جنہیں حاشیے پر رکھ کر بھلا دیا گیا۔۔۔

Tariq-Rahmanپاکستانی جھنڈے پر غالب سبز رنگ کے مقابلے میں چھوٹی سی سفید پٹی واضح دکھائی دیتی ہے مگر یہ سفید رنگ ہمارے شہروں میں خال ہی نظر آتا ہے۔ پاکستان کی آبادی میں مسلم اکثریت کا تناسب 96.28 فیصد ہے جبکہ بقیہ 3.72 فیصد میں 1.59 فیصد مسیحی، 1.85 فیصد اعلیٰ ذات ہندو، 0.33 فیصد نچلی ذات کے ہندو، 0.35 فیصد احمدی، 0.01 فیصد سکھ اور 0.03 فیصد دیگر اقلیتیں شامل ہیں جن کا تعلق پارسی، بہائی اور دوسرے مذاہب سے ہے۔تاہم آپ کو میرے یا دوسرے سکالرز کے مقالوں کی مدد سے پاکستان میں اقلیتوں کی زندگی کے بارے میں درست اندازہ نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا آپ کو 2012 میں 'ساؤتھ ایشین ہسٹری اینڈ کلچر' میں شائع ہونے والا میرا مضمون' مذہبی اقلیتوں کے حوالے سے پاکستان کی حکمت عملی اور اس پر عملدرآمد' پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے بجائے کچھ عرصہ قبل ویسٹ لینڈ لمیٹڈ کے زیر اہتمام شائع ہونے والی ہارون خالد کی کتاب 'اے وائٹ ٹریل' کا مطالعہ کیجیے۔ یہ ذاتی مشاہدے کے نتیجے میں لکھی گئی کتاب ہے۔ اس سلسلے میں وہ اقلیتی برادریوں سے ملے اور ان سے تفصیلی بات چیت کی۔اس کتاب میں انہوں نے اقلیتوں کی زندگی، میلوں ٹھیلوں اور خوشی غمی کا تذکرہ کیا ہے۔ کتاب پڑھ کر آپ کو اندازہ ہو گا کہ پاکستان میں اقلیتی فرد ہونے کا کیا مطلب ہے۔ مجھ جیسے لکھاریوں کے مضامین پڑھ کر آپ کو یہ اندازہ نہیں ہو سکتا کیونکہ ایسے مضامین بور کر دینے والے اعدادوشمار پر مشتمل ہوتے ہیں۔متذکرہ بالا کتاب بشریاتی موضوع پر کیا گیا بہترین کام ہے جس سے آپ کو لوگوں کی زندگی کے اندرونی گوشوں بارے آگاہی ملتی ہے اور اقلیتوں کی سوچ کا تفصیل اور گہرائی سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
ہارون خالد یہ تذکرہ ایک دکھ بھرے منظر سے شروع کرتے ہیں جب ملتان میں ایک چھوٹا سا لڑکا بھاگتا ہوا ایک ہندو عورت کے گھر آتا اور اسے آگاہ کرتا ہے کہ بھارت میں بابری مسجد کے انہدام پر مشتعل ہجوم اس کے خاندان کو قتل کرنے کے لیے آ رہا ہے۔ یہ لوگ افراتفری کے عالم میں جان بچانے کے لیے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں حالانکہ ان کا بابری مسجد کے انہدام سے کوئی لینا دینا تھا نہ ہی انہوں نے آج سے پہلے اس کا نام سنا تھا۔سرحد کے دونوں اطراف اقلیتوں کا یہی مقدر ہے۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ گجرات میں فسادات کے دوران مشتعل ہندوؤں کے جتھے دندناتے پھر رہے تھے تو خوفزدہ مسلمان خاندانوں کی کیا حالت تھی۔دہلی میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سکھ گھرانوں کو ایسی ہی تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم اس کے بعد ہارون خالد فنکارانہ چابکدستی سے ہمیں بھڑکیلے رنگوں میں لا کھڑا کرتے ہیں۔ ان مناظر میں ہمیں وہی عورت دیوالی اور ہولی کی خوشیاں مناتی نظر آتی ہے۔اچھی خبر یہ ہے کہ 2010 تک یہ تہوار کھلے عام نہیں منائے جاتے تھے مگر اب مصنف ملتان میں خوشیوں کے یہ تہوار دیکھتا اور ان کا تذکرہ کرتا ہے۔ زیادہ تر مسلمان ان تہواروں میں شرکت نہیں کرتے مگر بہت سے روادار لوگ ذاتی طور پر ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ ہم میں سے بیشتر لوگوں کو پاکستان کے بے پایاں ثقافتی اثاثے کے بارے میں پڑھنے یا آنکھوں سے دیکھ لینے تک اس کا علم نہیں ہو پاتا۔
بہاولنگر میں نورتری (نو راتیں) کا تہوار منایا جاتا ہے جس میں نو کنواری لڑکیاں ہندو دیوی درگا ماتا کا روپ دھارتی ہیں اور اس عرصہ میں ان سے دیویوں جیسا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ ایسے بہت سے دوسرے تہوار بھی ہیں مگر سرکاری اشارے پر طویل عرصہ سے اختیار کردہ عدم رواداری نے ان تہواروں کو گہنا دیا ہے۔ جب کبھی فرضی توہین مذہب کے انتقام میں قتل کی خبر سامنے آتی ہے تو اقلیتیں خوفزدہ ہو کر مزید لجاجت اختیار کر لیتی ہیں۔ ایسے میں جنونی جتھوں کے سامنے ان کی ویسی حالت ہوتی ہے جیسے بھیڑیے کے سامنے بھیڑوں کے گلے کا حال ہوتا ہے۔ان تمام باتوں کے باوجود زندگی آتے بڑھتی رہتی ہے اور مصنف مسیحی برادری کا رخ کرتا ہے۔ مسیحی کئی انداز میں امتیازی سلوک کا سامنا کرتے ہیں۔ ان میں ایک انداز اس قدر ہولناک ہے کہ شاید آپ کو اس پر یقین نہیں آئے گا۔ مثال کے طور پر کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں ایسے ریسٹورنٹ بھی ہیں جہاں عیسائیوں کو مسلمانوں والے برتنوں میں کھانا نہیں دیا جاتا؟ مجھے بھی اس بات کا علم نہیں تھا مگر مجھے یہ جاننے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔ یقیناً آپ کو علم ہو گا کہ بہت سے عیسائیوں کو جائیداد اور نجی نوعیت کے جھگڑوں یا معمولی غلط فہمی کی بنا پر توہین مذہب کا قصوروار ٹھہرا دیا جاتا ہے۔بشپ جان جوزف نے خودکشی کے وقت جو تحریر چھوڑی اس میں لکھا تھا کہ وہ ایوب مسیح کے خلاف توہین مذہب کا کیس بنائے جانے پر بطور احتجاج زندگی ختم کر رہے ہیں جسے جائیداد کے تنازعے میں غلط طور سے توہین مذہب کا ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔ بشپ کا خیال تھا کہ ان کی خودکشی کے نتیجے میں قانون تبدیل ہو جائے گا اور بے گناہ لوگوں کو توہین مذہب کا مرتکب قرار نہیں دیا جائے گا مگر ہمارے لوگ اس بارے میں مریضانہ حد تک جذباتی ہو چکے ہیں اور کچھ بھی نہ ہو سکا۔
یہ کتاب ہمیں لاہور میں ختم ہوتی پارسی برادری سے بھی متعارف کراتی ہے جس کے پاس کوئی مذہبی پیشوا نہیں ہے۔ اگر وہ روایتی انداز میں شادی کرنا چاہیں تو انہیں کراچی جانا ہوتا ہے یا پیشوا کو لاہور بلانا پڑتا ہے۔ اس برادری کا کوئی فرد وفات پا جائے تو مسائل اور بھی بڑھ جاتے ہیں۔ پارسی اپنے مردوں کو پرندوں اور جانوروں کے کھانے کے لیے رکھ دیتے ہیں مگر لاہور میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں ہے جس کے باعث پارسی اپنے مردوں کو دفن کرنے پر مجبور ہیں۔
یوں لگتا ہے کہ سکھ واحد برادری ہے جسے ریاست کی جانب سے دوسروں کی نسبت زیادہ تحفظ حاصل ہے۔ 1980 میں بھارتی حکومت کے خلاف خالصتان تحریک کے بعد سے پاکستانی ریاست نے سکھوں کو اپنی سرپرستی میں لے رکھا ہے۔ کتاب کے اس حصے میں بیان کردہ گرونانک کا یوم پیدائش اور وساکھی میلے کی تقریبات بھی نہایت دلچسپ ہیں۔ تاہم سکھوں کو بھی اکثریت کی جانب سے امتیازی سلوک کا سامنا رہتا ہے۔ ملک میں بہائی اور احمدیوں جیسی چھوٹی چھوٹی مذہبی اقلیتیں بھی موجود ہیں۔ احمدی برادری نے بخوشی پاکستان میں رہنے کو ترجیح دی تھی۔ کیا اس کے بعد بھی کچھ کہنے کی ضرورت ہے؟تو پھر بھارت میں مسلمانوں کا معاملہ اس سے مختلف کیسے ہے؟ ہارون خالد نے اس سوال پر بحث نہیں کی تاہم میں اس پر بات کرنا چاہوں گا کہ یہ اسی موضوع سے متعلق ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور پاکستانی اقلیتوں سے برعکس بعض بھارتی مسلمان اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔دوسری بات یہ کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی قوانین نہیں ہیں جبکہ پاکستان میں اقلیتوں سے متعلق قوانین میں خصوصی امتیاز دیکھا جا سکتا ہے۔ تیسرا نکتہ یہ ہے کہ بھارت میں توہین مذہب سے متعلق پاکستانی قوانین جیسا کوئی قانون نہیں جس کے بارے میں عوام اس قدر جذباتی ہوں۔ آخری بات یہ کہ بھارت میں روشن خیال اور انسان دوست حلقے اور عدالتیں مذہبی معاملات میں ہماری طرح ڈرپوک نہیں ہیں۔چنانچہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ آج بھارتی مسلمانوں کی نسبت پاکستانی اقلیتیں کہیں زیادہ برے حال میں ہیں۔ مگر بھارت میں شدت پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس موجود ہے اور اسی کے رہنما اس وقت برسراقتدار ہیں۔ بڑھتی ہوئی شدت پسندی کے تناظر میں پاکستان میں بھی معاملات کی سمت درست نہیں ہے۔ کیا ایسے میں ہمارے جھنڈے کا سفید رنگ عزت سے برقرار رہ پائے گا؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *