جنرل کیانی ، ایک تاریخی کردار یا عام جنرل !

babar sattarتاریخ جنرل کیانی کو کن لفظوں میں یاد رکھے گی؟ کیا وہ ایک ایسے آرمی چیف کے طور پر یاد رکھے جائں گے جو ہر لحاظ سے ایک مکمل فوجی ہی تھے یا وہ ایک ایسے عظیم جنرل کے طور پر یاد رکھے جائیں گے جنہوں نے پاکستان کواس وقت لڑکھڑانے سے بچایا جب یہ ملک بحرانوں میں گِھرا ہوا تھا! یا پھر لوگ اس لیے انہیں یاد رکھیں گے کیونکہ انہوں نے اس وقت فوجی بغاوت سے اجتناب کیا جب بہت سے لوگ ان کو اکسا رہے تھے اور جمہوری حکومت کی نا اہلی کے باوجود فوج اور حکومت کے تعلقات میں کوئی دراڑ نہ آنے دی۔
جنرل کیانی ایک ملنسار آدمی ہیں اور وہ زندگی کے تاریک اور روشن پہلوؤں سے واقف ہیں۔ وہ دوسروں سے اس لیے بھی مختلف ہیں کہ وہ مطالعہ کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت موجود ہے۔وہ یہ بات بھی جانتے ہیں کہ بلاضرورت بولنے سے خاموش رہنا زیادہ بہتر ہے ۔ ان دو خصو صیات کی وجہ سے انہوں نے اپنے کیرئیر کو بہترین طریقے سے گزارا۔لیکن کیا یہ ہمارے دور کی ستم ظریفی نہیں کہ کسی شخص کے غور و فکراورمصلحت پسندی کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اس کولیڈر تسلیم کیا جائے
کہتے ہیں کہ جو لوگ صحیح وقت میں صحیح جگہ موجود ہوں وہ خوش قسمت ہیں ۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو جنرل کیانی ایک خوش قسمت انسان ہیں۔وہ اس وقت پاور میں آئے جب مشرف کے لگائے گئے زخم ناسور بنتے جا رہے تھے۔ پاک فوج کے لیے ان کی آمد ایک خوشگوار ہوا کا جھونکا تھا۔دوسری جانب وہ اس وقت فوج کو کمان کر رہے تھے جب زرداری حکومت میں تھے اور کسی بھی صورت میں حالات بہتر نہیں تھے لیکن وہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کومنوانے میں کامیاب رہے۔لہذا جنرل کیانی کو اس لیے بھی یاد رکھا جائے گا کہ انہوں نے دگرگوں حالات کے باوجود کوئی غلط قدم نہیں اٹھایا۔
جنرل کیانی کو اکتوبر2004ء میں ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کیا گیااور تین سال بعدنومبر 2007 ء کووہ مشرف کی جگہ آرمی چیف بنے۔ دوسرے لفظوں میں وہ گزشتہ نو سال سے کمان کر رہے ہیں (کور کمانڈر ٹین کور اور ڈی جی ایم او کے ادوار اس کے علاوہ ہیں)اور اس عرصے میں بہت سے بڑے واقعات رونما ہوئے۔پاکستان کو محفوظ ملک بنانے ،فوج کے سربراہ کی حیثیت سے ادارے کی ساکھ کو بہتر بنانے اورقانون اور جمہوریت کی مضبوطی میں جنرل کیانی کا کیا کردار ہے ؟ذیل میں اس کا ایک جائزہ پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
سب سے پہلے ، جب دس سال پہلے جنرل کیانی منظر عام پر آئے تو کیا ہم اندرونی اور بیرونی طاقتوں سے نیشنل سکیورٹی کو لاحق خطرات کا دفاع کرنے کی پوزیشن میں تھے؟
عام تاثر یہ ہے کہ اب ہمارے ملک اور معاشرے کو دہشت گردوں سے جو خطرہ ہے وہ پہلے کبھی نہیں تھا۔ یہ خطر ہ پچھلے کئی سالوں سے پروان چڑھتا رہا۔کیا یہ صحیح ہے کہ جنرل کیانی ایک دہائی تک قومی سلامتی کے اداروں کا سربراہ ہونے کے باجود تمام تر الزام حکومتی پالیسیوں پر ڈال دیں۔
سوات میں فوج کا کردار بہت مثبت رہا لیکن اگر اپریشن کا مقصد دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ تھا تو جنوبی وزیر ستان کی صفائی کے بعد شمالی وزیرستان کوکیوں چھوڑ دیا گیا۔اگر ریاست کے باغی ہمارے نیشنل سیکیورٹی کے لیے زہرِ قاتل ہیں تو کیوں ان کو چھوٹ دی گئی؟ دوسرے لفظوں میں اگر پچھلے تیس سال کے دوران غلط حکومتی پالیسی پاکستان کے اندردہشت گردوں کے فروغ کا باعث بنی توکیانی کی سربراہی میں کتنی بار فوج نے اس پالیسی پر نظر ثانی کی؟اور جنرل کیانی کے ادوار میں سیکیورٹی اور خفیہ اداروں کی ناکامی کا ذمہ دار کون ہے؟ انتہائی شرمناک واقعات جیسا کہ جی ایچ کیو پر حملہ ، ایبٹ آباد اپریشن اور سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ جس میں فوج کے 24جوان شہید ہوئے، یہ تمام جنرل کیانی کے دور میں ہوئے ۔ ان تینوں واقعات سے دو باتیں واضح ہو گئیں۔ ایک یہ کہ ریاستی اداروں پر سے عوام کا اعتماد اٹھ گیا اور دوسری بات یہ کہ ہر بارفوج کاموقف یہ رہا کہ یہ واقعات کسی ساز باز کا حصہ نہیں بلکہ ہماری نالائقی کی وجہ سے رونما ہوئے۔
ہمارے سول اداروں کی نسبت فوج میں ڈسپلن موجود ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فوج میں پروموشن میرٹ کی بنیاد پر کی جاتی ہے اور ہر آدمی اپنے کیے کا ذمہ دار ہے۔ فوجی قانون کے مطابق اگر کسی کمانڈر کے زیر نگرانی کام کرنے والے فوجیوں سے بھی کوئی غلطی ہو جائے تو بحیثیت سربراہ اس کا ذمہ دار کمانڈر ہوتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو کیا جنرل کیانی نے ان قوانین کی پیروی کی؟ کیا انہوں نے جی ایچ کیو حملے کے بعد وہاں کے سکیورٹی آفیسرز کو ترقی نہیں دی؟ کیا انہوں نے اس وقت جنرل شجاع احمد پاشا کی حمایت نہیں کی جب اسامہ بن لادن پاکستان میں پائے گئے اور دوسرے ملک کے کمانڈو پاکستان آرمی اکیڈمی کے پاس آکر فوجی اپریشن کر کے چلے گئے اور ہماری فوج کو پتہ بھی نہیں چلا۔اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو جنرل کیانی نے فوج میں ایک روایت کی بنیاد رکھی کہ اگر کسی کام میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے تو یہ کسی دوسرے کی غلطی ہوگی۔جنرل کیانی نے اس نظریے کو بام عروج تک پہنچایا کہ طاقت آپ کے ہاتھ میں ہونے کے باوجود کسی غلطی کی ذمہ دار ی نہ لیں۔ کیا وہ ڈی جی آئی ایس آئی نہیں تھے جب لال مسجد کا واقعہ پیش آیا جو کہ ان کے دفتر سے چند قدم کے فاصلے پر واقع ہے۔ کیا وہ ان مذاکرات میں شامل نہیں تھے جب بے نظیر اور مشرف کے درمیان این آراو کا ڈیل ہو رہا تھا۔اگر 2009ء میں ان کے حکم پر جج بحال ہو سکتے ہیں تو 9نومبر2007 کو وہ خاموش کیوں رہے جب انہی ججوں کو گرفتار کیا جا رہا تھااور چیف جسٹس دو سال تک بر طرف رہے۔
جنرل کیانی نے آرمی کی روایات کے بر عکس تین سال کی توسیع قبول کی۔پاکستان کو نیشنل سکیورٹی کے ڈراؤنے خواب سے باہر لانے کے لیے انہوں نے کئی اپنے ما تحتوں کے سامنے اپنا وقار کم کیا لیکن تین سال بعد دکھا نے کے لیے ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔اگر تاریخ میں جنرل کیانی یاد رکھا جائے گا تو صرف ایک عام جنرل کی حیثیت سے ،جنہوں نے ملک کو درپیش مسائل کو اپنا امیج بہتر بنانے کیلئے ہی استعمال کیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *