جیو ۔۔۔اور مجھے بھی جینے دو

saleem pashaوطن عزیز میں جتنے لوگ ہیں کم و بیش اتنے ہی رنگ اسلام کے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ ہر بندے کا اسلام اپنا اپنا ہے اور وہ اسی کو سچا اور حتمی سمجھتا ہے،بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی کہ عقیدہ مختلف ہے تو خرابی کہاں ہے جس سے معاشرے میں انارکی اور بد امنی ہے؟ جی ہاں اس کا جواب بھی موجود ہے، یہ مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب کوئی بھی مسلک رکھنے والا فرد اپنے عقیدے کو دوسرے پر مسلط کرنے کامشن لے کر دوسرے مسلمان کو راہ راست پر لانے اور اپنے ساتھ جنت میں لے جانے کا ارادہ بنا لیتے ہوئے لوگوں کا جینا حرام کردیتا ہے۔ ایسے لوگوں کے مطابق جن کا عقیدہ اس کے عقیدے سے مماثلت نہیں رکھتا،وہ سب لوگ جہنم میں جائیں گے اور جہنم کی آگ سے ان کو بچانا اپنا فرض جانتے ہوئے وہ یہ مقدس کام کرتا ہے۔ اب اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ موصوف خود بھی جنت تک پہنچ پائیں گے یا نہیں؟ اس بات کی گارنٹی تو کسی کے پاس بھی نہیں لیکن یہ ضد معاشرتی بدامنی کوضرور ہوا دیتی ہے۔ کوئی شلوار قمیض کو اسلامی اور پتلون شرٹ کو کافر لباس قرار دیتا ہے۔ کوئی ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنے کوغلط تو کوئی پاؤں کے گھٹنے ننگے کرکے نماز کو درست قرار دیتا ہے۔ کوئی اذان کے ساتھ صلوٰۃ پڑھنے پر بضد ہے تو دوسرا اِسے بدعت قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کرتا ہے۔ اسلام کے دائرے کے بارے میں ابنِ انشافرما گئے ہیں کہ پہلے یہ دائرہ بہت وسیع تھا،نئے لوگوں کو اس میں داخل کرتے تھے۔چونکہ یہ دائرہ تنگ پڑ گیا ہے لہذا اب لوگوں کو اس سے خارج کرتے ہیں۔شاید یہ عمل بوجھ کم کرنے کیلئے ضروری سمجھ کر کرتے ہیں۔
پاکستانی پنجاب کے شہرگجرات میں عیسائی کمیونٹی کے رومن کیتھولک عقیدے کے لوگوں نے اپنے ایک مرنے والے روحانی پیشوا کو سینٹ (Saint)کا درجہ دیتے ہوئے اس کا باقاعدہ اعلان دیواروں پر اشتہار لگا کرکیا۔ عیسائی مذہب میں یہی فرقہ منتخب رہنماؤں کو ولی یا سینٹ کا درجہ یا مقام دیتاآیا ہے ۔ بہرحال یہ مسیحی برادری کا اپنااندرونی معاملہ اور طریقہ کار ہے اور اس سے دیگر مذاہب کا کیا لینا دینا۔ مگر گجرات کے ایک مولوی صاحب پیر افضل مراڑیاں والے کے مذہبی جذبات پتہ نہیں کیسے مجروح ہوگئے کہ انہوں نے نہ صرف اپنے پیروکاروں کو اُکسایا بلکہ مسیحی رہائشی علاقے مغل کالونی میں وہاں کے باشندوں پر حملہ کرنے پہنچ گئے۔جس سے علاقے میں شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی اور عیسائی برادری کے محنت کش لوگوں کو وہاں سے اپنے بیوی بچوں کو لے کر روپوش ہونا پڑا۔ مولوی صاحب آپ کے اپنے مسلک کے بابے جب اپنی ولایت کا پرچار سرعام کرتے ہیں،بھری محفلوں میں سادہ لوح عوام سے سجدے کراتے نظر آتے ہیں تو اس وقت آپ کے مذہبی جذبات کا کیا حال ہوتا ہے؟ ذرا اپنی چارپائی کے نیچے بھی ڈنگوری پھیر کردیکھئے جناب، شرک کے اڈے جگہ جگہ کھلے ہوئے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ۔
پاکستان کے مذہبی اچھوتوں میں ایک ایسی جماعت بھی ہے،جن کو اپنے ہی وطن میں اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کی اجازت نہیں ۔ یہ اپنی عبادت گاہ کو مسجد پکار اور لکھ نہیں سکتے۔ مسجد کے دروازے پر کلمہ طیبہ نہیں لکھ سکتے، مسلمانوں کے قبرستان میں اپنے مردے نہیں دفنا سکتے،اپنی قبروں کی تختی پر کوئی بھی قرآنی آیت نہیں لکھ سکتے، کیونکہ ان سب باتوں سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ یا اللہ یہ کیا ماجرا ہے؟ کیا ان لوگوں نے اللہ کے نام اور کلمہ کے استعمال کا اجارہ لے رکھا ہے ؟ ان لوگوں کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی بسر کیوں نہیں کرنے دیتے۔ وہ جانیں اور ربّ جانے، تم اپنے اعمال کی طرف توجہ دو۔ میرے ایک ہندو دوست روّی شرما لدھیانے میں رہتے ہیں، ایک دن ان سے بات چیت کے دوران میں نے ایک حدیث شریف کا حوالہ دیتے ہوئے لفظ ہمارے نبی کریم ﷺ بولنا شروع کیا تو مجھے روّی نے حسرت کے لہجے میں پوچھا’’ یار ہمارے نبی محمد ﷺ کا کیا مطلب؟ کیا محمد ﷺ جی ہمارے نہیں ہیں،صرف آپ مسلمانوں کے ہیں؟‘‘ میں یہ بات سن کر دلی طور پر کانپ گیا کہ اللہ نے تو آپ ﷺ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا ہے اور میں انہیں صرف اپنے تک محدود کیوں رکھوں۔میرے منہ سے نکلا نہیں یار وہ آپ کے بھی ہیں اور ہمارے بھی بلکہ وہ تو ہم سب کے ہیں۔
حافظ سعید صاحب نے انڈین فلم فینٹم پر پابندی لگوا دی۔شاید اس لئے کہ اس فلم میں حافظ صاحب کے کردار کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ رؤف کلاسرا نے اپنے پچھلے کالم میں ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی ایسی درجنوں فلموں کے حوالے دئیے ہیں جو کہ براہ راست کرنٹ ایشوز پر بنی ہیں اور کئی ایک میں تومذہب اور سیاست کے ستونوں پر تنقید کی گئی ہے۔ امریکی صدر کو یرغمال بنانے اور دہشت گردی جیسے مناظر کو فلمائے جانے کو عوام تک پہنچایا گیا۔ کیا وہاں کسی پادری یا مذہبی بندے نے اپنی فلموں کو بلاک کروایا۔ حافظ سعید صاحب مسلمہ اور متفقہ دہشت گردوں کی نماز جنازہ اپنے مدرسے میں پڑھا تے ہیں اور شرمندہ بھی نہیں ہوتے،جبکہ ان کے اپنے ہم عقیدہ سعودی عرب میں طالبان کو دہشت گرد اور فسادی قرار دے چکے۔ وہ ملا عمر جس نے پاکستان اور افغانستان کے معصوم عوام کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کے رکھ دیا۔ اس کے غائبانہ جنازے عام مسجدوں کے علاوہ اسلام آباد کی سرکاری مساجد میں بھی سرعام پڑھے اورمیڈیا پر دکھائے گئے۔ اور تو اور مفتی منیب الرحمن جو کہ ہلال کمیٹی کے سربراہ ہونے کے ناتے سرکاری ملازم ہیں، انہوں نے بھی ملا عمر کی شان میں قصیدوں بھرا کالم لکھ ڈالا۔ کدھر گئی حکومت کی دہشت گردی کیخلاف مہم ؟ ان سے عقیدت رکھنے والے لکھاریوں نے مرنے والے کی شان میں قصیدے بھی لکھے جس کی امارت کا ایک بھی عوامی فائدہ تو نہ گنوا سکے البتہ اسے عالم اسلام کا ہیرو ضرور قرار دیتے رہے جو مغربی طاقتوں کے آگے کبھی نہیں جھکا ۔ اس نام نہاد مجاہدنے نہ صرف ہسپتال بھر دئیے،قبرستان آباد کئے بلکہ ملک پر سے آبادی کا بوجھ کم کیا۔
اسلام کے اپنے اپنے معنی گھڑنے اور دوسروں پر مسلط کرنے کی بجائے اگر ہم اپنی اداؤں پر غور فرمائیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اپنے اردگرد بسنے والے لوگوں کو اگر کوئی سہولت یا آرام نہیں پہنچا سکتے تو مہربانی کرکے ان کی تکالیف میں اضافہ تو نہ کریں،ویسے بھی اس کام کا ٹھیکہ حکومتوں کے پاس ہی رہنے دیں۔ برداشت کا لفظ جو کہ ہماری لغت سے کبھی کا اُڑ چکا ہے، اسے دوبارہ اپنی روزمرہ زندگی میں شامل کرلیں تو یہی سب سے بڑی نیکی ہوگی۔ خود بھی جئیں اور دوسروں کوبھی اپنے اپنے عقیدے کے مطابق جینے کا حق دیں۔ اپنے عقیدے کی عینک اتار کر دوسروں کو انسان سمجھتے ہوئے ان کیساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کریں۔ کافر کافر کا کھیل اب ختم ہونا چاہئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *