بلدیاتی انتخابات نہ کرانے پر حکومت عوام سے معافی مانگے: سپریم کورٹ

supreme courtسپریم کورٹ نے کہاہے کہ مقررہ وقت پر بلدیاتی انتخابات نہ کرانے پر حکومت عوام سے معافی مانگے۔سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب پیش ہوئے۔ جب کہ سندھ حکومت کے وکیل کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ مقررہ وقت پر بلدیاتی انتخابات نہ کرانے پر معافی مانگتا ہوں جس پر جسٹس جواد نے ریمارکس دِیے کہ’’ آپ نہیں حکومت عوام سے معافی مانگے۔‘‘ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کی وجہ بتائے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ افسروں کی بڑی تعداد سیلاب زدہ علاقوں میں مصروف ہیں اور محرم کے دوران سیکیورٹی کے لئے افسر تعینات کیے جائیں گے اس لئے انتخابات میں تاخیر ہورہی ہے۔ جسٹس دوست محمد نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ’’دوسری جنگ عظیم میں بھی حکومتی قائم ہوئیں اور انتخابات ہوئے تو ملک میں بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں ہوسکتے۔‘‘ سپریم کورٹ نے کہا کہ جن صوبوں میں تسلسل سے صوبائی حکومتیں کام کر رہی ہیں وہاں بلدیاتی انتخابات کا نہ ہونا عوام سے زیادتی ہے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت سے کل تک رپورٹ طلب کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو بھی طلب کرلیا جب کہ جسٹس جواد نے کہا کہ ’’بلدیاتی الیکشن موخر کرنے کی وجہ بتائی جائیں، جائزہ لے کر حکم جاری کریں گے۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *