عالمی ساہوکاروں کے مشترکہ مفادات

jamil khanعالمی ادارہ خوراک کے ڈائریکٹر جنرل نے ایک تلخ اور بے رحمانہ حقیقت کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ دْنیا سے بھوک کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے حوالے سے سیاسی عزم اور ارادے کی کمی پائی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا میں بھوک کا سامنا کرنے والے اور انتہا درجے کی غذائی قلت سے دوچار انسانوں کی تعداد میں گذشتہ دَس برسوں سے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
یاد رہے کہ ایک دہائی قبل روم میں بھوک کے مسئلے پر منعقد ہونے والی سربراہ کانفرنس میں 2015ء تک پوری دْنیا میں بھوک کے شکار انسانوں کی تعداد میں نصف کمی کا ہدف طے کیا گیا تھا۔
عالمی ادارہ خوراک کا موقف درست ہے کہ بحران کسی بھی قسم کا اور کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو، دنیا بھر کی دولت پر قابض اکثر ممالک حیرت انگیز پھرتی اور اتفاق کے ساتھ اْس کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دہشت گردی، بینکوں کے بحران یا پھر موسمیاتی تبدیلیوں کے معاملے میں تو دولت مند ممالک فوراً حرکت میں آجاتے ہیں لیکن بھوک کے باعث لاکھوں افراد موت کا شکار ہو رہے ہیں، لیکن اس مسئلے کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی۔۔۔ایسے معاملات کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ہاں!یہ معاملہ سنگین تو ہے لیکن اِس کے لیے ابھی انتظار کیا جا سکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ عالمی اداروں اور گروپس میں بھوک سے بے حال انسانوں کی کوئی لابی نہیں، اْن کے حق میں کوئی آواز بلند کرنے والا نہیں۔
ترقی یافتہ ملکوں کی جانب سے یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ چونکہ دنیا کی آبادی انتہائی تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے اس وجہ سیکروڑوں انسانوں کو غذائی قلت کا سامنا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس وقت دنیا میں اس قدر غلہ موجود ہے کہ پوری دنیا کی آبادی روزانہ پیٹ بھر کر کھا سکتی ہے۔ بیلجیم کی ترقیاتی تنظیم فیان کے مطابق اصل مسئلہ اس کی تقسیم اور قوت خرید کا ہے۔ بہت سے انسان اس قدر غریب ہیں کہ موجودہ خوراک کو خریدنے کی استطاعت ہی نہیں رکھتے۔ ایسے ممالک جہاں لوگ بھوک کی وجہ سے موت کے منہ میں جا رہے ہیں، وہاں بھی کافی خوراک موجود ہوتی ہے۔ دنیا بھر کی ملٹی نیشنل کمپنیاں روزانہ ہزاروں ٹن خوراک ضائع کر دیتی ہیں تاکہ معاشرے میں طلب برقرار رہے اور وہ منافع کما سکیں۔
عالمی ادارہ خوراک نے حساب لگایا ہے کہ اگر ہم یہ چاہیں کہ 2050ء میں دنیا کے تمام انسانوں کی خوراک کی ضرورت پوری ہوسکے تو دنیا بھر میں غریب ممالک کے زرعی شعبوں کو سالانہ چوالیس ارب ڈالر کی امداد دینا ہو گی۔
یہ رقم بظاہر بہت بڑی معلوم ہورہی ہے لیکن یہ اْس رقم کا دَسواں حصہ بھی نہیں ہے، جو جرمن حکومت نے بینکوں کو بچانے کے امدادی پیکیج کے لیے گزشتہ سال مختص کی تھی۔ یعنی عالمی پیمانے پر پھیل رہی مفلسی اور بھوک کا خاتمہ متمول ریاستوں کے لیے ایسا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔۔۔ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کی آبادی بڑھ کر سات ارب ہوگئی ہے، جس میں سے بیس کروڑ سے زائد افراد بے روزگاری کی وجہ سے سخت مالی پریشانیوں کا شکار ہیں، دنیا کے ایک ارب سے زائد لوگ غذائی قلت، ایک ارب سے زائد لوگ پینے کے صاف پانی، جبکہ کروڑوں انسان ان بیماریوں میں مبتلا ہوکر موت سے ہمکنار ہورہے ہیں، جن بیماریوں کا علاج موجود ہے۔
پانچویں صدی عیسوی میں جب رومن امپائر کا نظام درہم برہم ہوا، تو یورپ کی تمدنی، سیاسی اور معاشی وحدت پارہ پارہ ہوگئی۔ جس نظام نے مختلف قوموں اور ملکوں کو باہم مربوط رکھا تھا وہ ٹوٹ گیا۔ اگرچہ رومی قانون رومی عالمگریت اور رومیوں کے سیاسی افکار کا ایک نقش تو اہلِ مغرب کے ذہن پر ضرور باقی رہ گیا جو آج تک موجود ہے، لیکن سلطنت کے ٹوٹنے سے یورپ میں ایک ایک جغرافیائی خطے کے کئی کئی ٹکڑے ہوگئے۔ کسی ایک ملک کے لوگ اور ایک زبان بولنے والے بھی اپنی کوئی وحدت قائم نہ رکھ سکے۔ ساری مملکت تقسیم در تقسیم ہو کر ایسے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں متفرق ہوگئی، جن کا انتظام مقامی رئیس اور جاگیردار سنبھال سکتے تھے۔ اس دور کو جاگیرداری نظام کا عہد کہا جاتا ہے اس میں بتدریج جو خصوصیات پیدا ہوئیں وہ آگے چل کر سختی کیساتھ منجمد ہوتی چلی گئیں۔ جاگیردارانہ نظام ایک زینے کی سی شکل اختیار کرگیا تھا جس کی ہر سیڑھی پر بیٹھنے والا اپنے سے اوپر والے کو آقا اور اپنے سے نیچے والے کو اپنا غلام بنا لیا تھا۔ سب سے اعلیٰ طبقے میں والی ریاست کے خاندان کے افراد شامل تھے، یہ جب چاہتے اور جس کسی پر چاہتے اپنی طاقت کا زور آزما سکتے تھے۔
آج دنیا میں جو اقتصادی نظام رائج ہے اس کو سرمایہ دارانہ نظام کہتے ہیں، جس کا محور دولت کا حصول اور اس کا ارتکاز ہے۔ یہ نظام بھی دنیا بھر کے انسانوں کے مسائل حل کرنے میں ناصرف ناکام رہا ہے بلکہ اسی نظام کی وجہ سے بے انتہا مسائل پیدا ہوئے ہیں۔
سرمایہ دارانہ نظام کی خرابیوں میں دولت کا ارتکاز، غریب اور امیر کے درمیان بے انتہا فرق اور تفاوت، بے روزگاری میں اضافہ، مال کی بے تحاشہ تیاری مگر عام لوگوں کی قوت خرید میں کمی، مال اور غلّے کو قصداً فائدے اور نفع کے لیے برباد اور تباہ کرنا شامل ہیں۔۔۔یہ نظام مالدار افراد، ریاست، سوسائٹی اور مالدار طبقے غرضیکہ کسی کو بھی لاکھوں کروڑوں انسانوں کی کفالت کاذمہ دار نہیں ٹھہراتا۔۔۔اس نظام کے کارپردازوں کو کوئی روکنے والا نہیں اور وہ مصنوئی طریقے سے قیمتوں کو بڑھاتے اور قحط جیسی صورتحال پیدا کردیتے ہیں، اپنے فائدے کے لیے بے تحاشہ مال تیار کرتے ہیں خواہ معاشرے کو اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو، تجارت اور عام کاروبار زندگی میں حد سے زیادہ سود اور سودی نظام بروئے کار لاتے ہیں۔۔۔ قومی اداروں کی نجکاری، گلوبلائزیشن اور اس کے علاوہ ایسے بے شمار خرابیاں ہیں جو سرمایہ دارانہ نظام کی دین ہیں۔
جدید معاشی علوم کے بانی آدم اسمتھ کا کہنا ہے کہ۔۔۔
’’کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ جب بہت سے کاروباری لوگ کہیں ایک ساتھ جمع ہوں اور ان کی یہ مجلس عام لوگوں کے خلاف کسی سازش اور قیمتیں چڑھانے کے لیے کسی قرار داد پر ختم نہ ہو۔ حد یہ ہے کہ تقریبات تک میں مل بیٹھنے کا جو موقع مل جاتا ہے اس کو بھی ان میں سے بہت سے حضرات اس جرم سے خالی نہیں جانے دیتے۔ ‘‘
سابق امریکی صدر ابراہیم لنکن نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ۔۔۔ ‘‘قرضوں اور سودی نظام کو اگر جاری رکھا گیا تو ریاست ساہوکاروں کے قبضے میں آجائے گی ۔۔۔’’
آج دنیا کی پچپن فیصد اقتصادیات پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کا قبضہ ہے اور وہ دنیا کی سیاست کا رْخ اپنے مفاد کی تکمیل کے لیے جدھر چاہتے ہیں موڑ دیتے ہیں۔ اس ظالمانہ نظام کی وجہ سے گزشتہ چار سالوں میں پانچ کروڑ افراد روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ امریکہ میں گزشتہ بارہ مہینوں میں ہزاروں پرچون فروشوں نے اپنے اسٹورز بند کردیے اور اس سال مزید پانچ ہزار اسٹورز کے بند ہونے کا امکان موجود ہے۔ ایک معاشی تجزیہ نگار رشرڈ کہتے ہیں کہ امریکہ میں اگلے بارہ سے اٹھارہ مہینوں میں دو لاکھ ملازمتیں ختم ہوجائیں گی۔ گارڈین کے ایک آرٹیکل کے مطابق 2011ء کی دوسری اور تیسری سہ ماہی میں اقتصادی شرح نمو ڈھائی فیصد سْست رہی، بینک آف جاپان کے مطابق جاپان میں اقتصادی بحالی رْک گئی، جبکہ گزشتہ پانچ مہینوں کے دوران یورپی یونین میں پیداورای سرگرمیاں نہایت سْست پڑ گئیں۔
ایک یورپی تجزیہ نگار بلومبرگ کے مطابق آئندہ کچھ برسوں میں فرانس کی اقتصادیات کا پہیہ بالکل رْ ک سکتا ہے۔ اندیشہ ہے کہ برطانیہ میں ایک گیلن پٹرول کی قیمت دس ڈالر تک پہنچ جائے گی، برطانیہ جو بائیس ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں آٹھویں نمبر پر ہے،میں بے روزگاری کی شرح بیس فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ سال کے چوتھے سہ ماہی میں اسپین کی اقتصادیات کمزور پڑگئی تھی، وہاں غیر پیداواری قرضے گزشتہ سترہ سالوں میں سب سے زیادہ رہے اور بیروزگاری کی شرح 18 فیصد رہی۔۔۔یورپ کے دوسرے ممالک کی طرح یونان بھی انتہائی اقتصادی بد حالی کا شکار ہے جہاں پر بے روزگاری کی شرح چالیس فیصد اور ایک تہائی لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ڈیلی میل کے مطابق یونان میں ہزاروں والدین اپنے بچوں کو غربت کی وجہ سے ویرانے پر چھوڑ جاتے ہیں۔
اب بات صرف غریب اور ترقی پذیر ممالک کی نہیں رہی بلکہ اب تو ترقی یافتہ اور خوشحال ممالک بھی قرضوں تلے دبتے جارہے ہیں۔ اس وقت امریکہ اور جاپان کا بیرونی قرضہ تین ہزار ارب ڈالرز۔۔۔اٹلی، جرمنی اور فرانس مجموعی طور پر چارسو ارب ڈالرز۔۔۔کینیڈا اور برطانیہ بیس ارب ڈالرز۔۔۔
امیر ترین ممالک میں رہنے والے امیر ترین افراد دنیا کی کل آبادی کا 0.000008 فیصد ہونے کے باوجود عالمی مجموعی پیداوار کا 7 فیصد یعنی پینتس کھرب امریکی ڈالرز سالانہ کما لیتے ہیں۔ کم آمدنی اور کم وسائل یافتہ ممالک میں دو ارب چالیس کروڑ افراد آباد ہیں، جن کی کل آمدنی کا تخمینہ سولہ کھرب امریکی ڈالرز یعنی جی ڈی پی کا صرف تین اعشاریہ تین فیصد ہے۔ درمیانے درجے کی آمدنی کے حامل ممالک میں بسنے والے تین کھرب افراد سو کھرب امریکی ڈالرز یعنی جی ڈی پی کا بیس اعشاریہ سات فیصد کمارہے ہیں۔ کم آمدنی والے ممالک میں رہنے والے دو ارب چالیس کروڑ افراد غیر ملکی تجارت کا صرف دو اعشاریہ چار فیصد حاصل کر پاتے ہیں۔
دنیا کے کل امیر ترین افراد کی تعداد کا اندازہ 83 لاکھ کے قریب لگایا جاتا ہے۔ دنیا کے طول وعرض میں پھیلے ان امیر افراد کی دولت میں گزشتہ سال آٹھ اعشاریہ دو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آج سے پانچ برس پہلے ان افرادکی کل دولت میں تین سو آٹھ کھرب امریکی ڈالرز کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کل انسانی آبادی کا صفر اعشاریہ ایک تین فیصد دنیا کے وسائل کے پچیس فیصد پر تصرف رکھتا ہے۔
دنیا کے امیر ترین افراد اور ممالک غریبوں کی امداد کے نام پر دیے جانے والے ہر امریکی ڈالر کا پچیس فیصد قرض کی مد میں واپس لے لیتے ہیں۔ امداد، عالمی قرضہ جات اور بین الاقوامی سرمائے کی گردش کے کھیل میں قابلِ توجہ پہلو یہ ہے کہ دنیا کے تمام مقروض ممالک قرضوں کی واپسی کے لیے اپنے عوام کی جیبوں سے سرمایہ کشید کرنے کی غیر انسانی سرگرمی میں مبتلا ہیں۔ حالانکہ عوام کے نام پرلیے جانے والے عالمی قرضوں اور امداد میں عوام کی مرضی، ضرورت اور اختیار کا کوئی دخل نہیں ہے۔ قرضے حاصل کرنے کی شرائط نہ تو عوام کی تائید کے ساتھ طے کی جاتی ہیں اور نہ ہی قرضوں کی رقم اور وسائل کو عوام تک پہنچانے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی جاتی ہے۔ حکمران طبقات قرضے وصول کرتے ہیں اور عوام قرضوں کی قسطیں ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غربت میں کمی اور بھوک کے خاتمے کی بین الاقوامی سرگرمیوں پر اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کے باوجود نہ تو غربت میں کمی کے کوئی واضح آثار نظر آ رہے ہیں اور نہ ہی بھوک کے خاتمے کا ہدف پورا ہوتا نظر آتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *