نواز شریف کے’’ کھابے‘‘ اور ایک ’’معمولی‘‘ صدر

MHTمجھے وہ لوگ سخت برے لگتے ہیں جو میاں نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے ان کی خوش خوراکی کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اُن کی نہاری، سری پائے، کڑاہی گوشت، مرغ چنے، دہی بھلے، گول گپے اور لوہاری کی کھیر کے لیے رغبت پر لطیفے گھڑتے ہیں۔ کیا اُن کا قصور یہ ہے کہ وہ غیر ملکی خوراکوں کی نسبت اپنے ملک کے دیسی کھانے زیادہ شوق سے کھاتے ہیں؟ مثلاً اگر یہ مشہور ہوتا کہ میاں صاحب فلاں پیزا پارلر میں پیزا روما کھانے جاتے ہیں۔ فلاح ریستوران کی پیپر سٹیک اور چکن جولیانو اُن کو بے حد پسند ہے۔ چینی اور تھائی فوڈ کے علاوہ انہیں میکسیکو کے پاپڑ بھی بہت اچھے لگتے ہیں اور چیز برگر تو وہ روزانہ دس بھی کھا جائیں تو بھی طبیعت نہیں بھرتی۔۔۔ دن رات پینا کلاڈا کا مشروب پیتے رہتے ہیں تو کیا اُس صورت میں بھی اُن کی خوش خوراکی پر اعتراض کیا جاتا۔۔۔ ہرگز نہیں۔۔۔ ہم دھوتی کڑتے اور شلوار قمیض پر تو اعتراض کر سکتے ہیں لیکن جین جیکٹ اور ڈنر سوٹ پر تو ہماری جان قربان۔۔۔ بلکہ میاں صاحب کی بے حد توصیف کی جاتی کہ سبحان اللہ کیا عمدہ اور سلجھا ہوا ذوق ہے۔ اطالوی وزیراعظم کو رات کے کھانے پر مدعو کیا تو اپنے ہاتھوں سے پیزا بنا کر انہیں کھلایا جس کے نتیجے میں اطالوی وزیراعظم کا پیٹ خراب ہو گیا کہ وہ پیزا نہ تھا قیمے والا نان تھا۔ امریکی صدر کو بھی برگر رائے ونڈ کھلایا جس کی وجہ سے انہیں ونڈ ہو گئی۔ ونڈ انگریزی میں ہوا کو کہتے ہیں۔ فرض کہ میاں صاحب کو ایک ایسا سیاستدان قرار دیا جاتا جو بین الاقوامی حقیقتوں اور خوراکوں سے بخوبی آگاہ ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ دیسی خوراکیں اتنی مرغن اور گھنی ہوتی ہیں کہ انہیں مسلسل کھانے سے عقل ماؤف ہو جاتی ہے۔ دماغ کے خلیوں میں نہاری گردش کرنے لگتی ہے۔ دوپراٹھے بھنے ہوئے مغز کے ساتھ کھانے کے بعد بندہ غتر بود ہوجاتا ہے۔ کسی کام کا نہیں رہتا، ہمہ وقت اونگھتا رہتا ہے جب کہ میاں صاحب نے یہ مفروضہ سراسر باطل ثابت کر دیا ہے۔ وہ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، الیکشن میں ان کی حکمت عملی کامیاب رہی اور وہ تیسری بار ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ علاوہ ازیں وہ ایک وسیع کاروباری سلطنت کے معاملات بھی بخوبی سنبھالتے ہیں تو کیا ہم اس کے باوجود کہہ سکتے ہیں کہ دیسی کھانوں کی رغبت نے اُن کا دماغ ماؤف کر دیا ہے اور اس کے خلیوں میں نہاری گردش کرتی ہے بلکہ میرا خیال ہے کہ اُن کی تمامتر کامیابیاں کھابے کھانے کے کھاتے میں ڈالی جا سکتی ہیں۔ یہ سری پائے اور اوجھڑی شوربہ کے کرشمے ہیں پاکستان کے دیگر سیاست دانوں کو بھی سیاست اور تجارت میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے آج ہی سے اپنا مینو تبدیل کر کے دیسی کھابے کھانے چاہئیں۔ اُن کے کچھ حواری اُن کے دفاع میں کہتے ہیں کہ میں تو دن رات میاں صاحب کے ساتھ رہتا ہوں حرام ہے انہوں نے کبھی مرغ چنے کھائے ہوں یا رس ملائی چکھی ہو۔ یہ محض دشمنوں کا شوشہ ہے کہ وہ ان مرغن خوراکوں کے شوقین ہیں۔۔۔ بھلا ایسا معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ آپ دھڑ لے سے کہیں کہ ہاں جی میاں صاحب خالص لاہوری اور پکے پاکستانی ہیں۔ اپنی سر زمین کے کھانے پسند کرتے ہیں اور ڈٹ کر کھاتے ہیں۔ اگر سابق امریکی صدر جمی کارٹر امریکی بھٹوں اور مونگ پھلی کے شوقین تھے۔ برطانیہ کے وزرائے اعظم فضول اور پھیکے فش اینڈ چپس کے دلدادہ ہوتے ہیں تو اگر میاں صاحب اپنے وطن کی خوراک پسند کرتے ہیں تو اس میں شرمندگی کی کیا بات ہے۔ کم از کم ہماری یہ خوراکیں امریکی اور برطانوی خوراکوں کی نسبت کہیں مہک آور اور ذائقے دار ہوتے ہیں۔ سنکیانگ یونیورسٹی کے ایک پاکستانی طالب علم کا کہنا تھا کہ تارڑ صاحب یہاں وطن سے دور اپنے پیاروں سے دور اور اپنی خوراک سے دور ہیں۔ بے شک یہاں اعلیٰ چینی کھانے ہیں، ترک کھانے ہیں، پلاؤ اور تکے ہیں لیکن جب کبھی نہاری کا خیال آتا ہے تو غش سا پڑ جاتا ہے، کوئی پاکستان سے ارمچی آتا ہے تو ہماری ایک ہی فرمائش ہوتی ہے کہ نہاری کے ڈبے لے آنا۔ ان دنوں تو انگلینڈ میں پاکستانی اور انڈین کھانے گلی گلی ملتے ہیں لیکن جن دنوں میں وہاں تھا یہ نعمت آسانی سے میسر نہ تھا۔ میرا قیام بھی انگریز گھرانوں میں ہوتا تھا جہاں دہی روکھی سوکھی ملتی تھی جسے کھا کھا کر انگریزوں نے نصف سے زائد دنیا فتح کر لی۔۔۔ تو ان دنوں ہر دو ہفتوں کے بعد میں لنڈن کے ایک انڈین ریستوران ’’کوہ نور‘‘ میں چلا جاتا۔ پہلی مرتبہ جا کر جو آرڈر دیا وہ مجھے اب تک یاد ہے۔۔۔ مسٹر پلاؤ۔۔۔ مسٹر قیمہ۔۔۔ چکن روسٹ۔۔۔ چنے کی دال اور قیمے والے پراٹھے۔ جب دیر تک میرے آرڈر کی تعمیل نہ ہوئی اور آس پاس کی میزوں پر براجمان حجرات کے کھانے آ چکے تو میں نے بنگالی ویٹر سے پوچھا کہ اے بھیا میرا آرڈر کہاں ہے تو وہ بولا ’’شاب آپ کا باقی فرینڈ آئے گا تو لے آئے گا‘‘ اس پر میں نے ہنس کر اسے بتایا کہ باقی کوئی فرینڈ نہیں ہے بس لے آؤ۔۔۔ میں نے یہ طعام نہایت اطمینان سے چٹخارے لیتے ہوئے کھایا اور جب باہر لندن کی شام میں داخل ہوا تو ایک بھنیے کی مانند ڈکرانے کو جی چاہتا تھا، اپنی خوراک۔
بہت عرصہ پہلے ڈنمارک میں دو پاکستانی طالب علموں نے مجھے کھانے پر مدعو کیا اور وعدہ کیا کہ وہ مجھ ترسے ہوئے کو پاکستانی خوراک کھلائیں گے۔ اس صبح میں نے ناشتے سے بھی اجتناب کیا کہ دوپہر کو جی بھر کے دیسی پکوان سے لطف اندوز ہوں گے۔ میں اس عمارت کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا جس میں اُن کا فلیٹ تھا جب یکدم فضا میں پیاز اور گھی کی ایک گرم خوشبو مجھ پر اتری اور اسے سونگھتے ہی میں ایک شرابی کی مانند ڈولنے لگا۔ ریلنگ کا سہارا لے کر سنبھلا اور سمجھ نہ آئی کہ ہوا کیا ہے۔ جب اُن پاکستانی طالب علموں سے تذکرہ کیا تو وہ ہنسنے لگے۔ اُن کا کچن مشترک تھا جہاں اُن کی لینڈ لیڈی نے مصالحے والے پاکستانی کھانے پکانے پر پابندی عائد کر رکھی تھی کہ اُن کی مہلک دیگر گورا لوگ کو ناگوار گزرتی تھی۔ چنانچہ یہ حضرات چپکے سے کھانا تو وہیں بناتے لیکن جب تڑکا لگاتے تو فرائنگ پین کھڑکی کے باہر معلق کر کے لگا لیتے اور عین اسی لمحے میں عمارت کی سیڑھیاں طے کر رہا تھا جب میرے عین اوپر ایک فرائنگ پین کو کھڑی سے باہر نکال کر تڑکا لگایا جا رہا تھا جس کی خوشبو نے مجھے نیم بے ہوش کر دیا تھا۔۔۔ چنانچہ یہ قوت ہے پاکستانی کھانے کی خوشبو میں۔
پچھلے دنوں جب ممنون حسین صاحب کو صدر پاکستان کے عہدے کے لے چنا گیا تو ’محسن پاکستان‘ عبدالقدیر خان کا ایک بیان آیا کہ اس ملک کا کیا حال ہو گا جس کا صدر ایک دہی بھلے بیچنے والا ہو۔ مجھے متن صحیح طور پر یاد نہیں لیکن اسی نوعیت کا اعتراض تھا۔ ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ ممنون صاحب کراچی سٹاک ایکسچینج کے صدر رہے، کچھ عرصہ سندھ کے گورنر رہے، چلئے ان کا کوئی کاروبار خوراک کا بھی ہو گا تو کیا قدیر خان کو اُن کے پیشے کا مذاق اڑانے کا حق حاصل ہے۔۔۔ ایک رزق حلال کمانے والے شخص کو پاکستان کا صدر منتخب نہیں کیا جا سکتا۔ کیا انہیں ایک سازشی، وڈیرہ یا بے ایمان سیاست دان صدر درکار تھا یا شاید وہ خود درکار تھے۔ قدیر خان آس لگائے بیٹھے تھے کہ سائنس دان آزاد کی مانند انہیں بھی احسان مند قوم صدر کے عمدے پر فائز کر دے گی۔ ایک موجد اور مجتمع کرنے والے میں بہت فرق ہوتا ہے قدیر صاحب۔۔۔ آزاد اب بھی ایک دو کمرے کے فلیٹ میں رہائش رکھتے ہیں، ایک سادہ خصلت درویش صفت شخص ہیں اور آپ کی شاہانہ زندگی اور بھری ہوئی تجوریوں کی درویشی سے تو ایک دنیا واقف ہے۔ ویسے اگر قائداعظم ہمیں پاکستان عطا نہ کرتے تو ہم میں سے بیشتر یہی دہی بھلے اور پکوڑے فروخت کرنے والے تھے۔ کنکوے اڑایا کرتے تھے۔ معذرت کے ساتھ ممنون صاحب کے خلاف آپ کا یہ بیان انگریزی محاورے کے مطابق بیڈ ٹیسٹ میں تھا۔ مجھے فخر ہے کہ محمد رفیق تارڑ کے بعد ایک اور ’’معمولی‘‘ اور ایماندار شخص ہمارا صدر ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *