مسلمانوں اور یورپی باشندوں میں سمٹتے فاصلے

raza-rumi-اسلام مغربی تہذیب کے مقابلے کی سکت نہیں رکھتا۔یہ بات ہم نے نئی فلم’جرنی اِن ٹو یورپ‘ کے شروع میں سنی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مغربی یورپ میں اس مسئلے پر کافی غور وخوض جاری ہے۔ فلم میں مسلم سپین سے لیکر کر خلافت عثمانیہ اور پھر نوآبادیاتی عہد سے لے کر بیسویں صدی میں مسلمانوں کی یورپ کی جانب ہجرت سمیت مختلف ادوار کی جھلک دکھائی گئی ہے۔

یہ فلم ایک ایسے وقت میں منظر عام پر آئی ہے جب سیاسی اور ثقافتی اعتبار سے ’اسلامو فوبیا‘ یعنی مسلم دشمنی اپنے عروج پر ہے اور دوسری طرف مسلمان انتہا پسنددنیا کے مختلف حصوں میں اپنی سیاسی قوت بڑھانے اور ذاتی ایجنڈا نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان پسنے والی مسلمانوں کی اکثریت اگرچہ ایک عقیدے کی حامل ہے مگر مذہب کی تشریحات اور سیاسی جہات میں ان میں ہم آہنگی کا شدید فقدان ہے۔ مسلمانوں میں یہ تنوع ایک نظر انداز کی گئی حقیقت ہے۔ اس کا اندازہ اسلام اور اس کے پیروکاروں کی ’سادہ و رنگیں تاریخ حرم ‘سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

فلم ’جرنی اِ ن ٹو یورپ‘ کی صورت میں امریکن یونیورسٹی میں اسلامی اسٹڈیز کی ابن خلدون چیئر کے سربراہ ڈاکٹر اکبر ایس احمد کی یہ کاوش یورپ کے حالیہ بحرانوں سے بہت مربوط ہے۔ پیو ریسرچ سنٹر کی تحقیق کے مطابق مسلمان آبادیوں کے حامل یورپی ممالک میں ایک خاص قسم کی تشویش پائی جاتی ہے۔خاص طور پر 2011ء کے بعد سے یہاں کے باشندے مسلم انتہا پسندی کے بارے میں بہت فکر مند ہیں۔ مثال کے طور پر فکاہی میگزین چارلی ہیبڈو کے ملازمین کے قتل کے بعدفرانس کی کل آبادی کے دو تہائی لوگ مسلم انتہا پسندی سے خوف زدہ پائے گئے۔سپین میں61،اٹلی ،امریکا اور جرمنی کی قریب نصف آبادی کو انتہاپسندوں کی دھمکیوں کا خوف لاحق ہے۔ یورپی عوام کے خدشات میں ماضی قریب میں بے حد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اس فلم میں یورپ میں مسلم دنیا کی مختلف جہات سے پردہ اٹھایا گیا ہے اوراس کے یورپین تاریخ اور تہذیب پر قابل ذکر اثرات کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔فلم میں اعلی پائے کے ماہرین اسلام کے ماضی اور موجودہ صورحال پر بات کر رہے ہیں۔ اس میں غیر جانب دار اور واضح افکار کے حامل یورپی شہریوں نے اپنے خیا لات کا اظہار کیا ہے۔فلم کا اہم ترین حصہ وہ ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ اندلس سمیت کئی جگہوں میں مختلف عقائد رکھنے والے باشندے کیسے ہم آہنگی سے رہتے تھے۔ ( La Convivencia) ایک ہسپانوی اصطلاح ہے جس کا مطلب ’مل جل کر رہنا‘ ہے۔ سپین کی تاریخ میں اس سے مراد آٹھویں صدی سے لے کر پندرھویں صدی تک کا دور ہے جب مسلمانوں نے یہاں حکومت کی۔ فلم میں اس زمانے کے تقابلی بیانیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ وہاں خیالات کے اختلافات کے باوجود اچھا نظام تھا۔ سپین میں بہت سے لوگ اس زمانے کو مذہبی روادری کا اچھا زمانہ سمجھتے ہیں۔

مسلم سپین علمی، سائنسی اور ادبی کاوشوں کے اعتبار سے مسلم تاریخ کا سنہری دور تھا۔ اس زمانے میں جو کام ہوا خاص طور پر ابن رشد کے علمی سرمائے کے تراجم نے یورپ میں علمی اداروں کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ فلم میں ایک اسکالر کے بقول کئی مسلمان مفکرین نے اس دور میں یہودی تحریروں کو متاثر کیا خاص طر پر گرائمر کے قواعد کے حوالے سے۔ یہ حقیقت ہے کہ سائنس،کلچر،فلاسفی اور موسیقی کے میدانوں میں بڑے پیمانے پر ترقی ایک سازگار ماحول اور حکومت کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں ہے تاہم فلم موجودہ عدم برداشت کے رویے کو پھر بھی نظر انداز کر گئی۔تاہم ابن رشد کو کئی دوسروں کی طرح اپنے عقلی استدلال پر مبنی خیالات کی وجہ سے تکلیفیں پہنچائی گئیں۔

اس فلم میں یورپین باشندوں کو دوحصوں میں تقسیم دکھایاگیا ہے۔ ایک طبقے کا خیال ہے کہ مسلمان مغربی تہذیب کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں جب کہ دوسرا گروہ اپنے ہم وطنوں کے ساتھ فکری اختلافات کو احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ بعض تو اس بات کاکھلے بندوں اظہار بھی کرتے ہیں کہ یورپ کی موجودہ ترقی یافتہ تہذیب کی نقش گری میں مسلمانوں کا بڑا حصہ ہے۔ ان کے بقول مسلمانوں نے فلاسفی، طب اور سائنس میں نئے خیالات پیش کیے۔ یورپ میں مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ1492ء میں ہوا اور اس کے بعد یورپی زندگی پر مسلمانوں کی اثرات کو ختم کرنے کی شعوری کوششیں بھی کی گئیں۔ پھر سپین کے مسلمانوں کو تکلیفیں پہنچانے اور ذلیل کرنے کا سلسلہ چلا۔ انہیں ’مورادو‘ کہہ کر پکارا جانے لگا۔

گزشتہ برسوں میں دہشت گردی کی وجہ سے مسلم کمیونٹی کے خلاف پروپیگنڈہ کافی بڑھا ہے اگرچہ دہشت گردی کے ان واقعات کے پیچھے سیاست اور اقتدار کے عناصر کارفرما رہے ہیں۔ان واقعات کا منفی اثر پوری دنیا کے مسلمانوں پر پڑا ہے۔ اس طرح نسل پرستی،بنیاد پرستی اور مظلومیت کے مختلف بیانیوں کا ایک سلسلہ چل نکلا۔ اس فلم کا بنیادی پیغا م یہ ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ مل جل کر ہی ان کے خدشات اور مسائل کو سمجھا جا سکتا ہے۔ مستقبل میں ایسے مسلمان رہنماؤں کو تلاش کیا جائے جو بنیاد پرستی کو چیلنج کرتے ہوئے مغربی معاشرے کے ساتھ انضمام کو فروغ دے سکیں۔

دوسری جانب یورپی ریاستوں کو ان اسباب کی کھوج کرنا ہو گی جن کی بنیاد پر یہ مختلف اقوام تشدد پسندی کی جانب بڑھ رہیں ہیں اور تشدد کے بیانیوں کا حل بھی خود ہی تلاش کرنا ہو گا۔ مذہبی رہنماؤں خصوصاً ایک یہودی ربی نے اس نکتے پر زور دیا کہ اس فلم نے ان تمام مفروضات کو پاش پاش کر دیا ہے جو دوسرے مذاہب سے دشمنی رکھنے والے مسلم انتہا پسندوں نے پھیلائے ہیں۔‘ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ فلم میں انتہا پسند علماء کے کردار اور اثرات کو نمایاں نہیں کیا گیا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کی ان کے سیاسی افکار کی وضاحت کے حوالے سے نااہلی کو بھی نظرانداز کیا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ ڈاکٹر احمد نے کوتاہیوں کی نشاندہی کرنے کی بجائے ماضی اورحال کے بیچ میں ربط قائم کرنے پر زیادہ توجہ دینا چاہی ہو۔آرچرڈ بشپ آف کینٹربری ڈاکٹر آرچرڈ بشپ نے فلم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ’جرمنی اِن ٹو یورپ‘ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کہ مختلف اقوام کے درمیان کئی قسم کے خدشات پائے جاتے ہیں۔‘

اس فلم کی بڑے پیمانے پر تشہیر یورپ میں مسلمانوں کے بارے میں پائے جانے والے خیالات کو متاثر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔دائیں بازو کے خدشات کے علی الرغم حال ہی میں شامی تارکین وطن کی یورپ میں قبولیت بھی اسی سلسلے کی ایک مثبت پیش رفت ہے اور اس اقدام سے یورپ کی روشن اقدار بھی واضح ہوئی ہیں۔ فلم ’جرنی اِن ٹو یورپ‘نے اسلامو فوبیا اور بنیاد پرستی کے حوالے اٹھنے والی آوازوں کے برخلاف اسلام اور مغرب کے مابین دیر پا اور مستحکم سمجھوتے کے امکان کی جانب توجہ دلائی ہے۔اب (La Convivencia)جیسی اصطلاح کے باردگر تعین اور تجدید کی ضرورت نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *