آئندہ سیاسی منظر نامے کے خد و خال

mohammad Razaایم کیو ایم کے خلاف پے درپے الزامات اور 90پر چھاپے کے دوران غیر قانونی اسلحے اور مطلوبہ افراد کی برآمدگی نے ایم کیو ایم کو بڑی مشکل سے دوچار کیا ہے۔ ایک طرف بی بی سی کی رپورٹ تو دوسری طرف لندن پولیس کو ایم کیو ایم کے اہم رہنما کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم کو بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے سابق سربراہ کا کہنا ہے کہ الطاف حسین لندن میں برطانوی خفیہ ادارے ’ایم آئی سکس ‘ کے مہمان ہیں۔ عمران فاروق قتل کیس میں پیش رفت اور ایم کیو ایم پر’ منی لانڈرنگ‘ کا الزام اضافی مصیبتیں ہیں جن کا ایم کیو ایم کو سامنا کرنا ہے۔ الطاف حسین کے کئی اہم رفقا ان کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ الطاف حسین کے پاکستانی فوج کے خلاف بیانات نے اس معاملے کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ یہاں تک کہ پنجا ب اسمبلی نے متفقہ قرارداد کے دریعے الطاف حسین کے خلاف آئین کے آرٹیکل (6) کے مطابق غداری کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ الطاف حسین کی وطن سے دوری نے ایم کیو ایم کے اندر ایسے لوگوں کے لئے مواقع پیدا کیے ہیں جن کا تعلق مجرمانہ ٹولوں سے تھا۔ جنہوں نے ایم کیو ایم کے سنجیدہ سیاسی کارکنوں کو پس پشت ڈال کر ایم کیو ایم کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ ایم کیو ایم کے پاس تین راستے ہیں، پہلا یہ کہ الطاف حسین ایم کیو ایم سے مجرمانہ عناصر کا صفایا کرے اور صاف ستھری قیادت سامنے لائے۔ دوسرا یہ کہ الطاف حسین ایم کیو ایم کی قیادت سے دستبردار ہو جائیں۔ یہ بات کہ الطاف حسین اور ایم کیو ایم ایک چیز ہے، درست نہیں۔ایسی باتیں پی پی پی بھی شہید بے نظیر بھٹو کے بارے میں کہتی تھی۔ حتیٰ کہ ان کو تا حیات پارٹی کا چیئر پرسن بنایا گیا لیکن وقت نے ثابت کیا کہ پی پی پی بی بی کے بغیر بھی موجود ہے اگرچہ کمزور ہو چکی ہے۔ ایم کیو ایم کے سامنے تیسرا راستہ یہ ہے کہ یہ مختلف حصوں میں بٹ جائے گی۔ کچھ لوگ پی ٹی آئی میں شامل ہو جائیں گے تو کچھ لوگ جنرل مشرف کی طرف مائل ہوں گے اور کچھ بے ضررسے لوگ ایم کیو ایم کا بچا کھچا حصہ سنبھالیں گے۔ پی پی پی کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔پی پی پی عملاًاندرون سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ اس کی اعلیٰ قیادت کا عوام سے (ماسوائے سندھ کے) رابطہ ٹوٹ چکا ہے۔ پنجاب کے اہم عہدیداران مستعفی ہو کر پی ٹی آئی میں شامل ہو چکے ہیں۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں پی پی پی کی صوبائی قیادت نظر نہیں آتی۔ جبکہ بلوچستان کا معاملہ تو پہلے سے ہی الگ ہے۔ ذوالفقار مرزا تو پی پی پی کے صولت مرزا ثابت ہوئے ہیں جب کہ کچھ سندھی قوم پرستوں نے بھی پی پی پی کی کرپشن کے خلاف عوامی مہم شروع کر رکھی ہے۔ ادھر خیبر پختونخوا میں پی پی پی، ایم کیو ایم کی شریک حکومت پارٹی اے این پی بھی کافی مشکلات سے دوچار ہے۔ ایک طرف بیگم نسیم ولی خان نے اسفند یار خان کے مقابلے اے این پی (ولی)پارٹی بنائی ہے، اگرچہ یہ پارٹی ابھی تک کوئی بڑا عوامی جلسہ منعقد نہیں کرا سکی اور نہ اے این پی کے نامی گرامی قائدین اس میں شامل ہوئے لیکن آنے والے دنوں میں شاید اے این پی کے کچھ عناصر اس جانب مبذول ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ پی پی پی کی طرح اے این پی کے خلاف مزید کرپشن کے الزام میں گر فتاریاں ہوئیں تو کارکنوں کی توجہ بیگم نسیم ولی خان ، پی ٹی آئی اور قومی وطن پارٹی کی طرف مڑ سکتی ہے۔ پنجاب میں اصل مقابلہ پی ایم ایل (ن) اور پی ٹی آئی کے بیچ ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگرچہ سپریم کورٹ کی انکوائری کمشن نے پی ایم ایل(ن)کا وقتی طور پر درد سر دور کیا ہے لیکن نیب کی جانب سے سپریم کورٹ میں 150 میگا کرپشن کیسزکی تفصیل میں مسلم لیگ نون کی اعلیٰ قیادت کے نام بھی شامل ہیں۔ اگر ان 150میگا کرپشن کیسز کی تحقیقات پایہ تکمیل تک پہنچتی ہیں تو اس سے بڑے بڑے سیاسی بت توڑے جا سکتے ہیں اور ایک نئے سیاسی خلا پیدا ہونے کا امکان ہے۔ اگر ملکی روایتی پارٹیاں ٹوٹتی ہیں تو اس کا بڑا فائدہ پی ٹی آئی کو ہو گا لیکن اسٹیبلشمنٹ کے کچھ عناصر پی ٹی آئی کے لئے میدان کھلا نہیں چھوڑیں گے۔ عین ممکن ہے کہ شاہ محمود قریشی پی ٹی آئی سے اپنے راستے جدا کر لیں اور جنرل مشرف اور کچھ اور سیاسی شخصیات کو ملا کر پی ٹی آئی کے مقابلے میں ایک نئی جماعت بنائیں۔ جہاں تک بلوچستان کا تعلق ہے تو نیشنل پارٹی اور خیبر پختونخوا ملی عوامی پارٹی کی مخلوط حکومت اگر چہ عارضی طور پر کارگر ہے لیکن جب تک مری، بگٹی اور مینگل قبائل کی قیادت کو قومی دھارے میں شامل نہ کیا جائے بلوچستان کی بدامنی کسی نہ کسی صورت میں جاری رہے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *