دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اہل سیاست

ahmed ali kazmiکچھ عرصہ قبل تک یوں معلوم ہوتا تھا کہ اہل سیاست کو کم ہمتی و بزدلی کے طعنے دینے ،دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ”شکریہ راحیل شریف“ جیسے عنوانات سے خاص کرنے اور جمہوری قیادت کو اس سارے قضیے میں قطعی بے اثر، بے بصیرت اور لاچار قرار دینے کے جملہ حقوق ایاز امیر، حسن نثار اور ہارون رشید جیسے ’دانشوروں‘ اور ان کی معنوی حوالدار برادری کے لیے محفوظ تھے مگر جوں جوں یہ معاملہ آگے بڑھتا جا رہا ہے، اچھے خاصے اور حقیقی دانش رکھنے والے احباب بھی انہی بزرگوں کی اختیار کردہ راہ کی جانب دوڑے جا رہے ہیں۔

کسی بات کا سچ ہونا اس کے امر متنازع پر دلیل ہونے کو نہیں ثابت کرتا۔سچائی کو اپنے درست مقام پر رکھ کر مختلف آرا ءکی صحیح تنقیح از حد ضروری ہوتی ہے۔ آئیے ہم مقرر کردہ عنوان پر کچھ تنقیحات قائم کریں۔ موجودہ بحث کے طرفین کا یہ متفقہ مقدمہ ہے کہ پاکستان کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کے جس عفریت کا سامنا ہے اس کے سرے 80 کی دہائی اور جنرل ضیا الحق کی پالیسیوں میں تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ اس لیے اس مقدمے کے حق میں دلائل دینے کی ضرورت نہیں ۔
80 کی دہائی سے 2013 ءتک پاکستان کی خارجہ پالیسی، خصوصاً امریکہ، افغانستان اور بھارت سے متعلق معاملات کا مکمل، بلا شرکت غیرے براہ راست یا بالواسطہ کنٹرول ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہا تھ میں تھا۔ قریباً 30 سال کے عرصے میں ہماری خارجہ پالیسی کے صرف دو ایسے فیصلے ہیں جن کی تشکیل میں بنیادی ذہن ایک سیاستدان کا استعمال ہوا تھا۔ نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں بھارت کے ساتھ ایک قطعی غیر متوقع بریک تھرو،واجپائی کی پاکستان آمد اور اعلان لاہور جمہوری قیادت کی ایسی کامیابی تھی کہ جس کی قریب ترین مثال بھی پاک بھارت تعلقات میں نہیںملتی لیکن اس کامیابی کو مشرف کا جہادکارگل کہا گیا. اور دوسرا بڑا فیصلہ ایٹمی دھماکے کرنا تھا۔یہ کہانی پھر کبھی سہی کہ اس معاملے کا اعزاز میاں نواز شریف سے چھین کر فوج کو دینے والے حضرات کے دلائل کس قدر بودے ہیں۔
ان دو فیصلوں کے علاوہ اس تمام عرصے میں ہماری خارجہ پالیسی کا پر فیصلہ فوج نے طے کیا۔ ”جہاد افغانستان“ جنرل ضیا الحق اور جنرل اختر عبد الرحمٰن کی دین تھا۔ اسٹرٹیجک گہرائی جنرل اسد درانی اور جنرل حمید گل جیسے عالی دماغوں کا شاہکار تھا۔ طالبان کی پیدائش و تربیت کرنل امام جیسے افسروں کی ذمہ داری تھی۔ کارگل ان چار عظیم المرتبت جرنیلوں کی ذہنی اختراع تھی جن کو اپنے ہی پیٹی بھائی گینگ آف فور کہتے تھے۔ نائن الیون کے بعد اچھے طالبان اور برے طالبان کی تقسیم جنرل مشرف اور دانشور سپہ سالار جنرل کیانی نے کی۔ بلوچ انسرجنسی کو بھی انہی حضرت نے انگیخت کیا۔ اور عین ان دنوں میں جب الطاف حسین بھارت میں بر صغیر کی تقسیم کو انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ قرار دے رہے تھے، پاکستان میں جنرل مشرف متحدہ کی قتل و غارتگری کو عوامنی تقریروں میں ’عوامی طاقت کا اظہار‘ کہا کرتے تھے۔
اسامہ بن لادن نے جولائی 2010 میں یمن میں اپنے نائب کو ’خراسان‘ کے حالات سے آگاہ کرنے کو خط لکھا اور اس میں فرمایا کہ پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف نے ہمیں پنجاب میں حملے نہ کرنے اور بدلے میں پنجاب میں القاعدہ کا شدت سے تعاقب نہ کرنے کی پیشکش کی ہے ۔ ہمارے دانشوروں کو یہ یاد رہ جاتا ہے۔ مگر اسی خط کا وہ حصہ جس میں اسامہ اپنے نائب کو بتاتے ہیںکہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ان سے کوئی سمجھوتہ کرنا چاہ رہی ہے اور اس سلسلے میں جنرل حمید گل کی ہمارے کچھ نمائندوں کے ساتھ پیغام رسانی جاری ہے، ہمارے یہ مہربان نظر انداز کر دیتے ہیں۔
اس دہشت گردی کے عفریت کی پیدائش، ایام رضاعت، بلوغت، جوانی اور پھر کارناموں میں سے کسی ایک کا بار بھی کوئی شخص ہوش کے عالم میں بے نظیر بھٹو، نواز شریف، آصف علی زرداری، اسفند یار ولی، مولانا فضل الرحمان یا محمود اچکزئی پر نہیں رکھ سکتا۔ قربانیوں کا ذکر اگر کرنا ہے تو اہل سیاست کی صرف ایک بے نظیر بھٹو کی قربانی باقی تمام قربانیوں پر بھاری ہے۔ اے این پی نے اپنی قل خوانیوں پر بھی خود کش دھماکے ہوتے دیکھے ہیں۔ چار بار مولانا بھی بچ چکے ہیں۔ سابق وزیر اعظم اور سابق گورنر پنجاب کے بیٹے اب بھی دہشت گردوں کی تحویل میں ہیں۔ اسفند یار ولی کا حجرہ بھی نشانہ بن چکا ہے اور ملک اسحاق کی موت سے ’یتیم ہو جانے والے اہل سنت‘ کے نشانے اب نواز شریف اور شہباز شریف پر ہیں۔
اب جب کہ یہ تمام گند صاف کرنے کا وقت آیا ہے اور جنرل راحیل شریف بڑے فوکس کے ساتھ پاک آرمی کی توجہ کا مرکز اس کے اصل کاموں کی طرف موڑ رہے ہیں اور سویلین قیادت اس سلسلے میں پوری طرح ان کی پشت پر کھڑی ہے تو ایاز امیر جیسے لوگ ہمیں جنرل راحیل کی شکل میں چارلس ڈیگال تلاش کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ جناب ہم ایک نہیںچار ڈیگال بھگت چکے ہیں۔ اہل سیاست کو اس نازک موقع پر اپنی سیاسی شعبدہ بازیوں کے طعنے دینے والے یہ اصحاب وہی ہیں جو صرف ایک سال قبل اس نازک صورتحال کو بالکل بھول کر ’انقلاب‘ اور ’بوسیدہ ملبوس اتارنے کے دن‘آنے کی نوید سنا رہے تھے۔
ایک آخری بات۔ ہمارے لبرل دوست سویلین حکومت کو دہشت گردوں کا ہمدرد قرار دینے کے لیے یہ دلیل دیتے ہیں کہ یہ لوگ صرف ایک سال قبل تک مذاکرات کے حق میں تھے۔ تو جناب کیا وہ رپورٹس جو وزیر اعظم کو پہنچائی جاتی تھیں کہ آپریشن کی صورت میں ہمارے شہری علاقوں میں بھیانک قسم کا ردعمل ہوگا۔ حساس ادارے تیار کرتے تھے یا عارضی طور پر یہ ذمہ داری رانا ثنا اللہ نے اٹھا رکھی تھی۔ اور آپریشن کی کامیابی کے صرف ’40 فیصد امکانات‘ کی نوید جنھوں نے سنائی وہ جنرل کیانی تھے، وزیر اعظم نواز شریف نہیں۔ جس دن فوج نے اپنے بھرپور عزم اور ارادے کا اظہارر سویلین قیادت کے سامنے کیا، آپریشن شروع ہو گیا۔
اس لیے ضرب عضب کی آڑ میں اپنی جمہوریت و سیاست دشمنی، خلافت پسندی اور صدارتی نظام سے محبت مت جتلائی جائے۔ اور ہاں نہ ہی عمران خان کی محبت آپ کو اہل سیاست کی بے توقیری تک لے جائے کیونکہ حتمی تجزیے میں ’ان‘کی نظر میں عمران خان بھی ’محض‘ایک سیاستدان ہے۔ اور ہم جیسے روشن خیالوں سے یہ توقع نہ رکھی جائے کہ ہم آپ کو تیس سالہ تاریخ کو مسخ کرنے اور پھر ’اسی عطار کے لونڈے سے دوا لینے‘کی اجازت دیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *