پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی کشیدگی

Ahmed Rashid (b. 1948 in Rawalpindi) durچوبیس اکتوبر کو وزیر اعظم نواز شریف صدر باراک اوباما سے اہم ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات نہ صرف پاک امریکہ تعلقات کے مستقبل کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگی بلکہ پاکستانی وزیرِ اعظم ، مسٹر شریف ، کو ملک کے مستقبل کی غیر یقینی صورتِ حال سے نمٹنے میں بھی مدد دے گی۔ جب مغربی ممالک کے سیاسی رہنما اور فوجی افسران اپنے پاکستانی ہم منصبوں سے ملتے ہیں تو ہونے والی گفتگو میں افغانستان کا مستقبل یا پاکستان کی کمزور ہوتی ہوئی ریاست اور ان پر دھشت گردوں کے حملے سرِ فہرست موضوعات نہیں ہوتے، بلکہ وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر بات کرتے ہیں۔ ا س کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی جوہری ہتھیار بنانے کے پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھانے کی پالیسی ان کے ذہن میں بہت سے تشویش ناک سوال پیدا کرتی ہے۔
مغربی تجزیہ کاروں کے اندازے کے مطابق پاکستان کے پاس سو سے لے کر ایک سو بیس تک ایٹمی ہتھیار ہیں ۔ اس طرح غیر روایتی ہتھیاروں کی تعداد کی اعتبار سے پاکستان کو اپنے حریف ملک، بھارت، جس کے ساتھ وہ تین جنگیں لڑچکا ہے، پر برتری حاصل ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ بھارت کے پاس نوے سے سو کے درمیان ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کو میزائل پروگرام میں بھی برتری حاصل ہے ۔ اس کے پاس لانگ رینج میزائلوں کے علاوہ شارٹ رینج راکٹ اور جیٹ طیارے بھی ہیں جو غیر روایتی اسلحہ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جلد ہی پاکستان سمندر سے ایٹمی میزائل فائرکرنے کی صلاحیت بھی حاصل کرنے والا ہے۔ یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں اس وقت پاکستان دنیا میں سب سے تیزی سے چھوٹے ایٹمی ہتھیار، جو میدانِ جنگ میں استعمال ہوسکیں، بنانے والا ملک ہے۔ امریکہ نے چھوٹے سائز کے ایٹمی ہتھیار ، جو توپ اور ٹینک سے فائر کیے جاسکیں، پچاس کی دھائی میں بنالیے تھے ، تاہم اب پاکستان یہ صلاحیت کامیابی اورتیزی سے حاصل کررہا ہے۔
کرسٹو فر کلارے ’’US National Bureau of Asian Research‘‘ میں اپنے مضمون میں لکھتے ہیں...’’حالیہ برسوں میں ایٹمی ہتھیاروں میں ہونے والی سب سے اہم پیش رفت پاکستان کی طرف سے چھوٹے ہتھیاروں کی تیاری ہے جو میدانِ جنگ میں استعمال ہوسکتے ہیں۔‘‘مغرب ماہرین کے مطابق ایسے ہتھیاروں کے خطرات بہت مہیب ہیں۔ ان کے حوالے سے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ چونکہ یہ تعداد میں چھوٹے ہوتے ہیں اور بہت زیادہ تعداد میں بنائے جاتے ہیں، اس لیے ان کے چوری ہونے کا خدشہ لاحق رہتا ہے۔ چونکہ پاکستان میں بہت سے دھشت اور انتہا پسند گروہ سرگرمِ عمل ہیں، اس لیے یہ خطرہ اپنی جگہ موجود ہے کہ یہ چھوٹے ہتھیار ان کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر پاکستان اپنے حریف ملک کے ساتھ جنگ میں کسی موقع پر سمجھے کہ وہ شکست سے دوچارہونے والا ہے تو وہ یہ چھوٹے ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کرسکتاہے۔ یہ بات قابلِ فہم ہے کہ چونکہ بھارت ایک بڑا ملک ہے اور اس کی جنگی مشین بھی زیادہ طاقتور ہے، اس لیے غالباً پاکستان روایتی جنگ میں بھارت کا مقابلہ نہیں کرسکے گا۔ اس لیے جنگ میں کسی موقع پر وہ بھارت کی فوج کے ایک جگہ جمع شدہ دستوں پر ایٹمی حملہ کر سکتا ہے۔ تاہم اس کے ردِ عمل کے طور پر بڑے جوہری ہتھیاروں کا استعمال خارج ازامکان نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے کہ برِ صغیر ایٹمی جنگ کے شعلوں سے بھسم ہوجائے گا۔
چونکہ پاکستان ’’ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے ‘‘ کے معاہدے پر دستخط کرنے سے انکاری ہے، اس لیے جب بھی ان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے بادل گہرے ہوتے ہیں تو پاکستان بھارت کے ساتھ مکمل جنگ، جس میں اُسے شکست ہوسکتی ہے، سے بچنے کے لیے دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرلیتا ہے۔ ایک مغربی دفاعی ماہر کا کہناہے...’’بڑے جوہری ہتھیاروں کی نسبت چھوٹے ہتھیاروں کو استعمال کرنے کا فیصلہ کرنا آسا ن ہے۔‘‘دوسری طرف پاکستان کے افسران اپنے موقت کی حمایت میں بہت سے دلائل دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ دھشت گردوں نے ہوائی اڈوں، فوجی تنصیبات اور دیگر حساس مقامات کو نشانہ بنایا ہے لیکن وہ کسی بھی صورت جوہری ہتھیار نہیں چرا سکتے ہیں کیونکہ پاکستان ان کی فول پروف سیکورٹی رکھتا ہے۔ تاہم یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کی چوری کوئی ’’معمول ‘‘ کی بات نہیں ہے ، بلکہ ایسا واقعہ کبھی دنیا میں پیش ہی نہیں آیا ہے۔
دوسری طرف بھارتی فورسز کا رویہ بھی جارحانہ ہے۔ اُنھوں نے میدان جنگ کے لیے ایک منصوبہ تشکیل دے رکھا ہے جسے 'Cold Start,' کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی بھاری جنگی مشین سرعت سے حرکت کرے، او ر اس سے پہلے کہ پاکستان اپنی افواج کو متحرک کرسکے، بھارتی فورسز اسے شکست سے دوچار کردیں۔ دراصل پاکستان اور بھارت کا بارڈر اتنا طویل ہے کہ پاک فوج اسے ہر جگہ سے محفوظ بنانے کے وسائل نہیں رکھتی ہے، چناچہ اسے یہ خدشہ لاحق رہتا ہے کہ بھارت Cold Start,'‘ منصوبے پر عمل پیراہوسکتا ہے۔ تاہم بھارتی حکام تردید کرتے ہیں کہ ان کے ہاں ایسا کوئی جارحانہ منصوبہ نہیں بنا ہے۔ ان خدشات اور دوسری طر ف سے کی جانے والی تردید کی وجہ سے اس مسلے کا مذاکراتی حل دشوار ہے۔
اس وقت مغربی طاقتوں کے لیے یہ بات باعث تشویش نہیں ہے کہ ان دونوں ممالک کے درمیان جنگ چھڑ جائے گی، بلکہ اصل خطرہ یہ ہے کہ یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو زک پہنچانے کے لیے پراکسی جنگ لڑیں گے اور وہ کسی بھی ہاتھ سے نکل جائے گی اور حالات بے قابوہوجائیں گے۔ یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ ماضی میں پاکستان کے دفاعی اداروں نے جن انتہا پسند گروہوں کی سرپرستی کی تھی، اب وہ ان کے کنٹرول میں نہیں ہیں، اس لیے وہ کسی بھی وقت سرحد پر ایسی صورتِ پیدا کرسکتے ہیں جس سے ان دونوں ممالک کے درمیان جنگ چھڑ سکتی ہے۔ اسی طرح اندروں ملک کوئی دھشت گردی کی کاروائی ہو سکتی ہے، جیسے 2008 میں ممبئی حملے، جن میں ایک سو چھیاسٹھ کے قریب بھارتی شہری ہلاک ہوگئے تھے اور ان حملوں میں پاکستان کے لشکرِ طیبہ کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ اسی طرح بھارت بھی بلوچ علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کرتے ہوئے پاکستان کو زک پہنچارہا ہے۔ حالیہ ہفتوں کے درمیان کشمیر میں بھارتی افواج اور سول اہداف پر انتہا پسندوں نے حملے کیے ہیں، اور اس سے سرحدی تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔
پاک فوج کو یہ باور کرانا دشوار امررہا ہے کہ اُنہیں اصل خطرہ بھارت کی طرف سے نہیں بلکہ اس کی سرزمین پر پروان چڑھنے والی اسلامی جہادی تنظیموں کی طر ف سے ہے۔ دفاعی اداروں کو عوام، جن کی بڑی تعداد ایٹمی ہتھیاروں کی حمایت کرتی ہے، کی طر ف سے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ جب پاکستان کے پاس کافی بڑی تعداد میں جوہری ہتھیار موجود ہیں تو پھر مزید ہتھیارسازی کے پروگرام پر عمل کیوں کیا جارہا ہے جبکہ ان کی معیشت ڈگمگارہی ہے۔ دفاعی اداروں کے ترجمانوں کی طرف سے ان سوالات کا تسلی بخش جواب کبھی نہیں دیا گیا ہے۔ انڈیا اور پاکستان، دونوں ایٹمی ہتھیاروں پر بھاری رقم خرچ کرتے ہیں جبکہ اسی دوران سرحد کے دونوں طرف عوام کی ایک بڑی اکثریت غربت کی دلدل میں دھنسی ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے دفاعی ادارے عوام سے چھپاتے ہیں کہ ایٹمی پروگرام پر کتنی رقم خرچ ہو رہی ہے۔ پاکستان کا فروغ پاتا ہوا جوہری پروگرام اور انڈیا کا توسیع پاتا ہوا راکٹ اور میزائل پروگرام اس خطے نہ تھمنے والی اسلحے کی دوڑ ہے ۔یہ ممالک ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے ہیں۔ ان کے مہنگے ایٹمی پروگرام ان کی دگرگوں معاشی حالات سے مناسبت نہیں رکھتے ہیں، تاہم انہیںیہ بات کون سمجھائے ۔ اس وقت انٹر نیشنل سطح پر بھی کوئی سفارتی کوشش دیکھنے میں نہیں آرہی ہے جو انہیں اس خطرناک کھیل سے باز رکھ سکے۔تاہم امیدکی جانی چاہیے کہ اس وقت مغربی ممالک ، جو پاکستان کے چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں پر تشویش رکھتے ہیں، اس پورے معاملے کو دیکھیں گے اور ان دونوں ممالک ، جو اب تک تین مرتبہ ایٹمی جنگ کے قریب آچکے ہیں، پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور خطے کو جہنم بننے سے بچائیں۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *