ایمبولینس سروس ۔۔۔ کارخیر کا وسیلہ

razia syedکل ہی اتوار کو بازار جاتے ہوئے ایک رکشے میں ڈرائیور کے جلے ہوئے جسم کو دیکھ کر میں نے اس سے اس حادثے کے بارے میں دریافت کیا تو اس ڈرائیور نے مجھے یہ بتایا کہ رکشہ چلانے سے پہلے وہ ایک ایمبولینس ڈرائیور تھے۔ ایک دن گاڑی میں آکسیجن سلنڈر پھٹنے کی وجہ سے نہ صرف ان کا جسم جھلس گیا بلکہ گاڑی کو بھی اس حادثے میں نقصان ہوا ۔ دیکھنے میں تو یہ ایک معمول کی بات لگتی ہے، میں نے لکھ دی اور آپ نے پڑھ لی، لیکن یہ ایک سنجیدہ پہلو رکھنے والی خبر ہے ۔
اس کے پیچھے ایک پوری سٹوری ہے کہ کیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ جان بچانے میں مدد دینے والوں کی جان کا بھی کوئی تحفظ ہے؟ ایک ایمبولینس ڈرائیور کی زندگی خطرات سے پر ہے کہ ایک جانب اسے کسی کی زندگی بچانے کی فکر بھی ہے تو دوسری جانب ایک رحم دلی کا جذبہ بھی ہے۔ ایک ذہنی کشمکش بھی ہے۔ دن رات لاشوں، مریضوں اور زخمیوں کے ساتھ سفر آسان بات نہیں، ایمبولینس ڈرائیور خود بھی ایک انسان ہے اس کے بھی احساسات ہیں لیکن کیا ہمارے ملک میں ان کے لئے کوئی تحفظ نہیں؟ ہمارا المیہ یہی تو ہے کہ ہم اپنے مسیحاؤں کو بھی بھول جاتے ہیں۔
حال ہی میں کراچی میں شدید گرمی کے باعث بہت سے افراد ہلاک ہوئے، کراچی کی دوکروڑ سے زائد آبادی کے لئے سرکاری سطح پر کوئی ایمبولینس نہیں، کراچی کے سٹی ناظم مصطفی کمال نے بھی ایک 1122ریسکیو سروس متعارف کروائی لیکن بعد ازاں اس کے بار ے میں بھی کچھ علم نہ ہوسکا ۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ہونے والے ہنگاموں سے ایدھی ایمبولینسیں بھی محفوظ نہیں رہیں۔ کراچی میں اس دوران ایدھی سنٹرز کی چالیس گاڑیوں میں سے اکیس کو نذر آتش کیا گیا اور باقی توڑ پھوڑ کا شکار ہوئیں ۔
دنیا بھر میں سب سے پہلی اور بڑی رضاکارانہ ایمبولینس سروس عبدالستار ایدھی کی ہے جس کا سالانہ بجٹ 5 ملین ڈالر ہے۔ یہ سروس پانچ سو گاڑیوں ، 3000 امدادی کمپیس، 13ایئر ایمبولینسز، 24 ہسپتالوں اور تین منیشات سے بچاؤ کے مراکز پر مشتمل ہے۔ اسی طرح دبئی میں دنیا بھر کی سب سے لمبی یعنی اٹھارہ میٹر طویل ایمبولینس سروس کا آغاز کیا گیا ہے، العربیہ کے مطابق یہ ایمبولینس وین اٹھارہ میٹر لمبی ہے اس میں بیک وقت چوالیس افراد کو طبی امداد دینے کی سہولت موجود ہے ۔ اس وین میں انٹر نیٹ، فیکس اور سیٹلائٹ کیمروں کی بھی سہولیات موجود ہیں جن کا مقصد ہنگامی حالات میں ماہر ڈاکٹروں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کرنا اور رپورٹس کا تبادلہ بھی ہے۔ اس کی چھت پر ایک ہیلی پیڈ بھی ہے تاکہ اگر کسی مریض کو یہاں سے منتقل کرنا ہو تو آسانی ہو۔
اگر ترقی یافتہ ممالک کی بات کریں تو لندن میں ایمبولینس سنٹر یورپ کا سب سے بڑا سنٹر ہے جو دریائے ٹیمز کے جنوبی ساحل پر واقع ہے یہاں دن میں کم ازکم اڑتالیس ہزار فون کالز موصول ہوتی ہیں۔ اس سنٹر میں 395 ایمبولینس ہیں، ساٹھ ایسی گاڑیاں ہیں جو ہنگامی صورت حال میں تیز رفتاری سے جائے حادثہ تک پہنچ سکتی ہیں ۔
ان سب باتوں کے باوجود ہمارے ایمبولینس ڈرائیورز کو کوئی تحفظ حاصل نہیں، ہنگامی صورت حال کا سامنا کبھی بھی کرنا پڑ سکتا ہے لیکن نہ تو ہماری ایسی گاڑیوں کی سروس بروقت کروائی جاتی ہے نہ ان میں سہولیات موجود ہوتی ہیں۔ ہمارا یہ وتیرہ بن گیا ہے کہ ہم ہر دکھ اور رنج میں دوسروں کو بھی تکلیف پہنچا کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔ کوئی جلسہ ہو یا جلوس ان کی وجہ سے ٹریفک بلاک ہوتی ہے اور مریضوں کی جان کو خطرہ ہوتا ہے، ایسے میں کچھ ہو جائے تب بھی سارا نزلہ ان بے چارے ڈرائیورز پر گرتا ہے۔ جب مریضوں کے لواحقین ہسپتال پہنچتے ہیں تو کبھی ان کو پریشانی میں یاد بھی نہیں رہتا کہ ان ڈرائیورز کو بھی ان کا معاوضہ دینا ہے۔کوئی ہنگامہ ہو جائے تو لوگ سب سے پہلے ایمبولینس جلاتے ہیں کہ ہم میں سے سب اپنی فرسٹریشن کا بدلہ ایک دوسرے سے لیتے ہیں، میں نے کئی ایسے ایمبولینس ڈرائیورز کو بھی دیکھا ہے جو اپنی معاشی مشکلات، دن بھر کی مشقت اور ذہنی پریشانی کے باعث نفیساتی مریض بن گئے ہیں، حادثات میں تیز گاڑی چلانا ، وین میں رونے کی آواز اور چیخ و پکار اچھے بھلے آدمی کی ذہنی صحت کو متاثر کر دیتی ہے۔ جان بچانے والا تو بے شک اللہ ہے لیکن یہ ڈرائیورز اس کار خیر کا وسیلہ ہیں اس وسیلے کو سلامت رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *