کُچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

Nasir Mehmood Malikوجاہت مسعود ہمارے صفِ اوّل کے کالم نگار ہیں۔ یہ ہمارے اُستاد اور عزیز ترین دوست ہیں۔ ہم ان کے مستقل قاری بھی ہیں، ہم نے انہیں جب بھی پڑھا، بے پناہ لُطف اُٹھایا لیکن یہ حسرت ہی رہی کہ کاش اُن کی تحریر ہماری سمجھ میں بھی آتی تو زیادہ مزہ آتا۔ یقیناًکچھ لوگ ہوں گے جنہیں ان کو سمجھنے کا دعویٰ ہے۔ استثنائی صورتحال تو کہیں بھی ہو سکتی ہے، ویسے بھی ایسے ’ عبقری ‘ ہر جگہ ہوتے ہیں۔ لیکن بھئی! ہماری کیفیت تو یہ رہی کہ ہم نے ان کے متعلق جب بھی، ’ کی جس سے بات اُس نے شکایت ضرور کی‘۔ ہر کسی کو ’ تیشہء نظر ‘ کا ’قتیل ‘ پایا۔ان کے پڑھنے والوں کی تعداد بے شمار ہے لیکن سمجھنے والے ،ماشاء اللہ ! ’ نمک میں آٹے کے برابر ‘ ہیں۔ ادھرہم انہیں پڑھنا شروع کریں تو تین سطروں کے بعد ہی ہماری سانس پھولنے لگتی ہے۔ ان کو پڑھنا گویا پہاڑ پر چڑھنا ہے۔ خدا لگتی کہیں تو ایسا ہے کہ جس روز ان کے کالم کا عنوان ہی ہمیں سمجھ آ جائے، ہمارے پیسے پورے ہو جاتے ہیں۔ باقی کالم تو بونس ہوتا ہے۔ عرصہ ہوا اپنی عقل و فہم تو خیر ان کی دانشوری کے سامنے کھیت رہی لیکن یہ ہم ہی پہ موقوف نہیں ہے ہم نے بڑے بڑے طُرّم خاں پروفیسروں کو ان سے اسی بارے میں شکوہ سنج پایا۔ بعض قارئین کا خیال ہے کہ انہیں سمجھنے کے لئے کافی مطالعے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہمارے خیال میں انہیں سمجھنے کے لئے جس قدر مطالعے کی ضرورت ہے اتنا مطالعہ کرنے کے بعد تو انہیں بھی پڑھنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ کبھی عرض کریں کہ بندہ پرور! آپ نے کبھی خیال کیا کہ آپ کے اس ’ دماغ خراش‘ طرزِ نگارش سے قارئین کے معصوم اذہان پر کیسے گھمبیر اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور یہ سماج کے ’ اجتماعی تخیل ‘کو کس درجہ گھائل کر رہا ہے! تو ہماری اس لاچاری پر وہ چنداں فکر مند نہیں ہوتے بلکہ سینہ تان کر کہتے ہیں :
گر نہیں میرے ’ افکار‘‘ میں معنی نہ سہی
وجاہت صاحب نے کالم لکھنا شروع کیا تواس طرز کی دقیق کالم نگاری کی مسیں بھیگ رہی تھیں! اب اس بے چاری کی پلکیں بھیگ رہی ہیں۔ ان کی تحریر سے ان کے بے پناہ مطالعے کا پتہ چلتا ہے۔ کالم میں جابجا حوالہ جات ملتے ہیں! اس قدر حوالہ جات کہ کالم بے چارہ تو ان کے نیچے ہی کہیں دب کے رہ جاتا ہے! بالکل اسی طرح جیسے ہمارا ٹی وی ڈرامہ اشتہاروں کے نیچے دب جاتا ہے۔اور تلمیحات تو ان کے لئے تسبیحات کا درجہ رکھتی ہیں۔’ نثری‘ اعتبار سے انہیں1857 کے آس پاس اور محمد حسین آزاد کے آس پڑوس میں پیدا ہونا چاہیے تھا۔ وہ اپنی تحریر کو مشکل پسندی سے تعبیر کرتے ہیں، ہمارے نزدیک یہ اذّیت پسندی ہے۔ ہم نے انہیں جب بھی پڑھا اردو لُغت کی مدد ہی سے پڑھا۔ ہمارا دعویٰ ہے ( جو درست بھی ہو سکتا ہے) کہ اپنا کالم لکھنے کے بعد وہ خود بھی اسے پڑھیں تو انہیں اردو ڈکشنری کی مدد لینی پڑے گی۔
جناب وجاہت مسعود کو حال ہی میں ان کی صحافتی خدمات پر تمغۂ حُسنِ کارکردگی سے نوازا گیا ہے۔ہمیں بے انتہا خوشی ہوئی ۔بلاشبہ وہ اس اعزاز کے حقدار ہیں بلکہ ہمارے نزدیک اب اس ایوارڈ کا مقام اور بھی بڑھ گیا ہے۔ لیکن خوشی کے ساتھ ہمیں حیرت بھی ہوئی کہ کیا واقعی ایسے لوگ بھی ہیں جو انہیں سمجھ سکتے ہیں۔امریکی مزاحیہ کالم نگاررابرٹ بنکلے نے کہا تھا، ’ مجھے یہ جاننے میں پندرہ برس لگے کہ مجھ میں لکھنے کی صلاحیت بالکل نہیں ہے ۔ لیکن تب میرے لئے اس پیشے کو خیر باد کہنا ممکن نہیں رہا تھا کیونکہ میں مشہور ہو چکا تھا۔ ‘ہمیں نہیں معلوم کہ جب ہمارے محبوب کالم نگار کو یہ حسین ادراک ہو گا تو تب تک ان کی شہرت کون سے آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہو گی۔
وجاہت صاحب کے انداز بیان کی مشکلات اپنی جگہ ، ان کے خیالات تو صورت حال کی گھمبیرتا اور بھی بڑھا دیتے ہیں۔اُن کے نزدیک نظریاتی ریاست کا بیانیہ ہی ہمارے تمام مسائل کی جڑ ہے۔ایک دن اُن سے ملنے ہم ان کے آستانے پر پہنچے ( جو لاہور سے اتنا ہی دور ہے جتنا ہم ان کی تفہیم سے دور ہیں ) تودورانِ گفتگو ہم نے عرض کیا ’جناب! آپ کے دولت کدے پر پہنچتے پہنچتے ہماری گاڑی دو دفعہ پنکچر ہوئی ہے۔‘ زرا توقّف کے بعد بولے، ’ نظریاتی ریاستوں میں اس طرح کے مسائل تو ہوتے ہیں۔‘
وجاہت صاحب کمال کے میزبان ہیں۔ان کا دولت کدہ ہمیشہ کھلا اور دستر خوان وسیع ہوتا ہے۔موصوف مہمان بھی کمال کے ہیں۔وہ اپنے میزبان کو مایوس نہیں کرتے۔ دستر خوان پر اُن کی ’ پرفارمنس ‘ دیدنی ہوتی ہے۔اپنی درازی قامت کا درست استعمال کرتے ہم نے انہیں یہیں پایا۔
وجاہت مسعود صاحب انتہائی زمینی آدمی ہیں۔ نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پرواہ۔جاہ و حشمت کی بھی کوئی خواہش نہیں۔ انہیں صاحب کہیں تو خفا ہوتے ہیں۔’ صاحبِ خمر‘ کہیں تو بھی اعتراض کرتے ہیں۔ صرف صاحب کی حد تک۔ زندگی میں کوئی بڑے مقاصدبھی نہیں۔انہیں بس اک گونا ’ قرار ‘ چاہیے،،نہ ’ داد ‘ نہ ’ مقاصد ‘۔ ان سے ملاقات کے دوران یہ مخمصہ رہتا ہے کہ یہ انسان بڑے ہیں یا کالم نگار۔ (خود اپنی پہچان میں ہمیں بھی اسی دقّت کا سامنا رہتا ہے )۔ ان کے ہاں محفلِ دوستاں کا چلن اکثر رہتا ہے،منڈلیاں سجتی رہتی ہیں، پر تکلف کھانے اور مشروبات رات گئے تک کسی کو اُٹھنے نہیں دیتے ۔ان کی صحبت بھی ان کے جامِ محبت کی سی تاثیر رکھتی ہے۔
حتمی تجزئیے میں ہم کہیں گے کہ ان کی نثر قابلِ رشک ہی نہیں۔ قابل حسد بھی ہے۔ تفہیم ہو جائے تو سبحان اللہ، نہ ہو تو ماشاء اللہ ۔ہمارا واسطہ اگرچہ زیادہ تر ماشاء اللہ ہی سے رہتا ہے لیکن پھر بھی مزہ آتا ہے۔ان کی نثر بھی گویا غالبؔ کی شاعری ٹھہری! بقول یوسفی،ؔ ’غالبؔ وہ شاعر ہے جو سمجھ نہ آئے تو زیادہ مزہ دیتا ہے‘۔اپنے وجاہت صاحب میں بھی یہی خوبی ہے۔ ان کی نثر سمجھ نہ آئے تو زیادہ لطف دیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے قارئین کی ایک کثیر تعداد ان کے کالم کا انتظار کرتی ہے۔ہم بھی ان میں سے ایک ہیں ۔۔۔
دل پھر طوافِ کوئے ’ وجاہت ‘ کو جائے ہے
’ ادراک ‘ کا صنم کدہ ویراں کئے ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *