کارکردگی دکھائیے

syed Mujahid Aliدہشت گردی کے حوالے سے وفاقی کابینہ اور پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمہ تک ان عناصر کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ پاک فوج کے سربراہ نے ائر فورس کے سربراہ ائر چیف مارشل سہیل امان کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا کہ ملک کے ہر کونے کھدرے میں دہشت گردوں کا پیچھا کرتے ہوئے، ان کا خاتمہ کیا جائے گا۔ ائر فورس کے تعاون سے شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں آپریشن کا جائزہ لیا گیا۔ پاک فضائیہ کے موجودہ سربراہ خود دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کرنے والے دستوں میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ پاک فوج اور ائر فورس کا یہ عزم ملک کے عوام کے لئے ایک اچھی خبر ہے جنہیں گزشتہ چند روز کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گرد کارروائیوں نے ایک بار پھر ہراساں کر دیا تھا۔ تاہم ملک کی سیاسی حکومت قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد میں اس تندہی کا مظاہرہ کرنے میں بدستور ناکام ہے جس کا مظاہرہ مسلح افواج کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں آج پھر قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے سوال پر غور ہوا لیکن اجلاس میں شریک وزیر داخلہ ایک بار پھر یہ بتانے میں ناکام رہے ہیں کہ اس منصوبہ پر عمل کے حوالے سے ان کی وزارت نے کیا پیش رفت کی ہے۔ اس منصوبہ کے تحت ملک میں کام کرنے والی خفیہ ایجنسیوں میں رابطہ قائم کرنا اور رابطے کو بہتر بنانا بنیادی مقصد ہے۔ اس نیشنل ایکشن پلان کا اہم نکتہ یہ تھا کہ وفاقی وزارت داخلہ ایک ایسا ادارہ قائم کرے گی جو مختلف ناموں سے سراغ رسانی کرنے والے اداروں سے حاصل شدہ معلومات کو ایک جگہ جمع کر کے تیزی سے تخریبی کارروائی کے منصوبوں کے خلاف اقدام کرنے کو سہل بنائے گی۔ اس وقت ملک میں مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے علاوہ فوج کے زیر نگرانی متعدد خفیہ ایجنسیاں موجود ہیں۔ بدنصیبی سے یا تو وہ باہمی مقابلے بازی اور چپقلش کی وجہ سے ایک دوسرے کے خلاف ہی کارروائی کرتی رہتی ہیں یا حاصل ہونے والی معلومات بروقت متعلقہ علاقے کے ذمہ دار سکیورٹی افسروں تک نہیں پہنچ پاتیں۔ اسی وجہ سے بعض اوقات دہشت گرد فوج کی سخت تگ و دو اور کوشش کے باوجود وار کرنے اور نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
گزشتہ دنوں اسی قسم کے ایک حملہ میں پنجاب کے وزیر داخلہ کرنل شجاع خانزادہ کو شہید کر دیا گیا تھا۔ اس خود کش حملہ میں 20 کے لگ بھگ لوگ جاں بحق ہوئے تھے۔ ابھی تک پولیس اس حملہ میں ملوث لوگوں تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر داخلہ پر حملہ ٹھوس منصوبہ بندی اور وسیع نیٹ ورک کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اس لئے بجا طور سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اس حوالے سے خفیہ ادارے کیوں بروقت معلومات حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ یہ ناکامی ظاہر کرتی ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت خفیہ ایجنسیوں کو معلومات کی فراہمی کے لئے ایک لڑی میں پرونے کا کام کسی نہ کسی وجہ سے تعطل کا شکار ہے۔ ملک کے وزیر داخلہ سیاسی بیان بازی اور اپنی کارکردگی کے بارے میں بلند بانگ دعوے تو کرتے رہتے ہیں لیکن قومی ایکشن پلان کے حوالے سے وہ بہت اچھے نتائج دینے میں ناکام ہیں۔
اسی قومی پلان کے تحت ملک کے مدرسوں کے کنٹرول، وہاں سے انتہا پسند عناصر کی نشاندہی کے علاوہ ان درسگاہوں میں پڑھائے جانے والے نصاب پر نظر ثانی کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔ یہ کام بھی حکومت کی سیاسی ضرورتوں کی وجہ سے بدستور تعطل اور لاپرواہی کا شکار ہو رہا ہے۔ حکومت مختلف سیاسی الجھنوں سے نمٹنے کے لئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے تعاون کی محتاج رہتی ہے۔ مولانا مدرسوں کے کنٹرول کو سخت کرنے کے خلاف ہیں۔ اگر وزیر داخلہ سیاسی رعایت کے طور پر مولانا فضل الرحمن کے ایسے مطالبات مان رہے ہیں جو قومی ایکشن پلان کی ضرورتوں سے متصادم ہیں، تو وہ اپنے عہدے کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔
چوہدری نثار علی خان نے آج وفاقی کابینہ میں مختلف اعداد و شمار کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی تفصیل بتانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 20 ہزار سے زائد دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہوئی ہے۔ ساڑھے تین ہزار گرفتار ہوئے ہیں جبکہ 193 مجرموں کو پھانسی دی گئی ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس قسم کے ناقص اعداد و شمار کا سہارا لے کر اپنی کارکردگی کا دعویٰ کرنا نہایت افسوسناک ہے۔ یہ بات غیر واضح ہے کہ جن 20 ہزار لوگوں کے خلاف کارروائی ہوئی ہے، اس سے وزارت داخلہ کیا مراد لیتی ہے۔ اس کے علاوہ گرفتار ہونے والے بیشتر لوگ بعد میں عدالتوں سے رہا ہو جاتے ہیں۔ لیکن ایک دفعہ گرفتاری ڈال کر اعداد و شمار میں اضافہ کر لیا جاتا ہے۔ اسی طرح جن دو سو کے لگ بھگ مجرموں کو پھانسی دی گئی ہے، ان میں سے اکثر کو برسوں پہلے سزا ہو چکی تھی۔ حکومت نے یہ کہہ کر سزائے موت پر سے پابندی اٹھائی تھی کہ صرف دہشت گردی میں ملوث مجرموں کو پھانسی دی جائے گی۔ لیکن خبروں کے مطابق پھانسی پانے والے بیشتر لوگوں کو دوسرے جرائم میں سزائیں ہوئی تھیں۔ اس لئے پھانسی پانے والوں کی تعداد بتا کر وزیر داخلہ غیر ضروری طور سے حکومت اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آج ہی کی بریفنگ میں وزیر داخلہ نے بتایا ہے کہ ملک کے 190 مدرسوں کو غیر ملکی فنڈز ملتے ہیں۔ یہ بیان بھی نامکمل اور غیر واضح ہے۔ اول تو یہ تعداد بتانے کی بجائے چوہدری نثار علی خان کو یہ بتانا چاہئے تھا کہ ان مدرسوں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے۔ کیا یہ سراغ لگایا گیا ہے کہ امداد دینے والے کون سے غیر ملکی باشندے یا حکومتیں ہیں اور اس قسم کی براہ راست امداد سے وہ کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جب تک حکومت ان معاملات کی تہہ تک نہیں پہنچتی اور دینی مدارس میں انتہا پسندی کی تدریس اور بعض مدرسوں میں دہشت گردوں کی سرپرستی کا سلسلہ بند نہیں کیا جاتا ۔۔۔ قومی ایکشن پلان کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے اور نہ ہی اس ملک کے عوام خود کو محفوظ محسوس کریں گے۔
آج بھی شوال کے علاقے میں دہشت گردوں سے مقابلہ میں پاک فوج کے ایک کرنل اور جوان شہید ہوئے ہیں۔ لگاتار قربانیاں دینے کے باوجود جنرل راحیل شریف کا عزم متزلزل نہیں ہوا ہے لیکن پاک فوج جن عناصر کی بیخ کنی کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہے، ان کے مکمل خاتمہ کے لئے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد بے حد ضروری ہے۔ قومی سلامتی ایک اہم معاملہ ہے لیکن اسے بھی صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ یہ صورتحال کسی طور مستحسن نہیں ہے۔
یہ درست ہے کہ بھارت کی مداخلت مسلسل پاکستان کی اندرونی سلامتی کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہے۔ بھارت بدستور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے سے بھی گریز کر رہا ہے۔ اس صورتحال میں حکومت صرف یہ کہہ کر کہ ‘‘ بھارت بات نہیں مانتا ‘‘ ۔۔۔۔۔۔ اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش نہیں ہو سکتی۔ اگر مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے معاملات طے نہیں ہوتے تو اپنی سرحدوں اور شہروں کو محفوظ کرنے کے اقدام کئے جائیں۔ ان معاملات میں سرگرمی دکھانے کی بجائے سرکاری وزیر سردار ایاز صادق کے خلاف فیصلہ دینے والے ٹربیونل کے خلاف شعلہ بیانی، متحدہ قومی موومنٹ کے استعفوں پر بیان بازی یا عمران خان کو نیچا دکھانے کے ہتھکنڈوں میں زیادہ مصروف ہیں۔
اس وقت پاکستان کو اندرونی طور سے دہشت گردی اور سرحدوں پر بھارت جیسے سرکش اور غیر مصالحانہ رویہ رکھنے والے دشمن کا سامنا ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے حکومت اور اس کے اراکین کو سنجیدگی سے مسائل سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ اس کے برعکس پنجاب کے وزیراعلیٰ جرائم میں ملوث لوگوں کو الٹا لٹکانے کے اعلانات کر کے لوگوں کو خوش کرنے میں مصروف ہیں۔ کوئی پوچھے کہ وزیراعلیٰ کس قانون کے تحت کسی کو الٹا لٹکا سکتے ہیں۔ وہ صوبے کے انتظامی سربراہ ہیں یا قاضی کہ عوامی اجتماعات میں فیصلے صادر کرتے رہیں۔
اس وقت اس قسم کی مضحکہ خیز حرکتوں سے گریز کرتے ہوئے خطرات اور چیلنجز کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاست کرنے اور مسخرے پن کا مظاہرہ کرنے کے لئے انتخابات کا انتظار کیا جا سکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *