پاک بھارت مذاکرات آخری حل ،مگر۔۔۔

roshan laalبھارت اور پاکستان کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزروں کے طے شدہ مذاکرات کو ایک انتہائی ناخوشگوار موڑ دے کے منسوخ کر دیا گیا۔ ان مذاکرات کے منسوخ ہونے کا الزام دونوں ملکوں کے دفاتر خارجہ ایک دوسرے پر عاید کر رہے ہیں۔ دونوں میں سے ہر ملک کے دفتر خارجہ کے پاس اپنی صفائی میں کہنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ سفارتی مجبوریوں کی وجہ سے جو کچھ وہ خود کہنے سے قاصر ہیں اس کے لیے ملکی میڈیا میں بیٹھے کاسہ لیسوں کو استعمال کیا جارہا ۔ دونوں اطراف کے سرکاری و نیم سرکاری لوگوں کے رویوں سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ ان پاس بولنے کے لیے تو بہت لمبی زبانیں اور الفاظ ہیں مگر سننے کا حوصلہ اتنا پست ہے کہ ہر کوئی اپنے کان جان بوجھ کر گھر چھوڑ آیا لگتا ہے۔ جو ناظرین پچھلے کچھ دنوں سے یہ سب کچھ برداشت کر رہے ہیں ، بدقسمتی سے ان کے پاس آنکھوں کے ساتھ کان بھی ہیں اور کئی ایک تو چھوٹا موٹا دماغ بھی رکھتے ہیں۔ جو لوگ سوچ بچار کے لیے اپنا دماغ استعمال کرنا جانتے ہیں وہ یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کوئی بارات عین نکاح کے وقت مہر کی رقم طے نہ ہونے اور جہیز کا حجم کم ہونے کی وجہ سے واپس چلی جائے تو جگ ہنسائی کسی ایک کی نہیں بلکہ اس لیے دونوں گھروں کی ہوتی ہے کہ جو معاملات بہت پہلے طے ہونے چاہیے تھے انہیں کیوں نکاح کے وقت تک مؤخر رکھا گیا۔پاکستان اور بھارت کے دفتر خارجہ نے بھی دلہا ددلہن کے ناعاقبت اندیش ماں باپ کی طرح متنازعہ امور کو قبل از وقت طے کرنے کی بجائے ان پر ٹویٹر، فیس بک اور میڈیا کے ذریعے اس طرح غیر ذمہ داری سے اظہار خیال کیا کہ ذی فہم لوگوں کو مذاکرات کی منسوخی صاف نظر آگئی تھی۔جس غیر ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ دونوں ملکوں کے دفاتر خارجہ میں بیٹھے لوگوں نے کیا اس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں تھا۔ اس نتیجے کو یہ حقیقت جواز فراہم کرتی ہے کہ سکیورٹی ایڈوائزر وں کے جو مذاکرات نہیں ہو سکے وہ دونوں ملکوں میں سے کسی ایک کی بھی خواہش پر طے نہیں ہوئے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ 10 جولائی 2015ء کو اوفا میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنطیم کے سربراہ اجلاس میں پاکستان اور بھارت کو ایک ساتھ تنظیم کے رکن ممالک کا درجہ دینے کا اعلان کیا گیا۔ اب 2016 ء میں منعقدہ تنظیم کی سربراہ کانفرنس میں دونوں ممالک مستقل رکن کی حیثیت سے شرکت کریں گے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بننے کے بعد جہا ں دونوں ممالک کے لیے معاشی و مالی فوائد حاصل ہونے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں وہاں ان پر کچھ ذمہ داریاں بھی عاید کی گئیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا مکمل رکن بننے کی فوائد سے مستفید ہونے سے پہلے دونوں ملکوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تنظیم کے28 معاہدوں کی توثیق بھی کریں۔ ان معاہدوں کی توثیق کے بعد دونوں ملکوں کے لیے انتہائی مشکل ہو گا کہ وہ دشمنی پر مبنی اپنے تعلقات کی روایت کو مستقبل میں بھی ماضی کی طرح قائم رکھ سکیں۔ پاکستان اور بھارت کو شنگھائی تعاون تنظیم کا مستقل رکن بنانے والے ملکوں کی خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ناخوشگوار تعلقات کی بجائے دوستانہ اور مفاہمانہ مراسم کا آغاز ہو۔ اسی مقصد کے تحت اوفا کے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے دوران روسی صدر ولادمیر پوٹن نے میاں نواز شریف اور نریندر مودی کی ملاقات کو ممکن بنانے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ اس ملاقات کو ممکن بنانے کے ساتھ اس خواہش کا اظہار بھی کیا گیا تھا کہ دونوں ملک کشیدہ تعلقات کے خاتمہ کے لیے کسی نہ کسی سطح پر مذاکرات کا آغاز کریں۔ لہذااوفا میں سہولت کاروں کی جائزخواہشات کا احترام کرتے ہوئے سیکیورٹی ایڈوائزروں کے مذاکرات پر رضامندی ظاہر کی گئی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ جو مذاکرات منسوخ ہوئے ہیں ان کا طے پانا کسی دوسرے کی خواہش تو تھی مگر دونوں ملکوں نے اس کو اپنی ضرورت ہر گز نہیں سمجھا تھا۔باہمی مذاکرات کے لیے دوسروں کی جس خواہش پر نیم دلی سے رضامندی ظاہر کی گئی تھی اس کے لیے اس حد تک غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا کہ مذاکرات سے قبل ایجنڈے کے ابہام دور کرنے کی کسی بھی مرحلے یا سطح پر کوشش ہی نہیں کی گئی۔مذاکرات کی منسوخی پر الزامات کی بیڈ منٹن کھیلنے والے دونوں ملکوں میں سے کسی کے پاس بھی اپنے تعلقات کے حوالے سے بیرونی دنیا کو مثبت پیغام دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ شاید اسی وجہ سے جو حالات مذاکرات کی ناکامی کے اعلان سے ظاہر ہو سکتے تھے انہیں زبانی دنگل( نورا کشتی) میں مصروف نظر آنے والے لوگوں نے مذاکرات کی منسوخی سے پیدا ہونے والی صورتحال بنا دیا ہے۔
اس صورتحال کے مد نظر کہا جا سکتا ہے کہ مذاکرات کی منسوخی کے لیے دونوں ملک برابر کے ذمہ دار ہیں اور دونوں بیک وقت ایک ہی ڈگر پر چل رہے ہیں۔ عرصہ دراز سے اس صورتحال کے باوجود ہوتا یہ رہا ہے کہ بھارت نے تو ہمیشہ فائدہ اٹھایا جبکہ پاکستان کا حاصل خسارہ رہا۔بٹوارے کے وقت ہمیں وہ علاقے نہ مل سکے جو تقسیم کے فارمولے کے مطابق ہمارا حق ہو سکتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد ہمیں صدیوں سے اس دھرتی کی طرف بہہ کر آنے والے دریاؤں کے پانی سے محروم ہونا پڑا۔ رن آف کچھ کے تنازعہ میں ہم زمین کا وہ حصہ پاکستان کے لیے حاصل کرنے میں ناکام رہے جو سندھ کے جغرافیے میں شامل تھا۔ ہم نے مشرقی پاکستان گنوا یا۔ کشمیر جسے ہم نے زبانی کلامی اپنی شہ رگ قرار دے رکھا ہے اسے عملی طور پر بھارت اپنا اٹوٹ انگ بنائے ہوئے ہے ۔ہمارے نقصانات کی فہرست بہت طویل ہے۔
جہاں جہاں ہم نے نقصان اٹھایا، بھارت کو مخالف فریق کے طور پر اس کا فائدہ ہوا ۔ ہم پے در پے نقصانات کے باوجود مسلسل اس پچ پر کھیلتے چلے آرہے ہیں جو ہمیشہ بھارتی ٹیم کے لیے ساز گار ثابت ہوئی ۔ جس راستے پر چلتے ہوئے بھارت کے مقابلے میں ہم ہمیشہ پیچھے رہ جاتے ہیں اس پر چلنا ہمارے لیے کیوں ضروری ہے۔ کیا ہمارے لیے کوئی متبادل راستہ موجود نہیں ہے؟ ایسا ہر گز نہیں ، یہاں ایسی کئی راہداریوں کے نقشے موجود ہیں جن پر چلتے ہوئے دوسری اقوام ترقی کی منازل طے کرتی چلی جارہی ہیں۔ جب شنگھائی تعاون جیسی تنظیم میں تجارتی، صنعتی، دفاعی، معاشی اور ثقافتی سطح پر روس اور چین جیسے ممالک کا تعاون حاصل ہوسکتا ہے تو پھر اس کے حصول کے لیے ہم کیوں ان شرائط پر عمل کرنے سے احتراز کریں جنہیں ہم نے اپنے وسیع تر مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے تسلیم کیا تھا۔ جب دوست ممالک کے سامنے ہم نے تسلیم کیا ہے کہ تصفیہ طلب مسائل کے لیے بھارت کے ساتھ مذاکرات ہی آخری حل ہیں تو پھر ہمارا دفتر خارجہ قبل از وقت ایسی حکمت عملی کیوں اختیار نہ کر سکا جس سے بھارت کے لیے مذاکرات سے فرار کی راہ اختیار کرنا مشکل ہو جاتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *