مناسب وزن کے لئے مناسب غذا اور اچھی نیند ضروری ہے

woman-eatingغذائیت سے بھرپور کھانے، مناسب نیند اور اچھی عادات آپ کی نشونما کی مناسبت سے وزن فراہم کرتی ہیں۔ سیانے کہہ گزرے ہیں:’ اچھا کھاؤ تا کہ ہلکا پھلکا کھانے کی ضرورت محسوس نہ ہو، جتنی بھوک ہو، اتنا ہی کھاؤ اور جب بھوک ختم ہو جائے تو کھانے سے ہاتھ روک لو۔‘
سارا ولسن نے ایک کتاب لکھی ہے، ’میں نے میٹھا کھانا چھوڑ دیا‘ (I Quit Sugar)۔ سارا ولسن اسی حوالے سے دیگر ویب سائیٹس پر بھی کام کرتی ہیں۔
دن میں تین بار کھانا کھاؤ اور ہر کھانے کو وقت دو۔ جب بھی کھانا کھا رہے ہوں تو کھانے پر توجہ دیں، اور جب تک کھانا ہضم نہ ہو جائے تب تک اگلے کھانے کی طرف مت آؤ۔ آپ اپنے قدرتی وزن تک تبھی پہنچ سکتے ہیں جب کچھ اچھا اور اچھی طرح چبا کر کھائیں۔کھانے کو چبا کر کھانے سے نظام ہضم صحیح رہتا ہے اور آپ کو معدہ کی تکالیف سے نجات ملتی ہے، اس سے جگر اور معدہheidi-klum-burger-ad-seduces-makes-you-believe-she-actually-eats-burgersدونوں کو تقویت ملتی ہے۔ مدافعتی نظام بھی درست رہتا ہے۔
سارا وِلسن کہتی ہیں:’میں جب بھی کھانا کھاتی ہوں، اس میں پروٹین لازمی جزو کے طور پر استعمال کرتی ہوں، جیسا کے مچھلی، انڈا، گوشت، سبزیاں، یا دوسری غذائی اجناس ۔ یہاں تک کے صبح کے ناشتے میں بھی انڈا، پالک یا پکے ہوئے منجمد مٹر لازمی استعمال کرتی ہوں۔ اس غذا کا ستعمال میرے جسم کے نظام انہضام کو طاقت دیتا ہے۔ اس غذا کو کھانے کے اوسطاً 4 یا 5گھنٹے بعد دوبارہ بھوک لگتی ہے۔ اس عرصے میں کافی طاقت جسم میں جمع ہو جاتی ہے جو کہ وقتاً فوقتاً استعمال میں آتی ہے۔‘
ہمیں اس وقت بھوک لگتی ہے جب معدہ خالی ہو جاتا ہے۔اس لئے جب بھوک لگے تب ہمیں گھبرانا نہیں چاہئیے۔ہمیں بھوک کا اب نشہ ہوتاہے نہ صرف میٹھا بلکہ نمکین بھی ہمیں نشہ دیتا ہے۔ 1990ء سے پہلے سنیکس کا نام و نشان تک نہ تھا۔ لیکن جب سے سائنس نے ترقی کی اور ہم نے اپنے جسم کے نظام کو پہچانا nyotaimorisushimodel_1289700689770تب سے سنیکس بھی ہماری خوراک کا حصہ بن گئے ہیں۔ہمارے خون میں شکر کی مقدار کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے بھی اکثر و بیشتربھوک محسوس ہوتی ہے۔ہم بھول گئے ہیں کہ صبح کے ناشتے سے دوپہر کے کھانے اور پھر شام کے کھانے تک کا وقفہ ہمارے معدے کے لئے صحیح ہے۔ اس دوران معدہ آرام کرتا ہے۔ جس سے تیزابیت معتدل رہتی ہے۔اگر آپ اچھا اور صحت مند کھانا کھا رہے ہیں تو آپ کو سنیکس کی ضرورت نہیں محسوس ہوتی۔اورتین اوقات کا کھانا ہی صحت مند زندگی کی علامت ہے۔
پروٹین کو جذب کرنے کے لئے قدرتی چکنائی لازمی ہے۔ لہٰذا خوراک میں تازہ ہری سبزیوں کا استعمال ضروری ہے۔ یہ آپ کو مطمئن رکھتی ہیں اور چونکہ سبزیاں کم زودہضم ہوتی ہیں اس لئے آپ کو جلدی بھوک نہیں لگتی۔ہاں البتہ کوشش یہی کریں کہ سبزیاں مکھن میں یا پھر اچھے کوکنگ آئل جیسا کے مکئی، سورج مکھی، زیتون، سویابین کے تیل وغیرہ میں ہلکی آنچ پر پکائیں۔
وزن کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیں۔ اگر آپ کھانا’ جسمانی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ‘کھاتے ہیں تو یہی طرز فکر آپ کے کھانے کو صحت مند بناتی ہو۔ آپ کاکھانا کھانے کا مقصد صحت مند کھانااور پرسکون جگہ ہونی چاہئیے۔ آپ کو کھانے کی پیمائش کرنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے نہ ہونی چاہئیے۔ صرف جو کھا رہے ہیں اس سے آپ کو کتنا فائدہ ہو رہا ہے اس بات کی فکر کرنی چاہئیے۔ مثال کے طور پر،میری کتاب ‘ کی پہلی اہم بات یہ ہے کہ آپ کی جلد کتنی خوبصورت نظر آ سکتی ہے۔اگلی بات جس پر بعد میں توجہ دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے جو خوراک لی وہ آپ کے لئے کتنی فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔اس خوراک نے جسم کوEating-large-amounts-of-sugary-refined-carbohydrates-such-as-biscuits-and-cakes-may-trigger-excess-hair کتنی طاقت دی؟ شاید یہ ایک ایسا پوائنٹ ہے جس پر لوگوں کی سوچ مثبت ہوتی ہے اور وہ وزن کی زیادتی اور کمی کے بارے میں سوچنا بند کر کے اچھی خوراک کے استعمال پر توجہ دیتے ہیں۔اور یہی میرا مقصد ہے۔
جنین راتھ ماہر غذا ہونے کے علاوہ ماہر نفسیات بھی ہیں ۔ نو کتابوں کے مصنف جنین راتھ کہتے ہین کہ ’پرہیز و احتیاط سے آپ قدرتی وزن برقرار رکھ سکتے ہیں۔ لیکن یہ بیرونی اثرات ہیں۔ جب تک آپ اندورنی اثرات کے ساتھ متوازن خوراک کا استعمال سیکھتے ہیں۔ تو آپ کی غذا نا صرف آپ کے رویے کو درست کرتی ہے بلکہ اس کے آپ کے وزن پر بھی واضح اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
بعض لوگ ایسا سوچتے ہیں کہ وہ کیوں اس دنیا میں آئے ؟ ان کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اور اسی طرح کے منتشر خیالات میں غرق کھاتے رہتے ہیں۔ آپ جتنا اچھا اپنی زندگی میں کام کرتے ہیں یا ایسا کام جس سے آپ کوروحانی خوشی ملے اتنا ہی آپ کا کھانا آپ کو طاقت دیتا ہے۔ یہاں تک سادہ روٹی بھی آپ کو اس وقت خوشی دیتی ہے جب آپ نے کوئی نیک کام کیا ہو اور اس کام سے آپ کو روحانی خوشی ملی ہو۔
اگر آپ اپنی وزن کے معاملے میں پریشان ہیں تو آپ کو ناصرف اس بات کا خیال رکھنا چاہئیے کہ آپ کیا، کب اور کہاں کھا رہے ہیں؟ بلکہ اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہئیے کے وہ کونسی خوراک ہے جو آپ کے استعمال میں نہیں ہے اور آپ کے لئے ضروری ہے۔
کوشش کریں کہ سادہ غذا کا ستعمال کریں اورخو د کو مطمئن رکھنے کی پوری کوشش کریں تا کہ آپ صحت مند رہیں۔ اپنے خیالات کو منشر ہونے سے بچانے کے لئے تعمیری کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ جب اپنے منتشر خیالات سے نجات کے لئے کھانے کی کوئی بھی چیز استعمال نہ کریں اس کے بجائے آپ پانی پی سکتے ہیں۔ کتاب پڑھ سکتے ہیں اور کوئی کھیل بھی کھیل سکتے ہیں۔ یا پھر OR13_eating1_SSگھر والوں کو وقت دے سکتے ہیں۔ ہلکی پھلکی گپ شپ سے بھی آپ ہلکا پھلکا محسوس کریں گے۔جذبات آپ کی زندگی کا حصہ ہیں۔ اُداسی، خوشی اور پریشانی ایسے جذبات ہیں جن سے آپ کی بھوک کا گہرا تعلق ہے۔ دنیا بھر میں جذباتیت کے اعتبار سے دو طرح کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جنہیں پریشانی اور خوشی میں بہت بھوک لگتی ہے اور دوسرے وہ لوگ جنہیں بھوک نہیں لگتی۔ لیکن صحت مند زندگی کے لئے ضروری ہے کے جب آپ کھانے کی میز پرہوں تو صرف کھانے پر توجہ دیں نہ کہ پریشانی اور اس کی وجوہات پریا پھر خوشی اور اس کی وجوہات پر۔
جسمانی ورزشیں بھی صحت مند زندگی کو توازن دینے کا فن ہیں۔ بہت زیادہ دوڑ لگانا یا بہت بھاری وزن اُٹھانا ورزش نہیں ہے ۔ ورزش آپ کو تھکن دینے کے لئے نہیں بلکہ آپ کو تازہ دم کرنے کے لئے ہے۔ مناسب نیند بھی ورزش ہے۔ اگر نیند سے جاگنے کے بعد آپ کوسستی اور تھکان محسوس ہو تو پھر آپ کی یا تو خوراک صحیح نہیں یا پھر نیند کی مقدار نامناسب ہے۔ نیند سے جاگنے کے بعد پانی یا سبز چائے یا پھلو ں کے رس کا استعمال آپ کو صحت مند زندگی سے نوازتا ہے۔ لیکن خالی پیٹ ہلکی پھلکی ورزش جس میں آپ کو پسینہ آئے آپ کو روزانہ تازہ دم رکھتی ہے۔ اس سے نہ صرف نظام ہضم تندرست رہتا ہے بلکہ نظام اعصاب، بلڈ پریشر اور جسم کے با قی نظام اپنی اپنی جگہ صحیح کام کرتے ہیں۔ ایسی خوراک جس سے آپ کانظام انہظام متاثر ہو اور جس کے استعمال کے بعد آپ کا دوبارہ کھانے کے میز پر جانے کو دل نہ کرے، آپ کو استعمال نہیں کرنی چاہئیے اور نہ ہی کیمکلزوالی خوراک کے استعمال کرنا چاہئیے۔ماہر خوراک ورزش اور صحت مند خوراک کے استعمال کو صحت مند زندگی کا ضامن قرار دیتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *