قائد اعظم کے سیکیورٹی افسر کے تہلکہ خیز انکشافات

muntkhab tehrerainقسط نمبر 1:ایف ڈی ہنسویٹا
پیدائش 1910 ء ۔ بمبئی 1934 ء میں پولیس میں سب انسپکٹر بھرتی ہوئے۔ 1943 ء میں سندھ کے انگریز گورنر سر ہیوڈاؤ کے سکیورٹی آفیسر مقرر ہوئے۔ ہیوڈاؤ کے بعد سر فرانسس موڈی گورنر سندھ مقرر ہوئے تو ہنسوٹیا صاحب ان کے بھی سکیورٹی آفیسر رہے۔ قیام پاکستان کے بعد گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے بعد خواجہ ناظم الدین کے لیے 1950 ء تک بطور سکیورٹی آفیسر خدمات انجام دیتے رہے۔ 1959 ء سے 1967 ء۔ ریٹائرمنٹ تک ایس پی ٹریفک رہے۔ اس انٹرویو کے لیے ان سے میری پہلی نشست 25 اپریل 1977 ء کراچی ان کی رہائش گاہ پر ہوئی۔ 1987ء تک تقریباً ہر سال دو، تین ، چار مرتبہ کراچی میں ہی ان سے انٹرویو کا سلسلہ جاری رہا۔
ایف ڈی ہنسوٹیا کے تفصیلی سوانحی خاکے کے لیے میں نے 12جولائی 2010 ء کو کراچی میں ان کے گھر فون کیا جو ان کے بیٹے ڈاکٹر مہر ہنسویٹا نے اٹینڈ کیا۔ انٹرویو کے دوران میں میری ان سے ملاقات ہو چکی تھی، وہ انہیں یاد تھی، میں نے ان کے والد کے متعلق پوچھا انہوں نے بتایا ان کا 1994 ء میں انتقال ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر مہر بہت خوش ہوئے، ان کے والد کی قائداعظم سے متعلق یادداشتیں انٹرویو کی صورت میں چھپ رہی ہیں۔ میں نے ان سے ایف ڈی ہنسوٹیا کے تفصیلی سوانحی خاکے اور ایک تصویر کی بات کی۔ انہوں نے کہا آپ مجھے اپنا ای میل ایڈریس دے دیں میں بھجوا دوں گا۔ اتفاق ایسا ہوا کہ اس کے بعد جب بھی میں نے فون کیا ڈاکٹر مہر سے ملاقات نہ ہوئی۔ پھر 14نومبر 2010ء کے ڈیلی ڈان میں ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر، فیکلٹی ممبرز اور سٹاف کی طرف سے ایک تعزیتی اعلان پڑھا کہ ڈاکٹر (کیپٹن) مہر ایف ڈی ہنسوٹیا، جو 1980 ء سے ڈاؤ میڈیکل کالج سے وابستہ تھے اور ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے پہلے رجسٹرار تھے، 11نومبر 2010 ء کو انتقال کر گئے۔
رہے نام سائیں کا۔
س : یہ ہنسوٹیا آپ کی کاسٹ ہے یا کیا ہے؟
ج: ہنسوٹ ایک گاؤں کا نام ہے انڈیا میں ، جہاں ہم پیدا ہوا تھا کیونکہ میرے والد صاحب کا خیال تھا کہ ہم شاید ادھر واپس نہیں جائیں گے تو اپنا یہ Surname (عرفیت) بنا کے رکھا۔ ہنسوٹیا۔
س : اور ایف ڈی؟
ج: ایف ڈی۔ میرا نام فیروز ہے۔ میرے والد کا نام ہے دھن جی شاہ ہنسوٹیا میرا surname ہے۔
س : ہنسوٹیا صاحب، آپ گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح کے سکیورٹی آفیسر رہے۔ اس سے پہلے بھی آپ کو کسی گورنر یا سربراہ مملکت کے ساتھ سکیورٹی میں کام کرنے کا اتفاق ہوا؟
ج: میں قائداعظم کے آنے سے آگے دو گورنرز کے پاس سکیورٹی آفیسر رہا تھا۔ پہلے Sir Hue Dow (سر ہیوڈاؤ) گورنر سندھ کے ساتھ۔ اس کے بعد Sir Francis Mody (سر فرانسس موڈی) آیا، ان کے پاس بھی میں سکیورٹی آفیسر تھا۔ ان کے بعد جب قائداعظم آیا تو اس نے بھی مجھے سکیورٹی آفیسر لگایا۔ تو پہلے کچھ ٹائم میں، کوئی ایک ماہ پہلے احسن صاحب دہلی سے گورنر جنرل ہاؤس کے انتظامات دیکھنے آیا۔ میرے سٹاف میں ہندو، سکھ ، عیسائی، مسلمان سبھی تھے، احسن نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔
س : ایس ایم احسن ؟
ج: ایم ایم احسن اے ڈی سی تھا قائداعظم کا۔
س : احسن قائداعظم کے پہلے تین اے ڈی سیز میں سے ایک تھے۔
ج: وہ آیا۔ اس نے سارا چیک کیا اور اپروو کیا۔ اس کے بعد قائداعظم آئے تھے۔
س : پارس ہوتے ہوئے بھی آپ کو قائداعظم کے سکیورٹی آفیسر کی حیثیت میں برقرار رکھا گیا؟
ج: پاکستان بننے کے بعد انسپکٹر پولیس چوہدری نذیر احمد جو ایس پی ریٹائر ہوئے ہیں کو میرے ساتھ رکھا گیا کہ میں انہیں کام سکھاؤں۔ ایک مہینے کے بعد آئی جی پولیس نے میری بجائے نذیر احمد کو لگا دیا۔ قائداعظم نے میرے متعلق پوچھا تو انہیں بتایا گیا کہ ہنسوٹیا کو بے دخل کر دیا گیا ہے۔ قائداعظم بولا، کس کی مرضی سے اسے ہٹایا گیا ہے؟ پھر مجھے بلا کر کہا کہ آپ Contiue (پھر سے شروع) کریں۔ اس عملے میں اس وقت سب مذہب کے آدمی تھے۔
س : گورنر جنرل ہاؤس میں۔
ج:گورنمنٹ ہاؤس میں۔
س : تفصیل ۔
ج: سکیورٹی افسر میں تھا پارسی، میرا اسسٹنٹ دلیپ سنگ بیدی کر کے سکھ تھا۔ سارجنٹ تھے اینگلو انڈین، اینگلو انڈین کرسچین، کچھ ہندو بھی تھے سٹاف میں۔ دلیپ سنگھ بیدی پھر انڈیا چلا گیا۔ اس کے جاتے ہی یہاں (کراچی میں) ہندو مسلم فسادات ہو گئے۔لگتا ہے اسے اس بات کا پتہ تھا۔
س : ان سارجنٹس کے نام؟
ج: Phili Phosky (فلی فاسکی )اور Tobin (ٹوبن)۔
س : گویا گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح کے سٹاف میں ہر مذہب کو نمائندگی حاصل تھی۔
ج: ہر مذہب کو۔
س : قائداعظم نے اس چیز کو پسند کیا؟
ج: اس نے بہت پسند کیا تھا۔ اس نے اس پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا تھا بلکہ ان کا کہنا تھا کہ بہت اچھی بات ہے کہ ہر ایک قسم کے آدمی، پاکستانی ہمارے سٹاف میں رکھے گئے ہیں۔ ان کا جو گھر کا عملہ تھا اس میں بھی ہندو تھے، کرسچین تھے اور مسلمان بھی تھے۔ ان کا خاص بٹلر ہیڈ بٹلر جوزف کرسچین تھا گوا کا۔ ہاؤس کیپر کرسچین عورت Mrs Black (مسز بلک) تھی۔ باورچی بروا بنگالی تھا، ہندو تھا۔ ان کا جو دھوبی تھا وہ بھی ہندو تھا۔ ان کے بیرے اور موجی کرکے ہندو تھے۔ کاجی جو تھا موجی کا داماد تھا۔
س : کانجی اور موجی زندہ ہیں؟
ج: موجی تو مر گیا ہے۔ کانجی کا پتہ نہیں۔
س : اور ہیڈ بٹلر جوزف؟
ج: مر گیا ہے۔
س :ٹوبن اور فلی فاسکی اب کہاں ہیں؟
ج: کینیڈا۔
س : گویا قائداعظم کے ہاں ہر مذہب کو نمائندگی حاصل تھی۔
ج: سمجھو کہ گورنمنٹ ہاؤس میں مذہب کا کوئی امتیاز ہی نہیں تھا۔ کمپٹرولر آف دی ہاؤس ہولڈ انگریز تھا۔ اس کو وہ دہلی سے لائے تھے۔ ان کا ملٹری سیکرٹری کرنل سینٹ جان برنی انگریز تھا۔ وہ گیا تو کرنل نولز کو رکھا۔ وہ بھی انگریز تھا۔ ان کے تینوں اے ڈی سیز کیپٹن گل حسن، فلائٹ لیفٹیننٹ عطا ربانی اور لیفٹیننٹ ایس ایم احسن مسلمان تھے۔ ان کی جگہ جو اے ڈی سی آئے وہ بھی مسلمان تھے۔ ان کا باڈی گارڈ کمانڈر صاحبزادہ یعقوب علی خاں مسلمان تھا۔ وہ گیا تو اس کی جگہ میجر عباس آیا۔
س : یوں دنیا کو دکھا دیا کہ یہاں صحیح معنوں میں مساوات رائج ہو گی۔
ج: وہ ہر مذہب کو ایک ہی آنکھ سے دیکھتے تھے۔
س : قائداعظم نے تو اس کا عملاً ثبوت دے دیا۔ پھر بھی کوئی ایسا واقعہ پیش آیا جس میں دوسرے مسلمان افسروں نے غیر مسلم افسروں کے خلاف مذہبی تعصب کا مظاہرہ کیا ہو۔
ج: ہاں، جب ہم لاہور میں تھا تو اس وقت ایک واقعہ یہ ہوا کہ یہاں رائے بہادر نرائن داس کا لڑکا تھا کشو، جو قائداعظم کی موٹر کا کام کرتا تھا۔ وہ ایک دفعہ آیا تو اس نے سارجنٹس سے پوچھا کہ پائداعظم کب (کراچی) آئیں گے۔ ٹوبن اور فلی فاسکی نے اسے بتایا کہ قائداعظم فلاں دن کو آئے گا۔ جب ہم لاہور سے واپس آیا تو ہم نے دیکھا کہ اس بات پر ان دونوں کو اتار دیا تھا نوکری سے۔ ہم نے دیکھا کہ سارا عملہ مسلمان ہو گیا۔
س : غیر مسلم کی جگہ مسلمان سٹاف آ گیا۔
ج: مسلمان آگئے تھے۔ outrider (موٹر سائیکل سوار محافظ) یہ سب مسلمان آنے لگے اور جو سٹاف تھا ان کو کام نہیں کرنے دیتے تھے۔ جو کرسچین سٹاف تھا اس کو، سکیورٹی کا سٹاف بھی مسلمان آگیا۔ مجھے معلوم پڑا کہ مجھے بھی نان مسلم ہونے کی وجہ سے یہ ہٹانا مانگتا ہے اور آئی جی میرے جگہ انسپکٹر پولیس چوہدری نذیر کو لارہے ہیں بلکہ سنا کہ کارروائی مکمل ہے، بس چارج لینے دینے کا بات ہے۔ پھر مجھ کو خیال پڑا کہ میں مجھ کو کیوں یہ ہدایت دیا گیا تھا کہ چوہدری نذیر کو سکیورٹی کا کام سکھاؤ۔ یہ بات چل رہا تھا۔ میں جب ڈیوٹی سے آف ہوتا تھا تو بھی گورنر جنرل ہاؤس کا چکر لگاتا تھا۔ پوچھنے کے لیے کہ کوئی کام ۔ ایک روز شام کا وقت تھا ۔ میں آف ڈیوٹی تھا۔ میں ادھر گیا تو میں نے دیکھا کہ قائداعظم کا فلیگ گاڑی آگیا۔ وہ باہر جا رہا تھا ۔Unscheduled (پروگرام کے برعکس)۔
س : سیر کے لیے؟
ج: سیر کے لیے باہر جا رہا تھا۔ میری ذمہ داری تھی کہ میں ان کے ساتھ ہوتا لیکن یہ پروگرام ان شیڈولڈ تھا اور میری والدہ بھی ساتھ تھی۔ تو میں نے اپنے ایک مسلمان سب انسپکٹر کو جو وہاں کھڑا تھا کہہ دیا کہ ساتھ ہو جائے۔ وہ ترکی ٹوپی پہنے تھا۔ اس کو میں نے بتایا کہ بھئی میں نہیں جا سکتا ہوں کیونکہ میری مدر بھی گاڑی میں بیٹھی ہے۔ میں تو ایسے ہی چکر مارنے آگیا تھا دیکھنے کے لیے۔ تو آپ ان کے ساتھ چلے جائیں۔ لیکن میں وہاں کھڑا رہا جب تک قائداعظم آگیا وہاں۔ جب موٹر چلنے لگا تو انہوں نے ایک دم موٹر کھڑا کیا اور مجھ کو بلایا کہ آپ کیوں نہیں چلتا؟ میں بولا کہ میں تو ایسے ہی آگیا تھا۔ مجھے پروگرام کا پتہ نہیں تھا۔ میری مدر باہر کھڑی ہے اس لیے میں اس کو بھیج رہا ہوں آپ کے ساتھ۔ تو بولا۔ یہی بات ہے اور تو کچھ نہیں۔میں بولا۔ اس کی وجہ سے میں نہیں جا رہا۔ تو بولا۔ آپ سے بات کرنا مانگتا۔ تو میں بولا۔ میں ادھر ٹھہر جاؤں؟ تو وہ بولا۔ آج کوئی ضروری نہیں اتنا۔ آپ احسن سے کل صبح نو دس بجے کے درمیان کوئی ٹائم فکس کر لو اور مجھے صبح مل لو۔ اور احسن سے کہا کہ نوٹ کر لیں۔ احسن صاحب نے مجھے ساڑھے نو بجے کا ٹائم دیا۔ اس ٹائم میں کیپٹن گل حسن ان کے ساتھ جا رہا تھا۔ میں اپنی مدر کو گھر چھوڑ کے واپس گورنر جنرل ہاؤس آگیا۔ کیوں؟ میرے دل میں یہ ہو گیا کہ پتہ نہیں کیا بات ہو گا۔ جب وہ واپس آئے تو میں نے گل حسن سے پوچھا کہ بھئی کیا بات تھی؟ اس نے بولا ۔ قائداعظم نے ہمیں کچھ نہیں بتایا ۔ نہ مجھے پتہ ہے۔ میں ساری رات بڑا پریشان رہا۔ دوسرے دن صبح میں آگیا تو احسن صاحب اے ڈی سی نے مجھے بلایا کہ آ پکو بلا رہے ہیں جلدی سے۔ راستے میں جاتے جاتے میں نے احسن صاحب سے پوچھا کہ بھئی کیا بات ہے۔ مجھے کاہے کے لیے بلایا گیا ہے؟ توانہوں نے مجھے جلدی سے یہ بتایا کہ آپ سے جو بھی پوچھیں صحیح صحیح بتا دینا۔ کوئی چھپانا نہیں بات۔ اتنا بولا، اتنے میں ہم پہنچ گئے کمرے کی طرف۔
س :اوپر کی منزل پر۔
ج: اوپر کی منزل پر کام کرتے تھے، آفس میں۔ وہاں جا کے احسن نے رپورٹ کیا۔ میں اندر گیا۔ سلام کیا۔ پہلے تو ادھر بیٹھے۔ پھر مجھے بولا۔ آئین سٹنگ روم میں بیٹھیں اور بات کریں۔ انہوں نے سگریٹ نکالا۔ خودنہیں پیا۔ میری طرف کیا۔ میں نے بولا میں نہیں پیتا۔ مجھے بولا۔ Because your parsi,you dont smoke (چونکہ آپ پارسی ہو اس لیے سگریٹ نہیں پیتے)۔

جاری ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *