قائد اعظم کے سیکیورٹی افسر کے تہلکہ خیز انکشافات (قسط 5)

qaidس : صرف اتنا لفظ بولنے سے ؟
ج : اتنا بولنے سے۔
س : اتنا رعب تھا؟
ج :اتنا رعب تھا ان کا ، اچھا ، اس کے بعد انہوں نے بوالا کیا بات ہے؟ تو کوئی ایک ادھر سے کھڑا ہو گیا۔ ایک ادھرسے کھڑا ہو کے بات کرنے لگا تو قائداعظم بولا، سٹ ڈاؤن ۔ بولا ۔ دیکھو ہمارے دو کان ہیں۔ ہم ایک آدمی کو ایک دفعہ سمجھ سکتا ہے۔آپ کا کوئی لیڈر نہیں ہے؟ تو وہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ تو (قائداعظم) بولا، آپ بنا لیڈر اور اسی طرح گورنر جنرل ہاؤس میں گھس گئے۔ یہ بڑی شرم کی بات ہے۔ آپ یہاں سے چلے جائیں۔آپ کو ہم سے ملنا ہے تو اپنے میں سے چار آدمی کو سلیکٹ کریں۔ پیچھے بولا۔ اچھا سات کو سلیکٹ کرو اور کل صبح سکیورٹی آفیسر سے اجازت لے کے آپ اندر آئیے۔ اس کے بعد میں آپ سے ملوں گا۔ لیکن جانے سے آگے ہم آپ کو یہ تاکید کرتا ہے کہ اگر یہاں سے جاتے جاتے کوئی آدمی نے لوٹ مار، کوئی بدمعاشی کیا، جو بھی کچھ حرکت کرے گا تو میں پولیس کا عملہ بھیجتا ہوں پیچھے تاکہ وہ سخت سے سخت اقدام آپ سے کرے۔ تو یہ بکری کے موافق چلے گئے اور کوئی گڑبڑ نہ کیا۔ کچھ نہ کیا۔
س : قائداعظم کو خطرہ ہو گا کہ دہلی میں مسلمانوں کے قتل عام کے ری ایکشن میں یہ یہاں کچھ کر نہ دیں کیونکہ اس وقت کراچی میں ہندو بھی تھے۔
ج : ہاں۔ اس ٹائم میں بہت تھے۔ دوسرے دن یہ لوگ آئے۔ چھ سات آدمی آئے ان کے۔ قائداعظم بولا کہ ان کو کیبنٹ روم میں بٹھاؤ۔ وہا ںیہ چلے گئے۔ بیٹھے۔ تھوڑی دیر کے بعد قائداعظم صاحب آئے۔ بیٹھا اور بولا، کیا بات ہے؟ تو انہوں نے بتایا ، یہ ہے ، یہ ہے ، وہ ہے ۔ یہ ہو رہا ہے۔ دلی میں یہ ہو رہا ہے۔ بولے یہ تو سب مجھے پتہ ہے اور میرے سے جو ہوتا ہے کر رہا ہوں لیکن آپ کے کہنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ لوگ ہمارے انتظام سے ناراض ہیں اور یہ منسٹر ونسٹر اور یہ جو سیکرٹری ہے کچھ نہیں کر رہا۔ تو ہم اس کو ڈسمس کر دیتے ہی کہ بھئی یہ پیپلز گورنمنٹ ہے۔ اگر آپ نہیں چاہتے تو ہم اتر جائیں گے۔ لیکن اترنے سے پہلے Vacuum (خلا) نہیں ہو۔ اس کے لیے آپ میں سے کون پرائم منسٹر بنے گا؟ کون گورنر جنرل بنے گا؟ وہ سب ہمیں تجویز دیں۔ وہ ایک دوسرے کا منہ دیکھ کے یئیں یئیں کرنے لگے۔ تو بولا، یہ بات ہے تو میں بہت ناراض ہوں کہ ایک تو آپ ہم کو ہدف تنقید کر رہے ہیں ، دوسرا آپ کے پاس کوئی پروپوزل ہے نہیں۔ چلے جائیں۔ جو ہم کرتے ہیں۔وہ ٹھیک کرتے ہیں۔ آپ کو ہمارے میں اعتبار نہیں ہے تو ہم ریزائن کرتے ہیں۔ تو انہوں نے بولا نہیں۔ (قائداعظم )بولا۔ اچھا ، اچھا، اٹھیں ، چلے جائیں۔ وہ سب چلے گئے۔ تو کوئی گڑبڑ ہوئی نہ کچھ ہوا۔ ان کا اتنا رعب تھا۔
س : بات اصول کی کرتے تھے اس لیے؟
ج : بات سیدھی کرتے تھے۔ بالکل اصول کی کرتے تھے۔ اس کی وجہ سے وہ آدمی جواب ہی نہیں دے سکتے تھے۔
س : دیکھیں نا، ان کا 11 اگست 1947 ء کو بطور صدر پاکستان دستور ساز اسمبلی سے خطاب، کوئی لگی لپٹی نہیں۔ اسی لیے وہ ہمارا میگنا کارٹا ہے۔
ج : ملا کا اس نے کہہ دیا تھا۔
س : ملا کا؟ کب اور کیا؟
ج : وہ کہتے تھے طلبا اور مذہبی لیڈروں کے ذریعے ہنگامہ کھڑا کرنا تو بہت آسان ہے لیکن بعد ازاں اسے کنٹرول کرنا ہمارے لیے بہت مشکل ہو گا۔
س : قائداعظم نے یہ کس موقع پر کہا؟
ج : بہت دفعہ بولاہے۔
س : کہاں ؟
ج : جب ہم جاتے تھے میٹنگز میں ۔ وفود سے ڈسکشنز ہوتی تھی۔
س : لا اینڈ آرڈر کے سلسلے میں؟
ج : باہر جاتے تھے وہاں ڈسکشنز کرتے تھے۔ وہ ہرکسی کے ساتھ بڑی احتیاط اور توجہ سے بات کیا کرتے تھے۔
س : یہ بات انہوں نے مختلف موقعوں پرکہی؟
ج : ہاں ۔
س : قائداعظم جب بطور گورنر جنرل مختلف شہروں میں گئے۔ چندایک ہی میں جا سکے، لوگوں کے جذبات کیا ہوتے تھے؟
ج : لوگوں میں جو جذبہ اور جوش ان کے لیے تھا کہ کسی دوسرے لیڈر اور ہیڈ آف دیسٹیٹ کو نہیں ملا۔ ہم لاہور گئے، چٹا گانگ گئے ، کوئٹہ گئے، پشاور گئے، ڈیرہ اسماعیل خاں گئے۔ صرف کاکول ایک ایسی جگہ تھی کہ وہاں کا دورہ کینسل ہوا۔ یہ جہاں بھی گئے لاکھوں لوگ وہاں پہنچ جاتے۔ سڑکوں پر، مکانوں کی چھتو ں پر، درختوں پر لوگ ہی لوگ ہوتے۔
س : نعرے لگا رہے ہوتے؟
ج : اللہ اکبر،قائداعظم زندہ باد، پاکستان زندہ باد۔
س : پشاور جب گئے ہیں تو ؟
ج : میں بتاتا ہوں، پشاور جب ہم گئے تو وہاں یہ ہجوم لاکھوں کے حساب سے ہوتا تھا اور اس کو استقبال کے لیے رستے دونوں (سڑک کی دونوں اطراف) بھرے ہوتے تھے۔ چھتوں پر آدمی بیٹھتے تھے، درختوں پر بیٹھتے تھے، ان کا دیدار کرنے کے لیے۔
س : جب بحیثیت گورنر جنرل پشاور گئے ہیں؟
ج : جب ایز اے گورنر جنرل گئے ہیں۔
س : پاکستان بننے کے بعد؟
ج : پاکستان بننے کے بعد جب گئے ہیں۔ پٹھانوں نے ہوا میں فائر کر کے انہیں ویلکم کیا اور ان کی گاڑی میں، خاص پشاور میں ہم اوپن گاڑی میں ڈرائیو کرتے تھے تو ان کی موٹر آدھی بھر گئی تھی پھولوں سے اوپر تک۔ اتنا اس کو کرتے تھے۔ کمر تک یہ پھولو ں میں ڈوب گئے۔ بلامبالغہ ڈوب گئے سمجھوں پھولو ں میں۔
س : قائداعظم کے لیے اتنا جوش و خروش تھا پٹھانوں میں۔
ج : اتنا تھا۔ ایک واقعہ یہ ہو گیا کہ ایک پٹھان گاڑی کے سامنے لیٹ گیا کیونکہ ان کو روک کے ان کی شکل دیکھنا چاہتا تھا۔ ان کے لیے اتنا آدمی تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ دوسروں کے ساتھ بھی میں نے بہت کام کیا۔ یہ اکثر کرکے انگریزی سپیچ کرتے تھے اور پبلک پوری سمجھ تو نہیں سکتی تھی ان کی سپیچ۔ پھر بھی لاکھوں کے حساب سے آدمی آتے تھے اور چپ بیٹھتے تھے۔
س : پبلک پر یہ ہولڈ تھا ان کا؟
ج : ان کا ہولڈ تھا۔ جب ہم لاہور گئے تو لاہور میں پہلے انہوں نے سپیچ لکھی ہوئی تھی وہ انگلش میں اردو سپیچ لکھی تھی۔
س : رومن میں۔
ج : تو کچھ تھوڑاحصہ اس کا پڑھا۔ اس کے بعد وہ برابر بول نہیں سکے۔ انہو ں نے وہ پھینک دیا اور بولا کیونکہ میرا اتنا کنٹرول نہیں ہے، میں ایکسپریس نہیں کر سکتا۔ اس لیے میں انگلش میں کرتا ہوں۔ لیکن آدمی کا یہ تھا کہ سارا میدان بھرا تھا۔
س : یونیورسٹی گراؤنڈ؟
ج : یونیورسٹی گراؤنڈ پورا۔ چٹاگانگ میں یہی تھا۔ ڈھاکہ میں یہی تھا جہاں ہم گیا یہی ہوتا تھا۔ ہم بارڈر تک گئے۔
س : طورخم تک؟
ج : طورخم تک ۔ وہاں تک یہی حال تھا۔ ہوائی فائر کرتے تھے پٹھان۔ پٹھان بالکل سمجھو پاگل تھے ان کے پیچھے۔ ان کی شکل دیکھنے کے لیے پاگل تھے۔
س : طورخم بارڈر پر افغان سپاہیوں نے ان کے ساتھ ساتھ ہاتھ بھی ملائے۔
ج : ہاں ، بارڈر پہ یہ تھا کہ جب ہم وہاں گئے۔ وہاں تک ہم پیدل گئے۔ دور کھڑے افغان فوجیوں کو پتہ پڑا کہ قائداعظم آتے ہیں۔ وہ ان کی طرف بھاگے اور شیک ہینڈز کیا ان سے۔ قائداعظم نے ان کا حال احوال پوچھا، ترجمان کے ذریعے۔ افغان سپاہی ان کے ساتھ شیک ہینڈز کرنے اور باتیں کرنے پر بڑے خوش دکھائی دیتے تھے۔
س : وہ قائداعظم سے ہاتھ ملانے کے لیے ان کی طرف بھاگتے ہوئے آئے؟
ج : بھاگتے ہوئے آئے۔ میرا خیال ہے افغان گورنمنٹ نے اس پر اعتراض بھی لیا تھا کچھ ۔ لیکن انہوں نے بارڈر کے اس بازو کھڑے ہو کے ان سے ہاتھ ملایا۔
س : اس کا مطلب ہے قائداعظم پورے عالم اسلام کے لیڈر تھے؟
ج : ہاں، ہاں۔
س : افغان سپاہیو ں کے ساتھ قائداعظم کے ہاتھ ملانے کی تصویر بھی ہے۔
ج : وہ فوٹو گراف اس لحاظ سے انتہائی اہم تھا۔ لیکن ہمارے سرکاری فوٹو گراف (زیڈ اے برنی) نے وہ تصویر نہ اتاری۔ میں اس سے بولا۔ قائداعظم یہ تصویر ضرور مانگیں گے کیونکہ اس تصویر میں اسلامک اخوت کا جذبہ تھا۔ تو قائداعظم نے وہ تصویر مانگی۔ پھر ہم نے اس پریس فوٹو گرافر سے رابطہ کیا جس نے یہ تصویر بنایا تھا۔ قائداعظم کی ہستی سو سال تک تو نہیں ملے گی۔ ہم مشرقی پاکستان گیا ، وہاں پر بھی اتنا ہجوم تھا کہ آپ سوچ نہیں سکتے۔
س : اس صورت حال میں آپ کو سکیورٹی کی خاصی پرابلم ہو جاتی ہو گی۔
ج : بہت پرابلم ہو جاتی تھی کیونکہ ان کی گاڑی کے نزدیک آجاتے تھے آدمی۔ ان کو ہٹانا ایک بڑی مشکل ہوتی تھی ہمارے لوگوں کے لیے۔ لوگ انہیں دیکھنے کے لیے پاگل ہو جاتے تھے۔ انہیں کنٹرول کرنے کے لیے ہمیں بہت زیادہ عملہ رکھناپڑتا تھا۔ زیادہ عملے پر قائداعظم ناراض ہوتے لیکن ہم بھی مجبور تھا۔
س : جب قائداعظم کراچی شہر میں نکلتے؟
ج : یہاں (کراچی) تو یہ حال تھا کہ جب پرائیویٹ حیثیت سے نکل جاتے اور گاڑی ٹھہرتی تو وہاں بھی ہزاروں آدمی اکٹھے ہوجاتے تھوڑی دیر میں۔ ایک دفعہ ان کے دانت میں کوئی تکلیف تھی تو ہم ولی موراج کے وہاں گئے۔ یہ اوپر چلے گئے ان کے کلینک میں۔
س : کہاں ؟
ج : زیب النساء سٹریٹ میں الیکٹرک ہاؤس والی بلڈنگ پر ڈاکٹر ولی موراج کی کلینک تھی۔
س : اب بھی وہیں ہے۔
ج : اب بھی وہیں ہے۔ جب آدمیوں نے دیکھا کہ جھنڈا پائداعظم کا ، گورنر جنرل کا گاڑی پر چل رہا ہے تو بس تھوڑی دیری کے اندر وہاں ہزاروں آدمی آکے کھڑے ہو گئے۔ اس میں پریس فوٹو گرافر بھی کہاں سے پتہ نہیں ٹپک پڑے۔ یہ بڑے ناراض ہو گئے۔ یہ سمجھے کہ شاید ہم نے ان کو بلایا ہے۔ بولا،بھئی یہ تو موقع نہیں تھا، جب میں دانت کو یہ کراکے نکلا تو میرا فوٹو لے۔ تو میں نے بتایا۔ صاحب میں کیا کروں۔ آپ کی شخصیت ایسی ہے کہ اس کو دیکھنے کے لیے آدمی کہیں سے بھی آجاتے ہیں۔ تو پیچھے ہنس پڑے۔
س : قائداعظم اٹل ارادے کے انسان تھے۔ اس ضمن میں آپ کا مشاہدہ؟
ج : ان کی ڈکشنری میں ناممکن کا لفظ تو تھا ہی نہیں۔
س : ناممکن؟
ج : کہ یہ چیز ناممکن ہے۔
س : وہ مانتے ہی نہیں تھے کسی چیز کو کہ یہ ناممکن ہے؟
ج : یہ ناممکن ہے۔
س : کوئی واقعہ بتا سکیں گے آپ؟
ج : ایک دفعہ یہ ہو گیا کہ ہم ڈھاکے میں تھا۔ جب انہوں نے بولا کہ ہم لائٹنگ دیکھنے چلتے ہیں۔ ڈھاکے میں لائٹنگ ہوئی تھی۔
س : ان کی وہاں آمد کی خوشی میں؟
ج : ان کی خوشی میں لائٹنگ ہوئی تھی۔
س : لوگوں نے خودبخود کی تھی؟
ج : خود بخود کی تھی۔
س : سارے شہر میں؟
ج : سارے شہر میں لائٹنگ کی تھی۔ اس ٹائم میں انسپکٹر جنرل پولیس ذاکر حسین تھا۔ تو میں نے اس کو بلایا۔ میں اس کو بولا کہ یہ انتظام کرنا ہے وہ بولا کہ یہ ناممکن ہے۔
س : اچھا، آئی جی پولیس ذاکر حسین کہنے لگے کہ ایسا انتظام کرنا وہاں ناممکن ہے؟
ج : ہاں ، ذاکر حسین کہنے لگا، نہیں ہو سکتا کیونکہ ادھر بڑا ہجوم ہے۔ فلاں ہے۔ میں بولا کہ ناممکن تو یہ (قائداعظم) مانے گا ہی نہیں۔ اس طرح ہم بولیں گے تو وہ مانے گا ہی نہیں۔ تو وہ بولا کسی بھی طرح یہ جانہیں سکتا۔ میں خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ تو میں نے بولا اس طرح بولیں گے تو وہ مانیں گے نہیں۔ تو پیچھے بولا۔ کیسے سمجھایا جائے؟ احسن صاحب نے انہیں بتایا کہ ہم بولیں گے کہ ادھر ہم جائیں گے تو پھنس جائیں گے ہجوم میں اور ہم کو نکلنے میں بہت ٹائم لگ جائے گا، دو تین گھنٹے۔ اس لحاظ سے انہوں نے (قائداعظم نے) بولا، اچھا یہ ہے تو ہم نہیں جاتے۔
س : قائداعظم وقت کی بہت قدر کرتے تھے۔ خواہ مخواہ ٹائم ضائع نہیں کرتے تھے۔ احسن نے یہ ترکیب ڈھونڈی کہ وہاں سے نکلانے میں دو تین گھنٹے لگ جائیں گے۔ یہ ترکیب کامیاب رہی اور قائداعظم نے کہا ’’اچھا یہ ہے تو ہم نہیں جاتے‘‘۔
ج : تو وہ بولا ٹھیک ہے لیکن ان کے دل میں یہی تھا کہ ان کو روکا گیا ہے۔
س : کہ انہیں بہانے سے روکا گیا ہے۔
ج : ہاں۔
س : آپ نے یہ اندازہ کیسے کر لیا کہ ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ انہیں روکا گیا ہے؟
ج : دو تین روز بعد ہم گارڈن پارٹی میں ادھر گیا۔ جب ہم نکل رہے تھے تو مجھے بلایا گیا اور بولا کہ میں ٹاؤن میں چکر ماروں گا۔
س : ڈھاکہ شہر میں۔
ج : ہاں اور ہمیں سکیورٹی کی کوئی ضرورت نہیں۔ تو میں نے بولا کہ صاحب میں تو ٹاؤن نہیں جانتا ہوں، تو بولا کہ ان کی گاڑی میں بیٹھ جاؤ، ان کو بولو کہ لے کے چلیں ہم کو۔ تو ہم سارے ٹاؤن کا چکر مارکے آئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *