پاکستانیوں کی تین پسندیدہ سازشی تھیوریاں

Yasir Pirzadaعالمی سازشی تھیوریوں کو سونگھ کر پکڑنے کی جو خداد اد صلاحیت ہمارے بعض دانشوروں کو ودیعت کی گئی ہے اسے دیکھ کر میں بعض اوقات حسد میں مبتلا ہو جاتا ہوں، کیسا کیسا جینئس ہمارے درمیان موجود ہے ،یہ لوگ اگر امریکہ میں ہوتے تو وہاں مجسمہ آزادی کی جگہ ان کا مجسمہ بناکر پرستش کی جاتی ۔یہاں مجسمہ بنانا تو ممکن نہیں البتہ یہ خاکسار ان کی پسندیدہ تین سازشی تھیوریا ں آج پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہے ،سر دھنئے:
1۔ جو کرا رہا ہے امریکہ کرا رہا ہے : یہ ہمارے ہاں سب سے سپر ہٹ تھیوری ہے ،اگر آپ قومی اور بین الاقوامی معاملات کی تہہ تک پہنچنا چاہتے ہیں تو یہ بنیادی تھیوری ذہن میں رکھ کر اپنی دلیل تیار کیجئے کہ جو کروا رہا ہے ،امریکہ کروا رہا ہے ،پھر دیکھئے دل و دماغ سے ویسے ہی پردے اٹھنے شروع ہو جائیںگے جیسے کسی رنگروٹ مرید کی آنکھوں سے اٹھتے ہیں ۔9/11کس نے کروایا؟ امریکہ نے کروایا۔ کیوں کروایا؟تاکہ مسلمان ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجا سکے۔ کون سے مسلمان ممالک ؟ جیسے افغانستان ۔اوہ ،گویا 9/11سے پہلے تو افغانستان اسٹار وارز کی تیاری کر رہا تھا اور اتنا طاقتور ملک بن چکا تھا کہ امریکہ کو اس سے خطرہ محسوس ہوا لہٰذا اس نے 9/11کا ڈرامہ رچا کر افغانستان پر حملہ کر ڈالا!نہیں، صرف یہ بات نہیں ،اس کے بعد عراق پر حملہ کیا گیا، پاکستان کو دہشت گردی کی جنگ میں جھونکا گیا ،ایران کا بازو مروڑ گئی ،یہ تمام اہداف امریکہ نے 9/11کے بعد حاصل کئے ۔اچھا ،تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکہ کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ اور وہ تمام سو ڈیڑھ سو ممالک جنہوں نے اس ضمن میں امریکہ کا ساتھ دیا جن میں بعض ’’جید‘‘ مسلم ممالک بھی شامل تھے ، دراصل امریکہ کے جھانسے میں آ گئے تھے اور یہ جان ہی نہ سکے کہ امریکہ انہیں استعمال کر رہاہے!اوں ہوں،اصل میں یہ ساری گیم اسلحہ ساز کمپنیوںکی ہے ،یہ تمام امریکی کمپنیاں ہیں جنہیں اپنا اسلحہ بیچنا ہوتا ہے چنانچہ وہ یہ جنگیں کرواتی ہیں تاکہ ان کا اسلحہ بک سکے ۔اوکے ،مگر جنگیں تو امریکہ نے کیں ،کیا یہ اسلحہ ساز کمپنیاں امریکہ کو مفت اسلحہ دیتی ہیں؟نہیں ،صرف اسلحے کی بات نہیں بلکہ یہ خلیجی ممالک میں تیل کے ذخائر پر قبضے کا بھی مسئلہ ہے ۔اوہ، تو یہ بات ہے مگر تیل کے شہنشاہوں سے تو امریکہ کے بے حد ’’برادرانہ‘‘ تعلقات ہیں تو کیا یہ ممالک امریکہ کو مفت تیل دیتے ہیں !نہیں …مگر…اگر… یہودی سازش…اسامہ ایبٹ آباد میں نہیں مرا…بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ …تم نہیں جانتے!2۔دنیا کو چند امیر خاندان کنٹرول کرتے ہیں :اس تھیوری کی رو سے دنیا پر چند خاندانوں نے غیر محسوس انداز میں قبضہ کر رکھا ہے ،یہ وہ با اثر اور طاقتور گروپ ہیں جن کے اشارے پر ورلڈ بینک اورآئی ایم ایف ناچتے ہیں ،یہ جب چاہیں کسی بھی ملک کی اکانومی تباہ کر دیں ،ان کے نوٹوں کو ردی کردیں ،سونے کے گودام ان کے قبضے میں ہیں لہٰذا سونے کا بھائو بھی یہی خاندان طے کرتے ہیں ،کس ملک کی معیشت میں عروج لانا ہے کسے زوال پذیر کرنا ہے اس با ت کا فیصلہ ان کے پر تعیش محلات میں منعقد ہونے والے سالانہ اجلاسوں میں کیا جاتا ہے ،امریکہ سے لے کر برازیل تک تمام مرکزی بینکوں کی کنجیاں ان کی جیبوں میں ہوتی ہیں یہ جب چاہیں کسی بھی ملک کی تجوری صاف کر دیں،دنیا کے کلیدی عہدوں کے سربراہ ان کی مرضی سے تعینات کئے جاتے ہیں جن کا بنیادی فرض ان استحصالی خاندانوں کے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے …اس تھیوری کا پارٹ ٹو یہ ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے یہ ایلیٹ خاندان بے شک سفاک ،بے رحم اور سازشی ہیں مگر ان ممالک کے عوام بہت اعلیٰ ہیں ،خاص طور سے امریکی عوام کا تو جواب ہی نہیں ،حکومتیں اور یہ قبضہ گروپ خاندان البتہ خبیث ہیں ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر امریکی اور مغربی عوام ذہین،مہذب اور سلجھے ہوئے لوگ ہیں تو وہ ان قبضہ گروپوں کو اپنی زندگیاں کیوں کنٹرول کرنے دیتے ہیں؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہی ممالک کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں میں جو اساتذہ پڑھاتے ہیں وہ اسی نظام سے نکل کر آتے ہیں جن کے بارے میں ہمارے سازشی دانشوروں کا خیال ہے کہ سارے کا سارا نظام ہی چند خاندانوں کے قبضے میں ہے ۔انہی یونیورسٹیوں میں تھنک ٹینک قائم ہیں جن کے تجزئے اپنے ہی حکومتوں اور ناانصافی پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف آئے دن شائع ہوتے ہیں اور جنہیں پڑھ کر ہم اپنی مرضی کا مطلب نکال کر یہ تمام سازشی تھیوریاں تراشتے ہیں اور پھر وہی دلیل دیتے ہیں کہ ہماری زندگیاں ان چند خاندانوں کے قبضے میں ہیں ۔گویا امریکہ اور مغرب کے ذہین ترین افراد کو بھی یہ نہیں پتہ کہ ان کی زندگی کی ڈور کوئی دولت مند خاندان ہلاتا ہے مگر یہاں بیٹھے ہمارے بزرجمہر ایک منٹ میں اڑتی چڑیا کے پر گن لیتے ہیں اور پھر سازشی تھیوریوں پر مبنی کتاب شائع کروا کے سمجھتے ہیں انہیں بھی نوم چومسکی لکھا اور پکارا جائے ۔اصل میں یہ وہ نفرت ہے جو ہمار ے ہاں ہر امیر اور کامیاب آدمی سے کی جاتی ہے کیونکہ وہ اشرافیہ کا حصہ ہوتا ہے اور اقلیت میں ہوتا ہے ،ایسی نفر ت کا چھابہ بہت زور و شور سے بکتا ہے ،ہم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے کہ کوئی بھی شخص محض اپنی قابلیت اور محنت کے بل بوتے پر دولت کما سکتا ہے یا کامیاب ہو سکتا ہے ۔ایسے کسی بھی شخص کو دیکھ کر مارے حسد کے ہم اتنا ہی کہہ پاتے ہیں ’’جانتا ہوں میں اس لونڈے کو ،کل تک اس کا باپ برانڈرتھ روڈ پر موٹریں ٹھیک کرتا تھا!‘‘یہی نفرت ہمیں دنیا کی امیر ترین قوموںسے بھی ہے ،یہی وہ نفرت تھی جس کی بنیاد پر دوسری جنگ عظیم میں لاکھوں یہودیوں کا ہولو کاسٹ کیا گیا اور آج ہم بھی ایسی ہی سازشی تھیوریاں دریافت کر کے وہی نفرت دلوں میں پال رہے ہیں،بجائے محنت کر کے ہم ان اقوام سے آگے نکلنے کی کوشش کریں ،ہم ان سے نفرت میں اپنی عظمت تلاش کرتے ہیں۔
3۔ملالہ،شرمین عبید اینڈ کمپنی:ملالہ کی اتنی پذیرائی کیوں ؟ شرمین عبید کو آسکر سے کیوں نوازا گیا ؟ کیونکہ یہ دونوں مغرب کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں ،یہ ہے سازشی تھیوری نمبر تین۔اس تھیوری کے ماننے والے سوا ل کرتے ہیں کہ مغرب ملالہ اور شرمین عبید کو ہی کیوں نوازتا ہے، انہیں عافیہ صدیقی اور ڈرون حملوں میں مرنے والے بےگناہ کیوں نہیں نظر آتے ؟شرمین عبید کو اس لئے آسکر دیا گیا کیونکہ اس نے چن کر ایسے موضوع کا انتخاب کیا جس سے پاکستان کی بدنامی ہوئی لہٰذا آسکر اس کی جھولی میں آ گرا۔بجا ارشاد مگر سوال یہ ہے کہ عافیہ صدیقی اور ڈرون حملوں میں مرنے والے بے گناہ افراد پر کسی پاکستانی یا مسلمان نے کوئی فلم کیوں نہیں بنائی،کس نے ہاتھ پکڑ رکھا ہے ،کیا دنیا پر کنٹرول کرنے والے خاندانوں کی طرف سے پابندی ہے کہ اس موضوع پر فلم نہ بنائی جائے ؟آخر کسی مسلمان کو توفیق کیوںنہیں ہوتی کہ ان موضوعات پر فلم بنائے اور پھر امت مسلمہ آسکر سے بھی بڑا کوئی ایوارڈ ایجاد کر کے اس فلم میکر کو دے ڈالے!شرمین عبید نے پاکستانی کی بدنامی کی ،چہ خوب،وگرنہ تو راوی کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا نہیں مرتا!امریکہ اور مغرب میں سفاک ترین لوگ بستے ہیں ،سیریل کلر رہتے ہیں ،وہاں بدترین آبرو ریزیاں کی جاتی ہیں ،ان پر تو کوئی فلمیں بنا کر آسکر نہیں بانٹتا! یہ بھی ایک لطیفہ ہے ،کیونکہ امریکہ اور بھارت سمیت جتنی فلمیں خود اپنے ملک کے نظام اور حکومتوں کے خلاف بنتی ہیں وہ کوئی دوسرا ملک نہیں بناتااور ویسے بھی اگر وہاں سیریل کلر بستے ہیں تو ہمارے ہاں کون سے موسیقار جنم لے رہے ہیں ،خود کش بمباری کی دنیا میں ہم نے اپنا ایک مقام بنایا ہے ،آخر دنیا کو یہ نظر کیوں نہیں آتا؟ خبردار جو دنیا نے ہمیں آسکر یا نوبل انعام دینے کی کوشش کی،ہم یہ سازش بھی ناکام بنا دیں گے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *