طاعون سے امریکا میں ایک شخص ہلاک،وبا پھیلنے کا خدشہ

plague-explainerامریکی ریاست یوٹا میں ایک عمر رسیدہ شخص طاعون کے باعث جاں بحق ہو گیا۔ یوٹا کے محکمہ صحت کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ ابھی اس پر تحقیق کی جارہی ہے کہ یہ مریض کب اور کیسے پسوؤں سے پھیلنے والے جراثیم کی زد میں آیا۔ طاعون سے ہلاک ہو جانے والے شخص نے کبھی بھی کسی ایسی جگہ کا سفر نہیں کیا جہاں طاعون کی وبا ہو اور نہ ہی اس مریض کے بارے میں کچھ زیادہ معلومات ہیں۔ طاعون کی بیماری عام طور پر چوہوں اور جنگلی گلہریوں سے پھیلتی ہے اور پھر یہ ایک شخص سے دوسرے شخص کو لگ جاتی ہے۔ طاعون کی علامات متاثرہ شخص میں2سے6دن کے درمیان واضح ہو جاتی ہیں۔ ان علامات میں عام طور پر اچانک بخار کا حملہ،پیٹ کی خرابی ،نزلہ اور قے شامل ہوتی ہیں۔
اگر مرض تشخیص ہوتے ہی اینٹی بائیوٹک ادویات سے علاج کیا جائے تو مریض کی حالت سنبھل جاتی ہے۔یوٹا ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے عہدے دار جودی بیکر نے کہا ہے کہ یہ 2009کے بعد سامنے آنے والاپہلا کیس ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’ریاست میں جانوروں کے طاعون کے کیسز تو ہر سال سامنے آتے رہتے ہیں ۔ خاص طور پر دیہی علاقوں کے مویشی اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔ ‘
ratطاعون کا سبب بننے والا بیکٹیریا’یرسینیا پیس ٹِس‘ یہ قدرتی طور پر ماحول میں پایا جاتا ہے اور اس کی کثرت ان جگہوں میں ہوتی ہے جہاں جنگلی چوہوں کی بہتات ہو۔ محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق مختلف ریاستوں میں مجموعی طور پر طاعون کے 12کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں سے چار مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
امریکا میں امراض کو کنٹرول کرنے والے ادارے ’سی ڈی سی‘ کا کہنا ہے کہ اب کی بار طاعون کے متاثرہ افراد کی تعداد معمول سے کافی زیادہ ہے۔ ’سی ڈی سی‘ نے اس سال سامنے آنے والے کیسز کی ایک تفصیلی رپورٹ بھی تیار کی ہے اور ڈاکٹروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس بیماری کے اسباب پر کڑی نگاہ رکھیں۔ ’سی ڈی سی‘ کے مطابق کیلی فورنیا اور جارجیا میں طاعون کے شکار افراد کو اس سال یوسی مائیٹ نیشنل پارک کے آس پاس کے علاقوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سال سامنے آنے والے طاعون کے کیسز میں سے 5صرف جولائی جبکہ4 کیسز اگست میں سامنے آئے ہیں۔ اس صورت حال میں یہ کہنا آسان نہیں کہ آیا ایسے مزید بھی کیسز سامنے آئیں گے یا نہیں۔

plague-bacteria

طاعون کا سبب بننے والا بیکٹیریا’یرسینیا پیس ٹِس‘ یہ قدرتی طور پر ماحول میں پایا جاتا ہے اور اس کی کثرت ان جگہوں میں ہوتی ہے جہاں جنگلی چوہوں کی بہتات ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *