تاریخ سے چشمک

Dr Abdul majeedبیسویں صدی کے اوائل میں لڑی جانے والی پہلی جنگ عظیم (1914-1918) کو مختلف سامراجی قوتوں کے مابین جنگ کہا جاتا ہے ۔ اس جنگ کے اختتام پر ایک نئی دنیا نے جنم لیا جہاں قومیت یا نیشنلزم کے نظریے نے جڑ پکڑی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد متعدد نئے ملک وجود مےں آئے اور نیشنلزم کا بول بالا ہوا۔ ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت اور ’دشمن‘ سے نفرت کا اظہار،قومیت کے اس نظریے کے دو اہم نکات تھے۔ مختلف اقوام نے قومیت کی تشکیل کیلئے مختلف طریقے استعمال کئے۔ تاریخ کو اس ضمن مےں خاص اہمیت حاصل رہی اور ہر قوم نے اپنا ایک بیانیہ مقرر کیا جس کے مطابق تاریخ کی نوک پلک درست کی گئی۔ پاکستان کے نامور مفکر اقبال احمد نیشنلزم اور اسکے نتیجےمیں تاریخ سے چھیڑ چھاڑ کو ایک سرطان سے عبارت کرتے تھے۔ عصر حاضر کے مفکر خالد احمد کے مطابق ’ریاست سرحدوں کا تقاضا کرتی ہے کہ اسے اپنی آبادی کے تحفظ کا خیال رہتا ہے لیکن سرحدوں کا اصل استعمال اپنی آبادی کو دوسری آبادیوں سے علیحدہ کرنے اور اور اس میں یکساں سوچ پیدا کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ فکری یکسانیت قومی یک جہتی کا لازمہ ہے اور اس پر استوار کی گئی اجتماعی پہچان ریاست کی بقا کو یقینی بناتی ہے۔‘ دیگر نو آبادیاتی ریاستوں کی طرح پاکستان نے بھی تقسیم ہند کے بعد ایک قومی بیانیہ تشکیل دیا۔ اس بیانیے کا ایک منفرد پہلو جغرافیائی سے زیادہ نظریاتی سرحدوں پر توجہ ہے۔ پاکستان کو اسرائیل کی طرز پر ایک Muslim Homeland سے تعبیر کیا گیا ۔ اس نظریاتی تشکیل کے باعث جغرافیائی حدود کے احترام کو ثانوی حیثیت سونپ دی گئی۔
جناب عامر ہاشم خاکوانی نے اپنے ایک حالیہ کالم مےں نصابی کتب میں پڑھائی جانے والی تاریخ پر سیکولر ، لبرل حلقوں کی یلغار کی دہائی دی ہے ۔ ان کے مطابق تاریخ ’مسخ‘ نہیں کی جا سکتی کیونکہ تاریخ بہر حال مختلف نقطہ ہائے نظر (Perspectives ) سے لکھی جاتی ہے ۔ ان کے مطابق نوعمر طلباء کو تاریخ کے مبادیات کی تعلیم دینا کافی ہے اور مختلف تواریخ کا تقابل اعلیٰ تعلیم کے دوران پڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ماضی قریب میں تاریخ پاکستان کا آغاز شہاب الدین غوری یا محمد بن قاسم سے کرنے کی بحث پر رائے دی کہ ہماری تاریخ میں اشوک یا چندر گپت موریہ یا بھگت سنگھ کی جگہ موجود نہیں اور ان کے وارث واہگہ کے اس پار آباد ہیں۔ قابل ذکر بات ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک جیسے امریکہ یا اسرائیل یا یوگوسلاویہ بھی اپنی نصابی کتب میں تاریخ کے چند اہم حقائق سے چشم پوشی کرتے ہیں اور پاکستان یا بھارت اس ضمن میں منفرد نہئں۔
اس بات سے قطع نظر کے پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے یا نہیں اور یہ کہ نظریاتی ریاست ہونا عصر حاضر مئں ایک باعث اعزاز ہے یا یاعث شرمندگی، نصابی کتب میں موجود تاریخ پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالیے تو معلوم ہو کہ ہم اپنے طلباء کو صریح جھوٹ پڑھا رہے ہیں۔ ہمارے بیشتر طلباءکو یہ بات معلوم نہئں کہ ہم ہندو سے نہئں بلکہ انگریز سے آزادی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ہمارے طلبا سرسید اور ان کی علی گڑھ تحریک سے تو واقف ہئں لیکن ان اصحاب کی ذات پات کی بنیاد پر تفریق سے ناواقف ہئں۔ آل انڈیا مسلم لیگ بنگال اور یو پی کے رﺅسا اور نوابوں کی جماعت تھی، عوامی سیاست سے اس کا دور دور تک کوئی واسطہ نہ تھا۔ علامہ اقبال کے خطبہ الہٰ آباد کے موقع پر جلسہ گاہ مئں پچاس سے بھی کم لوگ تھے اور مقامی مسلم لیگ کے عہدے داران زبردستی کچھ افراد کو جلسہ گاہ میں لائے تاکہ کارروائی کا باقاعدہ آغاز کیا جا سکے۔ جلیانوالہ باغ میں مارے جانے والوں میں ہندو، مسلم اور سکھ سب شامل تھے۔ جلیانوالہ باغ جیسا ایک واقعہ ایک دہائی بعد قصہ خوانی بازار مئں بھی پیش آیا تھا۔ بھگت سنگھ اور اسکے ساتھی مذہب کی بنیاد پر تفریق کے قائل نہ تھے۔ سبھاش چندر بوس کی آزاد ہند فوج میدان جنگ مئں برطانوی فوج کا مقابلہ نہ کر سکی لیکن اس کے سابق افسران کو دہلی مئں پھانسی نہ دی جا سکی۔ پاکستان کے قیام مئں دوسری جنگ عظیم کا کردار بھی ہمارے بیانیے سے عنقا ہے حالانکہ یہی وہ عرصہ ہے جب قرارداد لاہور منظور ہوئی اور مسلم لیگ نے برطانوی سرکار کو دوران جنگ اپنے تعاون کا یقین دلایا۔ ڈاکٹر امبیدکر اور پاکستان پر ان کے خیالات اس دور کی شاندار تحاریر میں شمار کیے جاتے تھے ۔ یو م راست اقدام کے نام پر کلکتہ مئں فسادات اور انکے نتیجے مئں شروع ہونے والی خون ریزی کا تذکرہ ڈھونڈے سے نہئں ملتا۔ لیکن یہ چند مختصر حقائق ہماری نصابی کتب میں تو کیا، ہمارے کالم نگاروں اور دانش وروں کی تحاریر میں بھی موجود نہیں۔ اگر قومی عمارت کی تعمیر نظریے کے گارے کی بنیاد پر کرنی ہو تو حقائق کا سریا بھلا کس کھاتے میں آتا ہے۔
خاکوانی صاحب نے نصاب کی تبدیلی کے موقع پر دائیں بازو کے دانش وروں کی خاموشی کو بھی موضوع بحث بنایا ہے ۔ اسے تجاہل عارفانہ کہہ لیجئے یا علمی بد دیانتی کہ پاکستان کی تشکیل کے بعد سے تعلیمی پالیسی تشکیل دینے اور اس پر اثر انداز ہونے کے باوجود دائیں بازو کی ’جدوجہد ‘ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ قرارداد مقاصد پر قانون ساز اسمبلی کی بحث ملاحظہ کریں یا جناح صاحب کے گیارہ اگست والے خطاب کے رد عمل کا مطالعہ کر لیں، ایک مخصوص نظریے کے علم بردار اس وقت بھی مقننہ مےں اپنی ڈفلی بجا رہے تھے۔ پرائمری سے لے کر یونیورسٹی سطح کی نصابی کتب پر طائرانہ نگاہ ڈالئے اور ہمیں بھی مطلع کیجئے کہ ان کتب میں بائیں بازو کے نظریات یا تاریخ کے سرکاری بیان کے علاوہ کوئی دوسرا پہلو موجود ہے یا نہیں۔ المیہ تو یہ ہے کہ بہتر تعلیمی نظام سمجھے جانے والے او۔ لیول کی کتب میں بھی ’نظریاتی مرچ مسالہ ‘ حسب ذائقہ موجود ہے۔ آئی ایچ قریشی، معین الحق اور ایس ایم اکرام نامی سرکاری ’تاریخ نویس‘ دائیں بازو ہی کی پیداوار رہے ہئں۔ عصر حاضر میں ڈاکٹر صفدر محمود جیسی متقی ہستی ہمیں نصیب ہوئی ہے۔ اخبارات میں انصار عباسی، اوریا مقبول جان، جاوید چوہدری اور متعدد کالم نگار ہمہ وقت ایک ہی راگ الاپتے ہیں لیکن فاضل مضمون نویس کی نگاہ وہاں تک رسائی نہیں پاتی۔ گزشتہ برس لاہور کے ایک سکول نے بین المذاہب مکالمے کا مضمون طلباء کو پڑھانے کی کوشش کی تو مبشر لقمان اور انصار عباسی صاحبان نے ذاتی دلچسپی سے اس منصوبے کو داخل دفتر کروایا۔ خیبر پختونخواہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے دور میں کچھ مثبت تبدیلیاں کی گئیں جن پر ’غیر ت بریگیڈ‘ نے خوب کہرام برپا کیا اور بالآخر جماعت اسلامی کی صوبائی حکومت نے نصاب میں ہونے والی تبدیلیاں ختم کرنے کا اعلان کیا۔
جان کی امان پاﺅں تو عرض کروں کہ نیشنلزم کے نام پر پاکستانی تاریخ اور بیانیے کا خمیر منافقت اور جھوٹ سے اٹھایا گیا۔ ہمارا بیانیہ ہمارے بچوں کے اذہان پر ایک غیر فطری احساس برتری مرتسم کرتا ہے، ’غیروں‘ سے دشمنی اور عدم اعتماد کی تعلیم دیتا ہے، جمہوریت سے نفرت سکھاتا ہے، حقائق سے مبرا تاریخ سے روشناس کرواتا ہے، ہمارے احساس محرومی کو ہوا دیتا ہے اور اپنی زمین کی بجائے نظریاتی سرحدوں میں الجھاتا ہے۔ تاریخ محمد بن قاسم سے شروع کر لیں، شہاب الدین غوری سے، شیخ احمد سرہندی سے یا سرسید احمد خان سے، ترکیب آپ کو یہی ملے گی، مواد مختلف ہو سکتا ہے۔ راقم کی ناقص رائے میں پاکستان کے بانی اس بات سے بے خبر (اور شاید بے نیاز بھی) تھے کہ معاشروں میں مذہبی اور فکری یکسانیت نافذ کرنے سے تنوع( Diversity) ختم ہو جاتا ہے اور جس دیس میں مختلف اقوام آباد ہوں، وہاں تنوع کے بغیر گزارہ ممکن نہیں۔ پنجابی، سندھی، پختون، بلوچ اور بنگالی کو ایک ہی لڑی میں پرونے کی کوشش کی گئی تو اس مشق کا نتیجہ ملک کے دو لخت ہونے کی صورت میں نظر آیا۔ باقی ماندہ پاکستان میں ایک نئی شناخت متعارف کروائی گئی لیکن یہ سعی ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکی اور اسکا نتیجہ محض ذہنی بوکھلاہٹ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *