غریب اللہ کی منطق اور گونگے جج کی کرامت

WISI BABAغریب اللہ باقاعدہ غریب تھا لیکن اس کو سیاست کا کیڑا بھی تھا۔ حجروں میں وہ مستقل مزاجی سے حاضری دیتا تھا تا کہ حجرہ پاس کی ڈگری اگر نہ بھی لے تو بنیادی رکھ رکھاؤ ہی سیکھ لے۔ حجرے میں نہ تو وہ چرسیوں کے ٹولے میں بیٹھ کر چلم کھینچتا نہ بزرگوں کی محفل کی جانب جاتا۔ اس کا رخ ادھر ہی ہوتا جدھر سیاست پر بات ہو رہی ہوتی۔
دیسی قسم کی جگت بازی سیکھ کر وہ اچھا خاصا مشہور ہو گیا اور فیصلہ اس نے یہ کیا کہ وہ موری ممبر یعنی کونسلر کا الیکشن لڑے گا۔ خان نے بروقت اس کی غریبی، عزائم اور مقبولیت سونگھ لی اور اک محرر کو ساتھ ملا کر ایک انتہائی معقول قسم کا کیس اس پر بنا دیا کہ غریب اللہ نے ایک لڑکے کو عین غین کر دیا ہے۔
غریب اللہ گرفتار ہوا ،خجل بھی جتنا ہونا تھا، اس سے زیادہ ہوا ۔ کیس اس کا کاغذوں میں پوری طرح اس کے خلاف بھی تھا اور پکا بھی۔ محرر نے پوری بے غیرتی کرتے ہوئے وقوعے اور واقعے کا ایسا نقشہ کھینچا کہ لوگ کیس کی روداد پڑھ پڑھ کر چسکے بھی لیتے اور اپنی ٹھرک بھی پوری کرتے۔
غریب اللہ عدالت میں پیش تھا۔ جج کیس پڑھ رہا تھا اور وکیل کی بکواس سن رہا تھا۔ چسکے دار کیس پڑھتے اچانک جج کو شرارت سوجھی اور اس نے اونچی آواز میں پوچھی کہ ’الاکا غریب اللہ سہ دے کڑی دی‘ یعنی غریب اللہ تم نے کیا کیا ہے؟ غریب اللہ نے جج کو دیکھا اور کہا ’ما جی غریبی کڑے دا‘۔ جناب میں نے غریبی کی ہے۔
کیس کی روداد اور غریب اللہ کی دیسی منطق نے جج کو چانن کر دیا اور اس نے ضمانت منظور کر لی۔ کچھ باتیں کچھ لفظ وہ جادو رکھتے ہیں کہ بروقت ادا ہو جائیں تو بند دروازے کھل جاتے ہیں۔ سارے ثبوت اور گواہ منہ دیکھتے رہ گئے اور غریب اللہ گھر آ گیا۔ جج سمجھ گیا اور بولا نہیں۔ اس کا فیصلہ ہی ایسا بولا کہ سب کو چپ لگ گئی۔
اک جج صاحب بولے تھے ۔انہوں نے جب سزا سنائی تو مجرم نے انہیں کہا کہ باہر آ کر تمھارے ساتھ وہی کروں گا جو غریب اللہ نے پولیس رپورٹ کے مطابق لڑکے کے ساتھ کیا تھا۔ جج نے ملزم کو بہت پیار سے پاس بلایا اور اس کو کان میں بولا کہ بیٹا میں نے تو تمھارے ساتھ ابھی کر دیا، تم جب باہر نکلو گے تب دیکھیں گے۔
جج اگر کان میں سرگوشی بھی کریں تو جرم سوچنے والوں کو کان ہو جاتے ہیں اور اگر ان کے فیصلوں کی بجائے وہ خود بولیں تو انصاف کا بولورام ہو جاتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *