ہمارا معاشرہ اور سعادت حسن منٹو

atif rehmanسعادت حسن منٹو کانام لیتے ہی ایک ایسا نوجوان سامنے آ جاتا ہے جو کم عمری میں وہ کام کر گیا جو لوگ طویل عمر پا کر بھی نہیں کر سکتے۔ ایک ایسا شخص جو آیا معاشرے کو دیکھا اور قلم اٹھا لیا اور پھر اس معاشرے کو ایسا قلم بند کیا کہ پتھر پر نقش کر دیا۔
ہمارے معاشرے میں اگر کوئی انسان زندہ ہو تو اس کی عزت نہیں کی جاتی مگر جب وہ اس دنیا سے چلا جاتا ہے تو ایسا ماتم کیا جاتا ہے کہ وہ خود دیکھ لے تو مارے صدمے کے خودکشی کر لے۔ ہمارا معاشرہ جو زندہ لوگوں کی قدر نہیں کرتا وہ دراصل معاشرہ ہی نہیں ہوتا ۔ منٹو کے ساتھ بھی یہ ہوا جب زندہ تھا تو لوگوں نے اس کی قدر نہیں کی۔ جب منٹو نے معاشرتی مسائل کا حقیقی عکس اپنے افسانوں میں اجاگر کیا تو سماج کے نام نہاد ٹھیکیداروں نے فحش نگاری کا الزام لگایا، ان پر مقدمات کیے گئے مگر منٹو بھی منٹو تھا منٹو نے اپنا اندازِ بیان تبدیل نہیں کیا۔ منٹو اپنے قلم سے حکمرانوں پر نشتر چلاتے رہے۔
دراصل منٹو اس معاشرے کا حصہ تھا جو اوپر سے تو بہت صاف ہے لیکن اندر سے گڈمڈ ہو چکا ہے۔ منٹو کی تحریریں اس معاشرے کو عکس بند کرتی ہیں جو برائی تو کرتا ہے لیکن اس برائی کو تسلیم نہیں کرتا اور جب منٹو کی قلم لکھتی ہے تو وہ فحش نگار نظر آتا ہے۔ منٹو کی سب سے بڑی بات یہ تھی کہ وہ جو دیکھتا تھا لکھ دیتا تھا جو کہ معاشرہ تسلیم نہیں کرتا کیونکہ وہ صرف تعریف ہی سننا چاہتا تھا۔
ہمارا موجودہ معاشرہ منٹو کی تحریروں پر پورا اترتا ہے ۔ چاہے منٹو کا کوئی بھی افسانہ ہوموجود ہ معاشرے کی تمام وہ باتیں بتا دیتا ہے جو ہم دیکھ کر خاموش رہتے ہیں۔ منٹو کے افسانے ’’نیا قانون‘‘ میں استاد منگو کوچوان کی طرح آج بھی ہزاروں لوگ نئے قانون کے انتظار میں بیٹھے ہیں کہ کوئی ایسا قانون آئے گا جو مزدوروں کو ان کا حق دلوائے گا۔
جب کوئی شہری قانون کے حدود میں رہ کر اپنا حق مانگتا ہے تو اس کو آج بھی استاد منگو کی طرح پولیس تھانے میں لے جا کر بند کر دیتی ہے اور اس بے گناہ کو ایسی سزا دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے حقوق کے لیے آوازاٹھانے سے باز رہے۔ آج بھی ہزاروں لوگ استاد منگو کی طرح جیل میں بند ہیں اور انصاف اور نئے قانون کے انتظار میں بیٹھے ہیں لیکن کوئی ان کو انصاف مہیا نہیں کر رہا ۔ جس طرح منٹو کی تحریروں میں معاشرہ ظلم کرتا نظر آتا تھا اس طرح آج بھی جاگیردار ظلم کی کہانیاں رقم کرتے نظر آتے ہیں اور جب چاہے کسی کا بھی قتل کر دیتے ہیں۔ جاگیرداروں کے بچے آج چھوٹی سی بات پر غریب کو نشان عبرت بنا دیتے ہیں۔منٹو کی تحریر اس لیے موجودہ معاشرے سے تعلق رکھتی ہے کیوں کہ منٹو کارل مارکس کی اس بات کو مانتا ہے کہ جو سبط حسن کی کتاب ’’موسی سے مارکس تک‘‘ میں درج ہے:
’’ ایک قلم کار کو زندہ رہنے اور لکھنے کے لیے پیسہ ضرور کمانا چاہیے البتہ اس کو پیسہ کمانے کے لیے زندہ رہنا اور لکھنا نہیں چاہیے۔‘‘
ہمارا موجودہ معاشرہ منٹو کے افسانہ ’لائسنس‘ سے بھی ملتا جلتا ہے۔ آج2015ء میں بھی جو عورت کے ساتھ سلوک ہو رہا ہے کسی سے چھپا نہیں ہے۔منٹو کے افسانے میں ابو کوچوان کے فوت ہوتے ہی معاشرے نے جو اس کی بیوی کے ساتھ سلوک کیا وہ سب کے سامنے ہے۔ ہر زمانے میں بڑے بڑے مفکروں نے عورت کے بارے میں کوئی نہ کوئی رائے ضرور قائم کی ہے۔ کوئی اس کو حسن کی دیوی کہتا ہے تو کوئی اس کی پارسائی اور نیک سیرتی پر فریفتہ ہے ۔ کوئی اس کو اعلیٰ مقام دیتا ہے تو کوئی قیدوبند کرتا ہے۔ جب ماں کا ذکر آتا ہے تو ہزاروں کتابیں لکھ دی جاتی ہیں۔ تاہم ہمارا معاشرہ عورت کو مرد کے برابر نہیں سمجھتا۔ منٹو کی تحریر ’لائسنس‘ کا عکس آج کے معاشرے میں واضح نظر آتاہے۔ ’’سوچنے والی بات ہے مرد جو کہ دنیا میں آنے کے لیے عورت کا محتاج ہوتاہے ۔وہ دنیا میں آکر اس کی عزت کرے نہ کہ اس کا جینا حرام کرے ۔‘‘وہ عورت کو تعلیم حاصل کرنے اور محنت مزدوری کا لائسنس نہیں دیتاجبکہ عورت کو جسم بیچنے کا لائسنس ضرور دیتا ہے کیونکہ جب وہ عورت کے سامنے بے بس ہوتا ہے تو خود مرد بننے کی کوشش کرتا ہے آج بھی گلی محلوں کی ہزاروں کمیٹیاں عورت کی محنت مزدوری کرنے کا لائسنس ضبط کر رہی ہیں۔منٹو کہتا ہے کہ:
’’اگر آپ کو میری کہانیوں میں برائی نظر آتی ہے تو آپ برائیوں والے معاشرے میں جی رہے ہیں کیونکہ میں صرف سچ بیان کرتا ہوں۔‘‘
دراصل یہ سوال ان تمام لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے منٹو پر تنقید کی اور اس کو فحش نگار کہا اور اس پر طرح طرح کے الزام لگائے۔ 2012ء میں منٹو کی صد سالہ تقریبات منائی گئیں ۔ ساٹھ برس گزرنے کے باوجود منٹو کی تحریریں آج بھی تازہ ہیں۔ ان کو پڑھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ کوئی فلم چل رہی ہو اس کی تحریر کا ایک ایک لفظ ایسے اپنے آپ میں گم کر لیتا ہے کہ پڑھنے والا سارا افسانہ پڑھ کر ہی دم لیتا ہے۔ جس طرح مرزا غالب نے اردو شاعری میں مقام حاصل کیا اسی طرح منٹو نے اردو افسانے کو اس بلندی پر پہنچا دیا جو کسی تعارف کا محتاج نہیں۔
موجودہ معاشرے میں منٹو کی تحریروں کا عکس ہے۔ جو شخص اپنی آنکھوں پر تعصب کی عینک لگا کر دیکھتا ہے تو اسے منٹو کے افسانوں سے کچھ نہیں ملتا ،خوبیاں بھی خامیاں نظر آتی ہیں اور جو حقیقت پسندی کی نظر سے دیکھتا ہے تو اس کو خامیاں بھی خوبیاں نظر آتی ہیں۔ منٹو کی تحریریں ادب کے شہ پارے ہیں جو ہمیشہ زندہ و جاوید رہیں گی۔ منٹو کے پاس لفظوں کا ایک ایسا سمندر تھا جو کہ چند لوگوں کو نصیب ہوتا ہے ۔ اس نے اپنی کہانی میں جو کردار لکھے وہ امر ہوگئے۔دراصل منٹو کو اس لیے شروع میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ تنگ نظر لوگوں نے اس کو بُرا سمجھا اور روشن خیال اس کی صحیح ترجمانی نہ کر سکے۔ منٹو کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ مختصر سے وقت میں بہت بڑی بات کر جاتا ہے ۔
منٹو کا افسانہ ’بغیر اجازت‘ آج کے معاشرے سے مطابقت رکھتا ہے ۔ آج بھی اگر کوئی انسان راحت حاصل کرنے کے لیے کسی باغ میں جاتا ہے تو اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتاہے جو نعیم کے ساتھ ہوا۔ کتاب کی رونمائی یا تعلیم و ادب کے موضوع پر کانفرنس ہو تو مہمان خصوصی کے علاوہ ایسے لوگوں کو بلا لیا جاتا ہے جن کا ادب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ہمیں اپنے سوچنے کے زاویے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔منٹو کی ہر تحریر پڑھنے والے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ وہ غوروفکر کرے۔ عجیب بات ہے کہ وہ شخص جو میٹرک میں تیسری کوشش میں پاس ہوا اور ایف اے میں بھی دوبار فیل ہونے کے بعد پڑھائی ہی چھوڑ دی، اس نے ایسی تحریریں لکھیں کہ معاشرے کی تصویر کا ہر رخ دکھا دیا۔ منٹو دوراندیش بھی تھااور باریک بینی سے بین السطور میں پوشیدہ بھید پانے کا ہنر بھی اس کے پاس تھا۔آج سب سے بڑی بات یہ ہے کہ منٹو پر بات ہو رہی ہے وہ منٹو جس کو معاشرے نے نظرانداز کر دیا تھا آج پھر وہ اپنی تحریروں کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑا ہے۔
منٹو کہتا ہے کہ’’میں اس تہذیب و تمدن والے معاشرے کی چولی کیا اتاروں گا جو ہے ہی ننگی، میں اسے کپڑے پہنانے کی کوشش بھی نہیں کرتا کیونکہ یہ کام میرا نہیں درزیوں کا ہے ۔ لوگ مجھے سیاہ نویس کہتے ہیں لیکن میں تختے سیاہ پر کالے چاک سے نہیں لکھتا، سفید چاک استعمال کرتا ہوں تاکہ تختہ سیاہ کی سیاہی اور بھی نمایاں ہو جائے۔‘‘
منٹو کی تحریروں سے پتا چلتا ہے کہ انسان اپنی زندگی کو کیسے بہتر بنا سکتا ہے ۔منٹو نے کیا خوب کہا تھا ’’افسانہ مجھے لکھتا ہے‘‘ منٹو نے نہ صرف اپنے ہم عصر افسانہ نگاروں کو پیچھے چھوڑ دیا بلکہ اس کے بعد آنے والی نسل بھی اس کی کہانی کا جواب پیدا نہیں کر سکی۔ شاید اسی لیے منٹو نے کہا تھا:’’سعادت حسن مر جائے گا مگر منٹو زندہ رہے گا‘‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *