قصویٰ کی شان میں

MHTچلئے آج میں آپ کے سامنے چودہ سو برس پیشتر کی کچھ تصویریں مصور کرتا ہوں۔ اُن کو آپ کی آنکھوں کے سامنے ناداری کے باوجود اپنے لفظوں سے متحرک کرتا ہوں۔ چلئے ہم آج کی ہولناک حقیقتوں سے لمحہ بھر کے لیے فرار حاصل کرتے ہیں جہاں ایک من پسند شریعت ایجاد کی جا رہی ہے جس کے تحت سیکڑوں اہل کتاب کو اُن کے بال بچوں سمیت ہلاک کر دینا اُنہیں جلا ڈالنا جائز ٹھہرایا جا رہا ہے۔ جائز ٹھہرایا جا رہا ہے بچیوں کے قتل کو۔۔۔ میرے ملک کے جاں نثار نوجوانوں کو ذبح کرنا اور اُن کے سر، کھمبوں پر آویزاں کر دینا جائز ٹھہرایا جا رہا ہے تو چلئے کچھ لمحوں کے لیے ہم اُن زمانوں میں چلتے ہیں جن زمانوں میں اگر ہمیں ایک لمحے کی زندگی نصیب ہو جاتی اور اُس لمحے میں ہم نبیوں میں رحمت لقب پانے والے دنیا کے سب سے خوبصورت انسان کے سراپے پر صرف ایک لمحہ آنکھیں بچھا سکتے تو ہم بلکہ میں اس چوہتر برس کی حیات کو بخوشی اُس لمحے کے لیے قربان کر دیتا۔
چلئے ہم چودہ سو برس پیشتر کے اُن زمانوں میں چلتے ہیں جب ہم خوبصورت تھے اور ایک اونٹنی کو یاد کرتے ہیں۔۔۔ اُس کے سوار کو یاد کرتے ہیں۔
’قبا کے لوگ۔۔۔ یثرب سے کچھ فاصلے پر واقع ایک بستی کے لوگ، اُن تک خبر پہنچ چکی تھی کہ دو سانڈھنی سوار کسی بھی لمحے اُن کی بستی سے آغاز ہوتے صحرا میں سے نمودار ہونے والے ہیں۔ تو وہ اُس سویر بھی اپنی چھتوں پر چڑھ کر اُن کا انتظار کرتے رہے۔۔۔ اپنی آنکھیں اُن کے قدموں میں بچھانے کے منتظر رہے۔ دوپہر ہو گئی اور وہ نہ آئے تو لوگ مایوس ہو کر اپنے گھروں میں چلے گئے کہ اب اُن کی آمد کا کچھ امکان نہ تھا۔ صحرا دوپہر میں اتنا آتش پرست ہو جاتا ہے کہ اُس میں سفر ممکن نہیں ہوتا۔۔۔ اور پھر اُن کے کانوں میں ایک شخص کی پکار آتی ہے کہ لوگوتم جن کے منتظر تھے وہ افق پر نمودار ہو چکے ہیں، وہ آ رہے ہیں۔ لوگ گھروں سے نکل آئے، چھتوں پر چڑھ گئے اور تب انہوں نے دیکھا کہ آنکھوں کو چندھیا دینے والی سورج کی تپش سے جنم لینے والی گرم لہروں کے سراب میں سے دو سانڈھنی سوار۔۔۔ سفید۔۔۔ پگھلتے چاندی کے رنگ کے سفید براق پیر اہنوں میں ملبوس اُن کی جانب چلے آ رہے ہیں اور وہ مخمصے میں ہیں کہ ان دونوں میں وہ کون ہے جو نبیوں میں رحمت لقب پانے والا ہے۔۔۔ وہ کون ہے جو صرف اس جہان کے لیے نہیں، کل جہانوں کے لیے۔۔۔ وہ جہان جو تخلیق ہو چکے اور وہ جہان جو آئندہ تخلیق ہوں گے اُن سب کے لیے رحمت کا باعث ہو گا۔ وہ سانڈھنی سوار اُن کے قریب آ کر اپنی سانڈھنیوں سے اترتے ہیں۔ اُن سے سلام کلام کر کے اُن کے سامنے ریت پر بیٹھ جاتے ہیں۔۔۔ اُن سے باتیں کرنے لگتے ہیں۔۔۔ بیٹھے وہ سائے میں تھے لیکن اب اُن پر دھوپ آ جاتی ہے۔ اُن میں سے ایک اٹھتا ہے اور دوسرے پر اپنی چادر کا سایہ کر دیتا ہے۔ تب قبا کے لوگ جان جاتے ہیں کہ جس پر چادر کا سایہ کیا گیا وہ ہے جس کی آمد کے وہ منتظر تھے اور جس نے اپنی چادر سے اپنے یار کو دھوپ سے بچایا ہے وہ یارغار ہے۔ سائے میں تشریف فرما رسول اللہؐ اور سایہ کرنے والے حضرت ابوبکر صدیقؓ۔۔۔ کہ یاری تو یہی ہے کہ اپنے آپ کو دھوپ میں جلانا اور اپنے یار کو سائے میں بٹھانا۔ انہوں نے اپنی اونٹنیوں کو بستی میں داخل ہونے پر کھجور کے درخت کے تنے کے ساتھ باندھ دیا تھا اور اُن میں سے ایک کا مُہاندرا بہت سوہنا اور سجیلا ہے اور ایک جذبۂ تفاخر اُس کے انداز میں ہے اور یہ قصویٰ ہے جس پر سوار ہو کر رسول اللہؐ نے ہجرت کا سفر پُر دشوار اور پُر خطر طے کیا۔ غار ثور میں قیام کے بعد حضرت ابو بکر صدیقؓ نے رسول اللہؐ کی خدمت میں قصویٰ تحفے کے طور پر پیش کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا کہ نہیں آپ اس کی قیمت طے کریں میں اس کی ادائیگی کروں گا اور اس پر سوار ہوں گا۔۔۔ حضرت ابوبکرؓ اصرار کرتے ہیں لیکن رسول اللہؐ اونٹنی تحفے کے طور پر قبول کرنے پر مائل نہیں ہوتے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ تامل کرتے ہیں لیکن وہ جانتے ہیں کہ رسول اللہؐ راضی نہیں ہوں گے چنانچہ مجبوراً قصویٰ کی قیمت بتاتے ہیں اور پھر رسول اللہؐ اُس اونٹنی کے لیے ادائیگی کر کے اس کے مالک بن جاتے ہیں۔۔۔ اور وہ اونٹنی جونہی رسول اللہؐ اس پر سوار ہوتے ہیں دنیا بھر کے جانوروں سے افضل ہو جاتی ہے، وہ اترائے نہ تو اور کیا کرے اس کے نصیب جاگ اُٹھے کہ اُس کے نصیب میں یہ کیسا سوار آ گیا ہے، اُس کے بھاگ جاگ اٹھے کہ وہ اس شخص کی ملکیت میں آ گئی تھی جس کی غلامی میں آنے کے لیے چرند، پرند اور انسان ترستے تھے، بے دام غلام ہونا چاہتے تھے۔۔۔ پر اُن کے نصیب نہ تھے، یہ قصویٰ تھی جو اُن پر سبقت حاصل کر گئی کہ یہ اُس کے نصیب تھے۔۔۔ یہ بھاگوں والی اونٹنی زندگی بھر رسول اللہؐ کے ساتھ رہی۔۔۔ دن رات رہی۔۔۔ جنگ میں، امن میں وہ اپنے سوار کو لیے پھری کہ اُس کا تو بوجھ ہی نہ تھا، وہ ایک پر کی مانند ہلکا اور ہوا کے ایک جھونکے کی مانند لطیف اور کیف آور تھا۔۔۔ وہ اس پر سوار ہوتا تو اس کی تھکن اتر جاتی۔۔۔ اس کے وجود کی موجودگی اسے تروتازہ کرتی چلی جاتی۔ جب وہ اس پر سواری کرتا، جتنا عرصہ کرتا وہ مسرت سے لبریز رہتی اور جب اترتا تو وہ غمگین ہوجاتی۔۔۔ یہ تھی قصویٰ۔
اچھا اب یہ تصویر بنتی ہے کہ صحرا کے سراب میں سے دو سانڈھنی سوار جھملاتے ہوئے نمودار ہوتے ہیں اور وہ صاف شفاف سفید براق پیراہنوں میں ملبوس ہیں جو دھوپ کی تیزی میں دمکتے ہیں تو معاً یہ خیال آتا ہے کہ مکہ سے اتنے دنوں کی مسافت کے دوران اُن کے کپڑے تو میلے کچیلے ہونے چاہئیں لیکن وہ تو نئے اور شاندار ہیں تو اس کی توجیہہ بھی نہایت خوبصورت ہے۔ وہ دونوں عام طور پر دن کے وقت سفر کرنے سے گریز کرتے تھے اس لیے کہ دن کی تیز دھوپ میں صحرا میں مسلسل سفر کرنا بے حد اذیت ناک ہوتا ہے، علاوہ ازیں قریش کے تعاقب کا خدشہ بھی موجود تھا۔ چنانچہ ہجرت کے پہلے دو چار دنوں کے علاوہ انہوں نے رات کے سفر کو ہی اپنایا۔۔۔ اور اس روز جب اہل قُبا بہت دیر انتظار کرنے کے بعد چھتوں سے اتر گئے تھے وہ بھی اس لیے کہ دھوپ تیز ہو چکی تھی اور اس میں سفر کرنا ممکن نہ تھا جب کہ وہ قُبا سے اتنے قریب ہو چکے تھے کہ انہوں نے کہیں قیام کرنے کی بجائے یہی بہتر جانا کہ دھوپ کی اذیت کچھ دیر برداشت کر لیں اور قُبا پہنچ جائیں۔ بہر طور ایک روز مسافت کے دوران انہوں نے صحرا کے کناروں پر نمودار ہوتے ایک قافلے کو یکدم اپنے سامنے پایا اور انہیں گمان ہوا کہ شاید یہ اُن کے دشمن قریش ہیں جو ان کے تعاقب میں ہیں لیکن معلوم ہوا کہ اس قافلے کے سالار حضرت ابو بکر صدیقؓ کے سگے بھتیجے ہیں جو ملک شام سے قریش کے سرداروں کے لیے نہایت بیش قیمت کپڑا لے کر واپس مکہ جا رہے ہیں۔ انہوں نے جب اپنے چچا اور رسول اللہ ؐ کو سفر کی دھوپ سے اٹے میلے کچیلے لباس میں دیکھا تو بے حد رنجیدہ ہوئے اور ان دونوں کی خدمت میں نئے سفید پیراہن پیش کر دیے۔ مجھے گمان ہے کہ رسول اللہؐ نے اپنے پیراہن کی قیمت ادا کی ہو گی۔۔۔ چنانچہ ان دونوں نے نئے سفید کپڑے پہنے اور سفر جاری رکھا۔ قُبا میں آمد پر اگر وہ صاف ستھرے سفید ملبوسات میں تھے تو اس کی یہی توجیہہ تھی۔
رسول اللہؐ کی حیات مبارکہ میں ہجرت کا باب ہمیشہ مجھ پر ایک خاص کیفیت طاری کر دیتا ہے۔۔۔ اور ہمیشہ میرے سامنے وہی منظر آجاتا ہے۔۔۔ دو سانڈھنی سوار سفید براق پیراہنوں میں صحرا کے سراب میں جگمگاتے ہوئے۔ آپ بھی کبھی اس منظر کو چشم تصور میں لائیے۔۔۔ تیز دھوپ ہے اور صحر امیں گرمی کی لہریں ایک سراب کی صورت اور اس سراب میں سے دو سفید پوش سانڈھنی سوار حقیقت کا روپ دھار کر ہولے ہولے آپ کی جانب چلے آ رہے ہیں۔۔۔ اور اُن میں سے ایک قصویٰ کا سوار ہے اور اس کے نورانی حُسن کے سامنے سورج ماند پڑتا ہے، آنکھیں نہ جھپکئے تو وہ آپ کے دل کے اندر اترتا چلا جائے گا۔۔۔ قصویٰ کا سوار ایسا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *