پرو دیاگیا جس کا نام انہوں نے جماعت اسلامی رکھا۔جو اسلام کے اس معیار پر پورا نہیں اترتاتھا جو مو لانا بیان کر رہے تھے ، اسے قانو ناً مسلمان مانتے ہوئے، متفق تو بنا یا جا سکتا تھا، رکن نہیں۔رکن بننے کے لیے علم وا خلاق کے ایک خاص معیار تک پہنچنا ضروری تھا۔صالحین کی یہ جماعت ہی در اصل مسلمان کہلا نے کی مستحق تھی۔اس میں شبہ نہیں کہ انہوں نے یہ جماعت قائم کر کے دکھادی۔تعداد اگر معیار نہ ٹھہرے تو وہ ایسے صالحین کی تیاری میں کامیاب رہے۔اس سماج پر ایک وقت ایسا بھی گزرا کہ جماعت اسلامی کا رکن ہو نا دیانت کی علامت بن گیا۔اگر آپ کا سابقہ کسی رکن جماعت اسلامی سے ہے تو پھر آپ بے خوف وخطر اس کے ساتھ معاملہ کر سکتے تھے۔آپ اس سے بددیانتی کی توقع نہیں کرسکتے تھے۔
ا±سی دور کی بات ہے کہ جماعت اسلامی کا رکن قانون نہیں توڑ تا تھا۔دفعہ 144نا فذکر دی جا تی تھی جو اکثر بنیا دی حقوق کی خلاف ورزی ہو تی۔اس کے با وجود جماعت اسلامی اس قانون کی پابندی کرتی۔ اس دفعہ کے تحت پانچ افراد کے اجتماع پر پا بندی ہو تی ہے۔ اس دوران جماعت کے لوگ اگر مظاہرہ کرتے تو چار چار کی ٹولیوں میں۔جماعت پر پابندی لگی تو اس نے اپنا مقد مہ سڑکوں اور گلیوں میں نہیں، عدالت کے ایوانوں میں لڑا۔اسی جماعت کے ایک رکن اسمبلی کی ڈگری جعلی قرار پائے تو کیا یہ قومی المیہ نہیں ہے؟
اس سے بڑا قومی المیہ کیا ہو سکتا ہے کہ جو جماعت اقتدارسے دوری کو گوارا کر سکتی ہے مگر اخلاقی اقدار کی پامالی کو نہیں، اس کا ایک رکن اس بنیاد پر اسمبلی سے اٹھا دیا جا ئے کہ اس نے عوام اور قانون، د ونوں کے ساتھ دھو کا کیا۔بد قسمتی سے اخلاقیات اور قانون کے باب میں جو بے حسی پورے سماج میں سرایت کر چکی، جماعت اسلامی بھی اب اس سے مستثنیٰ نہیں رہی۔عیدکے دن میرے محلے کی تمام مساجد کے لاوڈسپیکر بند تھے۔سب خطبا وآئمہ نے قانون کی پابندی کرتے ہوئے،اپنی آواز کو مسجد کی حدود تک محدود رکھا۔ اس میں دیوبندی تھے اور بریلوی بھی۔صرف ایک مسجد ایسی تھی جس کے مینار سے اردو خطبے کے ساتھ عربی خطبوں کی آواز سارے محلے میں گو نجتی رہی۔ یہ مسجد جماعت اسلامی کے انتظام و انصرام میں ہے اور اس کے خطیب جماعت اسلامی کے رکن ہیں۔ یقینا انہوں نے کوئی ایسی بات نہ کی ہوگی جو قانون کے خلاف ہو لیکن لاوڈ سپیکر کایہ استعمال قانون کی خلاف ورزی تو بہرحال ہے۔
جب بھی کسی ایسی بات کی طرف تو جہ دلائی جا تی ہے، جماعت کے دوست ناراض ہوتے ہیں۔جوابی دلیل یہ ہو تی ہے کہ کیا دوسری جماعتوں کے لوگ بہت پارسا ہیں؟اگر وہ سمجھتے ہیں کہ یہ دلیل کسی لاقانونیت اور غلطی کا جواز بن سکتی ہے تو انہیں مبارک ہو مگر بات صرف اتنی نہیں۔جماعت اسلامی نے اپنے کندھوں پر خود ایک اضافی بوجھ ڈالا ہے اور وہ سماجی تطہیرکی ذمہ داری ہے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ اخلاقی پاکیزگی کے بارے میں اسے زیادہ حساس اور سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے۔کالم کا بوجھ میں نے خود اٹھایاہے۔ میں اپنے کالم کے لیے مو ضوع کا انتخاب خود کر تاہوں۔ آج میں جماعت اسلامی کے اراکین کے اخلاق پر قلم اٹھا رہا ہوں تو مجھے ضرور سوچنا چاہیے کہ میں خود ان
معاملات میں کتنا حساس ہوں۔اسی طرح اصلاح ِ معاشرہ کا کام جماعت اسلامی نے خود اپنے ذمہ لیا ہے۔لازم ہے کہ وہ ان معاملا ت میں دوسروں سے زیادہ حساس ہو۔
ہمارے سماج کا المیہ یہ کہ ہمارا عمومی اخلاقی معیار پست ہوا ہے۔سیاست اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔جماعت اسلامی نے اس ملک میں ایک نئے سیاسی کلچر کی بنیاد رکھی تھی جس نے سیاست اوراخلاق کی یکجائی کا تصور دیا۔دین اور سیاست میں تفاوت نہ ہو نے سے مراد یہی ہے۔یہ صرف نعرے اور قانون سازی کی بات نہیں ہے۔ اب ہو نا یہ چاہیے تھا کہ اس جماعت کا فرد اگر کسی دوسری جماعت میں جا تا تو بھی اس کا اخلاقی تشخص برقرار رہتا۔بدقسمتی سے ایسا بھی نہیں ہو سکا۔آج جماعت کے کئی تربیت یافتہ ن لیگ اور تحریکِ انصاف میں مو جود ہیں۔ سب کانِ نمک میں جا کر نمک ہو چکے۔اب تو یہ حالات ہیںکہ ہر طرف نمک ہی نمک ہے۔جماعت کی انفرادیت کہاں رہی جب اس کا رکن اسمبلی بھی جعلی ڈگری کا حامل نکلا۔
اخلاق کے باب میں اہلِ سیاست کا غیر حساس ہو نا ایک قومی المیہ ہے۔جماعت اسلامی کے تجربے نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ سماجی اصلاح کے بغیر، کوئی سیاسی عمل اخلاقی تطہیر کی ضمانت نہیں بن سکتا۔نہ صرف یہ کہ اس سے سیاست پاکیزہ نہیں ہوتی،یہ دعویٰ رکھنے والے بھی دھیرے دھیرے اپنی پاکیزگی سے محروم ہو جا تے ہیں۔نئی سیاسی جماعت کا خواب دیکھنے والے ازراہِ کرم اس پر ضرور غور فرمائیں۔
-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *