عبد اللہ حسین اور جاوید چودھری

jamil abbasiفیس بک کو دیکھتے کھنگالتے عبد اللہ حسین صاحب کی تصویر نے دھیان کو کھینچا۔ پڑھا تو علم ہوا کہ ملک کے مایہ ناز کالم نگار جاوید چودھری صاحب کا دو اگست کا روز نامہ ’ایکسپریس ‘ لکھا ہوا کالم ہے جوعبد اللہ صاحب کی آخری رسومات کی منظر کشی کرتا ہے۔ ایک بار تو سرسری انداز میں پڑھتا چلا گیا لیکن ٹھیک طرح سمجھ نہیں پایا کہ کالم نگار صاحب نے کیا خامہ فرسائی کی ہے۔ دوبارہ غور سے پڑھنا شروع کیا مگر آخر تک اندازہ نہیں کر پایا کہ یہ عبد اللہ حسین صاحب کو سراہا گیا ہے یا کالم نگار کو کچھ اور ہی مقصود ہے۔ کیا اس طرح محترم جاوید چودھری صاحب نے اردو زبان کے سب سے بڑے ناول نگار کو خراج تحسین پیش کیا ہے؟ سیاسی کالم لکھتے لکھتے جاوید صاحب کا اسلوب بھی سیاسی ہو گیا ہے۔ لکھتے ہیں
’’بیگم کے ساتھ تعلقات کشیدہ تھے، وہ برطانیہ میں ہی رہ گئیں، بیٹا لندن میں رہتا تھا، وہ جنازے پر نہ پہنچ سکا‘‘۔ جاوید صاحب کیا آپ زرداری صاحب کے بارے میں کالم لکھ رہے ہیں کہ بیگم کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں اور بیٹا نہیں آپایا۔ آپ عبد اللہ صاحب کی خانگی زندگی کے بارے میں لکھ کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ آپ کو لکھنا ہے تو ان کی کتابوں کے بارے میں لکھیں جن کا آپ کے نیل دریا جتنے لمبے کالم میں ’’اداس نسلیں‘‘ کے علاوہ کوئی نام ہی نہیں اور ان چودھری صاحب ان الفاظ سے باقی کتب کا ذکر کرتے ہیں۔
’’برطانیہ میں قیام کے دوران مزید دو ناول لکھے، دو ناولٹ بھی تخلیق کیے اوردرجنوں افسانے بھی لکھے، عبداللہ حسین نے ایک ناول انگریزی زبان میں بھی لکھا، یہ سارے افسانے، یہ سارے ناولٹ اور یہ سارے ناول ماسٹر پیس ہیں۔‘‘
حضوراگر گستاخی نہ سمجھیں تو میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا عبد اللہ صاحب کی اور کوئی کتاب آپ نے پڑھنے کی تکلیف فرمائی ہے ؟ اداس نسلیں کے علاوہ کوئی اور نام؟ یا آپ کے کالمز کی ریسرچ کرنے والی ٹیم کے آدھی درجن ارکان میں سے کسی نے ان کا کوئی ناول افسانہ نہیں پڑھا ہوا بس اداس نسلیں کا نام بھی سن سن کر کالم میں ڈال دیاہے۔ عبد اللہ صاحب کا بیٹا لندن نہیں، دبئی میں ہوتا ہے اور عبد اللہ صاحب اپنے گھر میں رہتے تھے اپنی بیٹی کے نہیں۔ حضور صرف ادھر ادھر کی سن کر عبد اللہ صاحب جیسے لوگوں پر کالم مت لکھا کریں ۔ آپ جو آدھی پونی باتیں اپنے کالمز میں بیان فرماتے ہیں وہی کیا کریں۔ اور سرکار کو آپ کے دیے گئے مشورے سن کر تو میں حیرت زدہ رہ گیا کہ دانشوروں، مصوروں، ادیبوں ،اداکاروں اورکھلاڑیوں کے سرکاری جنازے کیے جائیں ، ان کی قبروں پر سرکاری قرآن خوانی کی جائے۔ سرکار آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ عبد اللہ صاحب جیسے لوگوں کو ان دکھاوے کی چیزوں کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ کبھی جعلی مرتبے اور عزت کے پیچھے گئے ہی نہیں۔ اور ایک اور بات کہ عبد اللہ صاحب جیسے ادیب مرتے نہیں کہ ان کے سرکاری جنازے کے جائیں۔ وہ اپنی کتابوں میں زندہ رہتے ہیں، اپنے افکار میں جیتے ہیں۔ اگر ان کو عزت دینی ہے تو یہ سرکار کا نہیں، قوم کا فرض ہے۔ اردو بولنے،پڑھنے والوں کا فرض ہے۔ اس سے عبد اللہ صاحب کا نہیں، قوم کا قد پڑھتا ہے۔ قومیں اس سے اپنی پہچان بناتی ہیں۔ اس سے قوم کی شان بلند ہوتی ہے اور اگر قوم نہیں چاہتی تو نہ سہی۔ قوم اگر عبد اللہ حسین کے جنازے میں شریک ہونے کے بجائے ملا عمر کے غائبانہ جنازوں میں زیادہ دلچسبی رکھتی ہے تو یوں ہی سہی۔۔۔ اوریقین کریں کہ عبد اللہ صاحب کی عظمت کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والااور مجھے تو یہ سمجھ بھی نہیں آیا کہ جنازہ میں شریک حضرات نے قبرستان تک جانے کی تکلیف کیوں گوارا نہیں کی۔ کیا جنازہ پر صرف فوٹو سیشن کروانے آئے تھے؟ آخر میں یہ عرض کروں کہ عبد اللہ صاحب زندگی بھر کسی کے محتاج نہیں رہے اور وفات کے بعد بھی..وہ بقول سچل سائیں ’’جو ہوں، سو ہوں ‘‘۔
حرف آخر کے طور پر محترم جاوید چودھری صاحب سے چھوٹا منہ بڑی بات کہتے ہوئے عرض کروں گا کہ کاش آپ سرکار کو عبد اللہ حسین صاحب رسومات کو شایان شان منانے کی ہدایتیں کرنے کے بجائے ان کے بارے میں یہ کالم شایان شان لکھتے۔۔۔

عبد اللہ حسین اور جاوید چودھری” پر بصرے

  • اگست 5, 2015 at 2:01 PM
    Permalink

    جیسے اردو کا مہان ناول نگار مذہب اور انسان سے بیزار تھا ویسے ہی محترم جاوید صاحب بھی مذہب بیزار اور مادہ پرست ہو چلے ہیں۔۔۔۔۔یاد رکھیئے جنازوں میں جبری شرکت کی پابندی لگا کر کبھی بھی جمِ غفیر اکٹھا نہیں کیا جا سکتا۔۔۔زندگی ایسی گزرنی چاہیئے کہ جنازے میں شرکت کو لوگ اپنے لیئے اعزاز سمجھیں۔۔۔۔ناول اور ناولٹ بہت شاندار تخلیق کر لیئے۔۔۔۔پاکستان سے بھارت تک ایک عالم اپنے لفظوں کا اسیر کر لیا لیکن اپنی زندگی مادیت پرستی کی نذر کی، اور اپنی فیملی جیسے آفاقی ادارے کو سنبھالا نہ دے سکے۔۔۔۔ےاد رکھیئے جنازے انہی کے شاندار ہوتے ہیں جن کی زندگی ہر لحاظ سے مکمل اور کامیاب ہو۔۔۔۔اور صد افسوس کہ تقسیم پر کفِ افسوس ملتے عبداللہ حسین ایک مکمل ادیب تو شائد بن گئے پر ایک مکمل انسان شائد نہ بن پائے۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *