ملک اسحاق کی ہلاکت کے عوامل

Ayaz Amirپاکستان میں مسلکی بنیادوں پر دھشت گردی پھیلانے والوں کے سرخیل، ملک اسحاق، کو جس چیزنے ہلاک کیا وہ اُس کی تشدد اور قتل و غارت کے ساتھ وابستگی نہیں بلکہ قومی منظر نامے پر بپا ہونے والی تبدیلی کی لہر کو بھاپنے میں ناکامی تھی۔ وہ قتل کے ایک کیس میں بری ہوگیا تھا اُس پر ایک آدھ قتل کا الزام ویسے بھی اُس کی توہین کے زمرے میں آتا ہے۔ وہ تو میڈیا کو دیے گئے اپنے انٹرویوز میں سو سے زیادہ مخالفین کو قتل کرنے کا ہنس کر اعتراف کرلیتا تھا، کسی نے اُس کا کیا بگاڑ لیناتھا، تاہم وہ وقت اور تھا۔
سولین سیٹ اپ ہو یا فوجی، پاکستانی ریاست ماضی میں دھشت گردی، چاہے وہ تحریک ِ طالبان پاکستان کی ہو یا کراچی میں مروجہ سیکولر دھشت گردی یا فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہونے والی دھشت گردی جس کاعلم ملک اسحاق کے پاس تھا، کے خلاف کھڑی ہونے کی ہمت نہیں رکھتی تھی۔ ملک اسحاق کو ماضی میں گرفتار کیا جاتا، قتل اور دیگر جرائم کا الزام لگایا جاتا لیکن چونکہ اس کے خلاف پیش ہونے سے گواہ خائف تھے اور جج حضرات، جو کمزور افراد کو برائے نام ثبوت پر بھی توہین کے کیسز میں سزا سنادیتے ہیں، اسے عدم شہادت کی بنا کر بری کر دیتے اور وہ انگلیوں سے وکٹری کا نشان فخریہ انداز میں چلتے ہوئے عدالت سے باہر آجاتا۔
ملک اسحاق یقینا حس ِ مزاح بھی رکھتا تھا۔ بہت سی تصاویر میں قتل کیس میں چلنے والے مقدمے میں کمرہ عدالت میں بھی اس کے چہرے پر طمانیت بھری مسکراہٹ کھیل رہی ہوتی۔کسی بھی اور چیز سے زیادہ، وہ پاکستان کے کریمنل جسٹس پر ایک منصفانہ سوالیہ نشان تھا۔ وہ اسے اوپر سے نیچے تک، بہت اچھی طرح جانتا تھا کہ اس مقدمے اور اس کے نام پر کی جانے والی تمام بکھیڑکا کیا نتیجہ برآمد ہونے والا ہے۔ چنانچہ یہ سوچ اس کی ہنسی کومزید گہرا کردیتی۔ مت بھولیں کہ 2009میں جی ایچ کیو پر ہونے والے حملے کے دوران ملک اسحاق کو جنوبی پنجاب کی ایک جیل سے ہیلی کاپٹر میں لایا گیا تاکہ وہ حملہ آور ٹیم کے لیڈر، عثمان(جسے اس سال کے شروع میں پھانسی دی گئی) سے مذاکرات کرے۔ ملک اسحاق نے یقینا اُپنی اہمیت کو محسوس کرکے لطف لیا ہوگا۔
لامحدود طاقت کے طالب گاروں کو اس الجھن کا سامنا رہتا ہے کہ وہ ہاتھ کہاں روکیں، چنانچہ ملک اسحاق کے سامنے بھی یہی معاملہ تھا۔ اپنے نیٹ ورک کے ذریعے نہ صرف پنجاب یا جنوبی پنجاب میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر قتل کرتا بلکہ بلوچستان کے دوردراز علاقوں میں اہل تشیع کو بے دردی سے ہلاک کرنے والے گروہ بھی اُسے اپنا قائد مانتے تھے اور اس سے دھشت گردی کا سبق لیتے۔ وہ بلوچستان کی ہزارہ برادری کو باقاعدگی سے ہدف بناتا۔ ہونے والی ہلاکتوں پر ملک اسحاق اور اس کی تنظیم، لشکر ِ جھنگوی ، کو مورد ِ الزام ٹھہرایا جاتا۔ ملکی رہنما کوئٹہ جاکر ہلاک شدگان کے غمزدہ رشتہ داروں سے تعزیت کرتے۔ سب جانتے تھے کہ ان حملوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے لیکن جنوبی پنجاب میں موجود اس خوفناک گروہ کے خلاف کبھی کچھ نہ کیا گیا۔ فوجی اپریشن کے فیئر ہونے پر سوال اٹھانے والوں کی انگلیاں جنوبی پنجاب کی طرف اٹھتیں کہ کیا وہاں دھشت گردوں کے ٹھکانے نہیں؟ ان کا اشارہ یقینی طور پر ملک اسحاق اور اس کے گروہ کی طرف ہوتا کہ وہ آزادانہ طو رپر کیوں دندناتے پھرتے ہیں؟ اور پھر ایک صبح، جبکہ ابھی سورج کی ارغوانی سرخی سے افق رنگین نہیں ہوا تھا، کہ پولیس مقابلے میں کالعدم لشکر ِ جھنگوی کی تمام قیادت اپنے انجام تک پہنچنے کی خبر نے ملک کو چونکا کررکھ دیا۔
اب تک بیانیہ یہ تھا کہ پنجاب میں اپنی موجودگی رکھنے والی دھشت گردی کو ہاتھ نہیں ڈالا جارہا۔ کہا جاتا تھا کہ اگر ایسی کوئی جسارت کی گئی تو اس کا سخت رد ِعمل سنبھالے نہیں سنبھلے گا۔ یہ بھی کہا جاتا تھا کہ دفاعی اداروں اور سکیورٹی ایجنسیوں کے بھی کچھ پسندیدہ افراد ہوتے ہیں۔ تاہم اب ان تمام باتوں کا زبردست طریقے سے جواب آگیا۔ فرقہ وارانہ دھشت گردوں کا امام ملک اسحاق تھا اور وہ اپنے پروں پر پانی بھی نہیں پڑنے دیتا تھا، لیکن اُسے اس آسانی سے ماردیا گیا جیسے مکھن میں سے بال نکالتے ہیں۔ اس سے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کو کمزور ریاست نہیں۔ جب یہ کچھ کرنے کا فیصلہ کرکے توکرگزرتی ہے۔ یاد ہوگا کہ اپریشن ضرب عضب سے پہلے کیا کچھ کہا جارہا تھا۔ ہر کوئی ڈرتا تھا، اور سیاست دان تو بطور خاص سہمے ہوئے تھے۔ کہا جارہا تھا کہ ان خونی دھشت گردوں کو بس باتوں سے ہی رام کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگر انہیں چھیڑاگیا تو وہ ملک کو خون میں نہلادیں گے۔ تاہم جب فوج نے فیصلہ کرلیا کہ بس بہت ہوگیا، تو نتیجہ ہر کسی کی توقع کے برعکس اور بہتر تھا۔ ابھی دھشت گردی کا مکمل طور پر صفایا نہیں ہوا لیکن ملک کی داخلی سکیورٹی بہت بہتر ہوچکی ۔ عمران خان تسلیم کریں یا نہ کریں، یہ پشاور اور اسکے گردونواح میں سکیورٹی فوجی اپریشن کے ذریعے ہی بہتر ہوئی ہے۔ اب کراچی میں بھی حالات بہتری کی طرف گامزن ہیں اورپنجاب میں بھی کاررائیاں ہورہی ہیں۔
بظاہر تو ملک اسحاق اور اس کے ساتھیوں کے خلاف پنجاب کے انسداد ِ دھشت گردی کے ادارے نے کارروائی کی ، لیکن کراچی کے تجربے کے بعد سے ہم جانتے ہیں کہ پولیس اُسی وقت زیادہ موثر کام کرتی ہے جب اس کے پیچھے فوج ہو۔ چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ طاقتور حلقوں کی پشت پناہی کے بغیرایسی کارروائی، جس کا چند دن پہلے تک تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا، ممکن نہ تھی۔ اگر ہمارے صوبائی محکمے اتنے موثر ہوتے تو ہمیں ایپکس کمیٹیوں، جن میں کورکمانڈر شرکت کرتے، کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ محکمے خود ہی دھشت گردی سے نمٹ لیتے۔ اس کا تصور کرکے بھی دل دہل جاتا ہے کہ اگر ٹی ٹی پی کے خلاف اپریشن نہ کیا جاتا تو آج ملک کا کیا حال ہوتا۔ اب تک شمالی وزیرستان ایک خود مختار اسلامی ریاست بن چکا ہوتاجہاں سے ملک بھر میں پر تشدد کارروائیاں، بم دھماکے، خود کش حملے، اغوابرائے تاوان کی وارداتیں اور ٹارگٹ کلنگ کی جاتی۔ اسی طرح کراچی بھی ایک طرح سے نوگو ایریا بن چکا تھا۔ یہاں بھی تشدد اور بھتہ خوری عروج پر تھی، فرقہ وارانہ بنیادوںپرقتل وغارت معمول بن چکی تھی جبکہ سولین قیادت امن اور صلح کا راگ آلاپ رہی تھی۔
آج ایک سال بعد حالات اس قدر مختلف ہیں کہ بعض اوقات خواب لگتا ہے۔ دھشت گردی کا عفریت کمزور اور پاکستان ایک مستحکم اور توانا ریاست بن کر ابھر رہا ہے۔ اس دوران عرب دنیا میں انتشار اور تشدد کا دوردورہ ہے۔ عراق، شام، لیبیا اوریمن کی طرف دیکھیں تواحساس ہوتا ہے کہ پاکستان میں کتنی تاب وتواں ہے۔ اس وقت دنیائے اسلام میں یہ پاکستان ہے جو افغانستان میں قیام ِ امن کے لیے مذاکرات کا سہولت کارہے۔ ایک سال پہلے تک کون کہہ سکتا تھا کہ پاکستان اس قابل ہوگا؟
اب ہمیں مزید کیا کرنا ہے؟ اگر سیاسی قیادت اور سیاسی طبقہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں تو بہتر ہوگا۔سوال اٹھایا جانا چاہیے کہ پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیوں نہیں اٹھائے جاتے؟ہمارا کریمنل جسٹس کا نظام بہترکیوں نہیں؟ملک میں بہت کچھ کیا جانا ہے اور فوج یقینی طور پر ہر کام کرنے کی ذمہ داری نہیں لے سکتی۔ ذرا دیکھیں کہ سیاست دان کیا کھیل کھیل رہے ہیں۔ عمران خان کے ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کی تحریک صرف ایک رنگ بازی کے سوا کچھ نہیں۔ اگر عمران خان نے دھاندلی کے الزامات، جن کا ان کے پاس ثبوت نہیں تھا، اور جوڈیشل کمیشن رپورٹ سے خود کو احمق ثابت کیا ہے تو اُنہیں اس کا سیاسی نقصان ہونے دیں۔ مولانا فضل الرحمن اور ایم کیو ایم کے معروضات اتنے اہم کب سے ہوگئے کہ سیاست دان ان کی پیش کردہ تحریکوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کے لیے بیٹھے ہیں۔ وزیر ِ اعظم ضرورت سے زیادہ ہوشیاری دکھانے کی کوشش میں ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ممبران اسمبلی سے باہر رہنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔اُنہیں دل بڑاکرکے عمران خان کے ارکان کا خیر مقدم کرنا چاہیے تھا لیکن وہ چاہتے ہیں کہ اب عمران خان اُن کے سامنے زمین پر ناک رگڑیں۔
مشکل یہ ہے کہ ان کے پاس سیاسی کھیل کھیلنے کے لیے تو دانائی ہے لیکن ملک چلانے کے لیے تصورات کا فقدان ہے۔ کیا کوئی بتاسکتا ہے کہ اب تک دھشت گردی کی جنگ میں سولین حکومت کا کیا کردار ہے؟ان کی طرف سے کیا پالیسی سامنے آئی، کون سے بگڑے معاملات کو سلجھایا گیا، کس لوپ ہول کو بند کیا گیا؟ یہ سب کام تو فوج کررہی ہے۔ اب تو آرمی چیف وزیر ِ خارجہ کا کردار بھی ادا کررہے ہیں۔ یہ ملک کمزور حکومت کا کس حد تک خمیازہ بھگت سکتا ہے؟ اگر ہمیں کسی قیادت کی ضرورت تھی تو اس کا اب وقت ہے۔ لیکن قیادت کا خلافوج پورا کررہی ہے۔ لیکن جب حکمران کمزورہوں گے توپھر یہی کچھ ہوگا۔ فوجی افسران تصورات رکھتے ہیں، سولین قیادت میں ان کا فقدان ہے۔ یہ خلا دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *