یارِ من آغا۔۔۔

husnain jamalبھئی یہ وہ ہیں جن سے ہم نے عربی کو عَرَبی کہنا سیکھا اور ہمارے معلوم کے ’ع‘ کو اْس کا صحیح مخرج جن کی وجہ سے نصیب ہوا. واللہ! کیا ہی باغ و بہار شخصیت ہیں، مشتاق احمد یوسفی کے حافظ، ایسے حافظ کہ جا بجا بلکہ جا و بے جا گفت گو میں اْن کے ایسے ٹکڑے لگائیں گے کہ سننے والا اپنا سر دھنے اور جو سزاوارِ سخن ناشناسی ہو تو وہ ان کا ۔۔۔
ن ۔م۔ راشد باقی تو بہت اچھا تھا میاں، یہ جل مرنے کی اْسے کیا سوجھی؟ جون ایلیا ہرگز تشکیک کے مراحل میں نہیں تھے، وہ تو سراسر وحدت الوجود کے قائل تھے! ہائے، کیا کیا کہہ گئے رئیس امروہوی، آپ کو معلوم ہے، بندہ اخبار کی شروعات انہی کے قطعے سے کرتا تھا! جنسیات کے موضوع پر لکھ کر تو قلم توڑ گئے وہ! عموماً ان کے ساتھ نشست ایسی ہی رہتی ہے۔
لا مساوی انسان اور شاید کے پیش لفظ کے عاشقِ صادق ہیں، ہر کس و نا کس کو پہلا سبق یہی دیتے ہیں. ایک دن ہم نے کہا، آغا آپ کچھ لکھ ہی لیں، قسم خدا کی شاہ کار ہو گا، کہنے لگے، دیکھو میاں، ہم تو تماش بین ہیں، روز نئے تماشے ہوتے ہیں، تھوڑی دیر دیکھتے ہیں، دماغ میں رکھ لیتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں، ہما شما سے بات ہوئی تو بیان کر دیا۔ اب یہ لکھنے وکھنے کے جھنجھٹ میں کون پڑے! عرض کیا، آغا، اپنی یادداشتیں ہی لکھ ڈالیے، بولے، بھئی آپ سے ملتمس ہوئے کہ ہم تماش بین ہیں، اب تماش بین اگر روز کے نئے تماشے چھوڑ کر یہ لکھنے کے دلدر پال لے تو معاف کیجے گا آپ کا سا منہ نکل آئے گا، ہم ایسے لنڈورے ہی بھلے ۔
مزاج کے ایسے گرم کہ واللہ! ، عیش میں یادِ خدا رکھیں گے لیکن طیش میں خوفِ خدا سے کوسوں دور رہنے والے صاحب فہم و ذکا۔۔۔ غالب تھے جنہوں نے کہاروں کو کندھا بدلنے نہ دیا، یہ ہوں تو کہاروں سے بات بھی نہ کریں، ایک غصے بھری پیک تھوکیں اور اپنی راہ لیں۔ پیک سے یاد آیا خدا کے فضل سے دہن مبارک شاذ ہی پان کے بغیر دیکھا ہو، جب کبھی صاحب لوگوں کے منہ لگنا ہو تو پانچ منٹ پہلے دانت مانجتے ہیں اور نشست ختم ہونے سے پانچ منٹ پہلے پان منہ میں ہوتا ہے۔ بغیر پان کے انہیں دیکھ کر خواہ مخواہ پیار آتا ہے، وہ پیار جو اس بچے پر آتا ہے کہ جس کی ابھی چوسنی چھڑائی ہو!
ایسے مہاجر کہ سمجھئے علم بردار اپنے نظریات کے، اور بیچ بحث علم کہیں رکھنا پڑے تو پاؤں پر رکھیں، زمین نہ چھونے دیں!! علَم ٹھنڈا ہونے سے بچانے کو گاہے گاہے ایسی درفنطنی چھوڑیں گے کہ بندے کا دل چاہتا ہے یا خدا، ہمیں خواجہ شیرازی بناتا، بہ خال ہندو اش بخشم سمر قند و بخارا را، سمر قند و بخارا نہ سہی، شہر کرانچی اس خطِ سیاہ کے دلائل کے صدقے صوبہ بنا دیتے!
چمکتی بلکہ اندر کی حدت سے دمکتی آنکھیں، کشادہ پیشانی، لبِ لعلیں، سرخی مائل گندمی رنگت، اہل تشیع کی سی داڑھی، میانہ قد، روز افزوں مائل بہ فربہی تن و توش، پہلی نظر ہی میں شفقت امڈتی نظر آئے ۔۔۔ ایسے ہیں ہمارے آغا، نعمان علیم! کیا کہتے ہیں ’کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے‘ وغیرہ وغیرہ ۔ خدا سلامت رکھے، اس درجے کے سخن فہم کہ ہم اکثر کہتے ہیں آغا، آپ ہمارے بعد مریے گا۔ ایک پشتو محاورہ ہے "خدا کوڑوں کا ماجرا کبھی نصیب نہ کرے" ان کے بغیر تو کوڑوں کے مجرے ہی رہ جائیں گے! بھئی سبحان اللہ، ایسا آدمی کہ مسیحا و خضر سے ملاقات چہ معنی ، بس فراغتے و نعمانے و گوشۂ ہوٹلے!
مولائی آدمی ہیں، سلسلہ عظیمیہ کے ماننے والے اور باقاعدہ کہیں بیعت کا شرف بھی رکھتے ہیں، فلسفے کا شوق بھی ہے، یوں سمجھیے با خدا دیوانہ باشد، با محمد ہوشیار کی عملی تفسیر ہیں۔ دینی و لادینی مباحث میں بہت اعلیٰ ظرف، لیکن جہاں پر جلا کیے، وہیں لپیٹ دیا سب کچھ، خود نہیں بولیں گے دوسروں کو گناہ گار کرتے رہیں گے۔ پنج وقتہ نمازی لیکن اتنے ہی کن رس، بے سْرا گانا اور آدمی دونوں ہی برداشت نہیں ہوتے. تلّفظ اس قدر درست کہ آپ گھڑی ملا لیں گویا، ہر لفظ اپنے صحیح مقام سے ادا ہو گا، حرام ہے جو کبھی ’ح‘ تک وہاں سے آئی ہو جہاں سے آپ ہم ادا کرتے ہیں۔
ایک دن پوچھا، آغا ایسی زیر زبر اور مخرج کی درستی، ماجرا کیا ہے؟ کہنے لگے، ہمارے نانا، خدا اْنہیں غریقِ رحمت کرے، تلفظ کی غلطی پر عربی یا فارسی میں پہلے ایک موٹی سی گالی دیتے تھے، پھر اْس کے ہجے کر کے بتلاتے تھے اور بعد میں معنی، اس ترتیبِ نزولی کے بسببِ کثرتِ نزول بندہ یہ معراج پا گیا! انہیں ہر مثال فارسی میں دینے کی شدید عادت تھی، ان کے نزدیک اردو میں کوئی ضرب المثل بتانا گویا حد درجہ قبیح کام تھا. نانا نے ساری زندگی کلیوں والا کرتا، علی گڑھ کٹ پائجامہ اور خاص علی گڑھی ٹوپی پہنی۔ سردیوں میں اسی پر صدری زیب تن کر لیا کرتے تھے. اردو اور فارسی ہم نے ان سے پڑھی، مثنوی پڑھائی ہمیں، بوستان کے کتنے ہی قصے ابھی تک یاد ہیں۔
نانا ابا تو بھئی ایسے وضع دار آدمی تھے جنہوں نے کبھی با آوازِ بلند بیٹیوں کے نام نہ لئے! ہمارے ابا سے ہماری اماں کا رشتہ کیا دیکھ کر کیا، تہجد گزار آدمی ہے، ایمان دار ہے اور صحیح النسب ہے۔ یہ پیمانے تھے میاں اْس زمانے کے، پرانے لوگ تھے اپنی شرافت اور اپنا سب کچھ لے کر ماٹی میں مل گئے، اب کیا دیکھیں ہیں آپ بہتر جانتے ہیں۔ ہمارے خاندان میں جو کم پڑھے لکھے لوگ بھی تھے اْن میں بھی وہ شائستگی اور تہذیب پائی جاتی تھی جو اب ناپید ہے۔ اس زمانے میں سب کی زندگی کا محور اپنا خاندان ہوا کرتا تھا، خاندانی نظام کی بڑی اہمیت ہوتی تھی. اسی لیے ایک کٹمبھ میں ڈھیروں پھوپیاں، خالائیں، چچا، تائے اور بھیّا ہوا کرتے تھے۔ اب تو aghaبھائی شادی ہوئی نہیں، زوجہ کو بغل میں دبایا اور بڑے ابا سلام، بڑی اماں سلام، یہ جا وہ جا۔ جو ثقافتی تہذیب ہمیں دیکھنے کو ملی، جو تہذیبی رچاؤ ہمیں دیکھنے کو ملا اب وہ کہاں دیکھیں گے یہ آنے والے۔ بھئی، ہم کالے ٹیلیفون سے بات کیا کرتے تھے گھنٹوں انتظار کرنے کے بعد، یہ کمپیوٹر ہمارے سامنے آئے اور چھا گئے، یہ موبائل فون کا ارتقا ہم نے دیکھا، انہیں یہ سب تحیر کیا معلوم، یہ تو دیکھتے ہیں کہ یہ ایک ٹیبلٹ ہے، یہ آئی پیڈ ہے، انگلی لگاؤ چلا لو۔۔۔ تو میاں ہم ہیں اس ثقافتی تغّیر اور تحّیر کی آخری پیڑھی، اب تو جو ہْوا جائے کم ہے۔
پوچھا اْن کی کوئی تحریر ہو گی؟ بولے روزنامچہ لکھتے تھے اور شاید خود نوشت بھی، جس کا علم اب ہمیں نہیں، ہے یا کھو گئی یا امتدادِ زمانہ کا شکار ہو رہی! جب پورا کٹمبھ قبیلہ یہاں آن آباد ہوا تو مجبوراً انہوں نے بھی یہاں کا قصد کیا اور آنے کے بعد ویسے ہی خوار ہوئے جیسے تمام بڑے لوگ ہوئے تھے، اسی چکر میں کتنے ہی کاغذات بھی گنوا بیٹھے۔ وہ بالخصوص ان لوگوں میں سے تھے جنہیں کبھی یہ خواہش نہیں رہی کہ کوئی ان کا نام لے یا انہیں یاد رکھے۔ یہاں آنے کے بعد تو کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتے تھے، یہی قلق رہا باقی عمر کہ کن اْجڈ گنوار لوگوں میں آن پھنسے۔ سو برس کے آس پاس عمر پائی انہوں نے، ایک سو سے کچھ اوپر برس ان کے والد حیات رہے، کرخندار آدمی تھے فولادی شخصیت۔ نانا خدا کے فضل سے علی گڑھ کے پڑھے لکھے آدمی تھے۔ ہماری ماں کے اندر وہ سب خصوصیات در آئیں، کیا شاعری کا ذوق، کیا جمالیات، لیکن حد درجہ سادہ خاتون ہیں وہ بھی (خدا انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، جب کی بات ہے، تب وہ حیات تھیں)، ماں تو خیر میاں سب ہی کو اپنی اچھی لگتی ہے لیکن ہماری ماں بہت بہت سادہ عورت ہیں، دل ہی دل ہے ان کے پاس، باپ کی، گھر کی، بچوں کی محبت سے بھرا، ادب اور لسانیات کی بہت تمیز تھی انہیں، ہمارے کاموں میں ہی الجھی رہیں بس۔ اور ابا صرف اپنے کام کے شوقین تھے یا شطرنج کے، آپ جانیں صاحب، ایسا کھیل کہ بندہ دھتّی ہو جائے، نہ دن جانے ہے نہ رات، بلکہ انہوں نے تو اپنی زندگی کا بیش تر حصہ شطرنج کی بساط ہی پر گزارا، جب بھی رات گئے دیر سے آتے اماں دبے الفاظ میں کہتیں، ہاں ں ں، آ رہے ہوں گے مہرے کھڑکا کے۔ ابا بھی ایسے شریف النفس آدمی، کبھی سن بھی لیتے تو جواب نہ دیتے تھے. شطرنج کھیلنے بیٹھتے، بخدا تین تین دن بازی چلتی رہتی، نہ سوتے اور نہ ایک دوسرے سے بات کرتے، اگر چال کے بارے میں فریق کو مشورہ بھی دینا ہوتا تو ابا کے دوست، جن کے منہ میں ہمیشہ پان بھرا ہوتا، دو انگلیوں سے جس گھر میں مہرا لانا ہوتا، وہاں اشارہ کرتے اور مہرہ ہلکے سے چھو دیتے، لو بھئی، ہم نے اپنا مشورہ دے دیا، اللہ اللہ خیر صلا، اب تم جانو تمہارا کام۔ اب مہرا پیٹنے کی ادا دیکھیں، جب کوئی مہرا بہت جذبے سے پیٹا جاتا تو ٹھاپ کی ایک آواز آتی اور جس ہاتھ سے اپنا مہرا رکھا اسی سے ترنت دوسرا مہرہ اٹھا لیا، گویا، اب کے چال چلو تو جانیں۔ پھر ابا کا مذہبی رجحان زیادہ ہوا تو کھیلنا وغیرہ بالکل ترک کر دیا۔ تہجد گزار اور مذہبی تو بچپن سے ہی تھے، ان کے داڑھی بھی پہلے ہی سے تھی،ایک مشت کی، اب جو مذہب کا زور ہوا تو یہ لمبی داڑھی چھوڑ دی کہ کون روز روز تراشنے کی علّت میں پڑے۔ طبیعت کے ایسے کہ پوری زندگی، یعنی بلا مبالغہ ہماری پوری زندگی ہمیں نہیں یاد پڑتا کہ ہم نے انہیں سفید قمیص شلوار کے علاوہ کسی اور رنگ کے کپڑوں میں دیکھا ہو۔ ہمیشہ گھر سے کھانا بندھوا کر ساتھ لے کر جاتے، زندگی میں کبھی ہوٹل میں نہیں کھایا، بلکہ ہوٹل تو نانا کو بھی شدید ناپسند تھے، کہتے تھے، اماّں !ہوٹل بھی کوئی کھانے کی جگہ ہوتی ہے، اٹھائی گیرے اور بھتہ خور کھاتے ہیں یوں سربازار۔ بہت برا سمجھتے تھے لوگ اگلے زمانے میں، کافی رذیل پن سمجھا جاتا تھا اسے کہ سر بازار کھا رہے ہیں۔ مجھے بہت چھوٹی عمر میں نماز کی عادت پڑ گئی تھی وہ بھی صرف ابا کو دیکھ کر، کبھی خدا بخشے ابا نے یا بھائیوں نے یہ کبھی نہیں کہا، ہاں میاں نماز کیوں نہیں پڑھتے۔
ایک نشست میں ایام گذشتہ کو یاد کرتے ہوئے کہنے لگے، ہمارے زمانے میں خواتین اپنے زچگی اور جاپے کے قصے اور بالخصوص جاپے میں ہلاک ہو جانے والے بچوں کے قصے ایسے دل دوز پیرائے میں سنایا کرتی تھیں کہ حد نہیں۔ ’’اے پہلوٹھی کا یہی تھا ہمارا، تیز بخار ہوا اور مر گیا، یوں گردن ٹیڑھی تھی، بھئی بندہ کہے بی بی آپ تو اپنی گردن سیدھی کر لیں خدا جانے کہاں بل پڑ جائے! بس بہن اس کے بعد ہمارے ہاں لونڈا نہ ہوا!! ارے وہ رضیہ نہیں تھی، کون رضیہ، ارے وہ کالے میر صاحب کی بیٹی، ائے ہے وہ جس کی بڑی نند چوتھے بچے کے جاپے میں مر گئی تھی۔۔۔‘‘
پھر کہنے لگے، ان زمانوں میں لوگوں کے کم سے کم پانچ چھ بچے ہوتے تھے، یہ ایک دو بچوں والوں کو تو لوگ رحم کی نظر سے دیکھتے تھے بلکہ تقریباً بے اولاد ہی گردانتے تھے لیکن بھائی ایک بات مجھے شدت سے محسوس ہوتی ہے، اس دور کے لوگوں میں پر خلوص سادگی ہوتی تھی۔ اور ہاں اس زمانے کی عورتوں کے ہاں جو بڑا لڑکا ہوتھا تھا، پہلوٹھی کا، وہ تو ویسے بھی ان کی ذاتی جاگیر سمجھا جاتا تھا، ان کے اور اس کے بیچ میں کوئی آ کے تو دکھائے، باقی بچے تو بھائی اس سامنے ضمنی کردار ہوتے تھے اور کسی کو بلانا بھی ہوتا تو جب تک تین چار کے نام نہ پکار لیں، صحیح بچے یعنی ہدف کا نام یاد نہیں آتا تھا، اے مانی، اے گڈو، آئے ہئے، اے اچھن، ارے ہٹو وہ اپنے سے بڑے والے کو بلاؤ احسان کو، ایسے ہوتے تھے وہ لوگ۔۔۔ اور حسنین ایسی با حیا ہوتی تھیں وہ خواتین، کہ اب سوچو تو یار دل ڈوبتا ہے، یعنے اگر ڈھنگ کا دوپٹا نہیں ملتا تھا تو بڑا والا تولیہ خوب اچھے سے لپیٹ کر سبزی لینے جائیں گی دروازے پر، اور بھائی اب تو عورتوں کے دیدے پٹم ہو گئے ہیں، ہماری اماں کہا کرتی تھیں ایک زمانہ آئے گا لڑکی منہ سے بر مانگے گی، لو اب دیکھ لو، آ ہی گیا بلکہ کیا عجب محاورے ہوتے تھے، جب کوئی بہت ہی خوارق الاعادات قسم کی یا آپ انقباض سے بچنے کو غیر معمولی کہہ لیجے، چیز ہو جائے تو کہا کرتی تھیں، بھینس بیاہی، بچھیا بیاہی، یہ پڈّہ بیاہا پہلی بار دیکھا ہے۔ سست اور کاہل عورتوں کو دیکھ کر کہتیں، آے ہائے، نہ پہنے اوڑھنے کا خیال، نہ پکانے ریندھنے کے گْن، اٹھالی نائن بیٹھی پٹّہ پوجے۔ پھر کہا کرتی تھیں بے تالا گا سکتا ہے بے سرا نہیں گا سکتا یعنی کوئی نکما آدمی کوئی بھی کام ڈھنگ سے نہیں کر سکتا۔
آغا کھانا بہت عمدہ بناتے ہیں بلکہ تقریباً انہیں خود کفیل ہی سمجھیے، بقول شخصے اپنا ہاتھ جگن ناتھ! ایک دفعہ پوچھا تو کہنے لگے، ہماری اماں ایک بار بیمار پڑ گئیں، اب ہم ماشاللہ چھ بھائی، بہن تو کوئی تھی نہیں، پہلے بھی ہم لوگ اپنا ہر کام کوشش کرتے تھے کہ خود کریں اور اماں پر بوجھ کم ہو، تو خیر، اب کے پکانا ریندھنا ہمارے حصے میں آیا، خدا کے فضل سے ایسا طاق ہوا آپ کا بھائی کہ اب روٹی پکانے سے لے کر کے ہر قسم کا سالن تک بنا لینے میں خود کفیل ہے۔ آٹا گندھوا لیجے آپ، اپنے ہاتھ کی بنی تورئی ہمیں بہت پسند ہے اور مولی کی روٹیاں تو بھائی بناتے ہی ہم ہیں (چہ دلاور است ۔۔۔ الخ)۔ پوچھا کہ بھابی کیا کرتی ہیں، بولے، وہ بیچاری ہماری جنّاتی زبان کے چنے چباتی رہتی ہیں (تحقیق: بھابھی پنجاب سے ہیں) ، سلسلہ کلام جوڑتے ہوئے کہنے لگے، صبح کا ناشتہ اور چائے ہم اپنے ہاتھ کے ہی پسند کرتے ہیں، ابا سے یہ عادت آئی، وہ تو (دونوں الفاظ لٹکا کر ادا کیے، پیک نگلی)، اپنا ہر کام خود اپنے ہاتھ سے کرنا پسند کرتے تھے۔ اچھے کھانے کے وہ بھی بہت شوقین تھے، دسترخوان پر اعلیٰ سے اعلیٰ چیز لا کر رکھ دیں گوشت نظر نہیں آیا تو کہتے، ہاں یہ سب تو ٹھیک ہے کھانا کہاں ہے؟ بلکہ یوں کہیے کہ انہوں نے ساری زندگی کھانے کے نام پہ گوشت کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں کھائی! اور حقِ ایمانی ادا کرتے رہے۔۔۔ زیادہ تر بکرے کا گوشت آتا تھا یا چند مخصوص کھانوں کے لیے گائے کا اور بھائی ادھر اْدھر کا گوشت نہیں کھانا، بکرے کا شمیم قصائی کے ہاں سے اور گائے کا گوشت صوفی نصیر کے وہاں سے آتا تھا، دستی اور اگلے کا گوشت بڑا مرغوب تھا ابّا کو۔ از رہ استفسار عرض کیا کہ کوئی خاص وجہ، بولے، میاں، اس زمانے میں بچے اپنے باوا سے خاص کیا، عام وجوہات بھی پوچھنے کے سزاوار نہیں ہوتے تھے۔ تو بھئی، گوشت کو اور گائے کے گوشت کو اور بکرے کے گوشت کو اور بالعموم گوشت کو اور من حیث الجمع گوشت کو پکانا، پروسنا، برتنا اور کھانا اپنی مخصوص عادات کا حصہ سمجھتے تھے وہ لوگ۔ اگر اتنا سا بھی پانی گوشت میں زیادہ ہوتا تو ابا کہتے، اے ہے بی بی کیا مٹکا بھر کے ڈال دیا تھا؟حالانکہ بھائی ہمیں تو بکرے کے گوشت کا شوربہ بہت پسند ہے، آلو گوشت بنا ہوا ہو، شوربہ ہو خوب سا، قسم سے بندہ سالن میں کود جائے، اچھی طرح سے تیرے، پھر باہر آئے، یار تو ایسے عاشق ہیں شوربے کے۔ اب آم کا موسم جب شروع ہوتا تھا، دسہری آم، اماّں حسنین، تو ابا ان کا رس اپنے ہاتھوں سے نکال کر کے، بڑے سے پتیلے میں ڈال کے، اس میں بھینس کا دودھ، تھوڑا سا پانی اور تھوڑی سی شکر ڈال کے، خوب اچھی طرح سے اسے گھوٹ لیا کرتے تھے اور بیسن کی روٹیاں پکوا کے کہا کرتے تھے، سب یہی کھاؤ، بڑا مزے کا ہے۔
ایک دن حکمت پر گفت گو ہو رہی تھی، ہم نے کہا آغا کیا مقامِ حیرت ہے کہ آج سے چار سو سال پہلے بھی ہمارے حْکما نے کیرِ خر اور قضیب الفیل نامی دوائیاں ایجاد کر لی تھیں، جب کہ نہ موجودہ دور جیسی تحقیق تھی، نہ وسائل تھے، نہ کوئی خاص مالی منفعت کا امکان ہو گا، ایں کمال است و محال است و جنوں ۔کہنے لگے، نہیں قبلہ، ایں محض کمال است و کمال است و کمال است۔۔۔ پھر گویا ہوئے، یار انگریزی میں جو پرندوں کی Mating Call ہوتی ہے، یعنی وہ مخصوص آوازیں انہیں اردو میں کیا کہیں گے، "ندائے جفتی" یا صدائے مجامعت، عرض کیا کچھ نہ کہیں تو بہتر ہے، بے چارے وہ بھی حکیموں کے کانوں میں گفت گو کرنے والے مریض دکھائی پڑیں گے۔
شوکت علی صاحب نے بھلے وقتوں میں ایک غزل گائی تھی میر کی، تم کو تو ہم سے ضد سی پڑی ہے، آغا کی پسندیدہ غزلوں میں شمار ہوتی ہے، کہنے لگے، صاحب غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ پنجابی سپوت کس لگن سے اردو الفاظ کا صحیح تلفظ ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور کیا ہی شوق سے گا رہا ہے۔ پھر اپنے کمپیوٹر پر مکمل غزل دکھائی اور پھر گا کر بھی سنائی عین مین اْسی لہجے میں، یقین کیجے اس دلار اور للک سے انہی کے لہجے میں گائی کہ کیا شوکت علی اپنے لہجے میں گاتے ہوں گے۔ اِرسہ غزل اور نادیہ حسین بالترتیب پسندیدہ اداکار اور ماڈل ہیں۔ ایک تقریب میں نادیہ حسین آئیں تو کہنے لگے، حضور اِن کے ساتھ ایک تصویر بن جائے تو زندگی کا سمجھئے بڑا مقصد پورا ہو جائے گا اور یادگار بھی رہے گی، عرض کیا آغا، بھابھی مزار نہ بنا دیں گی ایسی یادگار کا؟ کہنے لگے، نہیں نہیں وہ تو کہتی تھیں، اب کے وہ آئیں تو اچھی سی تصویر بنوا کر آنا، پہلے صحیح نہیں آئی تھی ( وائے نصیب! عجب مقامِ تحیر اور جائے رشک ہے!) خیر تصویر بنوائی اور ایسے خوش ہوئے کہ بلا مبالغہ پیار آ رہا تھا۔
ایک دن کوئٹہ سے برقی مراسلہ آیا، اس کوئٹہ کے درجہ حرارت صفر ڈگری میں آپ کا خیال دامن گیر ہے، واللہ اس شدت سے جوف ہائے زیریں اور حساس مقامات میں گھسی جاتی ہے کہ اگر آپ میرے ساتھ ہوتے تو انتقال فرما چْکے ہوتے یا روئی کے بعد دوئی کا بندوبست کرنے میں ہوتے، بہتر تھا انتقال ہی فرما جاتے، پٹھان علاقہ ہے، اور کیا کیا جا سکتا ہے۔
کل ملا کے ان کے ساتھ ہر سال دس بارہ دن اکٹھے نصیب ہوتے ہیں، روزگار نے ہمیں کئی ایسی ہستیاں ملوائیں جو اپنی ذات میں کیا ہی مکمل کردار ہیں۔ انہی میں سے ایک شہباز ہیں جو ہماری ہر نشست کے تیسرے اور آخری رکن ہوتے ہیں. ان کا قصہ پھر سہی۔ شہر کرانچی کے تقریباً ہر ہوٹل میں ہمارے رت جگے رہے، الیومناٹی سے بات شروع ہو کر پان کی اقسام سے ہوتی ہوئی جوش صاحب پر جا ٹھہرے گی، کبھی فالکنری، قہوہ، عبداللہ شاہ غازی، بے نظیر اور بیویوں کی نفسیات سے ہوتے ہوئے وجاہت مسعود صاحب کی زبان پر جا ٹھہرے گی کہ ان کے اور ہمارے پسندیدہ مصنفین میں سے ہیں اور کبھی کبھی تو ایسی راتیں بھی آئیں کہ تین بجے کنٹری کلب میں کمروں کی پچھلی طرف کھاڑی میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہیں اور لگاتار سگریٹ چل رہے ہیں لیکن تینوں خاموش ہیں، سامنے اْڑتے سفید پرندوں کو دیکھتے ہیں، تیز ٹھنڈی ہوا کا لطف لیتے ہیں، اوپر ستارے دیکھتے ہیں پھر خود کو دیکھتے ہیں، پھر مسکراتے ہیں اور ایک گہرا کش لگا کر کوئی ایک کہتا ہے، ابے صبح آٹھ بجے پہنچنا ہے، سوؤ گے کب، پھر آ جائیں گے صبح سوجی آنکھیں اور سوئی شکلیں لے کر، چلو میاں اپنے اپنے کمروں کی راہ لو۔کٹ گئی رات، رات باقی ہے ۔۔۔

یارِ من آغا۔۔۔” پر ایک تبصرہ

  • نومبر 3, 2015 at 8:43 AM
    Permalink

    اففففف,,, مزا آگیا ناشتے کے ساتھ یہ مضمون پڑھنے کا ❤

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *