عہدِ جدید کے قدیم عہد نامے

kausar Naseemپتھروں کے اوزار کی تیاری کے ساتھ ہی انسانی شعور نے انگڑائی لی اور تہذیب کا آغاز ہو گیا۔ ہمارے پرکھوں نے ہزاروں سال پہلے تہذیب سمیت تمام علوم کی بنیاد رکھی اور انسان نے ادراک کی شمع روشن کر کے اپنے نوزائیدہ ذہن میں ابھرنے والے سوالات کے جواب ڈھونڈنے شروع کر دیے جس کے نتیجے میں ابتدائی مرحلے میں مذہب،فلسفہ اور علم نجوم نے جنم لیا۔ بعد میں علم فلسفہ سے سائنس کی سر سبز شاخیں پھوٹیں جو آج نسل انسانی کے سر پر بھر پور طریقے سے سایہ فگن ہیں۔
علت اور معلول (کاز اور ایفکٹ) کو سمجھنے کی پہلی کوشش فلسفے اور مذہب کی صورت میں کی گئی۔ دونوں انسانی فکر میں آنکھ مچولی کھیلتے بڑے ہوئے۔ آسمان پر بجلی کڑکی تو ننھا منا سا انسانی ذہن جس نے حال میں ہی فطرت کے آنگن میں آنکھ کھولی تھی خوفزدہ کر دینے والی اس بلا دیکھ کر ڈر گیا۔ چونکہ اس وقت انسانی شعور اس بلا پر قابو پانے کی قطعی صلاحیت نہیں رکھتا تھا اس لیے وہ سہم کر حیرت سے اسے تکنے لگا جس کے کڑکنے اور چمکنے کی وجہ اسکی سمجھ سے باہر تھی۔لہٰذا انسان نے اس طاقت اور تابناکی کے سامنے اپنے شعور کو سرنگوں کرتے ہوئے اسے ایسے دیوتا سے تشبہہ دے ڈالی جسے وہ جانتا تک نہیں تھا۔ مگر اس وقت ناپختہ شعور کے سوالات کی اس سے بہتر توجہہ اور کوئی نہیں ہو سکتی تھی۔ یہ مذہب کا آغاز تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یوں یوں انسان کا اپنے ماحول اور فطرت کے ساتھ رابطہ بڑھا تو اس کے ذہن کو جلا ملتی گئی۔ اس نے پتھر کے ہتھیار سے لوہے کی تلواروں کا سفر طے کر لیا۔ ہواؤں اور بجلی کی منہ زوری کے سامنے بند باندھنا سیکھ لیے۔ اس کے علوم اور شعور کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا گا۔ اب وہ چیزوں کی ماورائی وجوہات تلاش کرنے کی بجائے اس کے پیچھے کارفرما طبعی، کیمیائی اور حیاتیاتی اصولوں کی نا صرف نشاندہی کرنے کا اہل ہو گیا بلکہ انہی اصولوں کو بروئے کار لا کر ایک وقت کے ناقابل تسخیر اور ماورا سمجھنے والے عوامل پر قابو پانے میں بھی کامیاب ہو گیا۔ یہ سفر ابھی تک جاری ہے، گماں ہے کہ آنے والے وقت میں انسان اپنے ماحول پر مکمل قابو پانا سیکھ جائے گا۔
مندرجہ بالا سارے عمل کو ارتقا کا نام دیا جا سکتا ہے۔ نظریہ ارتقا کے مطابق حیاتیاتی و طبعیاتی اجسام، ان کے عوامل اور افعال وقت کے ساتھ ساتھ تغیر پذیر رہتے ہیں۔ یہ تغیر سادہ سے پیچیدہ، بے ترتیب سے مرتب شدہ، غیر معیاری سے معیاری، غیر متعدل سے متعدل اور غیر مستحکم سے مستحکم کی طرف رواں دواں ہے۔تغیر کا یہ عمل ازل سے شروع ہوا اور ابد تک جاری رہے گا۔ جب تک مادہ موجود ہے تب تک تغیر بھی موجود ہے۔ یہی بات مادے کے عوامل پر صادق آتی ہے۔ جس کی بنیاد ہم یہ مفروضہ قائم کر سکتے ہیں کہ انسان آج شعور اور ادراک کے جس منارے پر کھڑا ہے یہ ہمیشہ سے اسے میسر نہیں تھا بلکہ یہ کروڑوں برسوں کی ریاضت کا نتیجہ ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے بہت سادہ سی مثال دوں گی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر نسل اپنی پچھلی نسل سے شعوری طور پر دو قدم آگے ہوتی ہے۔ گویا پہلی نسل میں حاصل کردہ شعور اگلی نسل کے شعور کے ساتھ مل کر بہتر شکل میں سامنے آتا ہے۔ یہ ایک فطری عمل ہے اور اسی کا نام ارتقا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسانی شعور مسلسل ارتقائی عمل سے گزر رہا ہے اور ہمیشہ گزرتا رہے گا تو کیا یہ ممکن ہے کہ انسان کی جبلی و نفساتی ضروریات ہمیشہ مستقل رہیں؟ یا کم از کم اسکی ضروریات پورا کرنے کے ذرائع ہمیشہ مستقل رہیں؟ وہ بھی اس صورت میں جب اس کے ارد گرد کی کائنات حتی کے اس کا اپنا وجود مسلسل ارتقا۶ سے گزر رہا ہو۔ سماج کی اکائی انسان ہے۔ یہ اکائی مسلسل ارتقائی عمل سے گزر رہی ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ سماج جامد رہے؟ انسانی سماج کا واسطہ براہ راست اپنے ماحول سے ہے۔ ماحولیاتی عوامل تغیر پذیر ہیں۔ کیسے ممکن ہے کہ اس ماحول سے جڑی سماجی ضروریات میں تغیر نا آئے؟ آپ اختلاف رائے کا حق رکھتے ہیں مگر میرا جواب ہے کہ ایسا ممکن نہیں۔ دلیل یہ ہے کہ ہماری معاشی، جمالیاتی نفسیاتی اور معاشرتی ضروریات ہر دور میں نئے تقاضے اور جہتیں لے کر نمو دار ہوتی رہی ہیں۔ چھوٹی سی مثال ہے کہ ہزاروں سال پہلے ہمارے آباو اجداد نے منڈی کے لیے بھاؤ تاؤ کے کچھ قوانین مرتب کئے تھے۔ اپنے دور کی ضروریات کے مطابق وہ قوانین بہت سود مند رہے ہوں گے مگر نئے ادوار کے نئے تقاضوں کے وقوع پذیر ہوتے ہی وہ خود بخود متروک ہو گئے یا آج وہی قوانین ترمیم شدہ حالت میں بہت بہتر شکل میں ہماری منڈیوں میں لاگو ہیں۔ صورت حال کوئی بھی ہو، یہ بات ڈنکے کی چوٹ پہ کہی جا سکتی ہے کہ ہزاروں سال قبل بنایا جانے والا بہترین سے بہترین قانون بھی اپنی اصلی شکل میں موجود نہیں ہے۔ وقت نے اس میں ترمیم کا تقاضا کیا۔ اگر تو وہ ترمیم کی چھلنی میں سے گزرنے کو تیار ہوگیا تو اس کی بقا ممکن ہوئی لیکن ہٹ دھرمی اور انکار کی صورت میں وہ بوسیدہ اور بدبو دار ہو کرتیز گام وقت کی دھول میں گم ہو گیا۔
اب آ کر انسانی شعور نے جب ارتقا اور تغیر کے اس آفاقی اصول کا ادراک کیا ہے تو ہم دیکھتے ہیں دنیا کی بیشتر قوموں کے معاشرتی رحجانات میں تبدیلی آئی ہے۔ مجبوری کہیے یا ادراک بنی نوع انسان نے ہزاروں برس کی ہٹ دھرمی کے بعد آخر اس بات کا اعتراف کر ہی لیا ہے کہ نظام زندگی کی کوئی بھی تھیوری یکتا یا آخری نہیں ہے۔ بدلتے سماج کے لیے ہزاروں سال پرانا متن کار آمد نہیں رہا۔ سماج کے نظام زندگی کی صحت کے لیے ان قوانین زندگی کو کہیں تغیر کی ضرورت ہے، کہیں اپ گریڈیشن کی اور کہیں معدومیت ہی کار آمد ہے۔۔ لہذا ان کے نزدیک انسانی ضروریات اور فلاح کے لیے ہر متن قابل تحریف ہے اور ہر قانون قابلِ ترمیم ہے۔ ان کے یہاں کوئی ذات بھی تنقید یا شک کی کسوٹی سے بالا تر نہیں رہی۔ یہ عمل بہت ہی معقول اور حقیقت پسندانہ ہے۔
دوسری طرف ہم اگر اپنے سماج کا جائزہ لیں تو واضح ہو جائے گا کہ ہماری قوم اس فطری ادراک سے ابھی بہت دور ہے۔ ہم ہٹ دھرمی سے اپنی فرسودہ روایات سے پاسداری نبھانے کے چکر میں ایک مفلوج اور مس فٹ سماج کا ٹیکہ اپنے سر پر سجائے بیٹھے ہیں۔بقول عامر ہاشم خاکوانی ہمارے معاشرے کی چادر مذہب کے تانے بانے سے بنی ہوئی ہے لہذا میں اسی حوالے سے بات کروں گی۔ قرآن نا قابلِ تحریف ہے اس میں کوئی شک و شبے کی گنجائش نہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ حکم ہے کہ اپنے دور کے لوگ اپنے دور کی ضروریات کے مطابق اجتہاد و قیاس کے ذریعے نا صرف اپنے مسائل کا حل تلاش کریں بلکہ حدود میں رہتے ہوئے بروقت ضرورت نئے قوانین بھی مرتب کر سکتے ہیں۔ مگر ہمارے یہاں عمومی رویہ یہ ہے کہ ہم قرآنی متن کو سمجھنے کی بجائے براہ راست اس سے قوانین اخذ کرنے کی بجائے اسکے ذیلی متن مثلا فقہ یا اپنے دور میں کئے جانے والی اجتماعی و اجتہادی کاوشوں سے جونک کی مانند چمٹے بیٹھے ہیں اور اس سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ ہمارے اسلاف کی بہت سی کتابیں ابھی تک ہمارے لیے حرف آخر ہیں۔ ہم یہ بات سمجھنے سے انکاری ہیں کہ اپنے دور میں ان اجتہادی کاوشوں نے سماج کی اپنے تئیں بہت خدمت کی ہو گی مگر اب وقت کے تقاضے بدل گئے ہیں۔ ہم ان میں تجدید یا ترمیم کو گناہ کبیرہ گردانتے ہیں۔ یہ کیوں ممکن نہیں کہ فکر و تحقیق کے جدید آلات کو استعمال کرتے ہوئے ان کا جائزہ لیں اور ان میں تحریف کر سکیں یا کلی طور پر ان کو رد کر سکیں؟ اگر کوئی اتفاقاً ایسا کرنے کی غلطی کر بیٹھے تو ہماری نظر میں وہ مرتد اور قابل سزا مخلوق بن جاتا ہے؟ ایسا کیوں ہے؟ کیا وجہ ہے ہر قسم کے متن کے ساتھ ہمارا رویہ دانشمندانہ کی بجائے عقیدت مندانہ ہے؟ ہم چیزوں کا تقابلی جائزہ کیوں نہیں لیتے؟ مخالف مسلک یا مکتبہ فکر پر ہونے والی تنقید پر تو ہم خوشی سے دانت نکالتے ہیں مگر جب کوئی ہمارے علما پر انگلی اٹھائے تو ہماری آنکھوں میں خون اتر آتا ہے؟ ہمارے اسلاف میں سے ایک معتبر شخصیت کی قیاس و اجتہاد کی جھلک کے طور پر ان کی مشہور زمانہ کتاب کی عبارت ملاحظہ ہو۔
کسی کے لڑکا پیدا ہو رہا ہو مگر ابھی سب نہیں نکلا۔ کچھ باہر نکلا ہے اور کچھ نہیں نکلا۔ایسے وقت میں ابھی ہوش و حواس باقی ہوں تو نماز پڑھنا فرض ہے قضا کرنا جائز نہیں۔ (بہشتی زیور حصہ دوم نماز کا بیان ص ۹۸،۸۸)
پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک صاحب کو یہ عبارت شئیر کرنے کے پاداش میں صلواتوں سے نوازا گیا۔۔۔ سوال ہے کیوں؟ جرم کیا تھا؟ کیا وجہ ہے کہ 1920ء میں لکھے گئے اس متن پر بحث ممکن نہیں؟ کیوں کوئی اس کو حرف آخر سمجھے؟ کوئی اس عبارت پہ تنقید کیوں نہیں کر سکتا؟ اگر کسی زمانے میں یہ کتاب کار آمد تھی یا تب کے دور کے لوگوں کی علمی استعداد ہی اتنی تھی کہ انہوں نے اس متن کو کافی سمجھا اور سوال نہیں اٹھایا تو کیا یہ اس بات کی سند ہے کہ آئندہ تا قیامت اس پہ بحث یا مزید مکالمہ ممکن نہیں؟ بالکل یہی معاملہ ریپ کیس میں ڈی این اے ٹیسٹ کی شرعی حیثیت کا ہے۔ ہمیں بس چار گواہ درکار ہیں۔ سائنس گئی تیل لینے۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *