کرپشن کے احتساب کی آڑ میں جمہوریت پر چاند ماری

zeeshanدیکھئے ، کرپشن کوئی بھی کرتا ہے سیاستدان ، جج ، فوجی ، انتظامیہ ، اور جو کوئی بھی ، یہ ناقابل برداشت ہے۔ عوام کے ٹیکسز کی رقم کو بے دردی سے ضائع نہیں کیا جا سکتا ۔ اور ایک مہذب جمہوری معاشرہ میں کرپشن کو سب سے بڑا دھوکہ سمجھا جاتا ہے ۔
مگر کرپشن کے الزامات کی آڑ میں شہریوں کے حق انتخاب پر نقب نہیں لگائی جا سکتی۔ اگر آپ کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو عدالتیں موجود ہیں ثابت کیجیے اور سزا دلوائیے ۔ بغیر ثبوت اور عدالت سے تصدیق کئے بغیر الزام تراشی ایک مہذب سماج میں کرپشن سے بھی بڑا جرم ہے ۔
دوم : اس بات کا اختیار کسی ادارے کو نہیں دیا جا سکتا کہ اگر وہ کسی دوسرے ادارے میں کرپشن ہوتی دیکھے تو آگے بڑھ کر اس ادارہ کا خاتمہ کر دے اور خود اس کا کنٹرول سنبھال لے ...مثال کے طور پر اگر واسا والے دیکھیں کہ عدلیہ میں کرپشن ہے تو آگے بڑھ کر کدال و سریے کی مدد سے جج حضرات کو بے دخل کر دیں اور خود کرسی پر بیٹھ کر فیصلے کرنے لگ جائیں ، کیا یہ درست عمل ہے ؟ اسی طرح بھارت سے تین جنگوں میں پاکستانی فوج اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے ، اور آج کل اپنے ہی پیداکردہ اسٹریٹجک اثاثوں سے جنگ کر رہی ہے جن پر پاکستانی عوام کے ٹیکسز سے اربوں ڈالر خرچ کئے گئے تو کیا اب واپڈا والے اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ وہ آگے بڑھ کر فوج کو بے دخل کر دیں اور کہیں کہ دفاع اب ہمارے ذمہ
اسی طرح کرپشن کی نئی تعریف کی بھی ضرورت ہے ۔ محتاط شماریات کی رو سے فوج کا بجٹ میں حصہ قومی بجٹ کے پینتیس سے چالیس فیصد کے برابر ہے ، فوج پر اس خرچ کا کیا مصرف ہے ؟ اگر سیاستدانوں کی کرپشن عوام کی غربت کی وجہ ہے تو کیا دفاعی بجٹ کے چالیس فیصد سے آم کے نئے باغات لگائے جاتے ہیں جہاں سے امب توڑ کر عوام چوستے ہیں؟ فوج ، قرضوں کی ادائیگی ، گھاٹے میں جانے والے سرکاری ادارے (جن کی نجکاری کرنا مشکل بنا دیا گیا ہے) ، تعلیم ، صحت اور سبسڈی کے بعد کتنا بچتا ہے کہ اسے سیاستدان کھا سکتے ہیں ؟ کبھی ہمیں شماریات کی مدد سے بھی سمجھانے کی کوشش کی جائے ۔
جمہوریت عوام کا حق انتخاب ہے جس میں عوام اپنے نمائندے چنتے ہیں۔ سیاسی اداروں کی نوعیت اور فوجی اداروں کی ساخت میں اتنا ہی فرق ہے جتنا واپڈا اور فوج میں فرق ہے ۔ ہمارے سیاسی کلچر میں مسائل ہیں ، ایک نہیں بہت سارے ۔ ہم تسلیم کرتے ہیں مگر جان من ۔۔۔ان کا پائیدار حل بھی عوام کے حق انتخاب کو تسلیم کرنے میں ہے۔ لوگوں پر محنت کریں کہ وہ بہتر سے بہتر لوگ اور پارٹیوں کو منتخب کریں ، انہیں بار بار سیکھنے دیں ۔ ہمارا تاریخی تجربہ بتاتا ہے کہ فوج نے سیاست میں آ کر سیاست کا ویسا حشر کر دیا ہے جیسا حشر واسا والوں کے عدلیہ پر قبضے سے متوقع ہے۔ آئیے تاریخ سے سیکھیں ، سیاست شیخی بگھارنے کا نام نہیں ، بلکہ یہ ایک سائنس ہے ، یہ ایک سنجیدہ موضوع اور پیچیدہ سائنس ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *