شہنشاہ انقلاب کے دربار میں

’’ٹرن …ٹرن…ٹرن…‘‘Yasir Pirzada
’’ہیلو!‘‘
’’السلا م علیکم …طالبان کے دفتر میں خوش آمدید۔ اگر آپ خود کش بمبار بننا چاہتے ہیں تو ایک دبائیے ،اگر آپ کسی چرچ، مزار، مسجد یاامام بارگاہ میں بم دھماکہ کرنا چاہتے ہیں تو دو دبائیے ،اگر آپ کسی بازار ،بس ،سکول یا ہسپتال میں بچوں اور عورتوں کا قتل عام کرنا چاہتے ہیں تو تین دبائیے ،اگر آپ افغانستان جا کر لڑنا چاہتے ہیں تو چار دبائیے ،اگر آپ خود کش جیکٹ بنانے میں مہارت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پانچ دبائیے ،اگر آ پ حکومت ،فوج اور پولیس کے ٹھکانوں پر حملہ کرنا چاہتے ہیں تو چھ دبائیے ،اگر آپ جیل توڑ کر اپنے ساتھیوں کو چھڑوانا چاہتے ہیں تو سات دبائیے،اگر آپ پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں تو آٹھ دبائیے …کسی بھی وقت ہمارے نمائندے سے بات کرنے کے لئے صفر دبائیے ۔‘‘
یہ اس مجوزہ دفتر کا ایک نقشہ ہے جس کا آئیڈیا انقلابیوں کے شہنشاہ نے حال ہی میں اپنی ایک ایمان افروز گفتگو میں پیش کیا ۔موصوف سے زیادہ عقل مند، زیرک ،ذہین ،قابل اور دور اندیش شخص چونکہ پورے ہند سندھ میں نہیں پایا جاتا (ان کا اپنے بارے میں یہی خیال ہے) اس لئے ان کے افکار عالیہ سے اختلاف کرنا گویا اپنی کم عقلی پر مہر ثبت کرنا ہے ۔ملک میں دہشت گردی ختم کرنے کے حوالے سے موصوف کی حکمت عملی اس قدر سادہ اور عام فہم ہے کہ بعض اوقات واقعی اپنی کم علمی پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے ۔ان کی حکمت عملی کے بنیادی نکات یہ ہیں کہ پاکستان فوری طور پر امریکہ کی جنگ سے نکلے ،ڈرون حملے بند کرنے کے لئے امریکہ پر ایسا دبائو ڈالا جائے کہ وہ گھٹنے ٹیک دے ،تمام دہشت گردوںسے ہر قیمت پر مذاکرات کئے جائیں ،فوجی آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں(مشرقی پاکستان یاد ہے ناں بچّو) ،دنیا کی ہر جنگ با لآخر مذاکرات کی میز پر ہی جیتی جاتی ہے تاہم اس کے باوجود اگر دہشت گردوں کے کچھ گروہ آمادہ نہ ہوں توانہیں نہایت چابکدستی کے ساتھ تنہاکرکے (عالی مرتبت اس کے لئےisolate کا لفظ استعمال کرتے ہیں) ان کے خلاف کارروائی کی جائے مگر کچھ اس طرح کہ ’’انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو!‘‘فقط اتنی بات ہے،نہ جانے کیوں لوگ اتنے چھوٹے سے کام کے لئے مستری بلا لیتے ہیں !آج میں نے ان زرّیں نکا ت پر ایمان لانے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے البتہ ذہن میں کچھ شیطانی سوالات تاحال موجودہیں جن کا بیان ضروری ہے تاکہ شہنشاہ انقلاب کے پیروکار ان کا شافی جواب دے کر مجھ فقیر کوصراط مستقیم پر رکھیں اور مزید بھٹکنے سے بچائیں۔
میرا پہلا سوا ل یہ ہے کہ وہ کون سا طریقہ ہوگا جسے حکومت اپنائے گی اور پھریہ سمجھا جائے گا کہ پاکستان امریکہ کی جنگ سے نکل گیا ہے ؟کیونکہ اس وقت تو ہماری فوج افعانستا ن میں امریکہ کے ساتھ مل کر کوئی جنگ نہیں لڑ رہی ،افغانستان میں تو امریکہ اور نیٹو کی افواج قابض ہیں، ہم تو اپنے ملک میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں ،دہشت گرد آتے ہیں ہم پر حملہ آور ہوتے ہیں اور ہماری فوج اور پولیس کے جیالے ان کے خلاف اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر لڑتے ہیں ،تو کیا امریکہ کی جنگ سے نکلنے کا یہ مطلب لیاجائے کہ آئندہ جب دہشت گرد ہمارے جوانوں پر حملہ آور ہوں تو انہیں پہلے شربت کا گلاس پیش کیا جائے اور اس کے بعد اپنا سر کاٹ کر ان کے حوالے کر دیا جائے ؟دوسرا سوال ،کون سی گیدڑ سنگھی استعمال کی جائے کہ امریکہ ڈرون حملے بند کر دے ؟ نیٹو سپلائی بند کر کے ہم نے دیکھ لیا، امریکہ نے تو گھٹنے نہیں ٹیکے، ہم نے ٹیک دئیے … ڈرون کو مار گرانے کی تجویز بری نہیں البتہ اس تجویز کی حمایت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ کے اور آپ کے بیوی بچوں کے پاس آسٹریلیا کی امیگریشن ہو اور میلبورن کے کسی بنک میں کم از کم پچاس ملین ڈالر ہوں، اس کے بعد آپ اطمینان سے ایم سی جی میں بیٹھ کر اگلے ورلڈ کپ کا فائنل دیکھ سکتے ہیں اور ساتھ ہی اپنے سمارٹ فون کے ذریعے پاکستان میں ڈرون گرانے کے بعد امریکی حملے سے پیدا ہونے والے حالات پر کوئی مزاحیہ سی ٹویٹ کر کے اپنا غم غلط کر سکتے ہیں ۔
تیسرا سوال،فوجی آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ،تمام جنگوں کے بعد با لآخر مذاکرا ت ہی کرنے پڑتے ہیں … اگر یہ بات درست ہے تو پھر کیا کوئی یہ بتائے گا کہ جنگ احد ،بدر اور خندق کے دوران کفار مکہ سے کون سے مذاکرات ہوئے تھے ؟فتح مکہ کی مثال اس ضمن میں بہترین ہے۔قریش اور مسلمانو ںکے درمیان دس برس کے لئے صلح حدیبیہ کا معاہدہ ہو چکا تھالیکن اس کے باوجود ’’قریش نے خزاعہ کے خلاف بنی بکر کی مددکی اور ان کے ایک آدمی کو قتل کر دیا جو رسول اللہ ﷺ کے عہد و میثاق میں شامل تھے انہوں نے اس معاہدے کی جو ان کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان ہوا تھا کھلی خلاف ورزی کی۔بنی کعب کا عمر و بن سالم الخزاعی اس عہد شکنی کی شکایت اور انصاف کے لئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مدینہ آیا۔آپ ﷺ اس وقت تمام صحابہ ؓ کے ساتھ مسجد میں تشریف فرما تھے …(اس نے کہا) یا رسول اللہ ﷺ ہم اسلام لا چکے اور انہوں نے ہم کو قتل کیا ہے ۔یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عمرو اطمینان رکھو، ہم تمہاری مدد کے لئے تیار ہیں ۔اسی وقت رسول اللہ ﷺ کو آسمان پر بدلی نظر آئی ۔آپ ﷺ نے فرمایا یہ گھٹا بنی کعب کی امداد میں برسے گی یہ نیک فال ہے … رسول اللہ ﷺ نے صحابہؓ سے فرمایا کہ ابو سفیان ہمارے پاس اس معاہدہ صلح کی تجدید اور اضافہ مدت کے لئے آنے والا ہے …ابو سفیان خود رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور معاملہ پر گفتگو کی آپ ﷺ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اب وہ ابوبکر ؓ کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ آپ اس معاملہ میں رسول اللہ ﷺ سے گفتگو کریں ۔مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا۔اب وہ عمر ؓ کے پاس گیا اور ان سے کہا ۔انہوں نے کہلا بھیجا میں تمہاری سفارش رسول اللہ ﷺ سے کروں؟ بخدا اگر مجھے صرف باجرے کے دانے دستیاب ہوں تو میں انہی سے تم سے جہاد کروں۔ وہاں سے نکل کر وہ علی بن ابی طالب ؓ کے پاس آیا۔اس وقت ان کے پاس فاطمہؓ بنت رسولؐ بھی تھیں … ابوسفیان نے کہا …علیؓ تم رسول اللہ ﷺ سے ہماری سفارش کرو۔علیؓ نے کہا ابو سفیان ،جس کام کا رسول اللہ ﷺ ارادہ فرما چکے ہوں بخدا میری مجال نہیں کہ میں اس کے متعلق ان سے کچھ کہہ سکوں …۔‘‘(تاریخ طبری)۔ اس کے بعد فتح مکہ کا معرکہ ہوا ۔ابن اسحاق سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب اپنے مسلمان امراء مکہ پر پیش قدمی کے لئے مقرر فرمائے ان کو ہدایت کر دی تھی کہ سوائے اس کے جو خود تمہارے مقابل لڑنے آئے تم خود کسی سے نہ لڑنا۔البتہ آپ ﷺ نے چند آدمیوں کے نام بتائے کہ ان کو ضرور قتل کر دیا جائے چاہے وہ کعبہ کے پردوں کے پاس ہوں۔(تاریخ طبری)۔ابوسفیان سے کسی نے مذاکرا ت نہیں کئے ۔ہاں ،اسے معاف کردیا گیا مگر اس وقت جب وہ ایمان لایا۔
شہنشاہ انقلاب کا بے شک تاریخ کا وسیع مطالعہ ہے جس کا اندازہ ان کے پُر مغز مضامین سے ہوتا رہتا ہے، تاہم پھر بھی ان سے دست بدستہ التماس ہے کہ مذاکرات کی دہائی دینے سے پہلے تھوڑا سا مطالعہ تاریخ اسلام کا بھی کرلیں جس کا موقع شاید انہیں اب تک نہیں مل سکا۔اس سے جگر کی گرمی دور ہوگی اور ہاضمہ بھی بہتر ہوگا ۔ھوالشافی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *