لاہوری رنگ بازوں کی لڑائی ۔۔۔

WISI BABAشریفوں کی شکل سے اکتائے ہوئے لاہوریوں نے کپتان کو اپنے غصے کی اظہار کی شکل بنا لیا ہے۔ شریف فیملی کے اقتدار میں آنے سے لاہور کی روایتی سیاست بدل گئی ہے کشمیری ہر طرف چھا گئے ہیں اور باقی لاہوری برادریاں طاقت کے مراکز سے دور ہو گئی ہیں۔
برادریوں کو کسی حد تک تو ن لیگ نے ایڈجسٹ کیا ہے لیکن بہت سے ڈیرے اور خاندان طاقت کے ایوانوں سے بے دخل ہو گئے ہیں۔ لاہور پاکستان کے طاقتور میڈیا کا بھی ہیڈ کوارٹر ہے۔ کراچی زیادہ اشتہار اور کمائی کا زریعہ فراہم کرنے کے باجود بھی لاہور جیسی حیثیت نہیں رکھتا۔
میڈیا میں موجود وہ احباب جن کی رسائی شریف فیملی تک نہیں ہے اور جو ان کے قریبی حلقے میں نہیں آتے، وہ اپنی خواری کا بدلہ لگاتار کپتان کے غبارے میں ہوا بھر کے لے رہے ہیں۔ کپتان ان خجل حال میڈیا مجاہدین کی انگلی سے لگا اپنی سیاست رولتا پھر رہا ہے۔
اس ساری لڑائی کا اصل مرکز لاہور ہے۔ یہ واقعی ایک سونامی ہے جو بڈھے راوی میں لاہوری رنگ بازوں نے اٹھا رکھا ہے اور باقی پاکستان حیران اس لڑائی کے کسی صورت طے نہ ہونے پر پریشان ہے۔ پنجاب کے طاقتور جاگیردار گھرانے جو لاہور میں آباد ہیں ان کو بھی کپتان کی صورت ایک حکیم مل گیا ہے جو انکی کھوئی ہوئی طاقت بحال کر دے گا اور سیاست پھر سے ان کے گھر کی لونڈی بن سکے گی۔
اس لڑائی میں ایک انوکھا عدالتی فیصلہ حاصل کر لیا گیا ہے جس میں بہت زور لگا کر کل مشکوک ووٹ ایک فیصد یعنی ایک ہزار سے کم ہیں جو سارے بھی ہارے ہوئے امیدوار کو پڑ جائیں تو نتیجے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس نا ختم ہونے والی لڑائی کا اختتام سپریم کورٹ جا کر بھی نہیں ہونا۔
حل یہی ہے کہ سردار ایاز صادق الیکشن میں جائیں اور دوبارہ اپنا مینڈیٹ ثابت کریں۔ الیکشن ہاریں یا جیتیں، سردار صاحب وہ سب بہانے یاد کریں زرا جو آپ نے پی ٹی آئی کے استعفے منظور نہ کرنے کے لئے گھڑے تھے۔۔۔ اب آرام ہے، بادشاہو ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *