فراز اوج پہ پہنچے تو سرفرا ز ہوئے

ajmal jamiایک چودھری صاحب احباب کے درمیان دھوتی باندھے کھڑے تھے۔ ایک دو مزارعے بھی ہمراہ تھے۔ اچانک چودھری صاحب کو چھینک آ گئی۔ بڑے زمیندار تھے چنانچہ چھینک بھی زور دار تھی۔ اور پھر تلے اوپر دو تین چھینکیں ایسے غضب کی آئیں کہ فرط جوش میں چودھری صاحب کا تہمد خطا ہو گیا۔ چودھری صاحب کے اوسان خطا نہیں ہوئے۔ اطمینان سے دھوتی اٹھائی اور کمر کے گرد باندھتے ہو ئے شان بے اعتنائی سے بولے، ’’واہ اوئے یاد کرن والیا، اج تے اخیر کر دتی اے‘‘۔ پنجابی سے نابلد دوستوں کے لئے چودھری صاحب کے جملے کا مفہوم کچھ یوں ہو گا۔ ’’واہ میرے محبوب، یاد تو آپ پہلے بھی کرتے تھے۔ مگر آج تو اس شدت سے یاد فرمایا ہے کہ قیامت برپا کر دی ہے۔‘‘
جناب وجاہت مسعود صاحب کے بقول انہیں یہ پامال لطیفہ مظہر برلاس صاحب کا کالم "جرنیل پھر چھایا رہا" (آٹھ ستمبر روزنامہ جنگ) پڑھ کر یاد آیا۔ کیوں یاد آیا؟ چھوڑیئے صاحب، ہر بات کی تہہ تک جانا ضروری ہے کیا؟ اور پھر وجاہت صاحب نے کالم کا لنک پوسٹ کیا اور یوں معاملہ قاری کے حوالے ہو گیا۔
خاکسار کو یہ لطیفہ کیوں یاد آیا؟ ظاہر ہے کوئی ایسی ہی وجہ ہو گی جس کے کارن پامال لطیفہ یہاں ہو بہو کاپی پیسٹ کرنا پڑا، آٹھ ستمبر کو جناب مظہر برلاس کا کالم پڑھا ، ابھی اس کالم کا سرور جوبن پر ہی تھا کہ اگلے روز آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر جناب خالد پرویز صاحب کا پریم پتر نظر سے گزرا۔ دو صفحات پر مبنی اس خط کا عنوان ہے:
"ایک خط۔۔۔ شیر دل سپہ سالار افواج پاکستان جناب راحیل شریف کے نام"
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بندہ خدا! بھلا صدر انجمن تاجران پاکستان کو کیا سوجھی جو انہوں نے سپہ سالار افواج کے نام پورے دو صفحات کا خط لکھ ڈالا، جی ہاں۔۔! اس خط کا ایک ایک شبد قابل غور بلکہ قابل رشک ہے۔ جناب خالد پرویز صاحب سر دست اپنا مختصر تعارف سپہ سالار کی خدمت میں پیش کرتے ہیں، پھر یوم دفاع پر سپہ سالا ر کے خطاب کو جواں مردی، تدبر اور حب الوطنی کے لازوالے جذبے سے تعبیر کرتے ہوئے سلام عقیدت پیش کرتے ہیں، اور پھر اپنی تعریفی اسناد کا حوالہ دیتے ہوئے صدر آل پاکستان انجمن تاجران لکھتے ہیں، " جناب والا شان! میں ایک پبلشر ہوں، جس کا دل افواج پاکستان کی عقیدت اور قوم کے غریب ، محنت کش او بے وسیلہ والدین کے بچوں کو زیور تعلیم کے حصول میں آسانیاں پیدا کرنے کے جذبے سے معمور ہے، شہدا کی یاد میں پروگرام وضع کرنا اور انہیں خراج تحسین پیش کرنا میری اولین ترجیح ہے، افواج پاکستان کی وفاداری اور حب الوطنی کے نفس مضمون پر مشتمل کتاب " امن کی کتاب" میرے ادارے خالد بک ڈپو ، اردو بازار لاہور کو شائع کرنے کا اعزاز حاصل ہے، یہ کتاب ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں بلاقیمت تقسیم کی گئی ہے، کیونکہ خالد پرویز دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والوں کا جانثار ہے۔"
تعریفی اسناد پیش کرنے کے بعد صدر آل پاکستان انجمن تاجران شیر دل جرنیل کی توجہ ایک انتہائی اہم مسئلے کی جانب مبذول کرواتے ہیں، محکمہ ایف بی آر کی نالائقی اور افسران کی کرپشن کی رام کہانی بیان کرتے ہیں اور پھر وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا ذکر خیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ، "گزشتہ بجٹ میں وزرات خزانہ کی طرف سے ود ہولڈنگ ٹیکس کی بہیمانہ تلوار اس ملک کے محب وطن اور ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے تاجروں کی گردنوں پر رکھ دی گئی ہے، وزیر خزانہ میرے لیے قابل احترام ہیں لیکن انہوں نے اس سنگین مسئلے پر کوئی توجہ نہیں دی اور تاجر برادری کو آئے روز ہڑتال پر مجبور کیا جارہاہے۔'
آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ آخر جناب صدر آل پاکستان انجمن تاجران کو کیا سوجھی جو انہوں نے سپہ سالار افواج کے نام خط لکھ دیا، تو اس کی ایک وجہ شاید یہ ہو،
" یہی نہیں بلکہ ہمیں مختلف ذرائع سے ہراساں بھی کیا جا رہا ہے، اور ہمیں اپنے جائز موقف سے دستبردار کرنے کے لیے دھمکیاں دی جارہی ہیں، مجھے اور میرے بچوں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں، مجھے مجبور کیا جارہا ہے کہ میں ملک چھوڑ کر چلا جاؤں لیکن ایسا ہرگز ممکن نہیں، میں جان تو دے سکتا ہوں اپنی مادر وطن سے جدا نہیں ہو سکتا۔ میں یہ مٹی کیسے چھوڑ دوں ، اس میں میرے آباو اجداد اور کی آن پر قربان ہونے والے شہیدوں کا خون جذب ہے۔"
"امن کی کتاب " کے مصنف اور ناشر جانب خالد پرویز صاحب خط کے آخری حصے میں اصلی مدعا بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں ،
" جناب والا! اس ملک کی بہتری میں اٹھائے گئے کسی بھی قدم اور کسی بھی فیصلے کو خوش آمدید کہنا اور آپ (یعنی سپہ سالار ) کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا ہماری اولین ترجیح ہے۔ آپ کی پیشہ وارانہ مصروفیات سے انکار ممکن نہیں لیکن قوم اور ملک کے بہترین مفاد میں آپ سے ملاقات کے لیے چند منٹوں کی درخواست ہے، اس امید کے ساتھ کہ آپ کی جانب سے اس کو شرف قبولیت عطا کیا جائے گا۔ "
خط کے متن پر تبصرہ کرنے سے پہلے ہمیں فیض اور فراز کا ایک واقعہ یادآگیا، بقول خامہ بگوش، محترمہ سرفراز اقبال فیض اور فراز دونوں کی قدر دان تھیں۔ محترمہ پہلی مرتبہ فراز کے ذریعے فیض صاحب سے متعارف ہوئیں، کچھ عرصے بعد کراچی میں پہلی ملاقات ایک ہوٹل میں ہوئی، اس کے بعد خط و کتابت کا سلسلہ شروع ہو گیا، دوسری ملاقات پشاور کے ایک ہوٹل میں ہوئی، جہاں احمد فراز محترمہ کو اپنے ساتھ لے گئے تھے، اس ملاقات کا حاصل یہ مصرع تھا جو فیض نے ایک کاغذ پر لکھ کر اور اپنے دستخط کے ساتھ محترمہ کو پیش کیا:
"فراز اوج پہ پہنچے تو سرفراز ہوئے"
خیر چھوڑیے، وضاحت بھلا کاہے کو درکار، بہتر ہو گا کہ جناب خالد پرویز صاحب کے مطالبے پر مارکیٹوں میں حوالدار بٹھا دیئے جائیں کہ ٹیکس کا نظام کسی دھارے میں آسکے۔

پس تحریر :
(مبشر اکرم بٹ صاحب توجہ فرمائیں، اور مفت کا ایک مشورہ قبول فرمائیں اوروہ یہ کہ آئندہ سپہ سالار کے نام کھلا خط لکھنے سے پہلے صدر آل پاکستان انجمن تاجران خالد پرویز صاحب کے خط کو ذہن میں رکھتے ہوئے قلم اٹھائیں۔ شکریہ )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *