کیا پاکستان سیکولر ریاست بن سکتا ہے؟ (حصہ دوم)

mohammad Razaپہلے حصے میں موضوع بحث یہ رہی کہ کیا آئین پاکستان کے کچھ بنیادی حصے ایک آئینی ترمیم یا ایک ریفرنڈم کے ذریعے سے تبدیل کیے جاسکتے ہیں؟ خصوصاََ قرار داد مقاصدجو کہ 1956،1962اور1673کے آئین میں دیباچہ رہا لیکن جنرل ضیا الحق نے اسے آٹھویں ترمیم کے ذریعے سے آرٹیکل 2(A)میں آئین کا بنیادی جز بنا دیا۔

اصولی طور پر ایسا ممکن ہے لیکن عملی طور پر ایسا کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے اس کے کئی وجوہات ہیں ۔ جنرل ضیاءالحق کی اسلامائزیشن پالیسی نے مذہبی حلقوں کو مقتدر کیا ہے۔ یہاں تک جنرل مشرف جیسا حکمران بھی اس مذہبی حلقے کو کمزور نہیں کر سکا بلکہ اس کی بعض پالیسیوں کی وجہ سے مذہبی سیاسی حلقہ مزید طاقتور ہوگیا۔ جنرل مشرف ایک طرف ”معتدل روشن خیالی“ کا راگ الاپتا رہا تو دوسری طرف متحدہ مجلس عمل کو مسند اقتدار تک لانے میں بھی معاون رہا ۔ اچھے اور برے طالبان کی اصطلاح گڑ ھ کر جنرل مشرف نے سیاسی مذہبی حلقوں سے ٹکر لینے سے اجتناب کیا ۔
بنیادی مسئلہ چند آئینی ترمیمات تک محدود نہیں ہے اگر ہم 1973ءکے آئین کے نفاذ سے لے کر اب تک پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ 1973ءکے آئین میں مختلف اداروں ( عدلیہ، مقننہ ، حکومت) کے درمیاں جس توازن کا تصور کیا گیا تھا وہ عملی طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو 1973ءکے آئین کا نفاذ اپنا بہت بڑا کارنامہ سمجھتے تھے۔لیکن محض چار سال کے اندر 1973ءکے آئین کو بالائے طاق رکھا گیا بلکہ جنرل ضیاءنے تو یہاں تک کہہ دیا کہ آئین کیا شے ہوتی ہے، محض کاغذ کا ایک ٹکڑا! جنرل ضیاءنے مذہبی سیاسی جماعتوں کے ذریعے سے اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے 1973ءکے آئین کا بنیادی حلیہ بگاڑ دیا۔ 1973ءکے آئین کے نفاذ سے لے کر اب تک بیالیس سال کے عرصے میں آدھا حصہ فوجی حکومتوں کا رہا اور اس دوران صرف ایک پارلیمنٹ نے اپنی طبعی مدت پوری کی۔ غریب اور امیر کے بیچ فرق بڑھتا رہا۔ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔ کرپشن، اقربا پروری اور بری طرز حکمرانی کی نئی داستانیں رقم ہوئیں۔ چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی بڑھتا گیا اور پنجاب کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوتا رہا۔ یہاں تک اٹھارہویں آئینی ترمیم بھی چھوٹے صوبوں کے عوام کے مسائل حل نہیں کر سکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چھوٹے صوبوں کی قیادت اسلام آباد سے تو اختیارات صوبوں کو منتقل کرنا چاہتی ہے لیکن یہ اختیارات صوبائی دارالخلافوں تک محدود رکھنا چاہتی ہے۔ اور ان اختیارات کو مزید نچلی (ضلعی)سطح تک منتقل کرنے کی قائل نہیں۔ اس لیے تو بڑی مشکل کے بعد سپریم کورٹ کے حکم کے نتیجے میں صوبائی حکومتوں نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی تیاری شروع کی ہے۔ (خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں ہو چکے ہیں) لیکن منتخب جمہوری حکومتیں تین سال بعد بھی بلدیاتی انتخابات منعقد کرانے میں پرجوش نہیں ہیں۔
تاریخ کا فیصلہ ہے کہ جب حکمران اپنے عوام کے مسائل کو بروئے خاطر نہیں لاتے تو ایسی صورت میں عوامی غصے کا سیلاب بڑے بڑوں کو بہا لے جاتا ہے۔ انقلاب فرانس سے لے کر موجودہ عرب بہار تک تاریخ کا فیصلہ یہی ہے۔ انقلاب خونی بھی ہو سکتا ہے اور پر امن بھی جیسے کہ روس کا 1917ءکا خونی اور سویت یونین کے 1989ءمیں پر امن انقلابات۔
پاکستان میں مختلف قسم کے انقلابات آتے رہے ہیں۔ مثلاََ جنرل ایوب نے فوجی حکمرانی کے بل بوتے پر کچھ معاشی ترقی دلوائی تو اس کو سبز انقلاب کا نام دیا۔ اس طرح بھٹو صاحب نے بھی سوشلسٹ انقلاب کا نعرہ لگایا ۔ہماری بہت سی سیاسی پارٹیاں بھی انقلاب کا جنازہ اٹھاتی رہی ہیں کیونکہ درحقیقت یہ پارٹیاں موجودہ نظام کی اصلاح کرکے انقلاب برپا کرنا چاہتی ہیں۔ ان جماعتوں کا نظریہ ہے کہ اصل خرابی بری انتظامیہ اور بد دیانت قیادت کی وجہ سے ہے اور اگر اچھی اور ایماندار قیادت سامنے لائے جائے تو یہ نظام ٹھیک ہو سکتا ہے ۔ عمران خان کی بھی سوچ یہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نظام کو بدلنے کے لیے ایک انقلابی جماعت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انقلابی جماعت کی کچھ خصوصیات ہوتی ہیں۔ مثلاََ ایک ایسا نظریہ جو عوام کی سمجھ میں آسکے ۔ایسے نظریے کے لیے ضروری ہے کہ اقتدار اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے اخلاقی جواز پیش کر سکے ۔ ایک انقلابی آئیڈیالوجی ایسی ہونی چاہیے کہ عوام اپنی نفسیاتی اور تاریخی تجربات کی روشنی میں اسے سمجھ سکیں۔ پاکستان میںمارکسی فکر کے ماڈل کی عوام میں مقبولیت نہ ہونے کی وجہ ایک یہ بھی ہے کہ مارکسی دانشور انصاف کے اخلاقی جواز کو پاکستانی عوام کی نفسیات اور تاریخی تجربات سے اخذ نہ کر سکے۔
ایک انقلابی جماعت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ نظریے کے علاوہ جماعت کی نمائندگی ایسی قیادت کے پاس ہو جو عوام کے مختلف النوع معاشی گروپوں کی متناسب نمائندگی کرتی ہو۔ انقلابی جماعت کے اغراض و مقاصد بہت واضح ہونے چاہیے۔ اور ان اغراض مقاصد کے حصول کے لیے ایک قابل عمل لائحہ عمل موجود ہونا چاہیے۔ اپنے اغراض مقاصد کے حصول کے نتیجے میں بننی والی ریاست اور معاشرے کی مکمل عکس ہو تب ایک انقلابی پارٹی عوام کا اعتماد جیت سکتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *