چھوٹی سڑکوں کے کنارے آباد لوگ

azhar mushtaqیوں تو اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان انتظامی حد بندی موجود ہے مگر تاثر یہ لیا جاتاہے کہ ایک بڑی سڑک کے ایک طرف اسلام آباد اور دوسری طرف راولپنڈی واقع ہے۔ راولپنڈی کا نسبتاً کم ترقی یافتہ اور گنجان آباد ہونا بھی شہر کو اسلام آباد سے ممتاز کرتا ہے۔ جڑواں شہروں میں نیا وارد ہونے والا انسان بغیر بتائے دونوں شہروں کے فرق کو تھوڑے ہی عرصے میں محسوس کر سکتا ہے اور بعض اوقات منحنی حد بندیوں کی وجہ سے جڑواں شہروں کے باسی بھی یہ تفریق کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں کہ فلاں علاقہ راولپنڈی میں ہے یا اسلام آباد میں۔ دارالحکومت ہونے کی وجہ سے اسلام آباد شہر کی آباد کاری ایک مربوط منصوبہ بندی کے ساتھ کی گئی ہے۔

شہر کی عمارتیں، سڑکیں، گلیاں، پارک اور رہائشی مکانات کی ترتیب مربوط منصوبہ بندی کی گواہی دیتی ہیں لیکن اگر غور کیا جائے یا عمرانیات یا سماجی سائنس کا کوئی طالب علم تحقیق کرے تو اسلام آباد کی سماجی تفریق کا مشاہدہ کرتے ہوئے شہر کی سماجی درجہ بندی کی جا سکتی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ شہر اقتدار کی مناسبت سے راولپنڈی شہر کی کچھ اہم جگہیں جبراً یا مصلحتاً اسلام آباد میں شامل کر لی گئی ہیں مثلاً اسلام آباد کے ہوائی اڈے کی ہی بات کی جائے تو راولپنڈی میں واقع چکلالہ چھاﺅنی سے چند میل دور ہوتے ہوئے بھی مذکورہ ہوائی اڈہ اسلام آباد ایئر پورٹ کے نام سے مشہور ہے جبکہ اطراف کی ساری آبادی راولپنڈی کے نام سے ہی جانی جاتی ہے۔
اسلام آباد کو اربابِ اختیار اور وفاقی ترقیاتی ادارے نے مختلف ذیلی قطعوں ( سیکٹرز) میں تقسیم کیا ہوا ہے جو انگریزی کے حروف تہجی کے لحاظ سے ایک دوسرے سے منفرد اور ممتاز ہوتے ہیں۔ 1979 ءسے 1988ءتک جب افغانستان میں دو عالمی طاقتیں ایک دوسرے پر برتری ثابت کرنے کے لئے آپس میں نبرد آزما تھیں اور افغانستان میدانِ کارزار بنا ہوا تھا اس وقت لاکھوں افغانی خاندان پاکستان اور افغانستان کو ایک دوسرے سے الگ کرنے والی لکیر کو عبور کرتے ہوئے پاکستان پہنچے۔
مہاجرین اور انصار کے مصداق پاکستانی حکومت نے افغان مہا جرین کی پاکستان میں عارضی آباد کاری کا عمل شروع کیا اور دورانِ آباد کاری افغان خاندانوں کی رجسٹریشن جیسے انتہائی اہم عمل کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔ افغانی باشندے طور خم سے کراچی تک پھیلتے ہی چلے گئے۔ اسی دوران شہرِ اقتدار میں بھی کچھ افغانی خاندانوں نے ڈیرے جما لئے۔ متمول اور متوسط افغان خاندان نسبتاً کم ترقی یافتہ مگر آباد ذیلی قطعوں میں بطور کرایہ دار رہنے لگے جبکہ غریب اور محنت کش خاندانوں نے آبادی سے بے نیاز خالی ذیلی قطعوں پر خیمہ بستیاں آباد کر لیں۔ خیمہ بستیاں دیکھتے ہی دیکھتے کچی آبادیوں کا روپ دھارتی گئیں، کچی آبادیوں اور ان میں موجود کچے گھروں کی تعمیر کے وقت بھی وفاقی ترقیاتی ادارے نے کچی آبادیوں کی جگہوں کو نہ صرف مخصوص ذیلی قطعوں کا نام دیا ہوا تھا بلکہ ان میں پلاٹوں کی فروخت کا عمل بھی جاری تھا۔ کچی آبادیوں کے مکین افغانی زیادہ تر مزدور پیشہ تھے، کچھ ایسے بھی تھے جو اپنے خاندان کو کچی آبادیوں میں چھوڑ کر پاکستان کے دوسرے شہروں اور دیہی علاقوں میں محنت مزدوری کے لئے نکل گئے تھے۔
افغان کچی آبادیوں کے علاوہ اسلام آباد میں ایک اور طرز کی کچی آبادیاں بھی موجود ہیں جن کو اگر مقامی آبادکاروں کی کچی آبادیاں کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ یہ وہ آبادیاں ہیں جہاں اسلام آباد کے دارالحکومت بننے سے پہلے مختلف گاو¿ں آباد تھے اور یہ علاقہ راولپنڈی کے دیہی علاقے کے نام سے جانا جاتا تھا۔ وفاقی ترقیاتی ادارے کے مطابق یہ بھی غیر قانونی آبادیاں ہیں۔ یہ آبادیاں دیکھنے میں منصوبہ بند تعمیر کے فقدان، نکاسی آب اور ادھ پکی گلیوں کے علاوہ کسی بھی اعتبار سے کچی آبادیاں نہیں لگتیں۔ مقامی آبادکاروں کی کچی آبادیوں میں سوئی گیس کے علاوہ زندگی کی باقی سہولیات موجود ہیں۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی مسند پر بیٹھے ایک رکن قومی اسمبلی اور دو اراکین صوبائی اسمبلی کا تعلق بھی مقامی آبادکاروں کی کچی آبادیوں سے ہے۔ مذکورہ آبادیوں کو وفاقی ترقیاتی ادارہ سیکٹرز میں تقسیم نہیں کر سکا کیونکہ کئی مقامی لوگوں نے زمین کا معاوضہ لینے کے باوجود جگہ چھوڑنا مناسب نہیں سمجھا اور کئی ایسے بھی ہیں جنہوں نے مناسب معاوضہ نہ ملنے کی وجہ سے عدالتِ عالیہ سے رجوع کیا ہوا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کم و بیش تیس سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود عدالت عالیہ مقامی آبادکاروں کی کچی آبادیوں کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہ کرسکی۔ دونوں نوعیت کی کچی آبادیوں کو جانیوالی سڑکوں اور ان سے ملحقہ ذیلی قطعوں میں ترقیاتی کاموں کی ضرورت کو دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ یہ واقعی وفاقی ترقیاتی ادارے اور حکومت پاکستان کی ذمہ داری میں نہیں آتیں۔
ماضی قریب میں افغانستان کے بدلتے سیاسی حالات اور حکومت کی تبدیلی کی وجہ سے پاکستان سے افغان مہاجرین کا انخلا شروع ہوا تو اسلام آباد میں رہائش پذیر افغانیوں نے بھی واپسی کے لیے رخت سفر باندھا۔ بیشتر خاندان پاکستان کو خیر آباد کہہ کر اپنے دیس چلے گئے مگر افغان بستیوں کی رونقیں کم نہ ہوئیں۔ کچی آبادیوں کے ارد گرد چھوٹی سڑکوں کے کنارے گولہ گنڈا، برف کے بلاک، گدھا گاڑیاں، لکڑیوں کے چولہوں پر پکتی چائے، بان کی چارپائیاں اور ادھر ادھر بھاگتے بچے جوں کے توں موجود رہے۔ اگر کسی نے دلچسپی ظاہر کی اور پوچھا کہ ماجرا کیا ہے تو پتا چلا کہ کچے مکانوں کو نئے مکین مل گئے۔ غور کرنے پر پتا چلا کہ افغان مہاجرین تو چلے گئے مگر سوات، فاٹا اور شمالی وزیرستان سے پہلے طالبان اور پھر آپریشن سے خوفزدہ پشتونوں نے مشترک زبان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے افغان پناہ گزینوں کی جگہ پر ڈیرے جما لئے۔ کچی آبادیوں میں افغانوں کی جگہ لینے والے پاکستانی پشتونوں کے معمولات ا±ن سے مختلف نہیں ہیں۔ مرد دن بھر مزدوری کرتے ہیں اور عورتیں خانہ داری۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کچی آبادیوں کے مکین اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کے لئے تصدیق شدہ ووٹرز ہیں۔
حال ہی میں عدالتِ عالیہ کے حکم کے نتیجے میں وفاقی ترقیاتی ادارے، اسلام آباد پولیس اور رینجرز نے ایک کچی آبادی کے مکینوں کے خلاف کارروائی کی اور مٹی کے آشیانوں کو بلڈوزروں سے نیست و نابود کرتے ہوئے فتح کا جشن بنایا۔ مکینوں کی مزاحمت کے نتیجے میں آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا گیا، دم گھٹنے کی وجہ سے ایک آٹھ ماہ کا بچہ اور ایک نو عمر لڑکا جان کی بازی ہار گئے۔ بلڈوزر جب گھروں کی طرف بڑھنے لگے تو آشیانوں کو بچانے کی غرض سے پشتون خواتین ہاتھوں میں قرآن لئے چھتوں پر کھڑی ہو گئیں مگر عدالت عالیہ کے بیان کو قرآن اور حدیث کے الفاظ سمجھتے ہوئے پولیس اہلکاروں نے خواتین کو چھتوں سے اتار کر سڑکوں پر گھسیٹا۔ دو سو کے لگ بھگ مرد دھر لئے گئے، نحیف بزرگ لاٹھیوں کو اپنے جسموں پر سہتے ہوئے تلملا کر رہ گئے۔ سوات، فاٹا اور شمالی وزیرستان کے پختون اسلام آباد سے بھی بے دخل ہو گئے- مذہبی اور سماجی اخلاقیات کا درس دینے والا ملّا، بین الصوبائی، قومی اور مذہبی ہم آہنگی کا درس دینے والا سیاستدان اور عدم تشدد اور بنیادی انسانی حقوق کی چیمپئن انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش تماشائی بنی رہیں۔پاکستان کے سیاسی افق پر ابھرنے والی بائیں بازو کی ایک نو وارد سیاسی جماعت کے مرد، عورتیں اور نوجوان کارکنان اور ان کے ہم خیال طلبا مظاہروں کا اہتما م کرتے رہے مگر بستی اجڑنے کے بعد وہ اجڑے ہوئے خاندانوں کو پرسا ہی دے سکتے تھے کہ طاقتور اور کمزور کے مقابلے میں طاقتور کا جیتنا ایک فطری امر ہے۔
سوال یہ ہے کہ کچی آبادیوں کے مستقل ہوتے وقت وفاقی ترقیاتی ادارہ کہاں تھا؟ کیا کچی آبادیوں سے بے گھر ہونے والے پشتون ریاستی رٹ کو مانیں گے؟ کیا یہ ضروری نہیں تھا کہ کچی آبادیوں کو مسمار کرنے سے پہلے مکینوں کی متبادل آباد کاری کا معقول انتظام کیا جاتا؟ کیا پشتون روایت کے برخلاف عورت پر ہاتھ اٹھانے کا کرودھ پشتونوں کے دلوں سے ختم ہو پائے گا؟ کیا یہ بچے کل کلاں ریاستی مشینر ی کا اہم پرزہ بن پائیں گے؟ مستقبل میں اگر یہی لوگ ریاستی رِٹ کو چیلنج کرتے ہیں توذمہ دار کون ہے؟
یہ سب سوالات اپنی جگہ مگر اسلام آباد کے متموّل مکین اس بات پر خوش ہیں کہ کچی آبادیوں کے قریب سے گزرنے والی شاہرائیں کشادہ ہونے جا رہی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *